موسی مبرقع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
موسی مبرقع
ورودی آستانه امام زاده موسی مبرقع.jpg
نام موسی بن امام محمد تقی (ع)
کنیت ابو جعفر، ابو احمد
وفات ۲۲ ربیع الثانی ۲۹۶ ھ
مدفن شہر قم
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


موسی مبرقع (متوفی 296 ق) امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند اور امام علی نقی علیہ السلام کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کا شمار علماء میں سے ہوتا ہے اور آپ نے امام محمد تقی (ع) سے روایات نقل کی ہیں۔ آپ شہر قم میں دفن ہیں۔ نقاب سے چہرہ چھپانے کی وجہ سے آپ کو مبرقع کہا جاتا ہے۔[1] موسی مبرقع رضوی سادات کے جد اعلی ہیں۔ قم اور اطراف شہر ری کے برقعی سادات سے تعلق رکھنے والے خاندان مشہور کی بناء پر آپ سے نسبت رکھتے ہیں۔ آپ کا روضہ قم کے محلہ چہل اختران میں شیعوں کی زیارت گاہ ہے۔

نام، لقب اور کنیت

آپ کا نام موسی ہے اور آپ موسی مبرقع کے نام سے مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ پہچانے نہ جانے کی وجہ سے اپنے چہرے کو نقاب سے چھپا کر رکھتے تھے اسی سبب کو آپ کو مبرقع کہتے ہیں۔ آپ کے لئے ذکر ہونے والی کنیت میں ابو محمد اور ابو جعفر قابل ذکر ہیں۔

سوانح حیات

موسی مبرقع امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند ہیں اور آپ کی والدہ کا نام سمانہ مغربیہ ہیں جو امام علی نقی علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ آپ کی ولادت امام علی نقی (ع) کے دو سال کے بعد سن 214 ق میں مدینہ[2] میں ہوئی۔ آپ خلق و خو میں اپنی والدہ سے شباہت رکھتے تھے۔[3] امام محمد تقی (ع) کی شہادت تک آپ کا قیام مدینہ میں تھا۔ اس کے بعد آپ کوفہ چلے گئے اور کچھ مدت تک وہاں رہے اور سن 256 ق میں آپ نے سکونت کے لئے شہر قم کا انتخاب کیا[4] اور وہاں مہاجرت اختیار کر لی۔ البتہ بعض شہریوں نے آپ کو نہ پہچاننے کی وجہ سے آپ کو شہر سے باہر نکال دیا اور آپ کاشان چلے گئے اور وہاں عبد العزیز بن ابی دلف کی طرف سے آپ کا استقبال کیا گیا اور انہوں نے آپ کو خلعت اور سواری عطا کی گئی اور آپ کے لئے سالانہ وظیفہ معین کیا۔[5] کچھ عرصہ کے بعد قم کے لوگ اپنے عمل سے شرمندہ ہوئے اور انہوں نے چاہا کہ آپ قم واپس آ جائیں۔[6] 22 ربیع الثانی 296 ق میں قم میں آپ کی رحلت ہوئی[7] اور اس علاقہ میں دفن ہوئے جو آج آذر روڈ پر چہل اختران کے نام سے جانا جاتا ہے۔[8]

علم حدیث میں آپ کا مقام

موسی مبرقع کا شمار اہل حدیث و درایہ میں ہوتا ہے اور آپ راویان حدیث میں سے ہے۔ شیخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب میں،[9] شیخ مفید نے اپنی کتاب الاختصاص میں[10] اور اسی طرح سے ابن شعبہ حرانی نے اپنی مشہور کتاب تحف العقول میں آپ سے حدیث نقل کی ہے۔[11] یحیی بن اکثم نے بھی آپ کو خط لکھا ہے اور آپ سے بعض مسائل کے سلسلہ میں نظر خواہی کی ہے۔[12]

رضوی سادات کے جد اعلی

امام زاده موسی مبرقع کی ضریح

موسی مبرقع کا شمار رضوی سادات کے جد اعلی کے طور پر ہوتا ہے۔ اور ان کا سلسلہ نسب آپ تک پہنچتا ہے۔ رضوی سادات مختلف ممالک جیسے ایران، ھندوستان، پاکستان، افغانستان، عراق اور شام میں رہتے ہیں۔

آپ کی بہنوں کا قم ہجرت کرنا

نقل کیا جاتا ہے کہ جب آپ نے قم میں سکونت اختیار کر لی تو آپ کی بہنیں زینب، ام محمد اور میمونہ بھی آپ کے پاس قم آ گئیں اور انہوں نے بھی قم مین رہائش اختیار کی اور وہیں انتقال کیا اور فاطمہ معصومہ (ع) کے اطراف میں دفن ہوئیں۔[13][14]

روضہ اور بارگاہ

روضہ امام زادہ موسی مبرقع (آذر، قم)

اس روضہ کی قدمت 950 سال ہے اور اس کا بانی شاہ طہماسب صفوی ہے۔ اس عمارت کا معمار استاد سلطان قمی، دور صفویہ کا معروف معمار ہے جس کا نام زیارت گاہ میں ذکر ہوا ہے۔ سن 952 ھ میں شاہ طہماسب صفوی کے حکم سے اس عمارت میں ایک نہایت بلند چھت اینٹوں سے بنائی گئی۔ اس روضہ میں بعض سادات اور امام زادوں کی قبور بهی موجود ہیں جن میں آپ کے بیٹوں اور اولاد کی قبریں بھی شامل ہیں۔ مشہور ہے کہ اس مقبرہ میں چالیس خواتین، چالیس مرد اور پچیس بچے (مجموعی تعداد ایک سو پانچ) دفن ہیں۔

چہل اختران

موسی مبرقع (ع) کے روضہ میں آپ کی قبر کے اطراف میں موجود خاندانی مقبرے میں آپ کے بیٹوں اور اولاد میں سے بعض افراد دفن ہیں یہ مقبرہ چہل اختران کے نام سے معروف ہے۔[15] جن میں سے 14 افراد کے اسماء تاریخ قم میں ذکر ہوئے ہیں۔[16]

امام زادہ زید

موسی مبرقع (ع) کے روضہ میں ایک اور امام زادہ دفن ہیں جن کا نام زید ہے۔ ان کی قبر ایک عمارت کے اندر ہے جس میں ایک چھوٹا گنبد ہے جو اینٹوں سے بنا ہوا ہے اور جسے ٹوپی کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے جس کا تعلق نویں صدی ہجری سے ہے۔ اس مکان میں امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد سے ایک امام زادہ دفن ہیں جن کا نام زید ہے۔ فیض قمی نے آپ کا سلسلہ نسب 9 واسطوں سے امام زین العابدین (ع) تک پہنچایا ہے۔[17] بعض افراد کے مطابق تہران (چیذر) میں مدفون امام زادہ علی اکبر آپ کے جد ہیں۔[18]

آپ کے سلسلہ میں تالیفات

البدر المشعشع در احوال ذریہ موسی المبرقع: مولف حسین نوری طبرسی۔[19]

ترجمہ کتاب موسی مبرقع تالیف: محمد کجوری تہرانی۔

گیلری

حوالہ جات

  1. حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶؛ عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، ص۸۴و۸۵
  2. البحرانی، ج۲۳- الجواد ع، ص:۵۵۳
  3. بحارالانوار، ج۵۰ ص۱۲۳
  4. تاریخ قم، ص:۲۱۵
  5. تاریخ قم، ص: ۲۱۵
  6. حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶و عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، صص۸۴و۸۵.
  7. حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶و عطاردی، عزیز الله، مسند الامام الجواد، صص۸۴و۸۵
  8. تاریخ قم، ص:۲۱۵
  9. طوسی، تهذیب الاحکام، ج ۹، ص۳۵۵
  10. الاختصاص، ص ۹۱
  11. حرانی، تحف العقول، ص۴۷۶.
  12. تهذیب الاحکام، ج ۹ص۳۵۵
  13. تاریخ قم،ص:۲۱۶
  14. عطاردی، مسند الامام الجواد، ص۸۴ و ۸۵
  15. اردکانی، ص ۱۱۴
  16. تاریخ قم، ۲۲۴
  17. فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ص۵۵۲.
  18. احمدی، حسین، ص۱۳
  19. پایگاه اطلاع رسانی کتابخانه‌های ایران


منابع

  • ابن عنبہ، احمد بن علی بن حسین بن علی، عمدہ الطالب، نجف.
  • احمدی قمی، حسین، نور علی نور(زیارت نامہ حضرات امام زادگان موسی مبرقع، احمد بن محمد اعرج، زید و چہل اختران علیہم السلام)، قم، مسجد مقدس جمکران،۱۳۸۸.
  • اردکانی، احمد محیطی، سبز پوشان، انتشارات زائر، ۱۳۸۴ش.
  • بحرانی، عبد اللہ اصفہانی، عوالم العلوم و المعارف، مستدرک- حضرت زہرا تا امام جواد (ع)، مؤسسۃ الإمام المہدی عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف، قم.
  • حرانی، محمد حسن بن علی بن حسین، تحف العقول عن آل الرسول، تصحیح علی اکبر غفاری، قم، موسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۶ق.
  • طوسی، ابی جعفر محمد بن الحسن، تہذیب الکلام، محقق سید حسن الحرسان، بیروت، ‌دار الاضواء، الطبعۃ الثالثہ، ۱۴۰۶ق/ ۱۹۸۵م.
  • عطاردی، عزیز اللہ، مسند الامام الجواد، قم، الموتمر العالمی للامام الرضا، ۱۴۱۰ق.
  • فیض قمی، کتاب گنجینہ آثار قم، قم، ۱۳۴۹۱۳۵۰ش.
  • قمی، حسن بن محمد بن حسن (نوشتہ در ۳۷۸)، تاریخ قم، ترجمہ حسن بن علی بن حسن عبد الملک قمی (در ۸۰۵)، تحقیق سید جلال الدین تہرانی، تہران، توس، ۱۳۶۱ش.
  • مفید (۴۱۳ ق)، الإختصاص، کنگرہ شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ ق،چاپ اوّل.
  • نوری، میرزا حسین، بدر مشعشع فی احوال موسی مبرقع، چاپ سنگی، قم.