تشییع جنازہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
background-image: -moz-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -ms-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -o-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -webkit-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD);
"
موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
سکرات موت
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم background-image: -moz-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -ms-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -o-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: -webkit-linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD); background-image: linear-gradient(top, #EAEAF4, #F8F8FD);
"
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
برزخی جسم
تجسم اعمال
خلود
برزخی حیات


تشییع جنازہ کا مطلب جنازے کے پیچھے حرکت کرنا، دین اسلام میں ایک ایسا مستحب عمل ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کا بہت زیادہ اجروثواب ہے.

تشییع لغت اور اصطلاح میں

تشییع کا لفظی معنی خداحافظ کرنا، کسی کو الوداع کرنے کی نیت سے اس کے پیچھے جانا، اور میت کی تدفین میں شرکت کرنے کو کہتے ہیں.[1]اور فقہی اصطلاح میں جنازے کے پیچھے جانا اس وقت تک کہ جب تک میت کو قبر میں رکھ لیں.[2]

تشییع جنازے کی فضیلت اور ثواب

روایات میں تشییع کی بہت فضیلت اور ثواب بیان ہوا ہے. رسول خدا(ص) نے فرمایا: جب کوئی جنازے کو تشییع کرتا ہے ہر قدم جو اٹھاتا ہے اور جب تک کہ واپس لوٹ کر آتا ہے. سو ہزار حسنات اس کے لئے لکھے جاتے ہیں. اور سو ہزار اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں. اور سو ہزار درجے خدا کے نزدیک حاصل کرتا ہے اور اگر میت پر نماز بھی پڑھتا ہے تو اس کی موت کے وقت سو ہزار ہزار فرشتے اس کو تشییع کرتے ہیں. اور وہ سب فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں. اور اگر میت کو دفن کرتے وقت حاضر ہو تو خداوند سو ہزار فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ قیامت کے دن تک اس کے لئے طلب مغفرت کریں.

دیگر روایات

  • پیغمبر اکرمؐ نے ابوذر سے فرمایا: اے ابوذر! ہر وقت کسی جنازے کے پیچھے چلو، تو اپنی عقل، فکر اور خشوع کو مشغول رکھو اور یاد رکھو کہ تم نے بھی اس کے ساتھ ملحق ہونا ہے.
  • امام صادقؑ: ہر وقت جنازے کو کندھوں پر اٹھاؤ، یہ تصور کرو کہ تم خود ہو اور تمہیں کندھوں پر اٹھایا گیا ہے اور تم اپنے پروردگار سے چاہتے ہو کہ وہ تمہیں دنیا میں واپس بھیج دے تا کہ تم نیک عمل انجام دو تو اس حالت میں کس طرح اپنی زندگی کو دوبارہ سے آغاز کرو گے؟
قال الصادقؑ

ینبَغی لأولیاءِ المَیتِ أن یؤْذِنوا إخوانَ المَیتِ بمَوتهِ، فیشهَدونَ جَنازَتَهُ و یصَلُّونَ علَیهِ، فیکسِبُ لَهُمُ الأجرَ و یکسِبُ لِمَیتهِ الاستِغفارَ
بہتر ہے کہ میت کے رشتہ دار دوسرے دینی بھائیوں کو اس کی موت کی خبر دیں تا کہ وہ اس کی تشییع جنازہ میں شرکت کر سکیں اور اس پر نماز پڑھیں، اس سے انکا بھی فائدہ ہے اور میت کے لئے بھی باعث آمرزش ہے.

علل الشرایع، ج١، ص ٣٠١
  • پیغمبر خداؐ نے فرمایا: جنازے کو تشییع کرنے والوں میں سے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جو (خدا، موت اور موت کے بعد ) کو زیادہ یاد کریں اور وہ جو کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھا جائے نہ بیٹھیں اور ثواب کا پورا حصہ اسے ملے گا جو تین مٹھی خاک قبر پر ڈالے.
  • امام علیؑ نے تشییع جنازہ کے وقت کسی شخص کے ہنسنے کی آواز سنی: جیسا کہ اس جہان میں موت صرف دوسروں کے لئے ہے اور گویا کہ حق اس دنیا میں صرف دوسروں پر واجب ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مردوں کو دیکھ رہا ہوں، جو مسافر ہیں اور جلد ہی ہماری طرف واپس لوٹ آئیں گے! انکو قبروں میں ڈال دیں گے اور انکی میراث پر قبضہ کر لیں گے، جیسا کہ اس کے بعد ہمیں ہمیشہ اس جہان میں رہنا ہو.[3]

تشییع جنازے کا حکم

مومن کا تشییع جنازہ مستحب موکد ہے اور اس کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے. بعض فقہاء نے کہا ہے: تشییع جنازہ ایسے موارد میں مستحب ہے جہاں پر جنازے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل کرنے کی ضرورت ہو.[4]مومن کی تشییع جنازے کے لئے جائز ہے کہ جو مسجد میں معتکف ہے وہ مسجد سے نکل کر جنازے میں شرکت کرے اور یہ عمل، اعتکاف کو باطل نہیں کرتا.[5]

مراتب

آیت اللہ مرعشی نجفی کے تشییع جنازے میں لوگوں کی شرکت

بعض فقہاء نے تشییع جنازے کے لئے فضل و کمال کے تین مراتب بیان کئے ہیں:

اس کا پہلا اور کمترین مرتبہ، نماز جنازہ والی جگہ تک تشییع اور میت پر نماز پڑھنا ہے. درمیان والا مرتبہ، قبر کے کنارے تک تشییع اور دفن کے بعد تک اسی جگہ پر رکںا، اور اس کا آخری اور کامل مرتبہ یہ ہے کہ دفن کرنے کے بعد وہاں ٹھہرنا، اور میت کے لئے طلب مغفرت اور استغفار کرنا، تا کہ منکرونکیر کے سوالوں کے وقت میت کی مدد ہو سکے.[6]

بعض نے پہلے مرتبے، پر کہ وہ تشییع کی کمترین حد ہے اور یہ کہ اس سے کمتر پر تشییع محقق نہیں ہوتی اس پر سوال اٹھایا ہے.[7]

تشییع جنازہ کی مستحبات

  1. جب جنازے کو دیکھیں اور اٹھائیں تو جو دعا بیان ہوئی ہے اسے پڑھیں
  2. موت اور آخرت کے بارے میں سبق، عبرت اور فکر کرنا
  3. پیدل چل کر تشییع کرنا
  4. جنازے کے پیچھے یا اس کے دائیں بائیں حرکت کرنا
  5. جنازے کو چار افراد چاروں طرف سے اٹھائیں اور ہر کوئی اپنے کندھے پر رکھے، اور چاروں طرف سے جنازے کو خاص کیفیت سے اٹھائیں
  6. میت کو کندھوں پر رکھنا، نہ کہ کسی سواری پر مگر یہ کہ کسی خاص مجبوری کی صورت میں مثلاً اگر راستہ دور ہو.
  7. صاحب عزا کی ظاہری شکل و صورت کی تبدیلی اپنی عباء کو اتارنے یا ننگے پاؤں ہونے ہونے سے معلوم ہوتی ہے.[8]

مکروہات

  1. سواری پر بیٹھنا[9]
  2. ہنسنا
  3. لہوولہب اور فضول کاموں میں مشغول ہونا
  4. جنازے کو جلدی لے جانا
  5. جنازے کے پیچھے آگ لے جانا مگر یہ کہ رات کا وقت ہو
  6. صاحب عزا کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے چادر کو بدن سے اٹھانا
  7. ذکر خدا کے علاوہ دوسری باتیں کرنا اور میت کو قبر میں رکھنے سے پہلے بیٹھ جانا.[10]
  8. عورتوں کی شرکت بالخصوص جوان عورتوں کا جنازے میں شرکت کرنا مکرہ ہے، بوڑھی عورت کو اس حکم سے استثنا کیا گیا ہے.[11]

حوالہ جات

  1. فرهنگ عمید، ص۳۲۱، مولف: حسن عمید
  2. مصطلحات الفقہ، ص۱۴۶، مولف: آیت الله علی مشکینی,اور جواہر، ج۴، ص۲۶۳
  3. میزان الحکمہ، ج۱۲
  4. جواہر الکلام، ج۴، ص۲۶۳ـ۲۶۴
  5. جواہر الکلام، ج۱۷، ص۱۸۱
  6. منتہی المطلب (ق)، ج۱، ص۴۴۵
  7. جواہر الکلام، ج۴، ص۲۶۴
  8. جواہر الکلام، ج۴، ص۲۶۵ـ۲۷۴؛ العروة الوثقی، ج۱، ص۴۱۸ـ۴۱۹
  9. تذکرة الفقہاء، ج۲، ص۵۳
  10. جواہر الکلام، ج۴، ص۲۷۰ـ۲۷۲؛ العروة الوثقی، ج۱، ص۴۱۹
  11. الحدائق الناضرة، ج۴، ص۸۴ـ۸۵؛ جواہر الکلام، ج۴، ص۲۷۶

مآخذ

  • فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام ج۲، ص۴۹۷-۴۹۶.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالکتب الاسلامیہ و المکتبہ الاسلامیۃ، تہران، ۱۳۶۲- ۱۳۶۹ش.
  • طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعہ لجماعہ المدرسین، قم، ۱۴۱۷ -۱۴۲۰ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکره الفقہاء، مؤسسۃ آل البیت (علیہم السلام) لإحیاء التراث، قم، ۱۴۱۴ ۱۴۲۰-ق.
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدایق الناضره فی احکام العتره الطاہره، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفہ، ۱۴۰۵ -۱۴۱۶ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب (طبع قدیم)، نشر حاج احمد، تبریز، ۱۳۳۳ش.