نفخہ صور

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
موت سے قبر تک
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
بدن برزخی
تجسم اعمال
خلود


صور پھونکنا یا شیپور بجانا، یہ واقعہ دنیا ختم ہوتے وقت اور قیامت شروع ہونے کے وقت پیش آئے گا. روایات کے مطابق جب قیامت نزدیک آ جائے گی، تو خدا کے حکم سے، اسرافیل ایک بار شیپور بجائے گا اور ایک بڑی آواز ایجاد کرے گا جس کی وجہ سے کچھ فرشتوں کے علاوہ تمام موجودات ختم ہو جائیں گی. اس کے بعد دوبارہ شیپور بجائے گا اور سب زندہ ہو جائیں گے اور قیامت برپا ہو جائے گی.

مفہوم شناسی

نفخ صور دو لفظوں کا مجموعہ ہے جو دو جزء سے تشکیل پایا ہےنفخ جس کا معنی پھونکنا اور صور جس کا معنی شیپور ہے.[1]صور کا لفظی معنی حیوان کا سینگ ہے کہ جس میں پھونکا جائے گا.[2]مشہور مفسرین کا عقیدہ یہ ہے کہ جو آیات نفخ صور کے بارے میں ہیں، اگر صور شیپور کے معنی میں ہو تو، آیات و روایات کے سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام زیادہ تر اسرافیل سے مطابقت رکھتا ہے.[3]لیکن بعض کا عقیدہ یہ ہے: صور صورت کی جمع ہے. جس کا معنی یہ ہے کہ خداوند مردوں کی صورت بندی کرے گا اور اس صورت میں صور پھونکا جائے گا اور ان کو زندہ کرے گا. [4]

نفخ صور قرآن میں

نفخ صور قیامت کے آغاز ہونے کی نشانی ہے اور قرآن کریم نے دس بار سے زیادہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے.[5]سورہ زمر کی آیت نمر٦٨ صریحاً بیان کر رہی ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا پہلا اس دنیا کے ختم ہونے پر اور دوسرا قیامت شروع ہوتے وقت.[6] قرآن کی آیات کے مطابق، جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو تمام جہان پر وحشت چھا جائے گی اور ساری مخلوق ختم ہو جائے گی مگر وہ جنہیں خدا زندہ رکھے گا.[7]اور اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور تمام مخلوق اٹھ جائے گی اور انتظار کرنے لگ جائیں گے. [8]

مفسرین کی نگاہ میں، قرآن کریم میں ایک اور تعبیر بھی ذکر ہوئی ہے کہ جو نفخ صور کے واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے،[9]جیسے کہ:

  • صحیہجس کا معنی ایک بہت بڑی آواز.[10]
  • الصاخۃ جس کا معنی ہے شدید آواز میں بجانا.[11]
  • الرادفۃ جس کا معنی کانپنا.[12]
  • یناد المناد ندا دینے والی کی ندا آئے گی.[13]
  • نقر فی الناقور ناقور میں پھونکنا (وہ شیپور جس کی جنس حیوان کے سینگ سے ہے).[14]

نفخ صور روایات میں

روایات کے مطابق، جب قیامت نزدیک آئے گی، اسرافیل بیت المقدس پر اتر آئے گا اور اس کے پاس ایک شیپور ہو گا جس کا ایک سر اور دو سائیڈ ہوگی اور اس کے دونوں طرف کا اندازہ آسمان اور زمین کے فاصلے جتنا ہو گا. وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے شیپور میں بجائے گا اور تمام موجودات ختم ہو جائے گی، اور اس کے بعد دوبارہ اسرافیل صور بجائے گا تو سب زندہ ہو جائیں گے.[15]بعض دیگر احادیث میں آیا ہے کہ پہلا صور اسرافیل پھونکے گا، لیکن اس کے بعد اسرافیل ختم ہو جائے گا اور دوسرا صور خود خداوند کریم انجام دے گا.[16]

نفخات کی تعداد

مشہورنگاہ میں دنیا کے ختم ہوتے وقت دو شیپور بجائے جائیں گے کہ پہلے کو نفخ موت اور دوسرے کو نفخ حیات کا نام دیا ہے.[17]لیکن بعض نے اس کی تعداد تین بار، یا حتیٰ کہ چار بار کہی ہے.[18] جن کے نام یوں ہیں: پہلا نفخ نفخ فزع دوسرا نفخ نفخ موت تیسرا نفخ نفخ حیات اور چوتھا نفخ نفخ جمع . مشہور مفسرین کے قول کے مطابق، فزع اور وحشت جس کا قرآن میں ذکر ہوا ہے، اہل جہان کی موت کا آغاز ہے کہ اس کے بعد پہلا صور پھونکا جائے گا، جس طرح کہ نفخ جمع بھی اسی نفخ حیات کا حصہ ہے، نہ یہ کہ ہر ایک نفخ مستقل ہو اس ترتیب کو مدنظر رکھیں تو صرف دو بار صور پھونکا جائے گا.[19]

دو نفخ کے درمیان فاصلہ

بعض روایات کے مطابق پہلے اور دوسرے نفخ کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ[20]اور بعض دیگر روایات میں چار سو سال کا فاصلہ ذکر ہوا ہے.[21]اور آیا ان سالوں کا طول دنیاوی سالوں کے مطابق ہو گا، اس کے بارے میں روایات میں کوئی چیز ذکر نہیں ہوئی، لیکن متکلمین کا اعتقاد ہے کہ اس دنیا کے ختم ہونے کے ساتھ ہی، وقت بھی ختم ہو جائے گا، اس لئے ان دو نفخ کے درمیان، وقت کا فاصلہ بیان نہیں ہوا.[22]

نفخ صور کا تمثیلی یا حقیقی ہونا

نفخ صور کے استعارہ اور کنایہ ہونے نظرات مختلف ہیں، بعض کا قول ہے کہ یہ عبارت باب تمثیل سے ہے، اور نفخ صور سے مراد لوگوں کو قیامت کے دن حساب رسی کے لئے اکٹھا کرنا ہے.[23]

دوسرے بعض اس سلسلے میں بہت سے روایات کی بناء پر اس کو ایک حقیقی واقعہ قرار دیتے ہیں.[24]آیت اللہ جوادی آملی نے پیغمبر(ص) کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے صور کو ایک نور کی شاخ کہی ہے کہ اسرافیل اس میں پھونکے گا.[25]

نفخ صور دوسرے ادیان میں

دوسرے ادیان میں بھی نفخ صور کے موضوع پر بیان ہوا ہے. عصر جدید میں، تسالونیکیان کے پہلے رسالے میں، نفخ صور کو قیامت کی ایک عجیب ترین نشانی کہا گیا ہے،[26]اسی طرح انجیل میں صور کے پھونکنے کی تعداد معلوم ہو سکتی ہے.[27]


حوالہ جات

  1. دهخدا، لغت نامه دهخدا، ۱۳۷۷ش، ج۱۰، ص۱۵۰۷۹.
  2. دهخدا، لغت نامه دهخدا، ۱۳۷۷ش، ج۱۰، ص۱۵۰۷۹.
  3. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۰.
  4. طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۴، ص۴۹۶.
  5. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۸۹.
  6. سوره زمر، آیه۶۸.
  7. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۸ و سوره نمل، آیه۸۷.
  8. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۸ و سوره نبأ، آیه۱۸.
  9. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۵.
  10. سوره یس، آیه۴۹.
  11. سوره عبس، آیه۳۳.
  12. سوره نازعات، آیه۶-۷.
  13. سوره قاف، آیه۴۱.
  14. سوره مدثر، آیه۸-۹.
  15. معاد شناسی، ۱۳۶۱ش، ص۱۴۴.
  16. رستمی و آل بویه، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۲۵۳.
  17. طباطبایی، المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۷، ص۴۴۴.
  18. طباطبایی، المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۷، ص۴۴۴.
  19. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۸.
  20. مکارم شیرازی، پیام قرآن، ۱۳۷۷ش، ج۶، ص۷۲-۷۳.
  21. طباطبایی، ترجمه المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۲، ص۲۳۶.
  22. رستمی و آل بویه، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۲۵۴.
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۵۳۵.
  24. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۹۲.
  25. جوادی آملی، معاد در قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۲۹۲.
  26. عهد جدید، ۴: ۱۶
  27. منصوری، تفسیر نفخ صور، ص۸۸.

مآخذ

  • کتاب مقدس، عهد جدید
  • رستمی، محمد زمان و طاهره آل بویه، سیری در اسرار فرشتگان با رویکردی قرآنی و عرفانی، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی،۱۳۹۳ش.
  • جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن، قم، انتشارات اسراء، ۱۳۸۰ش.
  • حسینی طهرانی، محمدحسین، معاد شناسی، ج۱،تهران، نشر حکمت، ۱۳۶۱ش.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان، ترجمه سید محمدباقر موسوی همدانی، قم، انتشارات جامعه مدرسین، ۱۳۷۴ش.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان فی تفسیر القرآن، تهران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر و همکاران، تفسیر نمونه، تهران،‌دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، ج۶، تهران، دارالکتب السلامیه، ۱۳۷۷ش.
  • منصوری، محمد هادی، «تفسیر نفخ صور»، فصلنامه علمی پژوهشی مطالعات تفسیری، شماره ۱۱، پاییز ۱۳۹۱ش.
  • دهخدا، علی اکبر، فرهنگ لغت دهخدا، تهران، مؤسسه لغت نامه دهخدا، ۱۳۴۱ش.