واجب الوجود

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

واجِبُ الوجود ایک کلی مفہوم ہے جس کا مصداق صرف خدا کی ذات ہے۔ واجب الوجود اس موجود کو کہا جاتا ہے جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو۔ مسلمان فلاسفہ مختلف دلائل کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں کہ خدا کے سوا تمام موجودات ممکن الوجود ہیں اور صرف خدا واجب الوجود ہیں۔ خدا کے واجب الوجود ہونے پر بہت ساری دلائل قائم کی گئی ہیں، من جملہ ان میں برہان صدیقین کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ماہیت نہ رکھنا، بسیط ہونا(مرکب نہ ہونا)، توحید ذاتی، توحید ربوبی، زندہ ہونا، عالم ہونا، قادر ہونا اور خالقیت وغیرہ واجب الوجود کی خصوصیات میں سے ہیں جو فلسفی کتابوں میں مذکور ہیں۔

خدا کے لئے واجب الوجود کا استعمال

مسلمان فلاسفہ اس بات کے معتقد ہیں کہ عقلی طور پر ہر موجود کے لئے دو حالتوں سے زیادہ قابل تصور نہیں ہے: یا یہ موجود وجود میں آنے کے لئے کسی اور موجود کا محتاج ہے اس صورت میں اسے "ممکن الوجود" کہا جاتا ہے۔ یا یہ کہ یہ موجود وجود میں آنے کے لئے کسی اور موجود کا محتاج نہیں ہے اس صورت میں اسے "واجب الوجود" کا نام دیا جاتا ہے۔ مسلمان فلاسفہ مختلف دلائل کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں کہ "واجب الوجود" ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور وہ خدا کی ذات ہے اور خدا کے علاوہ تمام موجودات "ممکن الوجود" ہیں۔[1]

دلائل

اسلامی فلسفہ میں واجب الوجود یا خدا کو ثابت کرنے کے لئے بہت سارے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔[2] ان دلائل میں سے بعض ادلے من جملہ برہان صدیقین کو واجب الوجود کے اثبات میں سب سے زیادہ مستحکم دلیل قرار دیتے ہیں؛[3] البتہ یہ برہان مختلف صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔[4] ابن سینا، ملا صدرا، ملا ہادی سبزواری اور علامہ طباطبایی کا بیان کردہ استدلال بھی من جملہ انہی دلائل میں سے ہے۔[5][نوٹ 1]

برہان "امکان و وجوب" کے مطابق ہر موجود عقلی طور پر یا ممکن الوجود ہے یا واجب الوجود اور ان دو حالتوں کے علاوہ کوئی اور حالت قابل تصور نہیں ہے۔ کائنات میں موجود تمام موجودات کو "ممکن الوجود" قرار نہیں دیا جا سکتا؛ کیونکہ ممکن الوجود وجود میں آنے کے لئے علت کا محتاج ہے، اگر اس کی علت خود ممکن الوجود ہو تو وہ بھی علت کا محتاج ہے، اس طرح اگر تمام علتیں ممکن الوجود اور علت کا محتاج ہو تو کائنات میں کوئی موجود وجود میں نہیں آ سکے گا۔ پس کم از کم ایک ایسا موجود ہو جو وجود میں آنے کسی کا محتاج نہ ہو اور وہ "واجب الوجود" ہے۔[6]

واجب الوجود کی خصوصیات

فلسفی کتابوں میں "واجب الوجود" کے متعدد خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ کتاب نہایۃ الحکمہ کے مطابق ان میں سے بعض درج ذیل ہے:

  • ماہیت نہ رکھنا
    • دلیل: ہر وہ موجود جو ماہیت پر مشتمل ہو گا وہ ممکن الوجود ہو گا؛ اس بنا پر جو بھی ممکن الوجود نہیں ہو گا وہ ماہیت سے آری ہوگا؛ پس واجب الوجود ماہیت نہیں رکھتا۔[7]
  • بساطت: واجب الوجود مرکب نہیں یعنی واجب الوجود کسی خارجی اور ذہنی اجزاء پر مشتمل نہیں ہے۔
    • دلیل: چونکہ واجب الوجود ماہیت نہیں رکھتا اس لئے اس کا کوئی حد و حدود مشخص نہیں کیا جا سکتا؛ اس بنا پر واجب الوجود کا کوئی جنس و فصل نہیں ہے؛ جب جنس و فصل پر مشتمل نہیں ہو گا تو اس کا کوئی جزء بھی نہیں ہو گا۔[8]
  • توحید ذاتی: واجب الوجود فقط ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
    • دلیل: واجب الوجود ماہیت رکھتا؛ اس بنا پر کسی عدم سے مرکب نہیں ہو گا؛ جب ایسا ہو گا تو یہ عین وجود ہوگا دوسرے لفظوں میں واجب الوجود وجود محض ہو ہے۔ شریک‌ رکھنا اس وقت صحیح ہے کہ ان شرکاء میں سے کوئی ایک شریک کسی چیز پر مشتمل ہو اور دوسرے اس سے عاری ہوں؛ کیونکہ اگر دو شریک تمام چیزوں میں مشترک ہوں تو گویا یہ دو، دو موجود نہیں بلکہ ایک ہی ہوگا۔ پس "واجب الوجود" کے شریک رکھنے کا لازمہ یہ ہو گا کہ دو واجب الوجود میں سے ایک کسی چیز کا حامل اور دوسرا اس سے عاری ہو، اور یہ بات عین الوجود کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ عین الوجود میں کسی عدمی پہلو کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔[9]
  • توحید رُبوبیت: تمام موجودات کی رشد و ترقی اور ان کی تدبیر کرنے والی ہستی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔
    • دلیل: کائنات ایک دوسرے سے مرتبط اور منظم مجموعے کا نام ہے؛ یعنی اس کے اجزاء کے درمیان علّت و معلول کا رابطہ ہے؛ اس بنا پر موجودات میں سے ہر ایک کی ترقی اور تکامل کسی نہ کسی علت کی وجہ سے ہے؛ یہ علت اپنی ذات میں خود کسی علت کا معلول ہے یہاں تک کہ واجب الوجود تک جا پہنچے جو تمام علتوں کی علت ہے۔ چونکہ کسی چیز کی علت کی علت بھی اس چیز کی علت شمار ہوتی ہے، واجب الوجود کو تمام موجودات کی ترقی اور تکامل کی اصلی اور حقیقی علت نیز ان سب کا تدبیر کنندہ قرار دیا جاتا ہے۔[10]

حی‌ اور زندہ ہونا، عالم‌ ہونا، قادر ہونا، خالقیّت اور رازقیّت بھی واجب الوجود کے صفات میں سے ہیں۔[11]

حوالہ جات

  1. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۵۷ و۵۸
  2. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۴۱۔
  3. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۵۸؛ طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۴۱۔
  4. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۴۲۔
  5. ر۔ک: طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۴۲-۱۰۵۴۔
  6. مصباح یزدی، آموزش عقاید،۱۳۸۴ش، ص۵۷و۵۸۔
  7. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۱۶۵۔
  8. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ۱۰۷۳-۱۰۷۵۔
  9. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۸۵۔
  10. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۰۹۱-۱۰۹۴۔
  11. طباطبایی، نہایۃ الحکمہ، ۱۳۸۶ش، ج۴، ص۱۱۰۸، ۱۱۰۹۔
  1. ان دلائل میں سے کونسی دلیل سب سے زیادہ مستحکم ہے اس بارے میں مسلمان فلاسفہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فلاسفہ کے مطابق واجب الوجود کے اثبات میں سب سے زیادہ آسان اور مستحکم‌ دلیل، برہان "امکان و وجوب" ہے جسے ابن سینا نے بیان کیا ہے جو کسی حسی اور تجربی مقدمے سے وابستہ نہیں ہے؛ (مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۵۸۔) بعض فلاسفہ برہان صدیقین میں علامہ طباطبائی کے بیان کو زیادہ مستحکم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: یہ استدلال حسی اور تجربی مقدمات نہ رکھنے کے ساتھ ساتھ فلسفہ کے اصول سے بھی بے نیاز ہے۔(جوادی آملی، تبیین براہین اثبات خدا، ۱۳۷۵ش، ص۲۱۶۔)

مآخذ

  • جوادی آملی، عبداللہ، تبیین براہین اثبات خدا، قم، انتشارات اسراء، ۱۳۷۵ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، نہایۃالحکمہ، تصحیح و تعلیق غلامرضا فیاضی، قم، مرکز انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ چہارم، ۱۳۸۶ش۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، آموزش عقاید، تہران، شركت چاپ و نشر بين الملل سازمان تبليغات اسلامى، چاپ ہفدہم، ۱۳۸۴ش۔