تعقیبات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

تعقیبات دعاؤں کا مجموعہ، اذکار اور قرآن کی بعض آیات کہ جنہیں روزانہ کی نمازوں کے بعد پڑھنا مستحب ہے. تعقیبات نماز میں سے بعض تعقیبات مشترک ہیں اور ہر نماز کے بعد ان کا پڑھنا مستحب ہے. روزانہ کی نمازوں کے لئے الگ الگ بھی دعائیں اور ذکر ہیں جن کی تاکید کی گئی ہے. حضرت زہراء(س) کی تسبیح، آیت الکرسی اور سجدہ شکر مشہور تعقیبات میں سے ہیں.

لغوی اور فقہی معنی

تعقیبات کا لغوی معنی، پیچھا کرنا، کسی چیز کے پیچھے جانا، یا کسی کام کے پیچھے، یا کسی کو پکڑنا ہے.[1] اور فقہی اصطلاح میں، مستحب اعمال کا مجموعہ ہے جو عبادات کے بعد انجام دئیے جاتے ہیں. اسی طرح اس کا معنی وہ دعائیں اور اذکار جو نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں. [2]

تعقیبات کی تعبیر، ایک خبر کے مطابق یہ تعبیر امام صادق(ع) نے استعمال کی ہے [3] اور کئی صدیاں گزر گئیں اسی نام سے مشہور ہے.

قرآن میں

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ﴿۷﴾ وَإِلَیٰ رَبِّک فَارْغَب ﴿۸﴾ [الشرح–۷-۸] [4] بعض نے ان دو آیت کی تفسیر کو تعقیبات کی نظر سے دیکھا ہے. [5]

بعض مفسرین جیسے کہ ابن عباس نے، آیت شریفہ: وَمِنَ اللَّیلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ﴿۴۰﴾[ ق–۴۰] [6] کو نماز کے بعد تسبیح یا تعقیبات کی نگاہ سے دیکھا ہے، لیکن اہل سنت کے بعض مفسرین نے، اس آیت کی تفسیر روزانہ کی واجب نماز کے بعد والے نوافل سے کی ہے. [7] تطوع کے اسی معنی کو ایک اور نماز کے بعد، جسے اہل سنت کی اہم فقہی متون میں تعقیب کی اصطلاح میں استعمال کیا ہے. [8]

بعض روائی منابع میں واجب نمازوں کے بعد، بعض سورتوں جیسے کہ معوذات، [9] سورہ یسں [10] اور آیت الکرسی [11]، کے پڑھنے کی تاکید کی ہے.

تعقیبات کی فضیلت میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مومن نماز کے بعد، اتنی دیر تک تعقیبات میں مصروف رہے کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے، تو اس دوران وہ خدا کا مہمان ہے اور خدا کا حق بنتا ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے. [12]

تعقیبات نماز کے ذکر

نماز کے بعد پڑھے جانے والے ذکر مختلف ہیں، لیکن ان میں سے ہر نماز کے بعد پڑھی جانے والی مشہور تعقیب، حضرت زہراء(س) کی تسبیح ہے کہ جس کا طریقہ یہ ہے، ٣٤ بار "اللہ اکبر"، ٣٣ بار "الحمد للہ" اور ٣٣ بار "سبحان اللہ" پڑھا جائے.[13] اس کے علاوہ اور مختلف ذکر، تمجید، حمد، تسبیح، تہلیل اور حضور(ص) پر صلوات کی تاکید کی گئی ہے. [14]

روایات اور فقہی کتابوں میں، نماز کے بعد دعا اور ذکر کی تاکید ہوئی ہے. اس بارے میں مختلف دعائیں بتائی گئیں ہیں کہ جن میں سے امامیہ منابع میں مشہور دعا یہ ہے."لا اله الا الله وحده وحده...‌" [15] اسی طرح ایک اور دعا "اللهم انی اسألک من کلِ خیرٍ احاط بِه علمک...‌" کہ روایات میں اسے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے. [16]

مشترک دعاؤں کے علاوہ، روزانہ کی ہر ایک نماز کے لئے، مخصوص دعا بھی بیان ہوئی ہے. [17] بعض دوسرے منابع میں آیا ہے کہ نمازی جس چیز کا نیاز مند ہے، وہ خدا سے طلب کرے اور دعا کرے. [18]

روایات میں کہا گیا ہے کہ واجب نماز کے بعد دعا پڑھنا، نوافل بجا لانے سے زیادہ افضل ہے. [19] روایات کے مطابق، واجب نمازوں بالخصوص صبح، ظہر، مغرب کے بعد کی جانے والی دعا مستجاب ہوتی ہے. [20] بعض فقہی منابع، اس نکتہ کی تاکید کرتے ہیں کہ اذکار اور ماثور دعائیں، غیر ماثور دعاؤں پر فضیلت رکھتی ہیں. [21]

سجدہ شکر اور تعقیبات نماز

روایات میں ایک اور چیز جس کی تاکید کی گئی ہے، وہ سجدہ شکر ہے کہ اس میں جس ذکر کو پڑھنے کا کہا ہے وہ سو بار شکر کرنا یا سو بار عفو(بخشش) کی درخواست کرنا ہے. [22] بعض منابع میں، سجدہ شکر کو شیعہ خصوصیات سے کہا گیا ہے. [23]

حالانکہ اصل میں سجدہ شکر شیعہ اور اہل سنت کا مشترک عمل ہے، بعض اہل سنت علماء کے مطابق، اس کو نماز کے بعد ادا کرنا، بدعت کے خوف کی وجہ سے ہے اور اس کو نماز میں داخل کرنا مکروہ ہے. [24]

نماز کی تعفیر اور تعقیب

تعقیبات کے ختم ہونے پر جن عبادی آداب کی تاکید ہوئی ہے، وہ تعفیر ہے اور وہ ایسی حالت ہے جب نمازی اپنی گالوں کو زمین پر رگڑتا ہے. [25] اسی طرح یہ بھی تاکید ہوئی ہے کہ نمازی تعفیر کی حالت میں، اپنے سینے، پیٹ کو بھی زمین کے ساتھ لگائے. [26]

نماز جماعت کے بعد والے اعمال

نماز جماعت کے باب میں، تاکید ہوئی ہے کہ امام جماعت جب سارے نمازی اپنی نماز کو ختم کر لیں اس وقت تک تسبیح پڑھے، لیکن مجموعی طور پر تعقیب کو مختصر کرے.[27] اہل سنت کی روایات میں، خصوصاً رمضان میں لوگوں کی تھکاوٹ کی وجہ سے نماز کے بعد تعقیب پڑھنے کو مکروہ کہا گیا ہے. [28] اور بعض اوقات "اطالہ قعود" (زیادہ بیٹھنا) امام جماعت کے لئے مکروہ ہے.[29]

فقہی منابع میں

فقہی منابعوں میں بعض اوقات تعقیبات کی بحث بہت مختصر بیان ہوئی ہے. [30] حالانکہ بعض دوسرے متون جن میں سنن نماز کی طرف زیادہ توجہ کی ہے، وہاں پر تعقیبات کے مباحث بھی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں. [31]

شیعہ منابع میں جس قدر دعائیں اور ذکر دیکھنے میں ملتے ہیں، اہل سنت منابع میں اس کی تعداد اتنی نہیں ہے. انکے منبع طیفی میں، بعض ماثور اور غیر ماثور دعاؤں کو نماز کے بعد پڑھنا مستحب کہا گیا ہے. حالانکہ انکے بعض منابع میں، نماز کے بعد قعود، ذکر اور دعا، بدعت کے خوف، اور ان کا نماز کے سنن میں داخل ہونا، مکروہ کہا گیا ہے. [32]

تالیف

بعض فقہی کتابیں تعقیبات کے موضوع پر بھی لکھی گئی ہیں، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں، رسالہ جس کا عنوان "التعقیب و التعفیر" ہے جس کا مولف ابوالعباس ابن نوح سیرافی ہے [33]، ابن فہد حلی کا رسالہ جس کا عنوان "الفصول فی دعوات اعقاب الفرائض"،[34] اور محقق کرکی کا رسالہ ہے. [35]

حوالہ جات

  1. لغت نامہ دہخدا، فرہنگ لغت عمید، فرہنگ فارسی معین.
  2. لغت نامہ دہخدا، فرہنگ لغت عمید، فرہنگ فارسی معین.
  3. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۹.
  4. انشراح/۸/۹۴-۷.
  5. نک: طبری، التفسیر، ج ۳۰، ص ۲۳۷-۲۳۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ج ۱۰، ص ۳۹۱؛ ابن قدامہ، المغنی، ج ۱، ص ۲۷۳؛ صاحب جواہر، جواہر الکلام، ج ۱، ص ۳۹۰.
  6. ق/۵۰/۴۰.
  7. نک: طبری، التفسیر، ج ۲۶، ص ۱۸۲؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج ۴، ص ۲۳۱.
  8. نک: ابن قدامہ، المغنی، ج ۱، ص ۴۵۷؛ ابن مفلح، المبدع، ج ۲، ص ۱۹.
  9. احمد بن حنبل، مسند، ج ۴، ص ۱۵۵ و ۲۰۱؛ ابو داوود سجستانی، السنن، ج ۲، ص ۸۶.
  10. شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، ص ۱۱۷.
  11. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج۱، ص۳۰۸.
  12. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱.
  13. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۳-۳۴۲؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛تسبیحات کے بعد کے ذکر کے لئے، نک: طوسی، النهایه، ص ۸۵.
  14. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱.
  15. ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ طوسی، النهایہ، ص ۸۵-۸۴؛ قس: مسلم بن حجاج، صحیح، ج ۲، ص ۸۸۸؛ ابو داوود سجستانی، السنن، ج ۲، ص ۱۸۴.
  16. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۳؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۳؛ دوسری دعاؤں کے لئے، نک: کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۶-۳۴۳؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۵-۳۲۴ و ۳۲۸-۳۲۷.
  17. ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۷-۳۲۶؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ طوسی، مصباح المتہجد، ص ۲۰۰؛ ابن طاووس، فلاح السائل، ۱۷۱-۱۷۰؛اس بارے میں مستقل رسالہ، نک: آقابزرگ، الذریعہ، ج ۴، ص ٢١٨
  18. ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ محقق حلی، المعتبر، ج ۲، ص ۲۴۸.
  19. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۲؛ علامہ حلی، نهایۃ الاحکام، ج ۱، ص ۵۱۰.
  20. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۵-۳۴۳.
  21. محقق حلی، المعتبر، ج ۲، ص ۲۴۸.
  22. کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۴؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۳۴-۳۲۹.
  23. ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۳۱.
  24. نک: ابن عابدین، رد المحتار، ج ۱، ص ۴۵۲؛ حصکفی، الدر المختار، ج ۲، ص ۱۱۹.
  25. ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج۱، ص۳۳۲؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص۱۲۴.
  26. یحیی بن سعید حلی، الجامع للشرایع، ص۷۸.
  27. کلینی، الکافی، ج۳، ص۳۴۱.
  28. ابن ابی شیبہ، المصنف، ج۲، ص۱۶۸-۱۶۷.
  29. نک: ابن مفلح، المبدع، ج۲، ص۹۳؛ مرداوی، الانصاف، ج۲، ص۲۹۹.
  30. محقق حلی، شرائع الاسلام، ج۱، ص۹۰؛ علامہ حلی، تبصره المتعلمین، ص۴۹؛ شہید ثانی، الروضہ البهیہ، ج۱، ص۳۹۶-۳۹۵.
  31. شہید اول، الالفیہ، ص۱۲۹ کے بعد؛ قمی، غنائم الایام، ج۳، ص۸۷ کے بعد؛ نراقی، مستند الشیعہ، ج۵، ص۳۹۲ کے بعد؛ صاحب جواہر، جواہر الکلام، ج۱، ص۳۹۰ کے بعد.
  32. نک: ابن تیمیہ، کتب و رسائل و فتاوی، ج۲۲، ص۵۱۹-۵۱۸ و ج۲۴، ص۲۲۲؛ ابن مفلح، الفروع، ج۲، ص۱۱۶.
  33. نجاشی، الرجال، ص۸۷-۸۶
  34. چ سنگی در حاشیہ مکارم الاخلاق، ۱۳۴۱ق
  35. اس موضوع پر دوسرے متون، مختلف زبانوں عربی، فارسی، اردو و گجراتی، نک: آقابزرگ، الذریعہ، ج۳، ص۱۲ و ج۴، ص۲۱۹-۲۱۸ و ج۶، ص۳۹۳ و ج۱۰، ص۳۲ و ج۱۱، ص۴۷ و ج۱۲، ص۹۵- ۹۳ و ج۱۵، ص۶ و ج۲۲، ص۱۷ و ج۲۵، ص۱۱۵-۱۱۴.


ماخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن ابی شیبہ، عبدالله، المصنف، کمال یوسف حوت کی کوشش، ریاض، ۱۴۰۹ق.
  • ابن بابویہ، محمد، من لایحضره الفقیہ، علی اکبر غفاری کی کوشش، قم، ۱۴۰۴ق.
  • ابن تیمیہ، احمد، کتب و رسائل و فتاوی، به کوشش عبدالرحمان محمدقاسم عاصمی، مکتبہ ابن تیمیہ.
  • ابن طاووس، علی، فلاح السائل، قم، دفتر تبلیغات اسلامی.
  • ابن عابدین، محمد امین، رد المحتار، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • ابن قدامہ، عبدالله، المغنی، بیروت، ۱۴۰۵ق؛
  • ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، بیـروت، ۱۴۰۱ق.
  • ابن مفلح، ابراہیم، المبدع، بیـروت، ۱۴۰۰ق.
  • ابن مفلح، محمد، الفروع، ابو الزہراء حازم قاضی کی کوشش، بیروت، ۱۴۱۸ق.
  • ابوالصلاح حلبی، تقی، الکافی، رضا استادی کی کوشش، اصفہان، ۱۴۰۳ق.
  • ابو داوود سجستانی، سلیمان، السنن، محمد محیی الدین عبدالحمید کی کوشش، قاہره، ۱۳۶۹ق.
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہره، ۱۳۱۳ق.
  • آقا بزرگ، الذریعہ.
  • حصکفی، محمد، الدر المختار، بیروت، ۱۳۸۶ق.
  • شہید اول، محمد، الالفیہ، علی فاضل قائینی کی کوشش، قم، ۱۴۰۸ق.
  • شہید ثانی، زین الدین، الروضہ البهیہ، محمد کلانتر کی کوشش، بیروت، دارالتعارف.
  • شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، بیروت، ۱۴۰۵ق.
  • صاحب جواہر، محمد حسن، جواہر الکلام، محمود قوچانی کی کوشش ، تہران، ۱۳۹۴ق.
  • طبرسی، فضل، مجمع البیان، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • طبری، التفسیر، بیروت، ۱۴۰۵ق.
  • طوسی، محمد، النهایہ، بیروت، دارالاندلس.
  • طوسی، محمد، مصباح المتہجد، تہران، ۱۳۳۹ق.
  • علامہ حلی، حسن، تبصره المتعلمین، احمد حسینی و ہادی یوسفی کی کوشش، تہران، ۱۳۶۸ش.
  • علامہ حلی، حسن، نہایہ الاحکام، مہدی رجایی کی کوشش، قم، ۱۴۱۰ق.
  • قمی، ابوالقاسم، غنائم الایام، عباس تبریزیان کی کوشش، مشہد، ۱۴۱۸ق.
  • کلینی، محمد، الکافی، علی اکبر غفاری کی کوشش، تہران، ۱۳۹۱ق.
  • محقق حلی، جعفر، المعتبر، ناصر مکارم شیرازی اور دوسروں کی کوشش ، قم، ۱۳۶۴ش.
  • محقق حلی، جعفر، شرائع الاسلام، عبدالحسین محمد علی کی کوشش، نجف، ۱۳۸۹ق /۱۹۶۹م.
  • مرداوی، علی، الانصاف، محمد حامد فقی کی کوشش، بیروت، ۱۴۰۶ق / ۱۹۸۶م.
  • مسلم بن حجاج، صحیح، محمد فؤاد عبدالباقی کی کوشش، قاہره، ۱۹۵۵م.
  • نجاشی، احمد، الرجال، موسی شبیری زنجانی کی کوشش، قم، ۱۴۰۷ق.
  • نراقی، احمد، مستند الشیعہ، قم، ۱۴۱۵ق.
  • یحیی بن سعید حلی، الجامع للشرایع، جعفر سبحانی اور دوسروں کی کوشش، قم، ۱۴۰۵ق.