عقد نکاح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

عقد نکاح ان الفاظ کو کہا جاتا ہے جن کو ادا کرنے سے مرد اور عورت ایک دوسرے کے شریک حیات بن جاتے ہیں۔ اکثر شیعہ فقہاء کے مطابق عقدِ نکاح کو صحیح عربی میں پڑھنا چاہیے۔ انقطاعی نکاح (متعہ) کا عقد بھی دائمی نکاح کے عقد کی طرح ہے صرف فرق اتنا ہے کہ انقطاعی عقد میں مہر کے علاوہ شادی کی مدت کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات عقدِ نکاح جنسی لذت سے ہٹ کر صرف مَحرم بنے کے لیے پڑھا جاتا ہے جسے صیغہ محرمیت کہا جاتا ہے۔ ایسا عقد صحیح ہونے کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔

عقد نکاح

عقد نکاح ان الفاظ کو کہا جاتا ہے جن کو ادا کرنے سے مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوتے ہیں۔[1] عقد نکاح صرف اور صرف ایجاب اور قبول کے ذریعے سے ثابت ہوتا ہے طرفین کا راضی ہونا صرف کافی نہیں ہے۔[2] ایجاب، کسی شخص کو کوئی کام انجام دینے کی تجویز دینے کے معنی میں ہے۔[3] اور قبول اس کام کی تجویز پر رضایت ظاہر کرنے کا نام ہے۔[4] وہ الفاظ جو ایجاب کے لیے عورت ادا کرتی ہے[5] وہ یہ ہیں: «زَوَّجْتُكَ» یا «أنْکَحْتُكَ».[6] بعض فقہاء نے «مَتَّعْتُكَ» کا لفظ بھی صحیح قرار دیا ہے[7] اور قبول کے لیے جو الفاظ مرد ادا کرتا ہے[8]وہ یہ ہیں: «قَبِلْتُ التَزْویج»، «قَبِلْتُ النِّکاح»، «قَبِلْتُ التَزْویج و النِّکاح» یا «تَزَوَّجْتُ».[9]

اقسام

عقد نکاح کی دو قسمیں ہیں: دائمی نکاح و انقطاعی نکاح.[10] دائمی عقد نکاح میں صرف مہر ذکر ہوتا ہے لیکن انقطاعی نکاح میں مہر کے علاوہ شادی کی مدت بھی بیان ہوتی ہے۔[11]

دائمی

عقد دائم اگر مرد اور عورت آپس میں خود پڑھیں تو پہلے عورت کو کہنا چاہئے: «زَوَّجْتُكَ نَفْسِی عَلىَ الصِّداقِ الْمَعْلُومِ» یعنی میں نے اس مہر پر جو معین ہوچکا ہے اپنے آپ کو تمہاری بیوی بنایا اور اس کے فوراً بعد مرد کہے: «قَبِلْتُ التَزْوِیجَ عَلىَ الصِّداقِ المَعْلُوْمِ» یعنی میں نے ازدواج کو معین مہر کے مطابق قبول کیا۔ یا صرف «قَبِلْتُ التَّزْوِیجَ» کہے اور اس سے اسی معین مہر کے مقابلے میں شادی کا ارادہ کرے۔[12] اگر مرد اور عورت کی طرف سے عقد نکاح پڑھنے کے لیے کوئی اور وکیل مقرر کریں تو اگر مثال کے طور پر مرد کا نام احمد اور عورت کا نام فاطمہ ہو اور عورت کا وکیل کہے "زَوَّجتُ مُوِکِّلَکَ اَحمَدَ مُوَکِّلَتیِ فَاطِمَۃَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" یعنی میں نے اپنی موکلہ فاطمہ کو معین مہر کے مقابلے میں تمہارے موکل احمد کے عقد میں لایا ہے اور اس کے لمحہ بھر بعد مرد کا وکیل کہے " قَبِلتُ التَّزوِیجَ لِمُوَکِّلِی اَحمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" یعنی اس شادی کو معین مہر کے بدلے میں نے اپنے موکل احمد کے لیے قبول کیا۔[13]

غیر دائمی

اگر مرد اور عورت آپس میں خود سے انقطاعی عقد نکاح پڑھنا چاہیں تو ازدواج کی مدت اور مہر معین کرنے کے بعد عورت کہے: «زَوَّجْتُكَ نَفْسِي فِي المُدَّةِ المَعْلُومَةِ عَلَی المَهْرِ المَعْلُومِ». یعنی میں نے اپنے آپ کو معین مہر کے بدلے مقررہ مدت کے لیے تمہارے عقد میں لایا ہے۔ اس کے فوراً بعد مرد کہے: «قَبِلْتُ».[14]

اور اگر مرد اور عورت اپنا عقد پڑھنے کے لیے وکیل مقرر کریں تو پہلے عورت کا وکیل مرد کے وکیل سے یوں کہے: «زَوَّجْتُ مُوَكِّلَتِي مُوَكِّلَكَ فِي المُدَّةِ المَعْلُومَةِ عَلَى المَهْرِ المَعْلُومِ» یعنی میں اپنی موکلہ کو معین مہر کے بدلے معین مدت کے لیے تمہارے موکل کے عقد میں لے آیا ہوں پھر مرد کا وکیل فوراً کہے: «قَبِلْتُ التَّزْوِيجَ لِمُوَكِّلِي هكَذا» یعنی جس طرح سے کہا گیا ہے اس شادی کو میں نے قبول کیا۔[15]

خطبہ عقد

عقد نکاح کے مستحبات میں سے ایک صیغہ عقد سے پہلے خطبہ پڑھنا ہے[16] اس خطبے میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا، پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ پر درود بھیجا جاتا ہے[17]پیغمبر اکرمؐ کی حضرت خدیجہ سے اور امام علیؑ کی حضرت فاطمہؑ سے اور دیگر ائمہ معصومینؑ کی شادی کے خطبے فقہی اور حدیثی کتابوں مندرج ہیں۔[18]

پیغمبر اکرمؐ سے حضرت علیؑ اور حضرت زہراؑ کے نکاح سے پہلے مندرجہ ذیل خطبہ پڑھنا:

«الحمدلله الذی رفع السمآء فبناها، وبسط الارض فدحاها، وأثبتها بالجبال فأرسیها، أخرج منها ماءها و مرعیها، الذی تعاظم عن صفات الواصفین...أیها الناس إنما الانبیاء حجج الله فی أرضه، الناطقون بکتابه، العاملون بوحیه، إن الله عزوجل أمرنی أن ازوج کریمتی فاطمة بأخی وابن عمی و أولی الناس بی‌ علی بن أبی‌طالب، و [أن] قد زوجه فی السماء بشهادة الملائکة، وأمرنی أن ازوجه واشهدکم علی ذلک»[19]

صیغہ عقد کی شرائط

نکاح کے عقد میں کچھ شرائط ہیں:

  • نکاح کا صیغہ عربی میں پڑھنا چاہئے۔[20]اگرچہ بعض فقہاء نے غیر عربی میں عقد پڑھنے کو صحیح قرار دیا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرے جو «زَوَّجْتُ» اور «قَبِلْتُ» کا معنی دیں۔[21]
  • جو نکاح پڑھ رہا ہے اس کوقصد انشاء کرنا ضروری ہے۔[22] یعنی صیغہ پڑھتے ہوئے مرد اور عورت کے درمیان میاں بیوی کا رابطہ ایجاد کرنے کا قصد کرے۔[23]
  • صیغہ پڑھنے والا بالغ اور عاقل ہونا چاہیے۔[24]
  • عقد پڑھنے والا صیغہ پڑھتے ہوئے مرد اور عورت کو معین کرے۔ مثلا ان کا نام لے یا ان کی طرف اشارہ کرے۔[25]
  • عقد پڑھنے پر مرد اور عورت کو راضی ہونا چاہئیے۔[26]
  • صیغہ کے ایجاب اور قبول میں فاصلہ واقع نہ ہو۔[27]
  • عقد صحیح سے پڑھا جائے۔[28]اگر عقد میں غلطی سے کوئی کلمہ ادا کیا جائے جو معنی کو بدل دے تو عقد باطل ہے۔[29]
  • مرد اور عورت دونوں کے الفاظ میں مطابقت اور ایک جیسے ہونا ضروری نہیں ہے؛ یعنی اگر عورت «زَوَّجْتُ» کہے تو مرد بھی «قَبِلْتُ التَزْوِیجَ» کہے[30]

صیغہ محرمیت

اصل مضمون: صیغہ محرمیت

ایسا عقد کہ جس کے پڑھنے کا مقصد صرف اور صرف مرد اور عورت کو آپس میں محرم بنانا ہے۔ (جنسی لذت کے بغیر) مثال کے طور پر کسی عورت سے محرم ہونے کے لیے اس کی بیٹی (ایسے مواقع پر کمسن بچی کو چنا جاتا ہے) سے ولی کی اجازت کے ساتھ مختصر مدت (ایک گھنٹہ) کے لیے انقطاعی نکاح پڑھا جاتا ہے تاکہ بچی کی ماں اس شخص کے لیے ساس شمار ہوجائے اور ہمیشہ کے لیے اسے محرم بن جائے۔[31]

ایسے عقد کے صحیح ہونے میں مجتہدین کے درمیان اختلاف ہے۔ در صحت چنین عقدی، بین فقها اختلاف وجود دارد.[32] بعض نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔[33] جبکہ بعض نے ایسے عقد کو یا بالکل صحیح نہیں سمجھا ہے[34] یا بعض شرائط کے ساتھ صحیح قرار دیا ہے۔[35]

حوالہ جات

  1. مراجعہ کریں: امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۷۸.
  2. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۱.
  3. مراجعہ کریں: انصاری و طاہری، دانشنامہ حقوق خصوصی، ۱۳۸۴ش، ج۳، ص۱۵۰۷.
  4. مراجعہ کریں: انصاری و طاہری، دانشنامہ حقوق خصوصی، ۱۳۸۴ش، ج۳، ص۱۵۰۷.
  5. مراجعہ کریں: امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۱.
  6. شوشتری، النجعۃ فی شرح اللمعۃ، ۱۳۶۹ش، ج۸، ص۳۳۶.
  7. شوشتری، النجعۃ فی شرح اللمعۃ، ۱۳۶۹ش، ج۸، ص۳۳۶.
  8. مراجعہ کریں: امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۱.
  9. شوشتری، النجعۃ فی شرح اللمعۃ، ۱۳۶۹ش، ج۸، ص۳۳۶.
  10. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۷۸.
  11. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۷۸.
  12. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۱.
  13. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۱.
  14. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۳.
  15. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۳.
  16. بابازادہ، مراسم عروسی، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۸.
  17. بابازادہ، مراسم عروسی، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۸.
  18. مثال کے طور پر مراجعہ کریں: مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۰۳، ص ۲۶۹؛ کلینی، الفروع من الکافی، ۱۳۶۷ش، ج۵، ص۳۷۰.
  19. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۰۳، ص۲۶۹-۲۷۰.
  20. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۱.
  21. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۵.
  22. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۲.
  23. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۴.
  24. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۳.
  25. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۴.
  26. یزدی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۱.
  27. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۳.
  28. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۷.
  29. امام خمینی، توضیح المسائل(مُحَشّی)، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۵۸۷.
  30. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۸۵۲.
  31. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ج۵، ص۱۲۴.
  32. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ،، ۱۳۹۲ش، ج۵، ص۱۲۵.
  33. بحرانی، الدرر النجفیۃ، ۱۴۲۳ق، ج۳، ۲۰۵-۲۲۰؛ نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج۲۹، ۲۱۳-۲۱۴.
  34. میرازی قمی، جامع الشتات، ۱۳۷۱ش، ج۴، ص۴۶۲-۴۶۸.
  35. شیخ انصاری، صراط النجاۃ، ۱۳۷۳ش، ص۲۴۴.


مآخذ

  • امام ‌خمينى، سيد روح اللہ، توضیح المسائل(مُحَشّی)، تحقیق سيد محمد حسين بنى ہاشمى خمينى‌، قم، ‌دفتر انتشارات اسلامى، چاپ اول، ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • انصاری، مسعود و طاہری، محمدعلی، دانشنامہ حقوق خصوصی، تہران، انتشارات محراب فکر، چاپ اول، ۱۳۸۴شمسی ہجری۔
  • بابازادہ، علی اکبر، مراسم عروسی، قم، مراسم عروسی، چاپ سوم، ۱۳۷۹شمسی ہجری۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الدرر النجفیّۃ من المُلتَقطات الیوسفیّۃ، بیروت، دار المصطفی لإحیاء التراث، ۱۴۲۳ھ۔
  • شوشتری، محمد تقی، النجعۃ‌ فی شرح اللمعۃ، تصحیح علی اکبر غفاری، تہران، مکتبۃ الصدوق، ۱۳۶۹شمسی ہجری۔
  • شیخ انصاری، مرتضی، صراط النجاۃ، تحقیق محمد حسین فلاح زادہ، قم، کنگرہ بزرگداشت دویستمین سالگرد تولد شیخ اعظم انصاری، ۱۳۷۳شمسی ہجری۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الفروع من الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۶۷شمسی ہجری۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر أخبار الائمۃ الأطہار، بیروت، موسسۃ الوفاء، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • میرزای قمی، ابوالقاسم بن محمدحسن، جامع الشتات، تہران، موسسہ کیہان، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، الطبعۃ السابعۃ، بی تا.
  • ہاشمی شاہرودی، سید محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، قم، موسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۴۰۹ھ۔