مکروہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

مکروہ اسلامی تعلیمات میں ایسے عمل کو کہا جاتا ہے کہ جسے انجام دینے سے ترک کرنا بہتر ہوتا ہے۔اگر کوئی مکروہ کو انجام دے تو وہ گناہگار نہیں کہلاتا اور نہ ہی سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔اسلامی عبادات یا معاملات دونوں میں مکروہات بیان ہوئے ہیں ۔ثواب کا کم ہونا یا شارع کے نزدیک کسی چیز کا نا پسندیدہ ہونا یہ دونوں مکروہ میں شامل ہیں ۔

معنا

لغوی لحاظ سے مکروہ کا لفظ "ک ر ہ" سے نکلا ہے [1]۔ انسان پر آنے والی سختی یا مشکل کو کہا جاتا ہے[2] ۔فقہی اصطلاح میں خدا کے نزدیک ناپسندیدہ عمل کو کہا جاتا ہے اور اس کا انجام نہ دینا انجام دینے کی نسبت بہتر ہوتا ہے۔[3]

اقسام

درج ذیل چارٹ کی مدد سے مکروہ کی اقسام کو سمجھا جا سکتا ہے :

نام تقسیم کا معیار وضاحت
تحریمی اور تنزیہی خدا کی نسبت ناپسندیدگی کی شدت تحریمی : ایسا مکروہ ہے جس کی ناپسندیدگی زیادہ شدت رکھتی ہے ۔ جیسے مستحبات مؤکدہ وغیرہ کا ترک کرنا۔[4]

تنزیہی: انجام دینا منع ہے لیکن انجام دینے کی صورت میں ثواب کم ملے گا ۔ جیسے مجسمے یا تصویر کی صورت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے ۔اگر کوئی ان کی موجودگی میں نماز پڑھے گا تو اسے ان چیزوں کے بغیر جگہ پر پڑھی جانے والی نماز کی نسبت ثواب کم ملے گا۔

مطلق اور مقید دستور خدا میں وضعیت اور جعل کی نسبت مطلق:ایسے عمل کو کہا جاتا ہے جس کی کراہت کسی چیز پر موقوف نہیں ہوتی ہے ۔[5]

مقید یا معلق:ایسے عمل کو کہا جس کی کراہت کسی دوسری پر موقوف ہوتی ہے ۔حمام میں نماز پڑھنا۔

اصلی اور تبعی تعلقِ کراہت کی جہت سے اصلی: جسے خود مکروہ کہا گیا ہو۔ حمام میں نماز پڑھنا۔

تبعی: جسے خود مکروہ نہیں کہا گیا لیکن ضمنی طور کسی کلام سے سمجھا جاتا ہو۔مثلا کلام میں حمام میں نماز پڑھنے کو ناپسندیدہ کہا ہے اور ہم اس کلام سے یہ سمجھتے ہیں کہ حمام میں نماز پڑھنے کیلئے جانا بھی ناپسندیدہ ہے ۔[6]

نفسی اور غیری متعلقِ تکلیف کی مطلوبیت کی جہت سے ایسا عمل ہے جسے خود ناپسندیدہ کہا گیا ہو۔

غیری:خود ناپسندیدہ عمل نہیں لیکن کسی دوسرے مکروہ عمل کے انجام دینے کا مقدمہ بننے کی وجہ سے مکروہ ہوتا ہے ۔جیسے حمام میں نماز پڑھنا خود مکروہ ہے اب وہاں نماز پڑھنے کے قصد سے جانا بھی مکروہ ہو گا۔[7]

معلق اور منجز حکمِ شارع کی جہت معلق:ایسا عمل ہے جس کی کراہت فعلی ہے لیکن اس کا وجود استقبالی ہے۔[8]

منجز:ایسا عمل جس کی کراہت اور وہ عمل دونوں ایک زمانے میں موجود ہوں۔[9]

مشہور مکروہات

عبادات

مکروہ عبادی : ایسی عبادت جس کے ثواب میں کمی ہو[10] ۔یعنی ایسی عبادت ہے جس کا انجام دینا اس عمل کی نسبت کم ثواب رکھتا ہے جسے اس (مکروہ) کے بغیر انجام دیا جائے۔جیسے حمام میں نماز میں پڑھنا ۔چند مشہور مکروہ عبادات مذکور ہیں :

  1. حمام میں نماز میں پڑھنا
  2. کسی دوسرے انسان کے سامنے نماز پڑھنا
  3. دروازے کے سامنے نماز پڑھنا
  4. لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر نماز پڑھنا جیسے سڑک ،گلی کوچہ وغیرہ
  5. آگ کے سامنے نماز پڑھنا
  6. باروچی خانے میں نماز پڑھنا
  7. مجسمے یا تصویر کے سامنے نماز پڑھنا
  8. قبر کے سامنے ،اوپر یا دو قبروں کے درمیان نماز پڑھنا[11]
  9. نیند آرہی ہو تو نماز پڑھنا
  10. تنگ جوراب پہنے ہوئے نماز پڑھنا
  11. عاشورا کے دن روزہ رکھنا
  12. عرفہ یا روز عید قربان کے شک کی صورت میں روزہ رکھنا

معاملات

مکروہ غیر عبادی:عمل کا کامل نہ ہونا ہے۔یعنی شارع اسے انجام دینا اچھا نہیں سمجھتا ہے اگرچہ وہ عمل ممنوع نہیں جائز ہے ۔[12]

  1. قصابی کا کام کرنا
  2. کفن فروشی
  3. گھٹیا لوگوں سے معاملہ کرنا
  4. اذان اور اقامت کے دوران معاملہ کرنا
  5. گندم اور جَو کی خرید و فروخت کو پیشہ بنانا
  6. صرافی یعنی سونے چاندی کی خرید فروش کا کام

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب ج12، ص 8۔
  2. صاحب بن عبادج3 ص 355
  3. ملکی اصفهانی، ج‏۲، ص۹۴
  4. ملکی اصفہانی،ج 2 ص 204
  5. اصفہانی،ص82
  6. فاضل لنکرانی،ص82
  7. اصفہانی،ص82
  8. اصفہانی،ص82
  9. اصفہانی،ص82
  10. فرہنگ اصول نامہ 667
  11. نماز پڑھنے کے مکروہ مقامات
  12. فرہنگ اصول نامہ 667


مآخذ

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار الکفر، ۱۴۱۴ق، چاپ سوم.
  • اصفہانی، محمد حسین، الفصول الغرویہ فی الاصول الفقہیہ، قم، دار احیاء العلوم الاسلامیہ، ۱۴۰۴ق.
  • بنی ہاشمی خمینی، محمد حسن، رسالہ شانزده مرجع.
  • خمینی، سیدروح الله، نجاة العباد، تہران، موسسہ تنظیم نشر آثار امام خمینی، ۱۴۲۲ق.
  • صاحب بن عباد، المحیط فی اللغہ، بیروت، عالم الکتاب، ۱۴۱۴ق.
  • فاضل لنکرانی، محمد، شرح کفایہ الاصول، قم، نشر نوح، ۱۳۸۵ش، چاپ پنجم.
  • مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ نامہ اصول فقہ، قم، ۱۳۸۹ ش.
  • ملکی اصفہانی، مجتبی، فرہنگ اصطلاحات اصول - قم، ۱۳۷۹ ش.