حضرت نوح

ویکی شیعہ سے
(حضرت نوح علیہ السلام سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حضرت نوح
کتاب زبدہ التواریخ میں کشتی نوح کی تصویر
قرآنی نام: نوح
کتاب مقدس میں نام: Noah
جائے پیدائش: بین النہرین(کوفہ)
محل زندگی: بین النہرین(کوفہ)
مدفن: اختلاف: (نجف، کوفہ، کرک بعلبک، نخجوان)
قوم کا نام: کلدہ اور آشور
قبل از: سام
مشہوراقارب: حضرت ادریس (جد)
عمر: اختلاف (2500، 2300، 1780 اور 950 سال)
قرآن میں نام کا تکرار: 43
اہم واقعات: کشتی بنانا، طورفان
اولوالعزم انبیاء
محمدؐابراہیمنوحعیسیموسی

حضرت نوحؑ، اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ آپ پہلے پیغمبر ہیں جن کی نبوت کے زمانے میں عذاب نازل ‌‌ہوئی ہے۔ حضرت نوح نے تقریبا 950 سال اپنی قوم کو یکتا پرستی کی دعوت دی۔ لیکن ان کی قوم ان پر ایمان نہیں لے آئیں اس بنا پر خدا نے انہیں طوفان کے ذریعے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ حضرت نوحؑ نے خدا کے حکم سے مؤمنین اور ہر قسم کے حیوانات کے ایک جوڑے کو طوفان سے بچانے کیلئے کشتی بنایا۔ قرآن میں حضرت نوح کو پہلا صاحب شریعت اور صاجب کتاب پیغمبر کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ قرآن کی مختلف سورتوں میں حضرت نوح اور ان کی داستان کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ قرآن کی ایک سورہ کا نام بھی انہی کے نام پر ہے۔ آپ طولانی عمر گزارنے کی وجہ سے شیخ الانبیاء کے نام سے مشہور ہیں۔ بعض علماء امام زمانہؑ کی طولانی عمر پر ہونے والے اعتراض کے جوب میں حضرت نوح کی عمر سے استناد کرتے ہیں۔

تعارف

اس تصویر میں حضرت نوح طوفان کے آغاز میں اپنی قوم اور ان کا دنیوی امور میں مشغول ہونے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کتاب مرقع گلستان(1014-1039ہ.ق)

اسلامی احادیث کے مطابق حضرت نوح حضرت آدم کی نویں نسل میں سے ہیں۔ آپ "لَامک" بن "مَتُّوشَلْخ" بن ادریس بن "یَرْد" بن مَہْلَاییل بن "قَیْنَن" بن "أنُوش" بن شیث بن آدم ہیں۔[1] آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض منابع آپ کی ولادت کو حضرت آدمؑ کی وفات کے ہمزمان قرار دیتے ہیں۔[2] بعض کے عقیدے کے مطابق آپ بین‌النہرین، کوفہ کے رہنے والے تھے۔[3]

آپ کے اصلی نام کا پتہ نہیں اور مختلف منابع میں "عبدالغفار"، "عبدالملک" اور "عبدالعلی" وغیرہ آیا ہے۔[4] آپ کو نوح کہنے کی وجہ اور علت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے لئے یا اپنی قوم کیلئے 500 سال گریہ و زاری کیا اسی وجہ سی آپ کو نوح یعنی زیادہ گریہ و زاری کرنے والا کے نام سے یاد کیا جانے لگا ہے۔[5]

اولاد

قرآن کریم اور بہت ساری اسلامی روایات میں طوفان نوح سے پہلے حضرت نوح کے اولاد کی طرف اشارہ ملتا ہے ہے جبکہ بعض محققین حضرت نوح کے بیٹے کی پیدائش کو طوفان نوح کے بعد قرار دیتے ہیں۔[6] حضرت نوحؑ کے 4 بیٹے سام، حام، یافث اور کنعان کے نام سے تھے۔ ان میں سے کنعان کے علاوہ سب نے حضرت نوح پر ایمان لے آئے تھے اور اپنے والد کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ اسلامی منابع کے مطابق کنعان نے اپنے والد پر ایمان نہیں لایا اور طوفان میں غرق ہو گیا۔[7] احادیث کے مطابق حضرت نوحؑ کی نسل ان کے بیٹے سام سے چلی ہے۔[8]

تاریخ وفات اور مدفن

حضرت نوح کی تاریخ وفات دقیق معلوم نہیں، طوفان کے بعد آپ 70 یا 600 سال زندہ رہنے کی روایت نقل ہوئیں ہیں۔[9]

حضرت نوح کے مدفن کے بارے میں کئی احتمال دیا جاتا ہے:

  1. موصل میں کوہ جودى کے قریب قریہ ثمانین نامی مقام پر
  2. نخجوان
  3. ہندوستان میں کوہ بوذ کے مقام پر
  4. مکہ میں زمزم، رکن اور مقام درمیان
  5. کوفہ
  6. لبنان کے شہر بعلبک میں کَرَک کے مقام پر حضرت نوح اور ان کے بیٹے سے منسوب ایک مقبرہ ہے۔
  7. مغارہ قدس، آدم، سام، ابراہیم، اسحاق اور یعقوبؑ کے قبر کے نزدیک۔
  8. نجف اشرف میں حضرت آدم اور امام علىؑ کے قبر مطہر کے نزدیک۔[10]
  9. ایران کے شہر ہمدان میں نہاوند کے مقام پر: ایک تحقیق جس کا عنوان "نوح اور نوحاوند" ہے کے مطابق حضرت نوح کی قبر اور ان کی کشتی زمین پر بیٹھنے کی جگہ نہاوند ہے۔[11]

نبوت

حضرت نوح کو حضرت آدم، شیث اور ادریس کے بعد چوتھا پیغمبر جانا جاتا ہے۔[12] سورہ احزاب کی آیت نمبر 7 اور سورہ شوری کی آیت نمبر 13 کے مطابق آپ پہلے اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ بہت سارے مفسرین معتقد ہیں کہ ان دو مذکورہ آیات میں مذکور انبیاء خاص مقام و منصب پر فائز ہیں کیونکہ یہ اولوالعزم اور صاحب کتاب و شریعت ہستیاں ہیں۔[13]

حضرت نوح کے مبعوث برسالت ہونے کی تاریخ کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔[14] قرآن کریم کے مطابق حضرت نوحؑ نے اپنی نبوت کے دوران طوفان سے پہلے اپنی قوم کو یکتا پرستی کی طرف دعوت دی۔[15] سورہ نوح کی آیت نمبر 23 کے مطابق قوم نوح بت‌ پرست تھے اور "ود"، "سواع"، "یغوث"، "یعوق" اور "نسر" نامی مختلف بتوں کی پوجا کرتے تھے۔[16] حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہدایت کیلئے بہت کوششیں کیں لیکن آخر کار بہت قلیل تعداد میں لوگوں نے ان پر ایمان لے آئے۔[17]

اکثر شیعہ علماء کے مطابق اہل بیتؑ سے منقول روایات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی نبوت اور رسالت بھی جہانی تھی۔[18] لیکن بعض اہل سنت علماء معتقد ہیں کہ ان کی دعوت جہانی نہیں بلکہ فقط اپنی قوم کلدہ اور آشور کے ساتھ مختص تھی جو فلسطین، شامات اور عراق میں سکونت پذیر تھے۔[19]

علامہ طباطبایی سورہ ہود کی آیت 19 سے 35 کی تفسیر کے دوران حضرت نوحؑ کی بعض وعظ و نصائح(مانند شرک اور بت پرستی سے منع کرنا) نیز ان کی دعوت کے رد میں مشرکین کی طرف سے پیش کرنے والے دلائل(جیسے نوح کا ان کی طرح بشر ہونا اور جھوٹ کا الزام) اسی طرح حضرت نوح کی طرف سے ان کو دئے گئے جوابات(نبوت اور رسالت کے عوض کوئی مزدوری وغیره کا دریافت نہ کرنا) وغیره بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ہمارے نبی حضرت محمدؐ کے ساتھ، ان کے بقول چونکہ ان دو پیغمبروں کے احتجاجات اور وعظ و نصائح تقریبا ایک جیسے ہیں نیز خدا نے بھی حضرت محمدؐ پر مشرکین مکہ کی طرف سے لگائے الزامات کو حضرت نوح کی داستان میں ان پر لگائے گئے الزامات پر عطف کیا ہے۔[20] اسی مشابہت اور ہمانندی کو دوسرے مفسرین اور محققین نے بھی تائید کی ہیں۔[21]

طولانی عمر

قرآن کریم میں سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 14 میں حضرت نوح کی عمر طوفان سے پہلے 950 سال بتایا گیا ہے لیکن چونکہ ان کی ٹوٹل عمر کے بارے میں کسی بھی منابع میں کوئی حتمی بات موجود نہیں ہے اسلئے ان کی عمر کے بارے میں اختلاف جایا جاتا ہے۔[22] تاریخی منابع من جملہ تورات میں آپ کی عمر 930 سال سے 2500 سال تک بیان ہوئی ہے۔ ان کی زندگی کے دوسرے واقعات جیسے ان کی مبعوث بہ رسالت ہونے کی تاریخ، طوفان کے بعد ان کی عمر بھی ان کی اصل عمر کی طرح مورد اختلاف واقع ہوئی ہیں۔[23]

نعمت اللہ جزایری معتقد ہیں کہ اکثر شیعہ معتبر احادیث کے مطابق حضرت نوح کی عمر2500 سال ہے۔[24] علامہ طباطبایی نے بھی اس سلسلے میں لکھا ہے کہ قرآن کی تصریح کے مطابق حضرت نوح نے طوفان سے پہلے 950 سال عمر کیں ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت نوح نے بہت لمبی عمر کیں ہیں اور یہ طولانی عمر نہ کوئی معجزہ تھا اور نہ ہی اس زمانے کے سالوں کی مقدار اس زمانے کے سالوں کی مقدرا سے متفاوت ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح کی عمر طبیعی طور پر طولانی تھی اور اب تک طولانی عمر کے محالات میں سے ہونے پر کوئی دلیل بھی قائم نہیں کا جا سکا ہے۔[25]

عمر کا طولانی ہونا، مؤمنوں کی رسی میں تأخیر، تمام کافروں کا ختم ہونا اور دعوت کا جہانی اور عالمی ہونا وہ شباہتیں ہیں جنہیں بعض روایات میں آپ اور امام زمانہؑ کے درمیان موجود ہیں۔[26] بعض علماء نے امام زمانہؑ کی طولانی عمر کو طبیعی قرار دینے کیلئے حضرت نوحؑ کی عمر کی مثال دیتے ہیں۔[27]

قرآن کریم میں تذکرہ

حضرت نوح ان 26 پیامبروں میں سے ایک ہیں جن کا نام قرآن میں آیا ہے۔[28] قرآن میں آپ کے نام سے ایک سورہ بھی ہے، اس کے علاوہ قرآن مجید کی 28 پاروں میں 43 مرتبہ آپ کا نام ذکر ہوا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت نوح کی داستان کو مختصر طور پر بیان کیا ہے اور ان کی زندگی کے تمام واقعات کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔

قرآن میں حضرت نوحؑ کے نام کا مطالعہ درج ذیل جدول میں کیا جا سکتا ہے:

ردیف سورہ نمبر سورت کا نام آیت نمبر ردیف سورہ نمبر سورت کا نام آیت نمبر
1 3 آل عمران 23 15 29 عنکبوت 14
2 4 نساء 163 16 33 احزاب 7
3 6 انعام 84 17 37 صافات 75-79
4 7 اعراف 59-69 18 26 شعرا 105-106-116
5 9 توبہ 70 19 38 ص 12
6 10 یونس 71 20 40 غافر 5-31
7 11 ہود 25-32-36-42-45-46-48-89 21 42 شوری 132
8 14 ابراہیم 9 22 50 ق 12
9 17 اسراء 3 -7 23 51 ذاریات 46
10 19 مریم 58 24 53 نجم 52
11 21 انبیاء 76 25 54 قمر 9
12 22 حج 42 28 26 حدید 26
13 23 مؤمنون 23 27 66 تحریم 10
14 25 فرقان 37 28 71 نوح 1-21-26

قرآن کی بعض سورتوں میں حضرت نوح کی داستان اجمالی طور پر جبکہ بعض سورتوں میں تفصیلی طور پر آئی ہے۔ جن سورتوں میں یہ داستان تفصیلی طور پر آئی ہے ان میں سورہ اعراف، آیت نمبر 59 سے 69 تک، سورہ ہود، آیت نمبر 25 سے 49 تک، سورہ مؤمنون، آیت نمبر 23 سے 30 تک، سورہ شعرا، آیت نمبر 105 سے 122 تک، سورہ قمر، آیت نمبر 9 سے 17 تک اور سورہ نوح کا نام لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم حضرت نوح کی داستان کے ضمن میں جن مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں:

  1. حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ کی نبوت کے بعد انسان کا اپنی فطرت سے تدریجا انحراف اور اس کے نتیجے میں مختلف طبقاتی درجات کا پیدا ہونا۔
  2. حضرت نوح کی شریعت اور پیغمبروں کے درمیان ان کا مقام۔
  3. تبلیغ رسالت میں حضرت نوح کی طاقت فرسا جد و جہد
  4. حضرت نوح کا اپنی قوم کے درمیان رہنے کی مدت
  5. حضرت نوح کا كشتی بنانا
  6. طوفان کی شکل میں عذاب الہی کا نزول
  7. حضرت نوح کا اپنے ساتھیوں سمیت زمین پر اتر آنا اور داستان کا اختتام
  8. حضرت نوح کے بیٹے کی کہانی۔
  9. حضرت نوحؑ کی خصوصیتیں (اولوا العزم پیغمبروں میں سے پہلا پیغمبر ہونا اور موجودہ نسل آدم کا دوسرا باپ ہونا وغیرہ)[29]

اخلاقی خصوصیات

شیعہ احادیث میں حضرت نوح کی چند اخلاقی فضائل کا ذکر آیا ہے، من جملہ ان خصوصیات میں شکر گزار ہونا اور جب بھی کوئی لباس پہنے یا کوئی چیز کھائے پئے تو خدا کی حمد و ثنا کرنے کو ان کی خصوصیات میں سے ذکر کیا گیا ہے۔ امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ حضرت نوح ہر صبح و شام کہا کرتے تھے: "خدایا میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میرے اوپر ہر صبح و شام دینی اور دنیوی حوالے سے جو بھی نعمتیں نازل ہوتی ہیں وہ تیری طرف سے ہے، خدایا تو یکتا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں، تمام تعریفیں تیرے لئے سزاوار ہیں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو۔"[30]

اسی طرح بہت ساری احادیث میں نقل ہوا ہے کہ حضرت نوح نے طولانی عمر پانے کی باوجود یہاں تک کہ آپ "شیخ الانبیاء" کے نام سے معروف ہوئے، جب ملک الموت آپ کی قبض روح کیلئے آئے تو آپ اس وقت دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے سایے میں جانے کی اجازت مانگی، اس وقت ملک الموت نے آپ سے سوال کیا دنیا کو کیسے پایا؟ تو حضرت نوح نے جواب دیا اس دنیا میں جو کچھ میرے ساتھ ہوا اس کی مثال ایسی تھی جیسا میں دھوپ سے سائے میں آیا ہوں۔[31]

ادبی اور ہنری فن پاروں میں داستان نوح کی عکاسی

دنیا کے مختلف تہذیب و ثقافت حضرت نوح کی داستان سے براہ راست متاثر ہوتے رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف زبانوں میں بہت سارے عرفااور شعراء نے اس داستان کی تشریح کیں ہیں۔ اسلامی فن مصوری میں بھی اس داستان پر متعدد فن پارے وجود میں آئی ہیں۔ اسی طرح اس داستان پر مختلف فلمیں بھی مختلف زبانوں میں سینما گھروں کی زینت بنی ہیں۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن کثیر، قصص الانبیاء، ۱۴۱۱ق، ص۸۳؛ النجار، قصص الانبیاء، ۱۴۰۶ق، ص۳۰؛ قطب راوندی، قصص الانبیاء (ع)، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۲۵۰-۲۵۱۔
  2. جزایری، النور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین (قصص قرآن)، ۱۳۸۱، ص۱۱۷؛ابن کثیر، قصص الانبیاء، ۱۴۱۱ق، ص۸۳؛ طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۷۵ش، ص۱۷۸؛ ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹ش، ص۳۹۔
  3. بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۳۲۔
  4. قطب راوندی، قصص الانبیاء (ع)، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۲۵۶-۲۵۷۔
  5. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۲۸؛ قطب راوندی، قصص الانبیاء (ع)، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۲۵۶-۲۵۷۔
  6. كاتب واقدی، الطبقات‌ الكبری، ۱۳۷۴ش ،ج‌۱،ص ۲۵؛ مستوفی قزوینی، تاریخ‌ گزیدہ،۱۳۶۴ ش، ص۲۶؛ ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹، ص۴۴۔
  7. كاتب واقدی، الطبقات‌ الكبری، ۱۳۷۴ش ،ج‌۱،ص ۲۵؛ مستوفی قزوینی، تاریخ‌ گزیدہ،۱۳۶۴ ش، ص۲۶؛ ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹، ص۴۴۔
  8. ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹، ص۵۱؛ قزوینی، موسوعہ الامام الصادق،۱۴۱۷ق، ج۵، ص۱۲۸۔
  9. مستوفی قزوینی، تاریخ‌ گزیدہ،۱۳۶۴ ش، ص۲۴۔
  10. بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۴۶؛ نک: نصر اللہ، تریخ کرک نوح، ۱۴۰۶ ق؛ نک:ابن کثیر، قصص الانبیاء، ۱۴۱۱ق، ص۹۳۔
  11. افراسیاب‌پور، «نوح و نوحاوند (؟)»، در مجلہ فرہنگان، ش ۵، صص ۱۱۸-۱۴۲۔
  12. بیومی مہران، بررسی تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۹ش، ج۴، ص۳؛ النجار، قصص الانبیاء، ۱۴۰۶ق، ص۳۰۔
  13. ماتریدی، تأویلات أہل السنۃ، ۱۴۲۶ق، ج۸، ص۳۵۹؛ ثعلبی، الكشف و البیان المعروف تفسیر الثعلبی‌، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۱۰؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج‌ ۱۶، ص۲۷۸؛ الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ، ج‌ ۲۴، ص۴۶؛ صادقی، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ، ۱۴۰۶ق، ج‌ ۲۴، ص۴۶۔
  14. رک: جدول بخش عمر۔
  15. سورہ نوح، آیہ ۵-۱۰۔
  16. سورہ نوح، آیہ ۲۳۔
  17. سورہ نوح، آیہ ۵-۱۵۔
  18. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ۱۰، ص۱۰۲ و ۲۶۰۔
  19. ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹ش، ص۴۸؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ۱۰، ص۲۶۰-۲۶۲۔
  20. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۲۱۰-۲۱۹۔
  21. بیومی مہران، بررسی تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۹ش، ج۴، ص۹-۱۶۔
  22. ابن‌کثیر، قصص الانبیاء، ص۶۵۔
  23. قطب راوندی، قصص الانبیاء (ع)، ۱۴۳۰ق،ج۱، ص۲۵۷-۲۵۹؛ جزایری، النور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین، (قصص قرآن)، ۱۳۸۱، ص۱۱۱؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۱۷؛ كاتب واقدی، الطبقات‌ الكبری، ۱۳۷۴ش ،ج‌۱،ص ۲۵؛ مستوفی قزوینی، تاریخ‌ گزیدہ،۱۳۶۴ ش، ص۲۴؛ بن‌کثیر، قصص الانبیاء، ص۹۲؛ مقدسی، آفرینش و تاریخ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۴۲۳۔
  24. جزایری، النور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین (قصص قرآن)، ۱۳۸۱ش، ص۱۱۳۔
  25. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۲۷۱۔
  26. علائی نژاد، شباہت‌ہای امام زمان(ع) با ائمہ معصومين و انبياء (ع)، ۱۳۹۵ش، ص۶۲-۶۴۔
  27. قزوینی، امام مہدی(ع) از ولادت تا ظہور، ۱۳۸۷ش، ص۱۳۴؛ رضوی، امام مہدی(عج)، ۱۳۸۴ش، ص۳۳؛ رضوانی، وجود امام مہدی(ع) از منظر قرآن و حدیث، ۱۳۸۶ش، ص۷۹؛ نظری‌منفرد، امام مہدی(عج) از تولد تا رجعت، ۱۳۸۹ش، ص۲۲۴؛ امینی گلستانی، سیمای جہان در عصر امام زمان(عج)، ۱۳۸۵ش، ص۲۱۸۔
  28. طباطبایی، المیزان، 1390ق، ج‌2، ص141۔
  29. طباطبایی، المیزان، 1390ق، ج‌10، ص271-296۔
  30. جزایری، النور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین، (قصص قرآن)، ۱۳۸۱، ص۱۱۷۔
  31. ندایی، تاریخ انبیاء از آدم تا خاتم، ۱۳۸۹ش، ص۵۰؛ قطب راوندی، قصص الانبیاء (ع)، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۲۵۷-۲۶۲؛ جزایری، النور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین (قصص قرآن)، ۱۳۸۱ش، ص۱۱۱۔