یومیہ نمازیں

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاص
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

یومیہ نمازیں صبح، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی پنجگانہ نمازوں کو کہا جاتا ہے جنہیں ہر مکلف کو انہیں ہر روز بجا لانا چاہئے۔ یومیہ نمازیں مسلمانوں کے اہم ترین عبادی اعمال ہیں جو ہر روز پانچ مختلف اوقات میں بجا لائے جاتے ہیں۔

یومیہ نمازوں کی رکعات اور اوقات

  • نماز صبح: اس نماز کی رکعات کی تعداد دو ہے اور اس کو طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک بجا لایا جاتا ہے۔
  • نماز ظہر: اس کی رکعتیں چار ہیں اور زوال آفتاب سے لے کر غروب آفتاب سے قبل، اس وقت تک پڑھی جاسکتی ہے جب تک غروب تک نماز عصر کی چار رکعتوں جتنا وقت باقی ہو۔ جمعہ کے دن نماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں تو نماز ظہر کی بجائے دو رکعت نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے۔
  • نماز عصر: چار رکعتی نماز ہے جس کا وقت، ظہر کے بعد چار رکعت نماز ظہر کے برابر وقت گذرنے کے بعد، شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب تک پڑھی جاسکتی ہے۔
  • نماز مغرب: تین رکعتی نماز ہے جس کا وقت اذان مغرب سے اس وقت تک پڑھی جاسکتی ہے جب تک کہ "شرعی نصف شب" سے قبل، نماز عشاء کی چار رکعتوں جتنا وقت باقی ہو۔
  • نماز عشاء: چار رکعتی نماز ہے جو اذان مغرب سے نماز مغرب جتنا وقت سے گذرنے کے بعد سے "شرعی نصف شب" پڑھی جاسکتی ہے۔[1]

بعض احکام

  • نماز مسافر، قصر ہے؛ یعنی یہ کہ چار رکعتی نمازیں سفر کے دوران دو رکعتی، پڑھی جاتی ہیں۔
  • ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ حمد اور دوسری صورت، آہستہ پڑھی جاتی ہیں۔
  • مرد نمازگزار نماز صبح، مغرب اور عشاء کے دوران حمد اور سورت کو بآواز بلند پڑھیں گے جبکہ خواتین کو تمام نمازوں میں حمد اور سورت کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔
  • یومیہ نمازیں تمام مکلفین پر ہر صورت میں واجب ہیں ہیں؛ سوائے حائض (ماہواری) اور نفساء خواتین کے۔ نفاس اس خون کو کہا جاتا ہے جو خواتین بچے کی پیدائش کے بعد 10 روز تک دیکھتی ہیں۔

جمع بین الصلاتیں

اہل سنت کا اعتقاد ہے کہ یومیہ نمازیں پانچ الگ الگ اوقات میں پڑھی جانی چاہئیں۔[2] شیعہ بھی اگرچہ یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ یومیہ نمازیں پانچ اوقات میں پڑھنا، افضل ہے؛ لیکن نماز عصر کو نماز ظہر کے فورا بعد پڑھنا اور نماز عشاء کو نماز مغرب کے فورا بعد پڑھنا، جائز ہے اور اصطلاحا وہ دو نمازیں اکٹھی پڑھتے ہیں۔ شیعہ نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کے لئے قرآن اور سنت سے دلائل اور مستندات بھی قائم کرتے ہیں۔[3]

یومیہ نمازوں کی اہمیت

یومیہ نمازیں، اہم ترین عبادی اعمال میں سے ہیں جنہیں روایات میں "اصلِ اسلام"، "معراج المؤمن"، "روزانہ گناہوں کو پاک کردینے والے"، "افضل ترین عمل" و۔۔۔ کہا گیا ہے۔[4]

حوالہ جات

  1. امام خمینی، تحریرالوسیلہ، ص111-113۔
  2. نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم ج5، ج3، ص135۔
  3. نجفی، جواہر الکلام، ج7، ص305، المسئلۃ السابعۃ۔
  4. نجفی، جواہر الکلام، ج7، ص2۔


مآخذ

  • امام خمینی، تحریرالوسیله، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تهران، 1379.
  • نجفی، محمد حسن بن باقر، جواہر الکلام، دارالاحیاء التراث العربی، لبنان، 1362ق.
  • نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، دارالکتب العربی، بیروت، 1407ق.

حوالہ جات