احمد بن محمد برقی

ویکی شیعہ سے
احمد بن محمد برقی
شیعہ محدث، مورخ اور ماہر علم رجال
ذاتی کوائف
نام:احمد بن محمد بن خالد بن عبدالرحمان بَرْقی
کنیت:ابو جعفر
نسب:خاندان برقی کے برجستہ شخصیت
تاریخ پیدائش:تیسری صدی ہجری کے اوائل
وفات:274ھ، ایک اور قول کی بنا پر 280ھ
صحابی:امام جوادؑ اور امام ہادیؑ
حدیثی معلومات
ان کے راوی:سعد بن عبداللہ اشعری قمیعبداللہ بن جعفر حمیریعلی بن ابراہیم قمیحسین بن سعید اہوازیمحمد بن حسن صفار قمی وغیرہ
وثاقت:ثقہ
تألیفات:المحاسنرجال البرقی
شہرت:برقی
متفرقات:ضعیف راویوں سے روایت اور قم سے جلاوطنی

احمد بن محمد بن خالد بن عبدالرحمان المعروف برقی (تقریبا 200-274 یا 280ھ) تیسری صدی ہجری کے شیعہ محدث، مورخ اور رجالی تھے۔ آپ امام جوادؑ اور امام ہادیؑ کے صحابی اور کتاب المحاسن اور رجال برقی کے مصنف ہیں۔ اکثر شیعہ اور ااہل‌ سنت رجالی علماء نے ان کی توثیق کی ہیں جبکہ بعض نے ضعیف راویوں سے روایت نقل کرنے کی بنا پر انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔

زندگی‌ نامہ

شجرہ نامہ خاندان برقی

آپ خاندان برقی کے سب سے مشہور شخص تھے۔ تشیع اور اہل بیت اطہارؑ کے دفاع میں ان کا بڑا کردار رہا ہے۔ ان کے علاوہ بھی خاندان برقی سے متعدد برجستہ علماء نکلے ہیں۔ آپ کے والد ماجد‌ نیز ائمہ معصومینؑ کے اصحاب اور مختلف کتابوں کے مصنف تھے۔[1]

آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں رجالی اور تاریخی کتابوں میں کوئی معلومات میسر نہیں ہے لیکن آپ کی تاریخ وفات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آپ تقریبا سنہ 200ھ کو پیدا ہوئے تھے۔[2]

علمائے رجال آپ کی کنیت ابو جعفر ذکر کرتے ہیں۔[3] ابن ندیم نے آپ کی کنیت ابو الحسن بھی ذکر کیا ہے۔[4] نجاشی نے آپ کی تاریخ وفات کو 274ھ قرار دیا ہے۔ علی بن محمد ماجیلویہ آپ کے پوتے اور شاگرد نقل کرتے ہیں کہ آپ کی وفات سنہ 280ھ کو ہوئی تھی۔[5]

شیعہ ائمہ کی مصاحبت

کتاب رجال برقی میں برقی کی حالات زندگی میں آپ نے اپنے آپ کو امام جوادؑ اور امام ہادیؑ کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔[6] لیکن ان سے منقول احادیث میں ان دو اماموں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ صرف ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت وہ سامرا میں تھا «اس شخص» کی جانب سے ایک شخص ان کے اور ان کے ساتھی کے پاس آیا اور بعض اصحاب اور راویوں کی وثاقت کے بارے میں کچھ مطالب سے ان کو آگاہ گیا [یادداشت 1] قرائن و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ "اس شخص" سے مراد امام ہادیؑ تھے۔[7]

روای کی حیثیت سے

توثیق

شیعہ علماء رجال جیسے نجاشی، شیخ طوسی اور علامہ حلی نے برقی کی تعریف کرتے ہوئے ان کی توثیق اور انہیں مورد اعتماد قرار دیئے ہیں۔[8]

ضعیف راویوں سے روایت اور قم سے جلاوطنی

ضعیف راویوں سے حدیث نقل کرنے اور مرسل احادیث پر اعتماد کرنے کی وجہ سے محدثین قم کے سربراہ احمد بن محمد بن عیسی اشعری نے ان کو قم سے جلاوطن کیا لیکن کچھ مدت بعد ان کو دوبارہ قم میں بلا کر ان سے معذرت خواہی کی یہاں تک کہ برقی کی تشییع جنازہ میں ننگے پاؤں اور بغیر عمامہ کے شرکت کی تاکہ اپنے سابقہ سلوک کا جبران کیا جا سکے۔[9]

ضعیف راویوں سے روایت پر تنقید کا جواب

وحید بہبہانی لکھتے ہیں: «برقی کا مورد اعتماد ہونا یقینی ہے اور ان پر تنقید کرنے والوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لئے ثابت نہیں ہے حتی اگر انہوں نے ضعیف راویوں پر اعتماد کیا بھی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ حدیث نقل کرنے میں ان کا طریقہ صحیح نہیں تھا۔»[10] ابن غضائری نیز اس بات کے معتقد ہیں کہ قمیوں کی طرف سے لعن طعن اصل میں ان لوگوں پر ہے جن سے برقی نے حدیث نقل کی ہیں نہ خود برقی پر۔[11]

علمی مقام

مشایخ اور اساتذہ

برقی نے تقریا 200 اشخاص سے حدیث اور 100 سے زیادہ افراد کی کتابوں کی روایت کی ہے۔[12] آیت‌ اللہ خویی نے اپنی رجالی کتاب کے مختلف مقامات پر ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔[13]

شاگردان

آیت‌اللہ خوئی نے برقی کے درج ذیل شاگردوں اور راویوں کا نام لیا ہے:

  1. بو علی اشعری
  2. احمد بن ادریس
  3. احمد بن عبداللہ
  4. احمد بن محمد بن عبداللہ
  5. حسن بن متیل دقاق
  6. حسین بن سعید
  7. سعد بن عبداللہ اشعری
  8. عبداللہ بن جعفر حمیری
  9. علی بن ابراہیم قمی
  10. علی بن حسین سعد آبادی
  11. علی بن محمد بندار
  12. علی بن محمد بن عبداللہ قمی
  13. علی ماجیلویہ
  14. محمد بن ابی القاسم
  15. محمد بن احمد بن یحیی
  16. محمد بن حسن صفار
  17. محمد بن عیسی
  18. محمد بن یحیی
  19. معلی بن محمد.[14]
کتاب الرجال

تألیفات

علامہ مجلسی کتاب لوامع صاحب قرانی میں لکھتے ہیں: برقی نے اس کتاب( المحاسن) کے علاوہ مزید 93 کتاببں تصنیف کی ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات اور اسامی علم رجال کی فہرستوں میں موجود ہے۔[15] برقی کی سب سے اہم تصنیف کتاب المحاسن اور کتاب الرجال ہے۔ ان کی دیگر علمی آثار درج ذیل ہیں:[16]

  • کتاب البلدان
  • اختلاف الحدیث
  • الانساب
  • اخبار الامم
  • التراجم و التعاطف
  • آداب النفس
  • ادب المعاشرۃ
  • کتاب المکاسب
  • کتاب الرفاہیۃ

آقا بزرگ طہرانی نے الذریعہ میں مزید کتابوں کو ان کی طرف نسبت دی ہیں جن میں: القرائن ، ثواب الاعمال، عقاب الاعمال، كتاب الصفوۃ و النور و الرحمۃ، کتاب النوادر، مصابیح الظلم، کتاب العلل، کتاب السفر، كتاب المآكل، كتاب الماء، كتاب المنافع و الاستخارات، كتاب المرافق و البنيان و اتخاذ العبيد و الدواب شامل ہیں۔ [17] طہرانی ان میں سے بعض کتابوں کو دیگر اسامی اور عناوین کے ساتھ بھی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کتابیں المحاسن برقی کے کجھ حصے ہیں۔ مثلاً کتاب الصفوۃ و النور کو النور والرحمہ کے عنوان سے المحاسن کی چوتھی جلد شمار کی ہے جسے محدث ارموی نے خود محاسن میں شایع کی ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال، 1416ھ، ص335.
  2. شبیری، برقی ابوجعفر، در دانشنامہ جہان اسلام، 1378ہجری شمسی، ج3، ص158.
  3. شیخ طوسی، الفہرست، ص62؛ ابن غضائری، رجال، ص39.
  4. ابن ندیم، الفہرست، 1346ہجری شمسی، ص276.
  5. نجاشی، رجال، 1416ھ، ص77.
  6. شیخ طوسی، رجال الطوسی، ج1، ص383؛ شیخ طوسی، الفہرست، 1417ھ، ج1، ص116.
  7. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ج2، ص831.
  8. نجاشی، رجال، 1416ھ، ص76؛ شیخ طوسی، الفہرست، 1417ھ، ص62؛ علامہ حلی، خلاصۃ الاقوال، 1417ھ، ص63.
  9. شیخ طوسی، الفہرست، 1417ھ، ص62؛ علامہ حلی، خلاصۃ الاقوال، 1417ھ، ص63؛ علامہ حلی، رجال، 1402ھ، ص14، ش7؛ فرشچیان، پیشگامان تشیع، 1384ہجری شمسی، ص104.
  10. وحید بہبہانی، الفوائد الرجالیۃ، ص43.
  11. ابن غضائری، رجال، 1422ھ، ص39.
  12. آقایی، مقایسہ تحلیلی سہ چاب کتاب الرجال برقی.
  13. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج2، ص31 و 32، 226 و 227، 266 و 267.
  14. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج2، ص32.
  15. جلسی، لوامع صاحبقرانی مشہور بہ شرح فقیہ، 1414ھ، ج1، ص 193.
  16. زرکلی، الاعلام، 1980م، ج1، ص205؛ کحالہ، معجم المؤلفین، ج2، ص98.
  17. طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، 1408ھ، ج20، ص133.
  18. طہرانی، الذریعہ، 1408ھ، ج24، ص379.

نوٹ

  1. کنت أنا وأحمد بن أبی عبد اللہ البرقی بالعسکر فورد علینا رسول من الرجل فقال لنا: الغائب العلیل ثقۃ، وأیوب بن نوح، وابراہیم بن محمد الہمدانی، وأحمد بن حمزۃ، وأحمد ابن اسحاق ثقات جمیعا.

مآخذ

  • ابن غضائری، احمد بن حسین، رجال ابن غضائری، قم، دار الحدیث، 1422ھ۔
  • ابن ندیم، محمدبن اسحاق، الفہرست، مترجم: محمدرضا تجدد، نہران، بانک بازرگانی ایران، 1346ہجری شمسی۔
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت،‌ دار احیاء التراث، 1399ھ۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال حدیث، 1413ھ۔
  • زرکلی، خیرالدین، الاعلام، بیروت، دارالعلم، 1980م.
  • شبیری، محمد جواد، برقی ابوجعفر، در دانشنامہ جہان اسلام، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، 1378ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال معروف برجال الکشی، قم، آل البیت، 1404ھ۔
  • شیخ طوسی، محمدبن حسن، الفہرست (شیخ طوسی) الفہرست، نشر الفقاہۃ، 1417ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، خلاصۃ الاقوال، نشر الفقاہۃ، 1417ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال علامہ، قم، مکتبہ الرضی، 1402ھ۔
  • فرشچیان، رضا، پیشگامان تشیع، انتشارات زائر، قم، 1384ہجری شمسی۔
  • طہرانی، آقابزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ناشر: اسماعيليان قم و كتابخانہ اسلاميہ تہران، ‌1408ھ۔
  • کحالۃ، عمر رضا، معجم المؤلفین، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، لوامع صاحبقرانی مشہرر بہ شرح فقیہ، قم، موسسہ اسماعیلیان، چاپ دوم، 1414ھ۔
  • نجاشی، احمد بن علی، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، قم، جامعہ مدرسین، 1416ھ۔
  • وحید بہبہانی، الفوائد الرجالیہ، نرم افزار مکتبۃ اہل البیت.