حیات برزخی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حیات برزخی یا برزخی زندگی سے مراد عالم برزخ میں مردوں کی زندگی ہے۔ بعض اعتقادی مسائل جیسے سماع موتی اور مردوں سے توسل وغیرہ کی اثبات پذیری حیات برزخی کے ثابت ہونے پر موقوف ہے۔ حیات برزخی کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کی بعض آیات جو بعض گروہوں جیسے شہیدوں کے مرنے کے بعد بھی زندہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، سے استدلال کیا جاتا ہے۔

معنی

عالم برزخ میں مردوں کی زندگی کو حیات برزخی کہا جاتا ہے۔ بعض آیات اور روایات کے مطابق مردوں کی روح عالم برزخ میں زندگی گزارتے ہیں اور زندوں کے ساتھ ارتباط برقرار کر سکتے ہیں۔ وہ زندوں کی آواز سنتے ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔

برزخی جسم

عالم برزخ میں روح جس جسم کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اسے برزخی جسم یا مثالی جسم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جسم مادی نہیں ہے لیکن مادی اجسام کے بعض خصوصیات جیسے شکل اور حجم وغیرہ کا حامل ہوتا ہے۔[1]

مربوطہ آيات

برزخی حیات کی اثبات کیلئے تقریبا 10 آیات سے استفادہ کیا جاتا ہے من جملہ ان میں: وہ آیات جو بعض گروہوں کے مرنے کے بعد بھی زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں جیسے شہداء۔ وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا في سَبيلِ اللَّهِ أَمواتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَبِّهِم يُرزَقونَ (ترجمہ: اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں) [ آل عمران–169] اسی طرح وہ آیات جن میں فرشتوں کا مردوں کے ساتھ گفتگو[2] اور برزخیوں کے بہشت اور جہنم کا تذکرہ ملتا ہے[3] نیز وہ آیات جو بعض انبیاء کے برزخی حیات پر دلالت کرتی ہیں۔[4]

شیعہ آیہ وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَیرَی اللَّــهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَیٰ عَالِمِ الْغَیبِ وَالشَّهَادَةِ فَینَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ  (ترجمہ: اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشہادہ کی طرف پلٹا دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا) [ توبہ–105] [نوٹ 1] سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر خداؐ اور بعض مؤمنین (ائمہ معصومین) انسانوں کے حالات سے واقف ہیں اور اسی آیت سے برزخی حیات پر بھی استدلال کرتے ہیں۔

مربوطہ روایات

بعض احادیث میں پیغمبروں کی برزخی زندگی کی طرف اشاره ہوا ہے۔ بیہقی نے اس طرح کی بعض احادیث کو اپنی کتاب کتاب حیاۃالانبیاء بعد وفاتہم میں جمع کیا ہے۔[5] ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر خداؐ نے معراج کی رات حضرت موسی کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے مشاہدہ فرمایا تھا۔[6]

بعض اہل سنت علماء نے بھی پیغمبروں کی برزخی زندگی پر تصریح کی ہیں۔[7] آلوسی انبیاء کی برزخی حیات کو شہیدوں کی برزخی زندگی سے برتر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیغمبروں کی برزخی زندگی صحیح احادیث کی روشنی میں قابل اثبات ہیں۔[8]

بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ ائمہ معصومین خدا کے اذن سے انسانوں کے حالات سے آگاہ ہیں۔ ان احادیث میں سے بعض اصول کافی میں بَابٌ فِی أَنّ الْأَئِمّةَ شُهَدَاءُ اللَّــهِ عَزّ وَ جَلّ عَلَی خَلْقِهِ (ائمہ، مخلوقات پر خدا کے گواہ) کے عنوان سے موجود ہیں اور انہی احادیث سے شیعہ برزخی زندگی پر استدلال کرتے ہیں۔

وہابیوں کا نظریہ

بعض سلفی علماء مانند ابن تیمیہ[9] اور ابن قیم [10] برزخی زندگی کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض برزخی زندگی کی ایک الگ تفسیر کرتے ہیں جس کے مطابق مردے زندوں سے رابطہ برقرار نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ زندوں کی باتیں سن سکتے ہیں۔[11] [نوٹ 2]

جواب

برزخی زندگی کے قائلین اس بات کے معتقد ہیں کہ برزخی زندگی کے انکار سے قرآن کریم کی ان آیات کا انکار بھی لازم آتا ہے جن میں موت کے بعد کی زندگی سے متعلق خبر دی گئی ہے۔ حال آنکہ انبیا اور اولیاء کرام کی زندگی اس دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد بھی عالم برزخ میں جاری ہیں۔ قرآن میں بھی صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ شہداء مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں۔[12] دوسری بات یہ کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے موت فنا اور نابودی کا نام نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسری عالم یعنی دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے۔[13] اور عالم برزخ میں مردوں کی روحوں سے رابطہ برقرار کرنے کا امکان موجود ہے۔

حیات برزخی کے قائلین استدلال کرتے ہیں کہ اگر برزخی زندگی خاص کر انبیاء کی برزخی زندگی کو قبول نہ کی جائے تو قرآن میں گذشتہ انبیاء کو مورد خطاب قرار دینے والی آیات جیسے سلام علی نوح و سلام علی ابراہیم،[14] پیغمبر خداؐ کو گذشتہ انبیاء سے گفتگو کرنے کا حکم دینا[15] نیز مؤمنین کو پیغمبر اکرمؐ اور ان کی آل پر صلوات بھیجھنے کا حکم دینا [16] وغیرہ بے معنی ہو جائے گا۔ اسی طرح برزخی زندگی کے قائلین حضرت صالح اور حضرت شعیب علیہم السلام کا اپنی ہلاک شدہ قوم سے ہم کلام ہونا،[17] نیز پیغمبر اکرمؐ کا جنگ بدر کے مقتولین[18] جبکہ حضرت علیؑ کا جنگ جمل کے مقتولین سے گفتگو[19] کرنے کو برزخی زندگی پر شاہد اور گواہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، یکصد و ہشتاد پرسش و پاسخ، ۱۳۷۹ش، ص۳۶۱-۳۶۲
  2. سورہ یس، آیت ۲۶-۲۷: سورہ نحل، آیت ۳۲؛ سورہ نساء، آيت ۹۷.
  3. سورہ بقرہ، آیت ۱۵۴؛ سورہ نوح، آیہ ۲۵؛ سورہ غافر، آیہ ۴۶-۴۷
  4. سورہ زخرف، آیت ۴؛ سورہ صافات، آیت ۷۹، ۱۰۹، ۱۲۰، ۱۳۰، ۱۸۱؛ سورہ احزاب، آیت ۵۶.
  5. بیہقی، حیاۃ الانبیاء بعد وفاتہم.
  6. مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، دار الفکر، ج۷، ص۱۰۲.
  7. حلبی، السیرۃ الحلبیہ، ۱۴۲۷ق، ج۲، ص۲۴۷.
  8. آلوسی، الآیات البینات، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۱۰۹.
  9. ابن تیمیہ، مجموعۃالفتاوی، ۱۴۱۹ق، ج۲۴، ص۳۲۶-۳۳۱.
  10. ابن قیم، الروح فی الکلام، دار الکتب العلمیہ، ص۵-۱۷.
  11. سعدی، تیسیر الکریم، ۱۴۲۰ق، ص۶۸۶.
  12. سورہ آل عمران، آیات ۱۶۹–۱۷۱.
  13. سورہ سجدہ، آیات ۱۰-۱۱، سورہ زمر، آیت نمبر ۴۲.
  14. سورہ صافات، آيات ۷۹، ۱۰۹، ۱۲۰، ۱۳۰، ۱۸۱.
  15. سورہ زحرف، آیہ ۴۵.
  16. سورہ احزاب، آيہ ۵۶
  17. سورہ اعراف، آیات ۷۸–۷۹، ۹۱–۹۳
  18. واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۱۲
  19. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۳۹۲.

نوٹ

  1. اس آیت میں لفظ "فَسَیری" میں موجود "س" خدا، پیغمبر اور مؤمنین سب کے ساتھ یکساں طور پر استعمال ہوا ہے جس سے پتہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح خدا ابھی اور اسی وقت تمام موجودات کے حالات سے آگاہ ہیں اسی طرح پیغمبر اکرم اور اس آیت میں مذکور مؤمنین بھی آگاہ ہیں۔ اب چونکہ تمام مؤمنین کو ایسی آگاہی حاصل نہیں اسلئے آیت میں مؤمنین سے مراد بعض مؤمنین ہیں اور احادیث میں اس آیت کے برترین مصادیق کو اہل بیتؑ بتایا گیا ہے۔
  2. اس موضوع سے زیادہ آگاہی کیلئے رجوع کریں: عبدالملکی، سماع موتی و تقابل دیدگاہ وہابیان با بزرگان خود، ۱۳۹۳ش، ص۱۲۳-۱۲۶.

مآخذ

  • آلوسی، نعمان بن محمود، الآیات البینات فی عدم سماع الأموات عند الحنفیۃ السادات، تحقیق محمد ناصر الدین البانی، ریاض، مکتبۃ المعارف للنشر و التوزیع، ۱۴۲۵ق۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، مجموعۃ الفتاوی، ریاض، مکتبۃ العبیکان، ۱۴۱۹ق۔
  • ابن قیم جوزیہ، محمد بن ابی‌ بکر بن ایوب، الروح فی الکلام علی ارواح الاموات و الاحیاء بالدلائل من الکتاب و السنہ، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، بی‌تا۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، حیاۃ الانبیا بعد وفاتہم، قم، مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی (نسخہ الکترونیک)، ۱۳۸۷ش۔
  • حلبی شافعی، ابوالفرج، السیرۃ الحلبیۃ، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۲۷ق۔
  • سعدی، عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ، تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان، تحقیق عبدالرحمن بن معلا اللویحق، بیروت، مؤسسہ الرسالۃ، ۱۴۲۰ق۔
  • عبدالملکی، پیام، سماع موتی و تقابل دیدگاہ وہابیان با بزرگان خود، مجلہ سراج منیر، سال چہارم، شمارہ ۱۵، پاییز ۱۳۹۳ش۔
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بیروت، دار الفکر، بی‌تا۔
  • مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرہ لسید العترہ فی حرب البصرہ، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، یکصد و ہشتاد پرسش و پاسخ برگرفتہ از تفسیر نمونہ،‌ تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۷۹ق۔
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۹ق۔