ابن تیمیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن تیمیہ
قبر ابن تیمیه.jpg
ذاتی کوائف
مکمل نام: احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن تِیمیّہ حَرّانی حَنبَلی
تاریخ پیدائش: 661ھ
محل پیدائش: حرّان
تاریخ وفات: 728ھ
محل وفات: دمشق
علمی معلومات
اساتذہ: مجد بن عساکر
شاگرد: ابن قیم جوزی
سیاسی اور سماجی سرگرمیاں
شہرت: تکفیری نظریات اور شاذ و نادر فتوا کا مالک

احمَد بن عَبدُالحَلیم، ابن تَیمیہ حَرّانی (661-728ھ) حنبلی، سلفی مشہور اور تاثیر گزار علما میں سے ہے جس نے مجد بن عساکر جیسوں کے پاس تعلیم حاصل کی۔ ابن کثیر اور ابن قیم جوزی وغیرہ ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ ابن تیمیہ کی 300 سے زائد تالیفات بتائی جاتی ہیں۔ کلام، تفسیر، فقہ اور حدیث جیسے اسلامی علوم کے مختلف شعبوں میں خاص نظریات کے حامل ہیں۔

ابن تیمیہ نے تقریبا 60 مسئلوں میں اجماع کے برخلاف نظریہ دیا ہے جن میں سے بعض اصول دین اور بعض فروع دین سے مربوط ہیں؛ اسی بنا پر اہل سنت کے مذاہب اربعہ اور شیعہ ان پر تنقید کرتے ہوئے ان کے اکثر نظریات کو رد کرتے ہیں۔

وہابیوں کے بعض نظریات کا اصل منبع ابن تیمیہ کے نظریات ہیں۔ ابن تیمیہ نے شیعوں کو عالمِ اسلام میں موجود تمام اختلافات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتا ہے کہ شیعوں سے جنگ کرنا خوارج اور مغلوں سے جنگ کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ انہی اعتقادات کی بنا پر وہ مغلوں کے ساتھ مل کر کِسرَوان میں دروزی شیعوں کے خلاف جنگ میں شامل ہوئے۔

ابن تیمیہ کے بارے میں علماء اور مفکرین کے نظریات مختلف ہیں؛ بعض نے ان کی تعریف کی ہے تو بعض نے کفر کی حد تک ان کی مذمت کی ہیں۔

زندگی‌ نامہ

احمد بن عبدالحلیم جو ابن تیمیہ اور شیخ‌ الاسلام کے نام سے معروف تھا، سنہ 661ھ کو موصل اور شام کے درمیان حران نامی مقام پر مذہب حنابلہ کے مذہبی گھرانے میں پیدا ہوا۔[1] 6 سال کی عمر میں ان کے خاندان نے مغلوں کے حملوں سے بچنے کے لئے دمشق مہاجرت کی اور ابن تیمیہ نے وہیں پر اپنی تعلیم ابن عساکر اور دیگر اساتذہ کے پاس مکمل کی اور 17 سال کی عمر میں علمائے حنابلہ سے اجتہاد کی ڈگری دریافت کی۔[2]

ابن تیمیہ اپنے زمانے کے رائج علوم جیسے فقہ، اصول، حدیث، کلام، تفسیر، فلسفہ اور ریاضیات کی تعلیم کے ساتھ دیگر ادیان خاص کر یہودیت کے بارے میں بھی معلومات رکھتا تھا۔[3]

ابن تیمیہ قدرت بیان، مخالفین کے ساتھ بحث میں شدت پسندی،[4] اپنے زمانے کے علماء کی مخالفت، حکمرانوں کے مقابلے میں جسور، سیاسی اور سماجی امور میں دلچسپی، امر بہ معروف و نہی از منکر میں جنگ و جدال وغیرہ میں شہرت رکھتا تھا۔[5]

ابن تیمیہ دمشق میں شیخ الحنابلہ کے منصب پر منصوب ہونے اور "العقیدۃ الحمویۃ الکبری" جیسی کتابوں کی اشاعت کے بعد عوام و خواص میں تنقید کا نشانہ بننے لگا۔[6] مختلف مخالف فرقوں کے ساتھ ان کے مناظرات اور جھگڑے ہمیشہ جاری رہتے تھے یہاں تک کہ سنہ 705ھ میں انہیں مصر بلایا گیا اور عقیدتی انحرافات کی بنا پر ان کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے مصر میں ہی قیام کر کے اپنے نظریات کا پرچار شروع کیا جس کی بنا پر کئی بار جیل جانا پڑا۔[7]

ابن تیمیہ سنہ 713ھ کو ملک ناصر جسے مغلوں کے ساتھ مقابلے کے لئے شام بھیجا گیا تھا، کے ساتھ دمشق واپس آیا اور دوبارہ تبلیغ اور تدریس میں مشغول ہو گیا۔ دمشق میں قیام کے دوران بھی دیگر مذاہب کے علماء کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے کئی بار جیل بھیجا گیا یہاں تک کہ سنہ 728ھ کو قلعہ دمشق کی جیل میں وفات پائی۔[8]

اساتذہ اور شاگرد

ابن تیمیہ نے دمشق میں قیام کے دوران مجد بن عساکر، ابن عبدالدائم، قاسم اربلی اور شرف ‌الدین احمد بن نعمہ مقدسی وغیرہ کے پاس تعلیم حاصل کی[9] اور اپنے استاد شرف‌الدین سے اجتہاد کی ڈگری بھی دریافت کی۔[10]

کتاب البدایۃ و النہایۃ کے مصنف ابن کثیر،[11] "کتاب تہذیب الکمال" کے مصنیف ابوالحجاج مزی،[12] اور ابن قیم جوزیہ[13] ان کے شاگردوں میں سے تھے۔

تألیفات

ابن تیمیہ نے اسلامی علوم کے مختلف شعبوں میں بہت سی کتابیں لکھی ہے۔ ابن شاکر نے کتاب "فوات الوفیات" میں ابن تیمیہ کی کتابوں اور رسالوں کو موضوعی اعتبار سے تفسیر، کلام، فقہ، اصول اور فتاوں میں تقسیم کیا ہے۔[14] اسی طرح ابن قیم جوزیہ کی کتاب "أسماء مؤلفات شیخ الإسلام ابن تیمیۃ" میں ابن تیمیہ کی کتابوں کا مجموعہ موضوعی اعتبار سے جدا گانہ ذکر کیا ہے۔[15] ان کی بعض مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

  • کتاب منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریہ، یہ کتاب سنہ 705ھ کو علامہ حلی کی کتاب منہاج الکرامۃ کے جواب میں لکھی گئی ہے[16] جس کے رد اور تنقید میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں۔[17] اہل سنت یہاں تک کہ سلفی، شیعہ امامیہ اور زیدی علماء نے کتاب "منہاج السنۃ" کی رد میں کتابیں لکھی ہیں۔[18] اس کتاب کے مندرجات کی بنا پر ابن تیمیہ کو ناصبی شمار کیا جاتا ہے۔[19]
  • العقیدۃ الحمویۃ الکبری؛ یہ کتاب خدا اور خدا کے صفات کے بارے میں کئے گئے سوالات کے جواب میں لکھی گئی ہے جس پر مختلف مذاہب کے علماء نے بہت زیادہ اعتراضات کئے ہیں۔[20] ابن تیمیہ علم کلام کی مخالفت کرتا تھا اور اس بات کے معتقد تھے کہ علم کلام بھی ارسطو کے فلسفے کی طرح انحراف اور زندقہ تک پہنجا دیتا ہے۔[21] ابن تیمیہ نے اس کتاب میں اشاعرہ کے بہت سارے اعتقادات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ضعیف اور سست قرار دئے ہیں۔[22]
  • الحسبہ فی الاسلام جو ابن تیمیہ کے بعض اقتصادی افکار پر مشتمل ہے۔
  • السیاسۃ الشرعیۃ لاصلاح الراعی و الرعیۃ، اس کتاب کو مصر میں ولایت، امامت اور حکومت کے بارے میں لکھی گئی ہے۔
  • العقیدہ الواسطیۃ، جو اصول اعتقادات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے بھی مختلف علماء کے درمیان جنگ و جدال برپا ہوئے اور ابن تیمیہ کے جیل جانے کا سبب بھی بنی۔
  • النصوص علی الفصوص، اس کتاب کو کتاب فصوص الحکم میں ابن عربی کی نظریات کے رد میں لکھی گئی ہے۔[23]

علمی روش

ابن تیمیہ نے تقریبا 60 مسئلوں میں اجماع کے خلاف فتوا دیا ہے جن میں سے بعض اصول دین اور بعض فروع دین سے مربوط ہیں۔[24]

کلامی اور اعتقادی نظریات

ابن تیمیہ متکلمین کے بارے میں منفی رویہ رکھتا تھا۔ اگرچہ اس نے خود علم کلام کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ متکلمین کو اصول دین میں بعض قرآن مخالف نظریات لانے اور لوگوں کو غلط راستے پر لگانے کے الزام میں تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔ وہ اس بات کا معتقد تھا کہ پیغمبر اسلامؐ نے اصول دین کے تمام ارکان کو مشخص کر دئے تھے لیکن متکلمین عقلی دلائل کے ذریعے لوگوں کو پیغمبر اکرمؐ کی تعلیمات سے دور کر رہے ہیں۔[25] ابن تیمیہ نے علم کلام کی مخالفت کے باوجود بعض کلامی مسائل کو اعتقادی نظریات کے عنوان سے پیش کیا ہے جسے بہت سارے اسلامی مذاہب کے علماء نے رد کیا ہے من جملہ یہ مسائل درج ذیل ہیں:

  • خدا کے خبری صفات کو ظاہری معانی پر حمل کرنا: ابن تیمیہ ‌نے رسالہ العقیدۃ الحمویۃ میں اہل حدیث کی پیروی کرتے ہوئے خبری صفات جیسے خدا کا عرش پر جلوہ افروز ہونا یا خدا کے لئے ہاتھ اور چہرہ قرار دینے کو انکے لغوی اور ظاہری معانی پر حمل کرتا تھا اور ہر قسم کی تأویل، تعطیل، تبدیل، تشبیہ اور تمثیل کو جائز نہیں سمجھتا تھا اور خدا کی صفات میں تأویل کے قائلین پر تنقید کرتا تھا۔[26] لیکن اس کے باوجود وہ ان صفات کو مجہول قرار دیتا تھا۔ بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ ابن تیمیہ خدا کے بارے میں تشبیہ اور تجسیم کی تہمت سے بچنے کے لئے خدا کے خبری صفات کو مجہول قرار دیتا تھا۔[27] اسلامی مذاہب کے علماء نے مذکورہ صفات کی تفسیر اور تأویل کی ہیں۔[28]
  • توسل: ابن تیمیہ توسل کے 3 معنی ذکر کرتا ہے: ۱- پیغمبر اکرمؐ کی اطاعت کرنے میں توسل کرنا، اس توسل کو وہ ایمان کی تکمیل قرار دیتا ہے۔ ۲- دعا اور پیغمر اکرمؐ کی شفاعت کے لئے توسل کرنا آپؐ کی زندگی اور قیامت کے دن دونوں صورتوں میں امکان‌ پذیر ہے۔ ۳- خدا کو پیغمبر اکرم کا واسطہ دینا یا پیغمبر اکرم کے واسطے سے خدا سے کوئی چیز مانگنا۔ ابن تیمیہ توسل کی تیسری قسم کو جائز نہیں سمجھتے اور اس بات کے معتقد تھے کہ صحابہ کی سیرت میں ایسی کوئی چیز دیکھنے میں نہیں آتی ہے۔[29]
  • تکفیر: ابن تیمیہ اس عقیدہ کے ساتھ کہ دین کی ضروریات یا متواتر احکام یا اجماعی احکام میں سے کسی ایک کے انکار سے کفر ثابت ہوتی ہے،‌[30] مختلف افراد، گروہوں اور مذاہب کی تکفیر کرتا تھا اور ان کو دین سے خارج کرتے تھے۔ فلاسفہ، جہمیہ، باطنیہ، اسماعیلیہ، شیعہ اثناعشری اور قدریہ من جملہ ان گروہوں میں سے ہیں جن کو ابن تیمیہ کافر سمجھتا تھا۔[31] اسی طرح وہ کسی شخص کو واسطہ قرار دے کر خدا سے طلب کرنے والا یا ارکان اسلام جیسے نماز وغیرہ میں سے کسی ایک کو ترک کرنے والا یا متواتر اور اجماع کی مخالفت کرنے والا یا کفار کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والا یا یہودیوں اور عیسائیوں کو کافر قرار نہ دینے والا یا اولیاء خدا میں سے کسی ایک کو پکارنے والے کو بھی کافر قرار دیتا تھا۔[32]
  • زیارت قبور و مشاہد: ابن تیمیہ زیارت قبور، مشاہد اور مقدس مقامات کی زیارت کو بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے[33] بدعت شمار کرتا تھا۔ انہوں نے منہاج السنۃ میں شیعوں کو ائمہ معصومینؑ کے قبول پر زیارت گاہ تعمیر کرنے کی بنا پر مذمت کیا ہے۔[34]

فقہی نظریات

ابن تیمیہ فقہ میں مذہب حنبلی کا پیرو تھا؛ لیکن دیگر مذاہب کے منابع سے مطلع ہونے کی بنا پر تمام اسلامی مذاہب سے مختلف نظریات کا حامل تھا۔ وہ شاذ و نادر فتوے صادر کرنے میں مشہور تھا اور ان کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس زمانے کے علماء کے درمیان بہت سارے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے تھے اور انہی دلائل کی بنا پر وہ کئی بار جیل بھی جا چکا ہے۔[35] ان کے بعض شاذ و نادر فتوے درج ذیل ہیں:

  1. مسافر کی نماز کے قصر ہونے میں سفر کا مختصر ہونا اور طولانی ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے اور اسے سورہ نساء کی آیت نمبر 43 کی اطلاق اور سنت نبوی سے استناد کرتا تھا۔[36]
  2. طلاق میں دیگر اہل سنت علماء کے برخلاف وہ اس بات کا معتقد تھا کہ لفظ ثلاث کے ذریعے طلاق دینا صرف ایک طلاق شمار ہو گی اور طلاق دینے کی قسم کھانا طلاق واقع ہونے کا باعث نہیں بنتی۔ اسی طرح وہ تین طلاق میں پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کی قصد سے دوسرے شوہر کے ساتھ کرنے والی شادی کو محلل نہیں سمجھتا تھا اور اسے شرعی حیلہ قرار دیتا تھا۔[37]
  3. آب قلیل نجاست کے ساتھ ملاقات کرنے سے نجس نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل ہو۔
  4. اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں افطاری کا وقت آنے کے خیال سے روزہ افطار کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ ابھی افطاری کا وقت نہیں ہوا تھا تو اس پر اس دن کے روزے کی قضا واجب نہیں ہے۔
  5. حائض کا طواف صحیح ہے۔
  6. زیارت کا سفر، سفر معصیت ہے۔[38]

حدیثی نطقہ نظر

احادیث کے بارے میں ابن تیمیہ کا نقطہ نظر نقل کو عقل پر مقدم قرار دینا ہے۔ وہ احادیث کو بہت زیادہ معتبر سمجھتا تھا اور صرف محدثین کو صاحب رائ سمجھتا تھا اور اس کے مقابلے میں علوم عقلی کے ماہرین پر تنقید کیا کرتا تھا۔[39] ابن تیمیہ عقل اور نقل کے موازنے کے دوران اس عقل کو معتبر سمجھتا تھا جو نص کے ساتھ سازگار ہو؛ اسی بنا پر وہ حکما اور متکلمین کے اقوال کو جو دینی متون کے ساتھ سازگار نہ ہو باطل قرار دیتا تھا۔ اس کی نظر میں نقل پر اتکا کئے بغیر عقل کی کوئی قیمت نہیں ہے۔[40]

ابن تیمیہ احادیث کے معتبر ہونے پر بہت زیادہ تاکید کے باوجود اگر کسی وقت کوئی حدیث ان کی اپنی مرضی کے برخلاف ہوتی تو اسے ناقص نقل کرتا تھا یا اس میں دخل و تصرف کرتا تھا۔[41]

تفسیری نقطہ نظر

تفسیر قرآن میں قرآن کے ظواہر پر تکیہ کرنا ابن تیمیہ کے تفسیر روایی کا طریقہ تھا اور وہ احادیث کی طرف رجوع کئے بغیر تفسیر کرنے کو حرام سمجھتا تھا۔ ابن تیمیہ نے تفسیر میں اپنی روش کو اپنی کتاب "مقدمۃ فی اصول التفسیر" میں ذکر کیا ہے۔ ابن تیمیہ کے مطابق پیغمبر اسلامؐ نے قرآن کی پوری تفسیر صحابہ کے لئے بیان کئے تھے اور صحابہ کے بعد تابعین نے ان کی پیروی کرتے ہوئے ان تفاسیر کو جمع کیا تھا۔ ابن تیمیہ کی روش کے مطابق شروع میں قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کی جاتی ہے اور دوسرے مرحلے میں سنت نبوی اور اگر سنت نبوی نہ ہو تو صحابہ کے اقوال اور آخر میں تابعین کی تفاسیر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔[42]

فلاسفہ پر تنقید

ابن تیمیہ فلاسفہ کو تین گروہ میں تقسیم کرتا تھا۔

  • دہری: وہ لوگ جو عالم کو ازلی سمجھتے ہوئے اس کے لئے کسی خالق اور مدبر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
  • طبیعی: وہ لوگ جو اپنی توجہ کا مرکز زیادہ تر عالم طبیعت کو قرار دیتے ہیں اور معاد کے منکر ہیں۔
  • الہی: وہ متقدم فلاسفہ جیسے افلاطون، ارسطو، فارابی اور ابن سینا جو عالم کے قدیم ہونے کے قائل تھے۔[43]

ابن تیمیہ فلاسفہ کو مختلف دلائل کی بنیاد پر کافر سمجھتا تھا:

سیاسی موقف

ابن تیمیہ کا سیاسی موقف بھی اپنے خاص نظریات کا تابع ہے جس کے مطابق مغلوں اور صلیبیوں کے حملوں میں خلافت عباسی کا خاتمہ اور ان میں سے ہر ایک کا اسلامی ممالک کے بعض حصوں پر قابض ہونا مسلمانوں کی انحطاط کا نتیجہ ہے۔ ابن تیمیہ عالم اسلام کی مشکلات کا اصل ذمہ دار فرقہ پرستی کو قرار دیتے ہوئے تفرقہ اندازی سے دوری اور جہاد کو مسلمانوں کی انحطاط سے نجات کا واحد راستہ قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق جہاد تمام عبادات اور احکام من جملہ نماز، روزہ اور حج سے برتر ہے اور ایک حقیقی مسلمان کی خصوصیت ریاضت اور تقوا نہیں بلکہ جہاد ہے۔ ان کی نظر میں جو لوگ جہاد میں شرکت کرتے ہیں اگرچہ شہید ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں فاتح وہی ہوتے ہیں اور اگر مسلمان جہاد میں شرکت نہ کریں تو کافر ہونگے۔[45]

نظریات

ابن تیمیہ کے بعض نظریات درج ذیل ہیں:

اہل بیت کے بارے میں

ابن تیمیہ اہل بیتؑ کے ساتھ محبت کو واجب اور منصب امامت کو اہل بیتؑ کا حق سمجھتے ہوئے ان پر سب و لعن کرنے کو ظلم قرار دیتا ہے۔[46] وہ امام علیؑ کو خلفائے ثلاثہ کے بعد تمام مسلمانوں سے افضل سمجھتے ہوئے اس بات کا معتقد ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے بعد اہل بیتؑ میں سے علی بن ابی‌ طالبؑ سب سے زیادہ عالم اور افضل ہیں۔ وہ امام علیؑ کے لئے بہت سارے صفات حسنہ من جملہ عدالت، زہد اور سچائی وغیرہ شمار کرتا ہے[47] اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ آپ شہید ہوئے تھے اور بہشت میں مقیم ہیں۔[48] ان تمام باتوں کے باوجود اہل بیتؑ کی فضیلت میں نقل ہونے والی بعض احادیث کو جعلی سمجھتے ہوئے اس بات کا معتقد ہے کہ امام علیؑ نے 17 موارد میں نص قرآن کی مخالف کی ہیں اور آپؑ کے دور خلافت میں لڑی گئی جنگیں دینی اقدار کے لئے نہیں بلکہ دنیا طلبی اور دنیا پرستی کی خاطر تھی۔[49]

ابن تیمیہ کے مطابق اگرچہ امام حسینؑ مظلومانہ طور پر شہید ہوئے ہیں لیکن آپ کا قیام دنیوی اور اخروی مصلحت سے خالی تھا۔ وہ قیام عاشورا کو اسلام میں بہت سارے فتنوں کا سبب قررا دیتا ہے اور اسے پیغمبر اسلامؐ کی سیرت کے خلاف قرار دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ یزید کو امام حسینؑ کی شہادت میں ملوث ہونے سے بری الذمہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ امام حسینؑ کا سر مبارک یزید کے پاس نہیں بلکہ ابن زیاد کے پاس بھیجا گیا تھا۔[50]

عدالت صحابہ

ابن تیمیہ خود کو صحابہ سلف، تابعین اور بزرگ محدثین کا پیروکار قرار دیتا ہے۔ اس کے عقیدے کے مطابق سلف چونکہ زمانے کے اعتبار سے رسول اسلامؐ سے زیادہ قریب تھے اور قرآن و سنت ان کی زبان اور فہم کے مطابق نازل ہوئی تھی، بعد میں آنے والے علماء اور متکلمین سے زیادہ قرآن و سنت کو درک کر سکتے ہیں۔[51] وہ عدالت صحابہ کو مسلمات دین میں سے قرار دیتے ہوئے اس کے منکروں کو کافر قرار دیتا ہے۔ ابن تیمیہ کے مبانی کے مطابق صحابہ کا معیار پیغمبر اکرمؐ کی ہم نشسینی ہے اور اس میں مدت کے اعتبار سے کم یا زیادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔[52]

ابن تیمیہ عدالت صحابہ پر اعتقاد رکھنے کے باوجود بعض موارد میں خود خلفائے راشدین پر بھی اعتراض کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کتاب العقیدۃ الواسطیہ میں طلحہ اور زبیر کی طرف سے امام علیؑ کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خلفائے راشدین پر اعتراض کرنے والوں کو گدھے سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔[53] ابن تیمیہ کے مطابق خلیفہ اول اور دوم نے پیغمبر اکرمؐ کے فرامین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اجتہاد پر عمل کیا ہے اور خلیفہ سوم ایک دنیا پرست شخص تھا۔[54]

شیعوں کے بارے میں

ابن تیمیہ شیعوں کو عالم اسلام میں موجود تمام اختلافات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ جنگ کرنے کو خوارج اور مغلوں کے ساتھ جنگ کرنے سے اہم قرار دیتا ہے۔ اسی عقیدے کے مطابق اس نے کِسرَوان کے شیعوں کے خلاف جنگ میں مغلوں کا ساتھ دیا۔[55] وہ شیعوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہے:

ابن تیمیہ شیعوں اور یہودیوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے ان کے درمیان بعض شباہتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے من جملہ ان میں: قبلہ سے منحرف ہونا، طلاق یافتہ یا شوہر فوت ہونے والی عورت کو عدت کی ضرورت نہ ہونا، یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا نے 52 نماز واجب کی ہیں، "السام علیکم" کہنا، اور جبرئیل کے ساتھ دشمنی رکھنا شامل ہیں۔[59]

تکفیری گروہوں پر ان کے نظریات کا اثر

ابن تیمیہ کو سلفیوں کا پیشوا[60] اور بانی [61] اور اس کے فتوؤں کو شدت پسند تکفیری جماعتوں کے وجود میں آنے کا سبب قرار دیا جاتا ہے[62] جو آخری دہائیں میں اسلامی دنیا میں وجود میں آئے ہیں؛[63] یہاں تک کہ ان کو اہل سنت میں افراطی گروہ کا معنوی باپ قرار دیا جاتا ہے[64] اور سلفیوں کے یہاں وہ شیخ المجاہدین کے نام سے مشہور ہے۔[65]

وہابیت، اخوان‌المسلمین اور جہادی تکفیری گروہ من جملہ ان گروہوں میں سے ہیں جو اہل سنت کے مذاہب اربعہ کے مقابلے میں فقہ سلفیہ کی پیروی کرتے ہیں۔[66] اسی طرح طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی تکفیری گروہوں کے ذریعے ابن تیمیہ کے نظریات دوبارہ دنیائے اسلام میں زندہ ہو رہے ہیں[67] اور مسلمانوں میں سے اکثریت کو کافر قرار دینے کی وجہ سے یہ گروہ تکفیری گروہ کے نام سے مشہور ہیں۔[68]

افراط‌ گرایی اور سلفیت، فکری اعتبار سے ابن تیمیہ اور اس کے شاگردوں جیسے محمد بن عبدالوہاب، ابوالعلی مودودی اور سید قطب کے پیروکار ہیں[69] اور جب بھی ان کے ہاتھوں میں قدرت آئی ابن تیمیہ کے نظریات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام[70] اہل‌ بیتؑ اور پیغمبر اکرمؐ کے حقیقی اصحاب سے منسوب بارگاہوں کی تخریب کی ہیں۔[71]

دور جدید میں پیش آمدہ بحرانوں میں ابن تیمیہ کے نظریات اور دینی متون سے اپنی من مانی مہفوم اخذ کرتے ہوئے مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینا ان گروہوں کا خاصہ رہا ہے۔[72]

تکفیری افکار کے علل و اسباب

بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ ابن تیمیہ کے انحرافی نظریات میں ماحول کا بڑا کردار ہے؛ چنانچہ گوناگون واقعات سماجی اور سیاسی مشکلات من جملہ صلیبی جنگوں اور مغلوں کے حملوں کی وجہ سے مسلمانوں کا کمزور ہونا اور بنی‌عباس کی خلافت جو حاکمیت کے اعتبار سے اہل سنت کا آرمانی دور سمجھا جاتا تھا کا خاتمہ جیسے عوامل نے ابن تیمیہ کے نظریات کے لئے زمینہ ہموار کی ہیں۔[73]

ابن تیمیہ دوسروں کی نظر میں

اہل سنت کے بہت سارے علماء اور مصنفین ابن تیمیہ کے بارے میں متفاوت اظہار نظر کرتے ہیں۔ بعض اس کو اہل سنت کے مذاہب اربعہ کے بانیوں سے افضل سمجھتے ہوئے شیخ الاسلام، نابغہ روزگار، علامہ، فقیہ، مفسر[74]، اپنے زمانے کے سب سے دین شناس[75] اور بلند پایہ علماء[76] میں سے قرار دیتے ہیں۔[نوٹ 1]

ابن کثیر دمشقی جو ابن تیمیہ کے شاگردوں میں سے ہے اپنے استاد کو بڑے علماء میں سے قرار دیتا ہے۔ وہ البدایۃ و النہایۃ میں ابن تیمیہ کی ولادت اور وفات تک کے واقعات کو بیان کیا ہے۔ "بن باز" ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے: جو کچھ کہا گیا اس کے مطابق اس وقت کے بزرگان نے بالاتفاق ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کا نام دیتی ہوئے "بحرالعلوم"، "ترجمان القرآن" اور واحد مجتہد" جیسے القاب سے پکارا ہے۔[77]

ان کے مقابلے میں اہل سنت کے مذاہب اربعہ کے بہت سارے ففہاء اور قاضیوں نے ابن تیمیہ کو ان کے اعتقادات، افکار اور فتوؤں کی وجہ سے صریحاً ان کی طرف کفر، گمراہ اور بدعت کی نسبت دی ہیں؛ من جملہ یہ کہ اہل سنت کے قضات میں سے 18 نفر نے حکم دیا ہے کہ چونکہ ابن تیمیہ تنقیص انبیا کے قائل ہیں انہیں کافر قرار دئے ہیں۔[78] شوکانی "البدر الطالع" میں کہتا ہے: مذہب حنفیہ کے علماء میں سے محمد بخاری (متوفی 841ھ) ابن تیمیہ کے کافر ہونے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی معتقد تھا کہ جو بھی ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے وہ بھی کافر ہے۔[79] بعض اہل سنت علماء نے بھی انہیں ایک کم‌عقل اور ہوسران شخص قرار دیا ہے۔[80]

مصنفین نے بد مزاجی، شدت پسندی، مخاطب کی توہین، بحث اور مناظرہ میں آداب کا خیال نہ رکھنا اور گذشتہ گان کی طرف خطا اور غلطی کی نسبت دینے کو ابن تیمیہ کے بارے میں علماء کے نظریات کی علت قرار دیتے ہیں اور مذکورہ خصوصیات کو دیگر مذاہب کے علماء کا ابن تیمیہ اور اس کے نظریات سے نفرت کا سبب قرار دیتے ہیں؛[81]

ابن تیمیہ کی رد میں لکھی گئی کتابیں

ابن تیمیہ شاذ و نارد فتوؤں کی وجہ سے اہل سنت کے مذاہب اربعہ اور شیعہ علماء کی تنقید کا نشانہ بنا اور ان کی کتابوں پر بھی تنقید کی گئی۔ ابن تیمیہ کے افکار اور نظریات کے رد میں لکھی گئی بعض اہم کتابیں درج ذیل ہیں:

  1. الدرۃ المضیئۃ فی الرد علی ابن تیمیہ، تحریر: تقی‌الدین علی بن عبدالکافی سبکی متوفی ۷۵۶ھ۔
  2. شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام، تحریر: تقی‌الدین علی بن عبدالکافی سبکی متوفی ۷۵۶ھ۔
  3. نقد الاجتماع والافتراق فی مسائل الایمان والطلاق، تحریر: تقی‌الدین علی بن عبدالکافی سبکی متوفی ۷۵۶ھ۔
  4. النظر المحقّق فی الحلف بالطلاق المعلّق، تحریر: تقی‌الدین علی بن عبدالکافی سبکی متوفی ۷۵۶ھ۔
  5. الاعتبار ببقاء الجنّہ والنار، تحریر: تقی‌الدین علی بن عبدالکافی سبکی متوفی ۷۵۶ھ۔
  6. منہاج الشریعہ فی الرد علی ابن تیمیہ، تحریر: محمدمہدی کاظمی قزوینی۔
  7. اعتراضات علی ابن تیمیہ فی علم الکلام، قاضی القضاہ مصر احمد بن ابراہیم حنفی۔
  8. رسالہ فی الرد علی ابن تیمیہ فی مسألہ الطلاق، محمد بن علی مازنی دمشقی متوفی ۷۲۱ھ۔
  9. رسالہ فی الرد علی ابن تیمیہ فی مسألہ الزیارہ، محمد بن علی مازنی۔
  10. نصیحہ الذہبی الی ابن تیمیہ، محمد بن ذہبی۔
  11. التحفہ المختارہ فی الرد علی منکر الزیارہ، عمر بن الیمن مالکی متوفی ۷۳۴ھ۔
  12. الابحاث الجلیلہ فی الرد علی ابن تیمیہ، احمد بن عثمان ترکمانی حنفی متوفی ۷۴۴ھ۔
  13. الرد علی ابن تیمیہ فی الاعتقادات، محمد بن احمد فرغانی دمشقی حنفی متوفی ۸۶۷ھ۔
  14. الجوہر المنظم فی زیارہ القبر المعظّم، ابن حجر ہیثمی متوفی ۹۷۴ھ۔
  15. نظرۃ فی کتاب منہاج السنۃ النبویۃ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے جو علامہ امینی کی کتاب الغدیر سے اقتباس ہے جس میں ابن تیمیہ کی طرف سے کتاب منہاج السنہ میں مطرح کرنے والے اعترضات اور شبہات کا جواب دے کر مستقل طور پر منظر عام پر آ چکی ہے۔

کانفرنسیں اور علمی نشستیں

سنہ ۱۴۰۸ھ کو بنارس ہندوستان میں سلفیہ کالج میں ابن تیمیہ کی تجلیل کے لئے ایک کانفرنس رکھی گئی جس میں تقریبا 50 مقالے ان کی تعریف و تمجید میں لکھے گئے اور یہ تمام مقالات "بحوث الندوہ العالیہ عن شیخ الاسلام ابن تیمیہ و اعمالہ الخالدہ" کے نام سے جمع کیا گیا۔

ابن تیمیہ کے نظریات کے رد میں بھی [82] مختلف علمی نشستیں[83] رکھی گئی ہیں۔

حوالہ جات

  1. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۳، ص۲۴۱۔
  2. عبدالحمید، ابن تیمیہ حیاتہ و عقایدہ، ۱۴۲۶ق، ص۵۶۔
  3. زریاب، «ابن تیمیہ»، ص۱۷۲۔
  4. دوخی، منہج ابن‌ تیمیہ فی التوحید، ۱۳۹۰ش، ص۲۹۔
  5. زریاب، «ابن تیمیہ»، ص۱۷۳، ۱۷۷۔
  6. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۳، ص۳۴۳؛ ج۱۴، ص۴۔
  7. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۳، ص۳۴۳؛ ج۱۴، ص۳۸۔
  8. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۳، ص۳۴۳؛ ج۱۴، ص۱۳۵۔
  9. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۴، ص۱۳۷-۱۳۸؛ ابن شاکر، فوات الوفیات، دار صادر، ج۱، ص۷۴۔
  10. بدرالدین العینی، عقد الجمان، ۲۰۱۵م، ج۱، ص۲۸۸۔
  11. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۔
  12. مزی، تہذیب الکمال، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۱۸۔
  13. ابو زید، ابن قیم الجوزیۃ، حیاتہ و آثارہ، ۱۴۲۳ق، ص۱۷۸۔
  14. ابن شاکر، فوات الوفیات، بیروت، ج۱، ص۷۵-۸۰۔
  15. ابن قیم جوزی، أسماء مؤلفات شیخ الإسلام ابن تیمیۃ، ۱۴۰۳ھ۔
  16. بہرامی، بنیان تکفیر، ۱۳۹۶ش، ص۴۱۔
  17. ملاحظہ کریں: طبسی، «گونہ‌شناسی مواضع آثار مکتوب اسلامی راجع بہ مواضع ابن تیمیہ...»۔
  18. طبسی، «گونہ‌شناسی مواضع آثار مکتوب اسلامی راجع بہ مواضع ابن تیمیہ...»، ص۹۔
  19. طبسی، «گونہ ‌شناسی مواضع آثار مکتوب اسلامی راجع بہ مواضع ابن تیمیہ...»، ص۷و۸۔
  20. ابن شاکر، فوات الوفیات، دار صادر، ج۱، ص۷۶۔
  21. راوندی، تاریخ اجتماعی ایران، ۱۳۸۶ش، ج۱۰، ص۲۰۲۔
  22. مجموعہ مقالات ہم‌اندیشی زیارت، قم، مشعر، ۱۳۷۸ش، ص۳۴۲۔
  23. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۴، ص۳۷۔
  24. نصیحۃ الذہبی الی ابن تیمیہ، مقدمہ مصحح، ص۶۔
  25. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی،‌ ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۶۰۔
  26. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۴۵؛ أبوالأشبال، شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ للالکائی، المکتبۃ الشاملۃ، ص۱؛ سبحانی، فرہنگ عقائد و مذاہب اسلامی، ۱۳۷۸ش، ج۱، ص۲۱-۲۲۔
  27. زریاب، «ابن تیمیہ» ص۱۷۹۔
  28. حلی، کشف المراد، ۱۴۱۳ق، ص۲۹۶-۲۹۷؛ رضوانی، شیعہ‌شناسی و پاسخ بہ شبہات، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۲۱۷۔
  29. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۴۸-۱۴۹۔
  30. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۰۶۔
  31. المشعبی، منہج ابن تیمیۃ فی مسألۃ التکفیر، ۱۴۱۸ق، ص۳۵۱-۴۶۳۔
  32. رضوانی، وہابیان تکفیری، ۱۳۹۰ش، ص۱۱۴-۱۲۲۔
  33. بخاری، صحیح البخاری، الجنائز - ما یکرہ من إتخاذ المساجد علی القبور، ح۱۲۴۴۔
  34. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۱۳۱۔
  35. زریاب، «ابن تیمیہ»، ص۱۹۲۔
  36. ابن تیمیہ، مجموعۃ الرسائل و المسائل، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۲۴۳۔
  37. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۳، ص۷۹-۸۰۔
  38. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۰۰ق؛ ابن تیمیہ، مجموعۃ الرسائل و المسائل، ۱۴۰۳ھ۔
  39. زریاب، «ابن تیمیہ»، ص۱۷۸۔
  40. ابوزہرہ، ابن تیمیۃ حیاتہ وعصرہ، ۱۹۵۲م، ص۱۸۳-۱۸۵۔
  41. عبدالحمید، ابن تیمیہ فی صورتہ الحقیقیہ، ۱۴۱۵ق، ص۱۳، ۶۷-۷۲۔
  42. خلیل برکۃ، ابن تیمیہ و جہودہ فی التفسیر، ۱۴۰۵ق، ص۱۲۷-۱۴۰۔
  43. المشعبی، منہج ابن تیمیۃ فی مسألۃ التکفیر، ۱۴۱۸ق، ص۳۵۱-۳۵۲۔
  44. المشعبی، منہج ابن تیمیۃ فی مسألۃ التکفیر، ۱۴۱۸ق، ص۳۵۳-۳۶۳۔
  45. بخشی، «جہاد؛ از ابن تیمیہ تا بن لادن»، ص۱۷۲-۱۷۲۔
  46. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ، ۱۴۰۶ق، ج۴، ص۵۶۔
  47. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ، ۱۴۰۶ق، ج۶، ص۳۳۰؛ ج۷، ص۸۸، ۴۸۹۔
  48. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ۴، ص۴۳۱۔
  49. ابن حجر عسقلانی، الدرر الکامنۃ، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۱۸۱۔
  50. ابن تیمیہ، منہاج السنہ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۵۳۰۔
  51. ابن تیمیہ، «العقیدۃ الحمویۃ الکبری»، ج۱، ص۴۲۷-۴۲۹۔
  52. ابن تیمیہ، الصارم المسلول، ۱۴۰۳ق، ص۱۰۷۔
  53. ابن تیمیہ، العقیدۃ الواسطیہ، ۱۴۲۰ق، ص۱۱۸۔
  54. ابن حجر عسقلانی، الدرر الکامنۃ، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۱۷۹-۱۸۱؛ ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۲۰، ص۲۵۱۔
  55. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۲۸، ص۴۶۸-۴۸۹۔
  56. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، ۱۴۱۸ق، ج۲۸، ص۴۶۸۔
  57. ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ۱۴۰۳ق، ص۵۸۶۔
  58. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۳۵۔
  59. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویہ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۵۔
  60. لطفی، بررسی تأثیرات اندیشہ ابن‌تیمیہ بر عملکرد سلفیہ جہادی۔
  61. مزید معلومات کے لئے ملاظہ کریں: «محیطی، فقہ سلفیہ «فقہ ابن تیمیہ» مذہبی جدید در فقہ اہل سنت»۔
  62. علی‌پور، «تأثیر اندیشہ‌ہای ابن تیمیہ بر خطوط فکری و خط مشی گروہ‌ہای سلفی-تکفیری»۔
  63. لطفی، «بررسی تأثیرات اندیشہ ابن‌تیمیہ بر عملکرد سلفیہ جہادی»۔
  64. علی‌پور، «تأثیر اندیشہ‌ہای ابن تیمیہ بر خطوط فکری و خط مشی گروہ‌ہای سلفی-تکفیری»، ص۴۳۔
  65. لطفی، «بررسی تأثیرات اندیشہ ابن‌تیمیہ بر عملکرد سلفیہ جہادی»۔
  66. مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: محیطی، «فقہ سلفیہ «فقہ ابن تیمیہ» مذہبی جدید در فقہ اہل‌سنت»۔
  67. علی‌پور، «تأثیر اندیشہ‌ہای ابن تیمیہ بر خطوط فکری و خط مشی گروہ‌ہای سلفی-تکفیری»، ص۴۳۔
  68. پورحسن، «تقابل نئوسلفی‌ہا با شیعیان و پیامدہای آن بر اتحاد جہان اسلام»، ص۱۷-۱۸۔
  69. مہدی‌بخشی، «جہاد از ابن تیمیہ تا بن‌لادن»، ص۱۷۲-۱۷۴۔
  70. سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ۱۴۲۷ق، ص۵۸۷۔
  71. امین، کشف الارتیاب، قم، ص۵۲۔
  72. علی‌پور، «تأثیر اندیشہ‌ہای ابن تیمیہ بر خطوط فکری و خط مشی گروہ‌ہای سلفی-تکفیری»، ص۴۳۔
  73. علیزادہ موسوی، شخصیت پژوہی ابن تیمیہ۔
  74. ابن شاکر، فوات الوفیات، دار صادر، ج۱، ص۷۴۔
  75. حجوی، الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۳۶۲۔
  76. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۱۴۷، ص۱۵۶۔
  77. بحوث الندوہ العالمیہ عن شیخ الاسلام ابن تیمیہ و أعمالہ الخالدہ، ص۵۱۔
  78. بغدادی، الذیل علی طبقات الحنابلہ، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۴۰۱۔
  79. شوکانی، البدر الطالع، دار المعرفۃ، ج۲، ص۲۶۲۔
  80. نصیحہ الذہبی الی ابن تیمیہ، ص۷۔
  81. حجوی، الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۳۶۳-۳۶۴۔
  82. نشست نقد و بررسی «نظریہ خلافت در آثار ابن تیمیہ» برگزار می‌شود، خبرگزاری مہر۔
  83. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: کرسی علمی ترویجی با عنوان «نقد و بررسی دیدگاہ ابن تیمیہ پیرامون شفاعت»، دانشگاہ شہید باہنر کرمان۔
  1. ابوالفرج عبدالرحمان بن احمد بغدادی حنبلی کہتا ہے: رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان قسم کھاتا ہوں کہ میں نے ابن تیمیہ جیسا کوئی اور نہیں دیکھا اس کے بعد ان کی تعریف میں 20 صفحہ لکھتے ہوئے کہتا ہے: "وہ علم حدیث میں اتنا ماہر تھا کہ کہا جاتا سکتا ہے کہ جس حدیث کو ابن تیمیہ نہ جانتا ہو وہ حدیث ہی نہیں ہے" (بغدادی، الذیل علی طبقات الحنابلہ، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۳۹۱)۔

مآخذ

  • ابن ابی یعلی، محمد بن محمد، طبقات الحنابلۃ، بیروت،‌ دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • ابن‌ تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ریاض، الحرس الوطنی السعودی، ۱۴۰۳ھ۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، «العقیدۃ الحمویۃ الکبری»، در مجموعۃ الرسائل اکبری، بیروت دار احیاء التراث العربی، ۱۳۹۲ق/۱۹۷۲م۔
  • ابن‌ تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، العقیدۃ الواسطیۃ، ریاض، أضواء السلف، ۱۴۲۰ھ۔
  • ابن‌ تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، منہاج السنۃ النبویہ فی نقض کلام الشیعۃ و القدریۃ، تحقیق محمد رشاد سالم، ریاض، جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیہ، ۱۴۰۶ھ۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، مجموعۃ الرسائل و المسائل، بیروت، جنۃ التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، مجموعۃ الفتاوی لشیخ الإسلام ابن تیمیۃ، بیروت، دار الوفاء، ۱۴۱۸ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الدرر الکامنۃ فی أعیان المائہ الثامنہ، بیروت، دار الجیل، ۱۴۱۴ھ۔
  • ابوزہرہ، محمد، ابن تیمیۃ حیاتہ وعصرہ: آراؤہ و فقہہ، قاہرہ، دارالکتب العربی، ۱۹۵۲م۔
  • ابن شاکر، محمد، فوات الوفیات، بیروت، دار الصادر۔
  • ابن قیم جوزی، محمد بن ابی‌بکر، أسماء مؤلفات شیخ الإسلام ابن تیمیۃ، بیروت، دار الکتاب الجدید، ۱۴۰۳ھ۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷ھ۔
  • مزی، یوسف بن عبدالرحمن، تہذیب الکمال، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۰ھ۔
  • ابوزید، بکر بن عبداللہ، ابن قیم الجوزیۃ: حیاتہ و آثارہ، ریاض، دار العاصمہ، ۱۴۲۳ھ۔
  • امین، سیدمحسن، کشف الارتیاب فی أتباع محمد بن عبدالوہاب، قم، دارالکتب الاسلامی، بی‌تا۔
  • بدرالدین العینی، محمود بن احمد، عقدالجمان فی تاریخ اہل الزمان، قاہرہ، دارالکتب، ۲۰۱۵م۔
  • بغدادی، ابن رجب، الذیل علی طبقات الحنابلۃ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ‭۱۴۱۷‬ھ۔
  • بہرامی، علیرضا، بنیان تکفیر: پژوہشی در زمینہ‌ہای عقیدتی، فکری و فرہنگی پیدایش جریان‌ہای تکفیری، قم، برگ فردوس، ۱۳۹۶ش۔
  • پورحسن، ناصر و عبدالمجید سیفی، «تقابل نئوسلفی‌ہا با شیعیان و پیامدہای آن بر اتحاد جہان اسلام»، مجلہ شیعہ‌شناسی، شمارہ ۵۲، زمستان ۱۳۹۴۔
  • حجوی، محمد بن حسن، الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ‭۱۴۱۶‬ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، ۱۴۱۳ھ۔
  • خلیل برکۃ، ابراہیم، ابن تیمیۃ وجہودہ فی التفسیر، بیروت، المکتب الإسلامی، ۱۴۰۵ھ۔
  • دوخی، یحیی‌ عبدالحسن، منہج ابن‌تیمیہ فی التوحید، تہران،‌ نشر مشعر، ۱۳۹۰ش۔
  • راوندی، مرتضی، تاریخ اجتماعی ایران، ج۱۰: تاریخ فلسفہ و سیر تکاملی علوم و افکار در ایران، تہران، مؤسسہ انتشارات نگاہ، ۱۳۸۶ش۔
  • رضوانی، علی‌اصغر، شیعہ‌شناسی و پاسخ بہ شبہات، تہران، نشر مشعر، ۱۳۸۴ش۔
  • رضوانی، علی‌اصغر، وہابیان تکفیری، تہران، نشر مشعر، ۱۳۹۰ش۔
  • زریاب، عباس، «ابن تیمیہ»، در دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۶۹ش۔
  • سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، ۱۴۲۷ھ۔
  • سبحانی، جعفر، فرہنگ عقائد و مذاہب اسلامی، قم، توحید، ۱۳۷۸ش۔
  • شوکانی، محمد بن علی، البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • طبسی، نجم‌الدین، و محمدمحسن مروجی طبسی، «گونہ‌شناسی مواضع آثار مکتوب اسلامی راجع بہ مواضع ابن تیمیہ دربارہ اہل بیت پیامبر اعظم»، در مجلہ شیعہ‌پژوہی، ش۴، پاییز ۱۳۹۴ش۔
  • عبدالحمید، صائب، ابن تیمیہ حیاتہ و عقایدہ، قم، موسسہ دائرۃ المعارف القہ الاسلامی، ۱۴۲۶ھ۔
  • عبدالحمید، صائب، ابن تیمیہ فی صورتہ الحقیقیہ، بیروت، الغدیر للدراسات و النشر، ۱۴۱۵ھ۔
  • علی‌پور، جواد، سجاد قیطاسی، مہدی دارابی، «تأثیر اندیشہ‌ہای ابن تیمیہ بر خطوط فکری و خط مشی گروہ‌ہای سلفی-تکفیری»، فصلنامہ اندیشہ سیاسی در اسلام، شمارہ ۱۲، تابستان ۱۳۹۶ش۔
  • علیزادہ موسوی، «شخصیت پژوہی ابن تیمیہ»، پایگاہ تخصصی وہابیت‌پژوہی و جریان‌ہای سلفی، درج مطلب: ۱۶ آذر ۱۳۹۸ش، بازدید: ۱۴ دی ۱۳۹۹ش۔
  • لطفی، علی‌اکبر، «بررسی تأثیرات اندیشۀ ابن‌تیمیہ بر عملکرد سلفیۀ جہادی»، مجلہ سراج منیر، شمارہ ۳۱۔
  • محیطی، مجتبی، مہدی فرمانیان، «فقہ سلفیہ(فقہ ابن تیمیہ) مذہبی جدید در فقہ اہل سنت»، مجلہ صراط، شمارہ ۱۷، بہار ۱۳۹۸ش۔
  • المشعبی، عبدالمجید بن سالم، منہج ابن تیمیۃ فی مسألۃ التکفیر، ریاض، مکتب أضواء السلف، ۱۴۱۸ھ۔
  • مہدی‌بخشی، احمد، «جہاد از ابن تیمیہ تا بن‌لادن»، مجلہ علوم سیاسی، شمارہ ۳۴، تابستان ۱۳۸۵ش۔