ابراہیم بن عبد اللہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مرقد ابراهیم بن عبدالله.jpg

ابراہیم بن عبد اللہ حضرت امام حسن ؑ کے ان پوتوں میں سے ہے جو قتیلِ باخمرا کے نام سے مشہور ہوا اور جس نے اپنے بھائی نفسِ ذکیہ کے بعد حکومت وقت کی خلافت عباسیہ کے خلاف قیام کیا۔ اس قیام میں زیدیوں،معتزلیوں اور بعض فقہا نے حصہ لیا۔ لیکن یہ قیام کامیابی سے ہمکنار نہ ہوا ۔اس قیام کے نتیجے میں ابراہیم بن عبد اللہ 145 ہجری قمری میں باخمرا کے علاقے میں قتل ہوا ۔

تعارف

ابراہیم بن عبد اللہ بن حسن بن حسن 97 ہجری قمری میں پیدا ہوا۔ والد کا نام عبد اللہ محض تھا اور عبد اللہ محض حسن مثنی کا بیٹا تھا۔

شخصیت

ابراہیم بن عبد اللہ ایک ادیب اور محدث شخص تھا ۔واصل بن عطا اور عمرو بن عبید جیسے معتزلی مذہب کے مؤسس علما کے سوالوں کے جواب دینے کیلئے اس کے والد عبد اللہ محض نے ابراہیم کا انتخاب کیا تھا[1]۔وہ ایک شاعر بھی تھا .اسنے اپنے قیام کے حمایتیوں میں سے مفصل ضبٗی کے پاس اشعار کا مجموعہ ترتیب دیا جو بعد مفضل کے نام سے منسوب ہوا[2]۔

عباسیوں کے خلاف قیام

قیام ابراہیم بن عبد اللہ

منصور عباسی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد علویوں کی عباسیوں سے کھلم کھلا مخالفت ہو گئی۔[3]عبد اللہ محض اور اسکے اہل خانہ کو عراق میں زندانی کرنے کے بعد ابراہیم بن عبد اللہ اور محمد بن عبد اللہ نے عباسیوں سے اپنی مخالفت کو شدید تر کر دیا ۔محمد نے 145 ہجری قمری میں قیام کیا[4] اور ابراہیم نے 145ہجری قمری کے رمضان کے شروع میں بصرہ سے عباسیوں کے خلاف قیام کیا ۔[5]

ابراہیم کا لشکر 145ہجری قمری کے ذیقعد کے شروع میں بصرہ سے کوفہ کی طرف گیا[6] ۔ دوسری جانب منصور عباسی نے 18000 افراد پر مشتمل لشکر ابراہیم سے جنگ کرنے کیلئے روانہ کیا[7]۔دونوں فوجوں کا کوفہ سے 16 فرسخ سے دور باخمرا نامی جگہ پر آمنا سامنا ہوا۔ابتدا میں عباسیوں کی ابتدائی صفیں سنگین شکست سے دوچار ہوئیں ۔[8]

لیکن عباسی لشکر کے ایک حصے نے ابراہیم کے لشکر کی پشت سے حملہ کیا[9] جس نے ابراہیم کے لشکر کو کافی نقصان پہنچایا ۔ 25 ذی الحجہ 145 ہجری قمری کو ابراہیم بن عبد اللہ گلے پر تیر لگنے کی وجہ سے قتل ہو گیا۔ اس کی وجہ سے علویوں کی فوج بہت ضعیف ہو گئی اور عباسیوں کی فوج کے حوصلے بلند ہو گئے [10]۔اس طرح علویوں کی پہلی فتح کی جگہ شکست نے لے لی اور ابراہیم بن عبد اللہ کا قیام کامیاب نہ ہو سکا ۔ابراہیم کے قتل کے بعد اس کے سر کو تن سے جدا کر کے خلیفہ کے نزدیک لے گئے اور اسکے جسد کو باخمرا میں دفن کر دیا ۔[11]

حوالہ جات

  1. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ج۱، ص۲۹۳-۲۹۴
  2. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ج۱، ص۳۱۶
  3. محمدرضا مہدوی عباس آباد، قیام محمد بن عبدالله (نفس زکیہ) نخستین قیام علویان علیہ عباسیان، نشریہ دانشکده علوم اجتماعی و انسانی دانشکده تبریز، ش۱۶، ۱۳۴.
  4. ابن قتیبہ، المعارف، ص۳۷۸.
  5. خلیفہ بن خیاط، تاریخ، ج۲، ص۶۴۹.
  6. یعقوبی، تاریخ، ج۲، ص۳۷۷.
  7. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۵، ص۵۶۷ و ۵۶۸.
  8. طبری، تاریخ طبری، ج۳، ص۳۱۳.
  9. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۳۷۸
  10. طبری، تاریخ طبری، ج۳، ص۳۱۶.
  11. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۳۷۸. یاقوت، معجم البلدان، ج۱، ص۳۱۶. بیروت، ۱۳۷۴ق


مآخذ

  • یعقوبی، تاریخ، ج۲، ص۳۷۷، بیروت، ۱۳۷۹ق.
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ج۱، ص۲۹۳-۲۹۴، به کوشش احمد صقر، قاہره، ۱۳۶۸ق.
  • خلیفہ بن خیاط، تاریخ، ج۲، ص۶۴۹ به کوشش سہیل زکار، دمشق ۱۹۶۸م.
  • طبری، ابن جریر، تاریخ، بيروت، دار الكتب العلميہ، ۱۴۰۷ق. و نیز: به کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، ۱۹۶۰-۱۹۶۸م.
  • ابن اثیر، الکامل، بیروت، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۲م.
  • ابن قتیبہ، عبداللـہ بن مسلم، المعارف، به کوشش ثروت عکاشہ، قاہره، ۱۹۶۰م.
  • محمدرضا مہدوی عباس آباد، قیام محمد بن عبدالله (نفس زکیه) نخستین قیام علویان علیه عباسیان، نشریہ دانشکده علوم اجتماعی و انسانی دانشکده تبریز، ش۱۶.