صراط

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
سکرات موت
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
برزخی جسم
تجسم اعمال
خلود
برزخی حیات


صراط جہنم کے اوپر ایک پل ہے اور قیامت کے دن سب انسان اس پل سے عبور کریں گے. بعض احادیث کے بقول صراط کے اوپر مواقف لگے ہوں گے جہاں انسان کے اعتقادات اور اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا. اور پل صراط سے عبور انسان کے دنیا میں کئے گئے اعمال کے تحت ہو گا، بعض افراد بہت تیزی سے اس سے گزر جائیں گے اور بعض ہزاروں سال اس پر گرفتار رہیں گے اور بعض اس کے اوپر سے جہنم میں گر جائیں گے. اہل تشیع کے اعتقادات کے مطابق پل صراط پر اہم سوال جو کیا جائے گا وہ آئمہ معصومین(ع) کی ولایت کا ہو گا.


واژہ شناسی

قرآن کریم میں تین کلمات صراط طریق اور سبیل کا معنی ایک دوسرے کے نزدیک ہے اور عام طور پر تینوں کا ترجمہ راہ کیا جاتا ہے. راغب اصفہانی ان تین الفاظ کا فرق اس طرح بیان کرتا ہے: صراط کا معنی شاہراہ، یعنی اصلی اور روشن راہ ہے، [1] سبیل کا معنی آسان اور ہموار راہ ہے، اور طریق وہ راہ ہے جس سے صرف پیدل چلنے والا ہی گزر سکتا ہے. [2]

صراط کی حقیقت

علامہ تہرانی کتاب معاد شناسی میں لکھتے ہیں: صراط یعنی راہ یا چیز کہ اس سے گزر کر ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچا جا سکتا ہے، اور دو چیزوں کے درمیان رابطہ اور واسطہ ہے. خداوند نے انسانیت کے مقام کو وصول کے لئے، اور کمال کے محقق ہونے، اور خدا کے تقرب کے لئے راستہ معین کیا ہے. صراط اللہ، یعنی خدا کی طرف راہ، اور کیونکہ خداوند کا کوئی خارجی مکان نہیں ہے اس لئے اس سے مراد انسان کے نفس کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کرنے کا راستہ ہے. ہر انسان کے نفس میں خدا کی طرف جانے کا ایک سبیلی راہ موجود ہے. وہ باطنی اور سبیلی راہ قیامت کے دن جنت کی طرف جانے والے پل کی صورت میں مجسم ہو جائے گا. آئمہ معصومین(ع) نے خداوند تک پہنچنے کے لئے سب سے نزدیک اور تیزی سے جانے والا راستہ انتخاب کیا ہے اس لئے انکو صراط مستقیم کہا گیا ہے، ایسا راہ جو تلوار سے زیادہ تیز ہے اور بال سے زیادہ باریک ہے. [3]

صراط قرآن میں

لفظ صراط قرآن میں ٤٥ بار مختلف آیات میں ذکر ہوا ہے اور ہر جگہ مفرد کی صورت میں آیا ہے، ٣٢ آیات میں مستقیم کی صفت سے توصیف ہوا ہے. [4] آئمہ معصومین(ع) کی روایات کے مطابق صراط شیعہ کے اہم عقائد سے ہے. [5]

جہاں تک کہ جہان آخرت اس دنیا میں کئے گئے اعمال کا نتیجہ ہے، اس لئے اس جہان میں کئے گئے اعمال اور رفتار جو انسان اس دنیا میں انتخاب کرتا ہے اس کا آخرت سے گہرا رابطہ ہے. حقیقت میں یوں کہا جائے گا کہ صراط اور سخت راہ جو آخرت میں ہے، وہ انسان کے اس دنیا میں کئے گئے اعمال کا نتیجہ ہے.

روایات اور تفسیر کی کتابوں میں سب سے زیادہ صراط کے بارے میں جو بحث کی گئی ہے، وہ سورہ حمد کی آیت ٦ ہے: "اھدنا الصراط المستقیم" پرودگارا! ہمیں سیدھے راستے اور صراط مستقیم پر قرار دے.


صراط مستقیم

علامہ تہرانی نے معروف جملے "الطرق الی اللہ بعدد انفاس الخلآئق" خدا کی طرف جانے کے جو راستے موجود ہیں ان کی تعداد پوری مخلوق کے نفس اور جان کے برابر ہے. ) کے بعد لکھا ہے ہر موجود میں نفسیاتی اور باطنی طور پر خدا سے ایک رابطہ موجود ہے لیکن صراط مستقیم خدا کا قرب حاصل کرنے کا ایک بہترین مسیر اور راہ ہے اور جو مختلف طریقے راہ مستقیم کے نزدیک ہیں وہ افراد کو خدا تک پہنچانے کی توانائی رکھتے ہیں.[6]

قرآن کی آیات اور روایات میں، صراط مستقیم کے لئے کچھ اصول بیان ہوئے ہیں: [7]

  • خدا کی معرفت حاصل کرنے کا راہ [8]
  • امیرالمومنین(ع)
  • آئمہ معصومین(ع)
  • خدا کا دین [10]
  • حق تعالیٰ کی عبادت [11]

جہاں تک کہ صراط مستقیم صرف ایک ہے، امام خمینی اس کی تفسیر اور ان اصولوں کو جمع کرتے ہوئے اور ان تمام حقائق کے ایک ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صراط انسانی صورت، جو کہ وہی انسانی صفات ہیں اور امام اور ہدایت اور شریعت، اور وہ پل جو دوزخ کے اوپر ہے سب کے لئے صحیح ہ، کیونکہ یہ سب راہ جو بیان ہوئے ہیں جنت اور عالم نور اور خدا کا تقرب حاصل کرنے کے راستے اور وسیلے ہیں. [13]


صراط کی خصوصیات

اہل بیت(ع) کے ذریعے بیان کی گئی بہت سی روایات کے مطابق صراط جہنم کے اوپر ایک پل ہے جو بالوں سے زیادہ باریک اور تلوار کے سرے سے زیادہ تیز ہے، [14] جہنم لوگوں اور جنت کے درمیان ہے اور ہر ایک کو اس پل سے جو کہ جہنم کے اوپر ہے اس سے گزرنا ہو گا. بعض بجلی کی تیزی کی طرح اس کے اوپر سے گزر جائیں گے، بعض گھوڑے کے بھاگنے کی رفتار سے گزریں گے، بعض سینے کے بل چلتے ہوئے اور بعض اس کے اوپر سے اس طریقے سے لٹکتے ہوئے گزریں گے کہ ان کے بدن کا بعض حصہ آگ میں ہو گا.

صراط کے بال سے زیادہ باریک ہونے کے بارے میں بعض عالموں نے یوں توضیح دی ہے: صراط، بالوں سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے جیسے امیرالمومنین(ع) کی سیرت تھی کیونکہ آپ(ع) کی زندگی بہت ہی دقیق اور بعض تعبیر کے مطابق بالوں سے زیادہ باریک تھی... اور آپ(ع) کی عدالت آپکے پیروکاروں کے لئے ایک نمونہ رہے گی. روایات میں صراط مستقیم کا ایک معنی، حضرت علی(ع) کو کہا گیا ہے کہ انسان اپنے اعمال اور اخلاق کو آپ(ع) کی طرح بنانے کی کوشش کرے. [15] یہ معلوم نہیں ہے کہ صراط جہنم کے اندر سے ہو گا یا اس کے اوپر بنا ہوا پل ہو گا. [16]


صراط کے مواقف

صراط کی ایک سختی، وہ مواقف ہوں گے جہاں پر روک کرانسان سے سوال کئے جائیں گے. شیخ صدوق کہتے ہیں کہ صراط پر موجود مواقف پر انسان سے ان واجبات اور حرام کے بارے میں سوال ہو گا جن کی وہ دنیا میں رعایت کرتا، ہر حرام اور واجب کے نام پر ایک موقف ہو گا، اگر اس کام میں کوتاہی کی ہو گی تو اس موقف پر ہزار سال کھڑا رہے گا اور اس کے بارے میں سوال جواب ہوں گے اور اگر دنیا میں اس کو صحیح انجام دیا ہو گا اور مراعات کی ہو گی تو جلدی سے دوسرے موقف پر پہنچ جائے گا اور آخر میں بہشت تک پہنچ جائے گا. صراط کے اہم ترین مواقف درج ذیل ہیں: [17]

  • مظلوم کی حمایت
  • نماز اور اس کی بجا لانے کی کیفیت
  • دولت کمانے اور اس کے خرچ کرنے کے بارے میں سوال

صراط پر استقامت کے عناصر

قرآنی آیات اور احادیث کے مطابق، وہ عناصر جو صراط پر انسان کی استقامت کا باعث بنیں کے وہ درج ذیل ہیں: [18]

  • خدا کی رحمت کا امیدوار ہونا
  • پانچ نمازوں کا پابند ہونا
  • مومنین کی مدد کرنا
  • مومن بھائی کو قرض دینا
  • مومن کا غم دور کرنا
  • مریض کی دیکھ بھال کرنا

سب سے پہلے صراط سے کون گزرے گا

روایات کے مطابق، پیغمبر(ص) امام علی(ع) کے ہمراہ وہ پہلے افراد ہوں گے جو صراط سے عبور کریں گے. [19]

حوالہ جات

  1. مفردات غریب القرآن، ص۲۳۰، مادّة (س ر ط). و نیز رجوع کریں: ابن منظور، لسان العرب، ج۷، ص۱۳؛ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۱، ص۳۱، حکیم، سیدمحمدباقر، تفسیر سورة حمد، ص۲۱۹.
  2. مفردات غریب القرآن، ص۳۱۲، واژة طرق
  3. معاد شناسی، ج۸، ص۴۶
  4. یات: فاتحہ: ۷، ۶/بقره: ۲۱۳،۱۴۲/آل عمران: ۱۰۱، ۵۱/مائده:۱۶/ نساء: ۶۸، ۱۷۵/ انعام: ۳۹، ۱۶۱، ۱۵۳، ۱۲۶، ۸۷/ اعراف: ۸۶/۱۶/ یونس: ۲۵/ ہود: ۵۶/ ابراہیم: ۱/حجر: ۴۱/ نحل: ۱۲۱، ۷۶/ مریم: ۴۳، ۳۶/ طہ: ۱۳۵/ حج: ۵۴،۲۴/ مؤمنون: ۷۴، ۷۳/ نور: ۴۶/ سبأ: ۶/یس: ۶۶، ۶۱،۴/ صافات: ۱۱۸، ۲۳/ ص:۲۲/ شوری: ۵۳،۵۲/ زخرف: ۶۴،۶۱،۴۱/ فتح: ۲۰/۲/ ملک: ۲۲.
  5. مانند زیارت آل یس و روایات: صفات الشیعہ، ص۵۱؛ و نیز: بحار، ج۶۶، ص۹، ح۱۱.
  6. معادشناسی،ج۸، ص۱۷
  7. زکی زاده رنانی، پل صراط، ص۲۰
  8. معانی الأخبار، ص۳۲، باب معنی صراط).
  9. "بسم الله الرحمن الرحیم یس و القرآن الحکیم إنک لمن المرسلین علی صراط مستقیم". (یس: ۱-۴).
  10. "قل إننی هدانی ربی إلی صراط مستقیم دیناً قیما ملة ابراهیم حنیفاً". (انعام: ۱۶۱). یہ آیت زیادہ تر عقیدتی زاویہ کو مشخص کرتی ہے.
  11. "و ان اعبدونی هذا صراط مستقیم". (یس:۶۲). که در یہ آیت عملی زاویے کی طرف اشارہ کر رہی ہے.
  12. "و من یعتصم بالله فقد هدی إلی صراط مستقیم . (آل عمران: ۱۰۱).
  13. اسرار الصلوة، ص۳۹۶
  14. الکافی، ج۸، ص۳۱۲، ح۴۸۶
  15. امام خمینی، چالیس حدیث، ص۴۸
  16. معادشناسی، ج۸، ص۲۸
  17. زکی زاده رنانی، پل صراط، ص۵۳
  18. زکی زاده رنانی، پل صراط، ص۷۸
  19. عیون أخبار الرضا (علیهِ‌السَّلام)، ج۲، ص۲۷۲، ح۶۳.

مآخذ

  • قرآن کریم
  • زکی زاده رنانی، علیرضا، پل صراط، انتشارات دیوان، قم، ۱۳۸۶ش
  • امام خمینی، آداب الصلوة، مؤسسۃ نشر و تنظیم آثار امام خمینی، چاپ ہفتم ۱۳۷۸ شمسی.
  • شیخ صدوق، الامالی، یک جلد، انتشارات کتابخانہ اسلامیہ، ۱۳۶۲ شمسی.
  • سیدعلی بن موسی بن طاوس، إقبال الاعمال، یک جلد، دارالکتب الإسلامیۃ تہران، ۱۳۶۷ ہجری شمسی.
  • علامہ مجلسی، بحارالانوار، ۱۱۰ جلد، مؤسسۃ الوفاء بیروت لبنان، ۱۴۰۴ قمری.
  • عمادالدین طبری، بشارة المصطفی، یک جلد، چاپ کتابخانہ حیدریہ نجف، ۱۳۸۳ ہجری قمری.
  • محمدبن حسن بن فروخ صفار، بصائر الدرجات، یک جلد، انتشارات کتابخانہ آیت‌ الله مرعشی قم، ۱۴۰۴ قمری.
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، دراسۃ و تحقیق علی شیری، دارالفکر بیروت لبنان ۱۴۱۵ قمری.
  • شیخ صدوق، التوحید، صححہ و علق علیہ: السیدہاشم الحسینی الطہرانی، منشورات جماعۃ المدرسین فی الحوزة العلمیۃ بقم المقدسۃ.
  • ثواب الاعمال، یک جلد، انتشارات شریف رضی قم، ۱۳۶۴ شمسی.
  • الخصال، دو جلد در یک مجلد، انتشارات جامعہ مدرسین قم، ۱۴۰۳ قمری.
  • سیدعلی بن موسی بن طاوس، جمال الاسبوع، یک جلد، انتشارات رضی قم.
  • امام خمینی (قدس سره)، جہاد اکبر، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ نہم، ۱۳۷۸ شمسی.
  • چالیس حدیث، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ بیستم، ۱۳۷۸ شمسی.
  • محمدبن جریر طبری، دلائل الامامۃ، یک جلد، دارالذخائر للمطبوعات، قم.
  • احمدبن عبدالله طبری، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، نشر مکتبۃ القدسی مصر، ۱۳۵۶ قمری.
  • علامہ حلّی، الرسالۃ السعدیۃ، تحقیق عبدالحسین محمد علی بقال، نشر کتابخانہ عمومی حضرت آیت‌ الله مرعشی نجفی (رَحمَۃالله) قم، الطبعۃ الاولی ۱۴۱۰ قمری.
  • شیخ صدوق، صفات الشیعۃ، یک جلد، انتشارات اعلمی تہران.
  • ابن ابی جمہور احسائی، عوالی اللئالی، ۴ جلد، انتشارات سیدالشہداء(ع) قم، ۱۴۰۵.
  • شیخ صدوق، علل الشرایع، یک جلد، انتشارات مکتبۃ الداوری قم.
  • عیون أخبار الرضا (علیہ السَّلام)، ۲ جلد در یک مجلد، انتشارات جہان، ۱۳۷۸ ہجری قمری.
  • شیخ صدوق، فضائل الاشہر الثلاثۃ، تحقیق میرزا غلامرضا عرفانیان، نشر‌دار الحجۃ البیضاء‌دار الرسول الاکرام (صَلَی اللهُ عَلیه وَآله وسَلم)، الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۱۲ قمری.
  • سیدعلی اکبر قرشی، قاموس قرآن، ہفت جلد در سہ مجلد، انتشارات دارالکتب السلامیہ، چاپ ششم ۱۳۷۱ شمسی.
  • ثقۃ الاسلام کلینی، الکافی، ۸ جلد، دارالکتب الإسلامیۃ تہران، ۱۳۶۵ ہجری شمسی.
  • جعفربن محمدبن قولویہ، کامل الزیارات، ۱ مجلد، تحقیق شیخ جواد القیومی، مؤسسۃ نشر الفقاہۃ، الطبعۃ الاولی ۱۴۱۷ ه‍.ق.
  • علامہ حلی حسن بن یوسف، کشف الیقین، یک جلد، مؤسسہ چاپ و انتشارات وابستہ بہ وزارت فرہنگ و ارشاد، ۱۴۱۱ ہجری قمری.
  • علی المتقی بن حسام الدین الہندی، کنزالعمال فی سنن الاقوال و الافعال، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴۰۹ قمری.
  • ابن منظور، لسان العرب، ۱۵ مجلد، نشر أدب الحوزة، الطبعۃ الأولی ۱۴۰۵ قمری.
  • محمدبن أحمدبن الحسن بن شاذان القمی، مائۃ منقبۃ فی فضائل و مناقب أمیرالمؤمنین و الائمۃ من ولده (عَلیہم‌السَّلام)، مدرسۃ الامام المہدی (علیہ السَّلام) الطبعۃ الاولی ذی الحجۃ، ۱۴۰۷ قمری.
  • حسن بن سلیمان الحلی، مختصر بصائر الدرجات، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ فی النجف الطبعۃ الاولی ۱۳۷۰ قمری.
  • احمدبن محمدبن خالد برقی، المحاسن، یک جلد، دارالکتب الإسلامیۃ قم، ۱۳۷۱ ہجری قمری.
  • احمدبن حنبل، مسند احمد، انتشارات دارالمعارف مصر، ۱۹۸۰ میلادی.
  • شیخ صدوق، معانی الاخبار، ایک جلد، انتشارات جامعہ مدرسین قم، ۱۳۶۱ شمسی.
  • من لا یحضره الفقیہ، ۴ جلد، انتشارات جامعہ مدرسین قم، ۱۴۱۳ قمری.
  • محمدفؤاد عبدالباقی، المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، مؤسسہ اعلمی للمطبوعات بیروت، طبع اول ۱۴۲۰ ه‍.ق.
  • سلیمان بن أحمد الطبرانی، المعجم الکبیر، تحقیق: حمدی عبد المجید السلفی، نشر مکتبۃ ابن تیمیۃ القاہرة، ۲۵ مجلد، الطبعۃ الثانیۃ.
  • سلیمان بن أحمد الطبرانی، المعجم الاوسط، ۹ مجلد، تحیق ابراہیم الحسینی، نشر دارالحرمین.
  • علی بن أبی بکر الہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، مکتبۃ القدسی بالقاہرة دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان.
  • شیخ فخرالدین طریحی، مجمع البحرین، چھ مجلد.
  • شیخ عباس قمی (رَحمَۃالله)، منازل الاخرة، انتشارات انصاری، چاپ دوم، زمستان ۱۳۷۷ ہجری شمسی.
  • ابن الأثیر، النہایة فی غریب الحدیث، ۵ مجلد مؤسسہ اسماعیلیان قم، الطبعۃ الرابعۃ ۱۳۶۴ شمسی.