سورہ اخلاص

ویکی شیعہ سے
(سورہ توحید سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسد سورۂ اخلاص فلق
سوره اخلاص.jpg
ترتیب کتابت: 112
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 22
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 4
الفاظ: 15
حروف: 47

سورہ اخلاص [سُورةُ الْإِخْلاصِ] قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے جس کو مسلمانان عالم نماز میں سورہ حمد کے بعد پڑھتے ہیں۔ چونکہ اس سورت کے توحیدی مضامین پڑھنے سے ایمان راسخ رکھنے والے دلوں میں اخلاص کے چشمے پوٹھتے ہیں لہذا اس کو سورہ اخلاص کہا جاتا ہے۔

مروی ہے کہ جب قریش نے رسول خدا(ص) سے درخواست کہ خداوند متعال کی توصیف کریں تو یہ سورت نازل ہوئی جو ہے تو مختصر لیکن خداوند قدوس کا کامل و جامع تعارف کرانے میں بے مثل ہے۔

سورہ اخلاص یا توحید

سورہ اخلاص [سُورةُ الْإِخْلاصِ] قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے جس کو مسلمانان عالم نماز میں سورہ حمد کے بعد پڑھتے ہیں۔ چونکہ اس سورت کے توحیدی مضامین پڑھنے سے ایمان راسخ رکھنے والے دلوں میں اخلاص کے چشمے پوٹھتے ہیں لہذا اس کو سورہ اخلاص کہا جاتا ہے۔

یہ سورت قل سے شروع ہونے والی پانچ سورتوں میں تیسرے نمبر پر ہے اور چار قل میں دوسرے نمبر پر۔ (جن کا آغاز لفظ قُل (کہہ دو) سے ہوتا ہے[1]

مفسرین (منجملہ طبری، میبدی، زمخشری اور ابوالفتوح رازی) نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ قریش میں سے بعض افراد نے رسول خدا(ص) سے درخواست کرتے ہوئے کہا: "ہمیں اپنے پروردگار کا تعارف کرا دیں چنانچہ یہ سورت نازل ہوئی جو مختصر ہونے کے باوجود بہت زیادہ واضح اور جامع انداز سے اللہ تعالی کی توصیف کرتی ہے۔[2]

نام و کوائف

سورہ اخلاص یا توحید کثیرالاسم سورتوں میں سے ہے جس کے لئے تقریبا 14 نام نقل ہوئے ہیں۔ اس کے مشہور ترین نام مندرجہ ذیل ہیں:

  1. اخلاص، چونکہ اس سورت کے توحیدی مضامین پڑھنے سے ایمان راسخ رکھنے والے دلوں میں اخلاص کے چشمے پوٹھتے ہیں لہذا اس کو سورہ اخلاص کہا جاتا ہے۔
  2. توحید، اس کو اس لئے سورہ توحید کیا جاتا ہے کہ توحید اس کا اصل مضمون ہے اور یہ مسئلۂ توحید کی تشریح و توصیف میں نازل ہوئی ہے۔
  3. صمد، اس کو صمد کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لفظ اس کی دوسری آیت میں مذکور ہے اور متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے منجملہ: بےنیاز و غیر محتاج اور وہ ضروریات و احتیاجات کی صورت میں ملجا و پناہگاہ ہے اور کوئی اس سے برتر نہیں ہے۔
  4. نجات، اس کو اس لئے نجات کا نام دیا جاتا ہے کہ یہ انسان کو جہنم کی آگ سے نجات دلاتی ہے۔
  5. معرفت، اس کو معرفت کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی معرفت و شناخت اور صفات کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔
  6. اساس، اس کو اس نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اسلام کی اساس اور بنیاد یعنی توحید اور صفات الہیہ پر مشتمل ہے۔
  7. تجرید، کے معنی مجرد کرنے اور تنہا کردینے کے ہیں اور یہ سورت تجرید کہلاتی ہے کیونکہ یہ خداوند متعال کی ذات کو تمام عیوب، ترکیب اور مادیت کے آٹار سے مبرا اور مجرد کرتی ہے۔
  8. تفرید، اس کو اس نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور تفرید کے معنی خدا کو فرد اور واحد قرار دینے کے ہیں۔
  9. برائت، چونکہ یہ سورت خدا شناسی کے مسئلے میں انسان کے عقائد کو تمام تر اوہام، انحرافات اور اشتباہ سے پاک و مبرّا کردیتی ہے، لہذا اس کو برائت بھی کہا جاتا ہے۔
  10. مُشَقشَقہ، اس عنوان کا اطلاق کافرون، ناس اور فلق پر ہوتا ہے اور اس کے معنی ایسے کلام کے ہیں جو حساس مواقع پر انسان کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔[3]


متن سورہ

سوره اخلاص مکیہ ۔ نمبر 112 ۔ آیات 4 ترتیب نزول 22
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿1﴾ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿2﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿3﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿4﴾

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

کہئے کہ وہ اللہ ہے یکتا (1) اللہ وہ مالک ہے جس سے سب لو لگاتے ہیں (2) نہ اس کے کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد (3) اور کوئی اس کا برابر دار نہیں ہے (4)


پچھلی سورت:
سورہ مسد
سورہ 112 اگلی سورت:
سورہ فلق
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. دیکھیں: دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج1، 1271-1270۔
  2. خرمشاهی، بهاءالدین، قرآن کریم، ترجمه، توضیحات و واژه نامه، ص604، پانویس شماره1۔
  3. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1271-1270۔


مآخذ