اجل معلق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاد

اَجَل مُعَلََّقْ انسان کی غیر معین اور تغییر پذیر موت کو کہا جاتا ہے۔ اجل معلق اجل مُسَمّیٰ کے مقابلے میں آتا ہے جو انسان کی معین اور حتمی موت کو کہا جاتا ہے جس کا علم خدا کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق اجل معلق انسان کی اس موت کو کہا جاتا ہے جو اس کی جسمانی حالات کی بنیاد پر اس پر طاری ہوتی ہے لیکن بعض خارجی عوامل کی بنیاد پر اس میں کمی بیشی کا امکان پایا جاتا ہے۔

اسلامی مآخذ کے مطابق صدقہ، صلہ رحمی، ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک، ترک گناہ اور امام حسینؑ کی زیارت وغیرہ انسان کی موت میں تأخیر کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے برخلاف بعض امور انسان کی عمر میں کمی کا سبب بنتے ہیں من جملہ ان میں بعض گناہوں کا ارتکاب جیسے زنا وغیرہ، ماں باپ کو تکلیف پہنچانا، جھوٹی قسم اور قطع رحمی وغیرہ شامل ہیں۔

اجل

تفصیلی مضمون: اجل

عربی زبان میں کسی بھی چیز کی مدت کی انتہاء کو "اجل" کہا جاتا ہے۔[1] جب انسان کے بارے میں "اجل"استعمال کرتے ہیں تو اس سے اس کی زندگی کا خاتمہ اور موت مراد لیا جاتا ہے۔[2]قرآن میں انسان سے متعلق دو قسم کی اجل کا تذکرہ آیا ہے: ایک "مُسَمّیٰ" کی قید کے ساتھ اور دوسرا اس قید کے بغیر، جسے مفسرین اجل غیرمسمی، غیر حتمی موت[3] اور اجل معلق سے تعبیر کرتے ہیں۔[4]

تعریف

تفصیلی مضمون: اجل مسمی

علامہ طباطبائی کے مطابق اجل مُسَمّیٰ انسان کی حتمی اور تغییر ناپذیر موت کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس کے مقابلے میں اجل مُعَلَّق ہے جس سے مراد انسان کی طبیعی موت ہے جس میں کچھ عوامل کی بنا پر کمی بیشی کا امکان پایا جاتا ہے۔[5] علامہ اس سلسلے میں مزید لکھتے ہیں کہ اجل معلّق انسان کی اس موت کو کہا جاتا ہے جو اس کی جسمانی حالات کی بیناد پر اس پر طاری ہوتی ہے۔ مثلا ایک انسان طبیعی اور اس کے جسمانی حالات کی بنیاد پر سو سال زندہ رہ سکتا ہے تو مذکورہ مدت میں اس کی زندگی کا خاتمہ اجل معلق کہلائے گا لیکن بعض بیرونی عوامل کی وجہ سے اس میں کمی بیشی ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے یوں ممکن ہے یہی سشخص جو سو سال زندہ رہنا تھا بعض عوامل کی وجہ سے 80 سال کی عمر میں وفات کر جائے یا ممکن ہے بعض عوامل کی بنا پر 120 سال تک زندہ رہے جسے اجل مسمی کا نام دیا جاتا ہے۔[6]

منشأ پیدائش

اجل مُعَلَّق اور اجل مُسَمّیٰ کے بارے میں قرآن کی مختلف آیتوں کے ذیل میں بحث ہوتی ہے من جملہ ان آیات میں سورہ انعام کی دوسری آیت ہے[7] جس میں انسان کے لئے دو اجل کی بات کی گئی ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُّسَمًّى عِندَهُ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ(ترجمہ: وہ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر (زندگی کی) ایک مدت مقرر کی اور ایک مقررہ مدت اور بھی ہے جو اسی کے پاس ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو

اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انسان کے لئے دو اجل ہیں ایک حتمی اور دوسرا غیرحتمی:[8] پہلے کو "اجل مسمی" کہتے ہیں جیسا کہ خود اسی آیت میں بھی اسی نام سے یاد کیا گیا ہے جبکہ دوسرے کو "اجل معلق" کہا جاتا ہے۔[9]

البتہ اس آیت کے ذیل میں اجل کی ان دو قسموں کے بارے میں مزید احتمالات بھی ذکر کئے گئے ہیں۔[10]مثلا بعض کہتے ہیں: اس آیت میں اجل مسمی انسان کی موت سے لے کر قیامت برپا ہونے تک کے دورانیے کو کہا جاتا ہے اور اجل غیرمسمی انسان کی اس زندگی کو کہا جاتا ہے جو وہ اس دنیا میں گزارتا ہے۔[11] اسی طرح بعض کہتے ہیں: اجل مسمی زندہ انسانوں کی عمر کے خاتمے کو جبکہ اجل غیر مسمی مردہ انسانوں کی زندگی کے خاتمے کو کہا جاتا ہے۔[12]

اجل معلق پر اثر انداز ہونے والے عوامل

قرآن کی آیات اور احادیث کے مطابق بعض کاموں کی انجام دہی انسان کی عمر میں تأخیر یا اجل معلق میں کمی بیشی کا سبب بنتا ہے۔[13] علامہ طباطبائی سورہ نوح کی تیسری اور چوتھی آیت سے استناد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خدا کی عبادت، تقوا اور پیغمبر اکرمؐ کی اطاعت سے انسان کی موت میں تأخیر واقع ہوتی ہے۔[14]

شیخ طوسی امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں: "جو لوگ اپنی گناہوں کی وجہ سے مرتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے بہت زیادہ ہیں جو اپنی طبیعی موت مرتے ہیں اسی طرح جن لوگوں کی عمر میں نیک کاموں کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے ان کی تعداد ان لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں جن کی عمریں طبیعی طور پر طولانی ہوتی ہیں"۔[15]

احادیث میں صدقہ، صلہ رحمی، ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک، ترک گناہ، زیارت امام حسین، زیادہ شکر بجا لانا اور ہر نماز کے بعد سورہ توحید کی تلاوت کرنا اجل معلق میں تأخیر کا سبب بنتا ہے۔[16] اسی طرح بعض گناہوں کا ارتکاب جیسے زنا، ماں باپ کو تکلیف پہنچانا، جھوٹی قسم اور قطع رحمی اجل معلق کے جلدی واقع ہونے کا سبب بنتا ہے۔[17]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. قرشی، قاموس قرآن، ذیل واژہ «اجل»۔
  2. ابوطالبی، «اجل»، ص۱۶۱۔
  3. بیات، «اجل معلق و اجل مسمی از منظر آیات و تجلی آن در روایات»، ص۸۔
  4. مراجعہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۹ و ج۱۲، ص۳۰۔
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۰۔
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۰۔
  7. مراجعہ کریں: طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۲۳و۴۲۴؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۸تا۱۰۔
  8. مراجعہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۹؛
  9. مراجعہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۳۰۔
  10. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۲۳و۴۲۴۔
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۲۳۔
  12. طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۲۴۔
  13. ابوطالبی، «اجل»، ص۱۶۳۔
  14. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۲۰، ص۲۸۔
  15. شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۰۵۔
  16. ابوطالبی، «اجل»، ص۱۶۳۔
  17. ابوطالبی، «اجل»، ص۱۶۳و۱۶۴۔


منابع

  • ابوطالبی، «اجل»، دایرۃالمعارف قرآن کریم، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۲ش۔
  • بیات، محمدحسین، «اجل معلق و اجل مسمی از منظر آیات و تجلی آن در روایات»، سراج منیر، ش۲۲، ۱۳۹۵ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامىِ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تصحیح:‌ مؤسسہ البعثہ، الامالی، قم، دار الثقافہ، ۱۴۱۴ق۔
  • قرشی، علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران،‌ دار الکتب اسلامیہ، چاپ ششم، ۱۳۷۱ش۔