قبض روح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاد

قبض روح موت کے وقت انسان کی جان لینا ہے. اس کام کو عزرائیل اور اس کے نمائندے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام دیتے ہیں. انسان کی قبض روح ایک دوسرے سے مختلف ہے. قرآن کی آیات کے مطابق، پیغمبروں اور مومنوں کی قبض روح کرنا، ملائکہ رحمت کی ذمہ داری ہے، جو بہت آرام سے اور لحاظ رکھتے ہوئے انجام پاتی ہے. روایات میں آیا ہے کہ مومنوں کی قبض روح ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے جو انکے ایمان کی شدت اور ضعف کے مطابق ہوتی ہے. اور کافروں کی قبض روح سختی اور عذاب کے ساتھ ہے. بعض اور روایات کے مطابق، پیغمبروں کی روح ان کی اپنی اجازت سے قبض ہوتی ہے.

بعض روایات میں قبض روح کی آسانی کے لئے، سورہ یس اور صافات کے پڑھنے کا کہا گیا ہے اور یہ کہ جو شخص جان کنی کی حالت میں ہے اسے اس جگہ پر لے جائیں جہاں پر وہ نماز پڑھتا تھا.

مفہوم شناسی

قبض روح کا معنی، انسان کی روح کو اس کے بدن سے جدا کرنا ہے.[1] قرآن کریم میں اسے "توفی" کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے. [2] جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے، عزرائیل اور اس کے نمائندے اس انسان کی روح کو قبض کرتے ہیں. [3] دینی مآخذ میں ذکر ہوا ہے کہ انسان کی روح دھیرے دھیرے، اور تدریجی صورت میں نکلتی ہے، [4] جب روح بدن سے جدا ہوتی ہے تو پہلے انسان کے ہاتھ اور پاؤں سست ہو جاتے ہیں. اور گلہ وہ آخری عضو ہے جو کام کرنا چھوڑ دیتا ہے.[5]

امام علیؑ کی حدیث، جس میں آپؑ موت کی حالت کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے زبان بولنے سے قاصر ہو جاتی ہے. اس کے بعد موت انسان پر زیادہ غلبہ ڈالتی ہے اور کان بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، نہ تو کچھ بولتا ہے اور نہ کچھ سنتا ہے، آنکھیں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے چہرے، اور ان کے ہونٹوں کی حرکت کو دیکھتی ہیں لیکن انکی آواز نہیں سنتے. کچھ دیر بعد، موت کا سایہ، آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے اور جان بدن سے خارج ہو جاتی ہے. [6]

قبض روح کی کیفیت

روایات کے مطابق، انسان کی روح تدریجی صورت میں اور بہت سختی سے نکلتی ہے. مومنین بھی موت کے وقت، اس کی سختی اور خوف کو محسوس کرتے ہیں، لیکن انسانوں کی قبض روح ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ، پیغمبروں اور مومنوں کی موت کافروں کی موت سے بہت آسان ہے. [7]

انبیاء

شیعہ کی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ انبیاء کی قبض روح بہت ہی آسان ہے. [8] اسی طرح بعض روایات میں آیا ہے کہ پیغمبروں کی قبض روح ان کی اپنی اجازت سے ہوتی ہے. [9] بعض تاریخی مآخذ میں اس بارے میں کچھ داستان بیان ہوئی ہیں، من جملہ یہ کہ پیغمبر اکرمؐ کے انتقال کے وقت، عزرائیل آپؐ کے دروازے پر آیا اور گھر میں داخل ہونے اور قبض روح کے لئے اجازت طلب کی. اس واقعہ میں عزرائیل حضرت فاطمہؑ سے ہمکلام ہوئے.[10] حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں ملتا ہے کہ جب عزرائیل آپ کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو ابراہیمؑ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دوست (ابراہیم) کی موت پسند ہے؟ عزرائیل واپس گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لائے کہ کیا ابراہیمؑ اپنے دوست کی ملاقات سے ناخوش ہے؟ ابراہیمؑ نے یہ سنتے ہی اپنی جان کو تسلیم کر دیا. [11] بعض روایات کے مطابق، عزرائیل نے حضرت سلیمانؑ کی روح ایسی حالت میں قبض کی جب وہ اپنے محل پر، عصاء پر تکیہ لگائے کھڑے تھے. [12] روایات میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت نوحؑ کے بارے میں بھی بیان ہوا ہے کہ ان سے بھی عزرائیل نے اجازت طلب کی تھی. [13]

مومنین

اسلامی روایات کے مطابق، مومنین کی روح قبض کرنا بھی ان کے ایمان کی شدت و ضعف، کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے. [14] سورہ نحل میں بیان ہوا ہے کہ مومنین کی روح کو رحمت کے فرشتے نکالتے ہیں اور جان نکالتے وقت ان کے ساتھ بہت نرمی سے پیش آتے ہیں اور انہیں جنت کی خوشخبری سناتے ہیں. [15] پیغمبر اکرمؐ کی روایت میں ذکر ہوا ہے کہ مومن کی موت کے وقت، نورانی فرشتے، جنت کا لباس پہنے اس کے اطراف میں بیٹھ جاتے ہیں. اس کے بعد "ملک الموت" اسے کہتا ہے "اے پاک جان اپنے پروردگار کی طرف واپس چل" اس کے بعد جس طرح مشک سے پانی باہر آتا ہے اسی طرح اس کی روح قبض کر دیتے ہیں. [16]

بعض روایات میں آیا ہے کہ مومنین موت، اور "ملک الموت" کو دیکھتے وقت بہت گھبرا جائیں گے، لیکن اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑان کے سرہانے حاضر ہو جائیں گے جس سے ان کو سکون ملے گا. [17]

کفار

اسلامی مآخذ کے مطابق، کافروں کی قبض روح بھی آپس میں مختلف ہے، لیکن سب مآخذ کافروں کی قبض روح کے دردناک ہونے کے بارے میں خبر دیتے ہیں. [18] قرآنی آیات کے مطابق، ان کی جان سختی اور عذاب سے نکلتی ہے اور موت کے فرشتے، ان کی روح قبض کرتے وقت، ان کے آگے پیچھے احاطہ ڈال لیتے ہیں اور انہیں کوڑے مارتے ہیں. [19] پیغمبر اکرمؐ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ کافر کی موت کے وقت، سیاہ چہروں والے فرشتے، غصے کی حالت میں اس کے اطراف بیٹھ جاتے ہیں، اس کے بعد "ملک الموت" اس کے پاس حاضر ہوتا ہے اور اس کی روح کو ایسے قبض کرتا ہے جیسے کہ کنگی خس و خاشاک کو گیلی اون سے جدا کرتی ہے.[20]

روح قبض کرنے والے فرشتے

قرآن کریم کی بہت سی آیات قبض روح کے بارے میں ہیں. [21] بعض آیات میں قبض روح کو اللہ تعالیٰ[22] اور بعض دوسری آیات میں ملک الموت [23] اور بعض آیات میں فرشتوں کے ایک گروہ سے نسبت دی گئی ہے. [24] مفسرین کی نگاہ میں، یہ آیات ایک دوسرے سے تناقض نہیں رکھتیں،اس طرح کہ اللہ تعالیٰ فاعل، اور "قبض روح" کی حقیقی علت ہے اور اس کام کو عزرائیل یا دوسرے فرشتے جو اس کے نمائندے ہیں ان کے وسیلے سے انجام دیا جاتا ہے. [25]

بعض مآخذ میں عزرائیل کے بہت سے نمائندے اور دوست ذکر ہوئے ہیں اور موت کو فرشتوں کے ایک گروہ سے نسبت دیتے ہیں. [26] وہ "نازعات"، "سابحات"، "ناشطات" اور "سابقات" ہیں کہ جن میں سے ہر ایک خاص مخلوق کی روح قبض کرتا ہے، [27] مثال کے طور پر "نازعات" کا کام یہ ہے کہ وہ کافروں کی روح کو شدت اور عذاب سے لے اور "ناشطات" کا کام ہے کہ وہ عام مومنوں کی روح کو رافت اور نرمی سے قبض کرے.[28] بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہر شخص کی زندگی ختم ہوتے وقت، وہ فرشتے جو اس کے اعمال کو ثبت کرتے ہیں، وہ اس کی روح کو قبض کریں گے. [29]

قبض روح کا آسان ہونا

بعض روایات میں مومن کی جان آسانی سے دینے کے لئے کہا گیا ہے کہ اسے اس جگہ پر منتقل کیا جائے، جہاں وہ نماز پڑھتا تھا. [30] بعض اور روایات میں سورہ صافات اور یس کے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے. [31]

حوالہ جات

  1. فرہنگ دہخدا، ذیل واژه قبض روح.
  2. سوره زمر، آیہ۴۲؛ سوره سجده، آیہ۱۱؛ سوره انعام، آیہ۶۱.
  3. طہرانی، معادشناسی، ۱۳۷۶ش، ج۱، ص۲۱۲.
  4. مکارم شیرازی، پیام قران، ۱۳۸۶ش، ج۵، ص۳۴۵.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۳، ص۲۷۹.
  6. نہج البلاغۃ، نسخہ و تصحیح محمد عبده، خطبہ۱۰۷، ج۱، ص۲۱۲؛ محمدی ری شہری، میزان الحکمہ، ۱۳۸۹ش، ج۱۱، ص۱۲۴.
  7. مکارم شیرازی، پیام قران، ۱۳۸۶ش، ج۵، ص۳۴۵.
  8. طباطبائی، تفسیر المیزان، ترجمہ موسوی ہمدانی، ۱۳۷۴ش، ج۸، ص۱۷۰؛ آشتیانی و درایتی، مجموعہ رسائل در شرح احادیثی از کافی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۱۵۰.
  9. آشتیانی و درایتی، مجموعہ رسائل در شرح احادیثی از کافی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۱۵۰.
  10. ابن شہرآشوب، ج۳، ص۱۱۶؛ مجلسی، ج۲۲، ص۵۲۷-۵۲۸، به نقل از ستایش، «گفتگوی ملائکہ با حضرت فاطمہؑ»، ص۲۰.
  11. علم الیقین، فیض کاشانی، ج۲، ص۸۵۱، به نقل از سلیمانی آشتیانی و درایتی، مجموعہ رسائل در شرح احادیثی از کافی، ۱۳۸۸ش، ص۱۴۹.
  12. محمدی ری شہری، میزان الحکمہ، ۱۳۸۹ش، ج۱۱، ص۴۷۵.
  13. علم الیقین، فیض کاشانی، ج۲، ص۵۸۲، بہ نقل از سلیمانی آشتیانی و درایتی، مجموعہ رسائل در شرح احادیثی از کافی، ۱۳۸۸ش، ص۱۵۰.
  14. طہرانی، معادشناسی، ۱۳۷۶ش، ج۱، ص۲۳۶.
  15. سوره نحل، آیہ۳۲.
  16. طباطبائی، تفسیر المیزان، ترجمہ موسوی ہمدانی، ۱۳۷۴ش، ج۸، ص۱۷۰.
  17. محمدی ری شہری، میزان الحکمہ، ۱۳۸۹ش، ج۱۱، ص۱۳۰.
  18. رستمی وآل‌بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۴۵۳.
  19. سوره انعام، آیہ۹۳؛ سوره انفال، آیہ۵۰.
  20. رستمی وآل‌بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۴۵۳.
  21. سوره سجده، آیہ۱۱؛ سوره زمر، آیہ۴۲؛ سوره انعام، آیہ۶۳؛ سوره نساء، آیہ۹۷.
  22. سوره زمر، آیہ۴۲.
  23. سوره سجده، آیہ۱۱.
  24. سوره انعام، آیہ۶۳؛ سوره نساء، آیہ۹۷.
  25. طباطبائی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۷، ص۴۱۸.
  26. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۳۰، ص۲۳.
  27. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۳۰، ص۲۳.
  28. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۳۰، ص۲۳.
  29. مکارم شیرازی، پیام امام، ۱۳۸۶ش، ص۶۱.
  30. نجفی،‌ جواہر الکلام، ۱۴۰۴ش، ج۴، ۱۸ ۱۷.
  31. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۳۵۳.


مآخذ

  • آلوسی، سید محمود، روح المعانی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  • دہخدا، علی اکبر، فرہنگ لغت، تہران، مؤسسہ لغت نامہ دہخدا، ۱۳۴۱شمسی ہجری
  • رستمی، محمد زمان و طاہره آل بویہ، سیری در اسرار فرشتگان با رویکردی قرآنی و عرفانی، قم، پژوہشگاه علوم و فرہنگ اسلامی، ۱۳۹۳شمسی ہجری
  • ری‌شہری، میزان الحکمہ، ترجمہ حمیدرضا شیخی، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی، ۱۳۸۹شمسی ہجری
  • ستایش، رحمان، «گفتگوی ملائکہ با حضرت فاطمہ»، در مجلہ حدیث پژوہی، شماره ۷، بہارو تابستان ۱۳۹۱شمسی ہجری
  • سلیمانی آشتیانی، مہدی، درایتی، محمدحسین، مجموعہ رسائل در شرح احادیثی از کافی، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۸شمسی ہجری
  • طباطبائی، محمدحسین، ترجمہ المیزان، ترجمہ سید محمدباقر موسوی ہمدانی، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۳۷۴شمسی ہجری
  • طہرانی، محمدحسین، معاد شناسی ج۱، تہران، نشر حکمت، ۱۳۶۱شمسی ہجری
  • محقق کرکی، جامع المقاصد، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۱۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، تہران، دارالکتب اسلامیۃ، ۱۳۸۶شمسی ہجری
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۸۰شمسی ہجری
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام فی شرح شرایع الاسلام،‌ بیروت، دار احیاءالثراث العربی، ۱۴۰۴ھ۔
  • نہج البلاغہ، تصحیح و شرح محمد عبده، ترجمہ علی‌اصغر فقیہی، نشر تہران، ۱۳۷۶شمسی ہجری