نماز جعفر طیار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

نماز جعفر طیار یا نماز تسبیح مستحب نمازوں میں سے ایک ہے۔ یہ نماز چار رکعت پر مشتمل ہے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جاتا ہے۔ اس نماز میں مجموعی طور پر 300 مرتبہ تسبیحات اربعہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَ اللَّهُ أَکبَرُ" دہرائی جاتی ہے۔ یہ نماز گناہوں کی مغفرت اور حاجت روائی کے لئے بہت مؤثر ہے۔ پیغمبر اکرمؑ نے اس نماز کو جعفر طیار کے حبشہ سے واپسی پر بطور قدردانی انہیں تعلیم فرمائی۔

جعفر طیار کو رسول اللہؐ کا ہدیہ

جنگ خیبر میں مسلمانوں کی فتح اور جعفر طیار کی حبشہ سے واپسی کی خبریں بیک وقت جب پیغمبر اکرمؐ کو ملیں تو آپؐ نے فرمایا: "خدا کی قسم! سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں جعفر کی واپسی پر زیادہ خوش ہوں یا جنگ خیبر میں مسلمانوں کی کامیابی پر؟[1] آپؐ جعفر کے استقبال کے لئے تشریف لے گئے انہیں گلے لگایا اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا: "کیا میں تمہیں کوئی ہدیہ نہ دوں؟"؛ جعفر نے عرض کیا: "کیوں نہیں یا رسول اللہ"!۔ جنگ خیبر میں مسلمانوں کو بہت زیادہ غنیمت میسر آئی تھی چنانچہ مسلمان سمجھنے لگے کہ شاید آپؐ جعفر کو بڑی مقدار میں سونا اور چاندی عطا کرنا چاہتے ہیں لیکن پیغمبر خداؐ نے جعفر سے مخاطب ہو کر فرمایا:

"جو کچھ میں تمہیں عطا کر رہا ہوں، اگر اسے ہر روز انجام دوگے تو پوری دنیا سے اور ہر اس چیز سے سے بہتر ہے جو اس میں ہے۔ اس عمل کے بدلے خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اگرچہ تم میدان جنگ سے بھاگ چکے ہوں اور تمہارے گناہ صحرا کے ریت اور سمندر کے پانی جتنے کیوں نہ ہوں

یہ کہہ کر آپؐ نے جعفر طیار کو اس نماز کی تعلیم دی۔

کیفیت

تسبیحات اربعہ کی ترتیب تعداد
حمد و سورت کے بعد 15 مرتبہ
رکوع میں 10 مرتبہ
رکوع کے بعد 10 مرتبہ
پہلے سجدے میں 10 مرتبہ
پہلے سجدے کے بعد 10 مرتبہ
دوسرے سجدے میں 10 مرتبہ
دوسرے سجدے کے بعد 10 مرتبہ

نماز جعفر طیار دو رکعتی دو نماز یعنی چار رکعت پر مشتمل ہے اور ہر نماز ایک تشہد اور سلام پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

  • شروع میں نماز جعفر طیار کی نیت کر کے تکبیر کہے پھر پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ زلزال جبکہ دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ عادیات پڑھے؛
  • تیسری رکعت، ـ یعنی دوسری نماز کی پہلی رکعت ـ میں حمد کے بعد سورہ نصر اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے۔
  • ہر رکعت میں حمد اور سورت کے بعد، 15 مرتبہ "تسبیحات اربعہ" یعنی "سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَ اللَّهُ أَکبَرُ" اور ہر رکعت کے رکوع میں 10 مرتبہ، رکوع سے اٹھنے کے بعد 10 مرتبہ، ہر رکعت کے ہر سجدے میں 10 مرتبہ اور سجدے سے سر اٹھانے کے بعد 10 مرتبہ، یہی تسبیحات دہرائی جاتی ہے؛ یوں ہر رکعت میں تسبیحات کی تعداد 75 اور پوری نماز میں ان کی مجموعی تعداد 300 ہو جائے گی۔[2]
  • مستحب ہے کہ دوسری نماز کی آخری رکعت کے سجدے میں تسبیحات اربعہ کے بعد یہ دعا پڑھی جائے:

سُبْحانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّوَالْوَقارَ سُبْحانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَ تَكَرَّمَ بِهِ سُبْحانَ مَنْ لايَنْبَغِى التَّسْبيحُ اِلاَّلَهُ سُبْحانَ مَنْ اَحْصى كُلَّشَىْءٍ عِلْمُهُ سُبْحانَ ذِى الْمَنِّ وَالنِّعَمِ سُبْحانَ ذِى الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ وَ مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتابِكَ وَاسْمِكَ الْأَعْظَمِ وَكَلِماتِكَ التَّآمَّةِ الَّتى تَمَّتْ صِدْقاً وَعَدْلاً صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَاَهْلِ بَيْتِهِ وَافْعَلْ بى كَذا وَكَذا۔ افعل بی کذا و کذا کے بجائے اپنی حاجات طلب کرے۔[3]

اس کے بعد اپنی اپنی حاجتیں خدا سے مانگی جائیں۔[4]

  • علامہ مجلسی کتاب زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ مفضل بن عمر نے امام صادقؑ سے ایک دعا نقل کی ہے جسے حاجت روائی کے لئے نماز جعفر طیار کے بعد سجدے میں پڑھا جاتا ہے۔ امام فرماتے ہیں:
اے مفضل جب تمیں تم کوئی ضروری حاجت رکھتے ہو تو نماز جعفر طیار پڑھا کرو اس کے بعد یہ دعا پڑھو اور خدا سے اپنی حاجتوں کو طلب کرو تو انشاء الله خدا تمہاری مرادیں پوری کرے گا۔

نماز کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے خدا سے یوں التجا کرو: "یا رَبِّ یا رَبِّ یا رَبِّ..." یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے اس کے بعد "یا رَبّاهُ یا رَبّاهُ یا رَبّاهُ..." کا ورد کرو یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے اس کے بعد "رَبِّ رَبِّ رَبِّ..." کا ورد کرو یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے اس کے بعد "یا اَللّهُ یا اَللّهُ یا اَللّهُ..." کا ورد کروں یہاں تک کہ سانس ختم ہوجائے اس کے بعد"یا حَیُّ یا حَیُّ یا حَیُّ..." کا ورد کرو یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے اس کے بعد "یا رَحیمُ یا رَحیمُ یا رَحیمُ..." کا ورد کرو یہاں تک کہ سانس ختم ہوجائے اس کے بعد "یا رَحمانُ یا رَحمانُ یا رَحمانُ..." سات مرتبہ اس کے بعد "یا اَرحَمَ الرّاحِمینَ" سات مرتبہ اور آخر میں یہ دعا پڑھی حائے:

اَللَّهُمَّ إِنِّی أَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِک، وَ أَنْطِقُ بِالثَّنَاءِ عَلَیک، وَ أُمَجِّدُک وَ لَا غَایةَ لِمَدْحِک، وَ أُثْنِی عَلَیک وَ مَنْ یبْلُغُ غَایةَ ثَنَائِک وَ أَمَدَ مَجْدِک، وَ أَنَّی لِخَلِیقَتِک کنْهُ مَعْرِفَةِ مَجْدِک، وَ‌ای زَمَنٍ لَمْ تَکنْ مَمْدُوحاً بِفَضْلِک، مَوْصُوفاً بِمَجْدِک عَوَّاداً عَلَی الْمُذْنِبِینَ بِحِلْمِک، تَخَلَّفَ سُکانُ أَرْضِک عَنْ طَاعَتِک فَکنْتَ عَلَیهِمْ عَطُوفاً بِجُودِک، جَوَاداً بِفَضْلِک عَوَّاداً بِکرَمِک، یا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلَالِ وَ الْإِکرَامِ [5]

فضیلت

حدیث میں رسول اللہ(ص) سے منقول ہے کہ جو بھی نماز جعفر بجا لائے، تو خواہ اس کے گناہ صحرا اور سمندر کی تہہ کی ریت کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، خداوند انہیں عفو کر دے گا۔

مفاتیح الجنان میں منقول ہے کہ جو بھی نماز جعفر بجا لائے، تو خداوند متعال اس کو ہر رکعت کے عوض ایک ہزار بار حج اور ایک ہزار بار عمرہ ۔۔۔ کا ثواب عطا فرمائے گا۔[6]

فضیلت

نماز جعفر طیار کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ یہ نماز گناہوں کی مغفرت اور جاجت روائی کیلئے پڑھی جائے اور حاجتیں پوری ہونے تک اس پر مداوت کی حائے۔[7] بعض علماء اہم امور اور شادی میں رکاوٹوں کے ازالے اور جلدی شادی ہونے کیلئے نماز جعفر طیار پڑھنے کی سفارش کرتے ہیں۔[8]

حوالہ جات

  1. وسائل الشیعہ، ج 8، ص51۔
  2. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۴۶۵.
  3. مفاتیح الجنان، ذیل "نماز جعفر طیار"۔
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۴۶۷.
  5. مجلسی، زاد المعاد، ۱۴۲۳ق، ص۳۲۳
  6. شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان – زیارات – ص832 - انتشارات آستان قدس رضوی۔
  7. مجلسی، زاد المعاد، ۱۴۲۳ق، ۳۲۱-۳۲۲.
  8. جاجتیں پوری ہونے کیلئے کون سی نماز پڑھنا بہتر ہے؟ ساٹت تبیان، انتشار: ۵ اردیبہشت ۱۳۹۲، بازبینی: ۲۸ فروردین ۱۳۹۷.


مآخذ

  • ابن بابویہ، محمدعلی، من لایحضرہ الفقیہ، مصحح: غفاری، علی اکبر، جامعہ مدرسین، قم، 1413ھ ق۔
  • حر عاملی، وسائل الشیعہ، موسسہ آل البیت، قم۔
  • شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان – زیارات - انتشارات آستان قدس رضوی۔
  • مجلسی، محمدباقر، زاد المعاد، بیروت، موسسة الأعلمی للمطبوعات‏، 1423ھ ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن الحسن، مصباح المتہجد، موسسۃ فقہ الشیعۃ، بیروت 1411ھ ق / 1991ع‍