ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی نماز

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ذی‌ الحجہ کے پہلے عشرے کی نماز مستحب نمازوں میں سے ہے جو دو رکعت پر مشتمل ہے اور ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں پڑھی جاتی ہے۔ اس نماز میں سورہ حمد اور سورہ اخلاص کے بعد سورہ اعراف کی آیت نمبر 142 پڑھی جاتی ہے۔ مذکورہ آیت میں حضرت موسی کی طرف سے آسمانی کتاب کی دریافت کے لئے طور سینا پر گزاری گئی چالیس راتوں کا تذکرہ ہے جس کی آخری دس راتیں ذی‌ الحجہ کے پہلے عشرے میں آئی تھیں۔ احادیث کے مطابق جو شخص ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں ہمیشہ اس نماز کو ادا کرے گا وہ حاجیوں کے ساتھ ثواب میں شریک ہو گا۔

کیفیت

یہ نماز ذی‌ الحجہ کی پہلی دس راتوں میں نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جات ہے۔[1] یہ نماز دو رکعت پر مشتمل ہے جس کی ہر رکعت میں تکبیرہ الاحرام کے بعد سورہ حمد اس کے بعد سورہ اخلاص پھر سورہ اعراف کی آیت نمبر 142 پڑھی جاتی ہے۔[1]

وَ واعَدْنا مُوسی‏ ثَلاثِینَ لَیلَةً وَ أَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِینَ لَیلَةً وَ قالَ مُوسی‏ لِأَخِیهِ هارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَ أَصْلِحْ وَ لا تَتَّبِعْ سَبِیلَ الْمُفْسِدِینَ؛(ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ سے (تورات دینے کے لیے) تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اسے مزید دس (راتوں) سے مکمل کیا۔ اس طرح ان کے پروردگار کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوگئی اور جناب موسیٰ نے (کوہ طور پر جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو۔ اور اصلاح کرتے رہو اور (خبردار) مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔)

مذکورہ آیت میں حضرت موسی کی طرف سے آسمانی کتاب کی دریافت کے لئے طور سینا پر گزاری گئی چالیس راتوں کا تذکرہ ہے۔ اس عرصے میں حضرت موسی کے بھائی، حضرت ہارون کو بنی‌ اسرائیل میں آپ کا جانشین مقرر کیا گیا تھا۔[2] اس آیت کے مطابق شروع میں حضرت موسی 30 راتیں کوہ طور پر گزاریں اس کے بعد مزید دس راتوں کا اضافہ کیا گیا۔[3] بعض احادیث کے ابتدائی 30 راتوں سے ذی القعدہ کا مہینہ اور آخری دس راتوں سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی گئی ہیں۔[4]

مذکورہ آیت کی تلاوت کے بعد رکوع اور دو سجدے بجا لائے جاتے ہیں۔ دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھی جاتی ہے اور آخر میں تشہد اور سلام کے بعد نماز ختم ہو جاتی ہے۔[1]

ثواب اور سند

کتاب اقبال الاعمال میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس کے مطابق امام باقرؑ اپنے فرزند امام صادقؑ کو اس نماز کے فراموش نہ کرنے کی سفارش کرتے ہیں، اور اگر ہمیشہ اس نماز کو ادا کرے تو حاجیوں کے ساتھ ثواب میں شریک ہو گا اگرچہ یہ شخص حج پر نہ گیا ہو۔[5]

سب سے قدیمی‌ منبع جس میں اس نماز کا تذکرہ آیا ہے وہ سید بن طاووس کی کتاب اقبال الاعمال ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اس کے مآخذ کو ابن اُشناس کی کتاب قرار دیا ہے۔ وسائل الشیعہ کے مطابق اس کتاب کا نام "ذی الحجہ کے اعمال" تھا۔[6]

مفاتیح الجنان میں اس نماز کو ذی الحجہ کے اعمال میں ذکر کیا گیا ہے۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. 1.0 1.1 1.2 قمی، مفاتیح الجنان، ذیل «اعمال ماہ ذی الحجۃ»۔
  2. رجوع کریں: قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۲۳۹۔
  3. سورہ اعراف، آیہ۱۴۲۔
  4. رجوع کریں: قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۲۳۹۔
  5. سید بن طاووس، الاقبال، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۳۵۔
  6. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۶ق، ج۸، ص۱۸۳۔


مآخذ

  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعۃ، قم، مؤسسۃ آل‌ البیت، چاپ سوم، ۱۴۱۶ق۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنۃ، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، قم، مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۹ق۔
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق۔