تجسم اعمال

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
السعید۲.jpg
خدا شناسی
توحید توحید ذاتی  • توحید صفاتی  • توحید افعالی • توحید عبادت میں
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (الہی افعال)
افعال کا حسن اور قبح  • بداء  • امر بین الامرین
نبوت
عصمت انبیاء  • ختم نبوت  • علم غیب  • معجزہ • قرآن میں عدم تحریف
امامت
عقائد عصمت ائمہ • ولایت تكوینی  • ائمہ کا علم غیب • غیبت (غیبت صغری، غیبت کبری)  • انتظار  • ظہور  • رجعت
ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدی(عج)
معاد
برزخ  • جسمانی معاد  • حشر • صراط  • تطائر کتب  • میزان
نمایاں مسائل
اہل بیت  • معصومین  • تقیہ  • مرجعیت


تجسم اعمال، تجسّد اعمال یا تمثّل اعمال علم کلام اور اسلامی فلسفہ کی اصطلاح میں سے ہیں جس کے معنی قیامت کے دن انسان کے سامنے اس کے اعمال کا مجسم ہونا ہے۔[1] اعمال کے مجسم ہونے سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال بہشتی نعمتوں جبکہ اس کے برے اعمال عذاب اور جہنم کے آگ کی شکل اختیار کریں گے۔

انسان کے اعمال اور ان کے جزا کے درمیان ایک مناسب رابطہ برقرار کرنے کی وجہ سے یہ عقیدہ معاد سے مربوط مسائل میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور فلاسفہ اسلامی، متکلمین اور مفسرین کے نزدیک یہ مسئلہ ہمیشہ حائز اہمیت رہا ہے۔

اس عقیدے کی جڑیں قرآن اور سنت میں استوار ہیں لیکن بعض دانشوروں نے ان آیات کی کسی اور طریقے سے تفسیر کی ہیں۔ اس عقیدے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی بنا پر جہاں اس کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے تو اس کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔

تجسم اعمال کا عقیدہ

تجسم اعمال کے مطابق ثواب و عقاب وہی اعمال ہیں جن کو انسان نے اس دنیا میں انجام دیا ہے، اچھے اعمال ثواب جبکہ برے اعمال عقاب کی شکل اختبار کرتے ہیں۔ اس عقیدے کے تحت دنیوی اعمال اور ان کے اخروی انجام کے درمیان ایک تکوینی رابطہ ہے۔ ثواب و عقاب کوئی الگ شئ نہیں بلکہ وہی دنیوی اعمال ہیں جس کی شکل و صورت بدل گئی ہے۔ اگر کسی برے عمل کے ارتکاب پر دوزخ میں آگ کا وعده دیا گیا ہے تو یہ آگ اسی برے عمل سے ہٹ کر کوئی اور چیز نہیں بلکہ وہی عمل ہے جس کی نوعیت بدل گئی ہے۔

انسان سے سرزد ہونے والے تمام اچھے برے اعمال کی ایک دنیوی شکل و صورت ہوا کرتی ہے اور ایک اخروی۔ دنیا میں صرف اس کی ظاہری شکل و صورت عیاں ہوتی ہے لیکن جب آخرت برپا ہوتی ہے تو یہی دنیوی عمل عالم آخرت سے متناسب شکل و صورت اختیار کرتا ہے جو صاحب عمل کی خوشی یا غم و اندوہ کا باعث بنتا ہے۔

تجسم اعمال کے بحث کے ساتھ ساتھ "نیت" یا "نفسانی ملکات" کے مجسم ہونے کی بحث بھی مطرح ہو جاتی ہے۔ جس کے انسان کی حقیقی شکل و صورت اس کی نیت، باطنی خصلت اور نفسانی ملکات پر موقوف ہے، یعنی اگرچہ ظاہرا ہر انسان انسانی شکل و صورت میں چلتا پھرتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی خصلتوں اور نفسانی ملکات کے حساب سے مختلف شکل و صورت کے حامل ہوا کرتا ہے۔[حوالہ درکار]


تجسم اعمال قرآن و سنت کی روشنی میں

موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
سکرات موت
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
برزخی جسم
تجسم اعمال
خلود
برزخی حیات


تجسم اعمال کا مفہوم بہت ساری آیات و روایات سے استخراج کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم میں بعض ایسی آیات موجود ہیں جس میں قیامت کے دن انسان کا اپنے اعمال کو مشاہدہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مثلا: یيَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ، فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ(ترجمہ اس روز سارے انسان گروہ در گروہ قبروں سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ سکیں، پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا)[2] یوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ ماعَمِلَتْ مِنْ خَیرٍ مُحْضَراًوَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ(ترجمہ اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک اعمال کو بھی حاضر پائے گا اور اعمال بد کو بھی)۔[3]

البتہ بعض دوسری آیات میں عقاب کے اعتباری (نہ تکوینی) ہونے اور عذاب کے بیرونی عوامل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے لِیجْزِی اللّہُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ اِنَّ اللّہَ سَریعُ الْحِسابِ(ترجمہ تاکہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے دے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے)[4] اور إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُک وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّک أَنتَ الْعَزِیزُ الْحَکیمُ(ترجمہ اگر تو ان پر عذاب کرے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر معاف کردے گا تو صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے)[5]

کئی احادیث میں بھی صراحت کے ساتھ قیامت کے دن اعمال کے مجسم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلا پیغمبر اکرمؐ نے اپنے ایک صحابی سے مخاطب ہو کر فرمایا:

لَا بُدَّ لَكَ مِنْ قَرِينٍ يُدْفَنُ مَعَكَ وَ ہُوَ حَيٌّ وَ تُدْفَنُ مَعَہُ وَ أَنْتَ مَيِّتٌ فَإِنْ كَانَ كَرِيماً أَكْرَمَكَ وَ إِنْ كَانَ لَئِيماً أَسْلَمَكَ- لَا يُحْشَرُ إِلَّا مَعَكَ وَ لَا تُحْشَرُ إِلَّا مَعَہُ وَ لَا تُسْأَلُ إِلَّا عَنْہُ وَ لَا تُبْعَثُ إِلَّا مَعَہُ فَلَا تَجْعَلْہُ إِلَّا صَالِحاً فَإِنَّہُ إِنْ كَانَ صَالِحاً لَمْ تَأْنَسْ إِلَّا بِہِ وَ إِنْ كَانَ فَاحِشاً لَا تَسْتَوْحِشْ إِلَّا مِنْہُ وَ ہُوَ عَمَلُك‏(ترجمہ بتحقیق تمہارے لئے ایک قرین اور ساتھی ہے جو تمہارے ساتھ دفن کیا جائےگا۔ اگر یہ ساتھی کریم ہوگا تو تمہاری بھی اکرام کی جائیگی اور اگر یہ پست ہو گا تو تمہیں دوزخ کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ ساتھی تمہارے سوا کسی کے ساتھ محشور نہیں ہو گیا اور تم بھی سوائے اسی کے کسی اور کے ساتھ محشور نہیں ہوگا۔ پس اسے شایستہ قرار دیں کیونکہ اگر وہ صالح اور شائستہ ہو گا تو تمہیں اس سے انس ملے گا اور اگر وہ ناصالح ہو گا تو تمہیں اس سے خوف طاری ہوگا اور یہ ساتھی تمہارے اعمال ہیں۔)[6]

اسی طرح امام صادقؐ نے فرمایا: إِذَا بَعَثَ اللَّہُ الْمُؤْمِنَ مِنْ قَبْرِہِ خَرَجَ مَعَہُ مِثَالٌ يَقْدُمُ أَمَامَہُ ۔۔۔ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتَ فَيَقُولُ أَنَا السُّرُورُ الَّذِي كُنْتَ أَدْخَلْتَ عَلَى أَخِيكَ الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا خَلَقَنِي اللَّہُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْہُ لِأُبَشِّرَكَ(ترجمہ جس وقت خدا کسی مؤمن کو قبر سے اٹھائے گا تو اس کے ساتھ ایک مثالی جسم بھی قبر سے خارج ہو گا جو اس کے آگے آگے چلیں گے۔ مؤمن اس سے کہے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گا: میں وہی خوشی اور سرور ہوں جسے کے ذریعے تم نے اپنے بھائی کو خوش کیا تھا۔ خدا نے مجھے خلق فرمایا تاکہ میں تمہیں بہشت کی بشارت دوں[7]

ان تو روایتوں میں اعمال کے تبدل اور تمثل کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

منکرین

آخرت میں اعمال کے مجسم ہونے اور نہ ہونے کے بارے آیات و روایات میں اختلاف کی وجہ سے اس عقیدے کے بارے میں مختلف نظریات مطرح ہوئے ہیں۔ بعض لوگ تجسم اعمال سے مغایر آیات و روایات کو مبنا قرار دیتے ہوئے دوسری قسم کی آیات کی اس طرح تفسیر کرتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی تعارض پیش نہ آئے۔ مثلا سورہ زلزال کی مذکورہ آیت میں "لِیُرَوْا اعمالَہُم کو اکثر مفسرین خاص کر متقدمین نے اعمال کے جزاء کو دیکھنے کے معنی میں لئے ہیں نہ خود اعمال کو دیکھنے کے معنی میں[8]۔ اکثر متقدم مفسرین اسی نظریے کے حامی تھے۔ اس نظریے کے حامی بعض مفسرین من جملہ فخر رازی [9] اور طبرسی،[10] اس نظریے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اعمال اور افعال اَعراض‌ میں سے ہیں اور عرض باقی نہیں رہتی بلکہ یہ معدوم ہوجاتے ہیں اس صورت میں ان کا اعادہ معدوم اعادہ ممکن نہیں ہے۔ بنابراین قیامت کے دن اعمال کے مجسم ہونے کا عقیدہ صحیح نہیں۔

علامہ مجلسی نیز تجسم اعمال کے منکرین میں سے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عقیدہ معاد جسمانی کے عقیدے کے متصادم ہیں اس بنا پر تجسم اعمال کے عقیدے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ علامہ مجلسی اس حوالے سے شیخ بہایی کے نظریات کی تردید کرتے ہوئے اس نظریے کو دین کا انکار اور ارتداد کا باعث قرار دیتے ہیں۔[11] علامہ مجلسی کا یہ بیان اس عقیدے کے ماننے والوں کی برہمی کا باعث بنا ہے۔ [12]

قائلین

اس عقیدے کے منکرین کے مقابلے میں متأخر اکثر مفسرین تجسم اعمال سے مربوط آیات کو تأویل کے بغیر ان کے ظاہری معنی سے استناد کرتے ہیں۔ من جملہ ان افراد میں شیخ بہایی ہیں جنہوں نے سورہ زلزال کی آیت نمبر 6 کی تفسیر میں اعمال کے جزاء کو مقدر رکھنے کو قبول نہیں کرتے بلکہ آپ اس بات کے معتقد ہہیں کہ قیامت کے دن انسان خود اعمال کو دیکھیں گے۔[13] شیخ بہائی جو اس نظریے کے سر سخت حامیوں میں سے ہیں مذکورہ آیات اور احادیث سے استناد کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ دوزخ میں جن سانپ اور بچھوؤں کا وعدہ دیا گیا ہے وہ حقیقت میں خود انسان کے برے اعمال، عقائد اور اخلاقی رزائل ہیں جو قیامت کے دن اس صورت میں ظاہر ہونگے۔ اسی طرح بہشت میں جن حورو غلمان اور دیگر بہشتی نعمتوں کا ذکر ہے وه حقیقت میں انسان کے اچھے اعمال اور صحیح اعتقادات ہیں۔ ثواب و عقاب کا مختلف صورتوں میں ہونا ان کے درجات میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔[14]

شیخ بہایی سے پہلے عرفاء کے درمیان اس عقیدے بہت سارے قائلین موجود تھے۔[15] من جملہ ان افراد میں مولوی کا نام لیا جا سکتا ہے جنہوں نے اس موضوع پر اشعار بھی کہے ہیں:

ای دریدہ پوستینِ یوسُفان گرگ برخیزی از این خواب گران
اے یوسف کے کاٹنے والے بھیڑیو! خواب غفلت سے بیدار ہو جاؤ
گشتہ گرگان یک بہ یک خوہای تو می‌درانند از غضب، اعضای تو
بھیڑے ایک ایک کر کے تمہارے پیچھے ہیں اور غیض و غضب میں تمہارے اعضاء کاٹنے لگے ہیں
آن سخنہای چو مار و کژدمت مار و کژدم گردد و گیرد دُمت
وہ تمہاری سانپ اور بچھوؤں کی مانند باتیں اب سانپ اور بچھوؤں کی شکل میں تمہارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔[16]

حکمت متعالیہ میں اس مسلئے کا بیان

صدر المتالہین نے حکمت متعالیہ میں اپنے خاص مبانی کے ساتھ تجسم اعمال کو بہترین شکل میں بیان کئے ہیں۔ یوں ان کے بعد یہ عقیدہ اکثریت کے یہاں مورد قبول واقع ہوا ہے۔ انہوں نے حرکت جوہری، معاد جسمانی اور اتحاد عاقل و معقول جیسے ابحاث کو مطرح کرنے اور ایک خاص فکری نظام کو متعارف کرتے ہوئے اس عقیدے کی بہترین عقلانی توجیہ پیش کی ہیں۔[17]

ملاصدرا کے مطابق جس طرح عینی امور ذہن اثر انداز ہوتے ہیں، ذہنی امور بھی اعیان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہاں امور عینی کا دوسرے امور عینی پر اثر انداز ہونا اور ذہن پر اثر انداز ہونے میں فرق ہے۔ مثلاً رطوبت جب کسی غیر مرطوب جسم سے برخورد کرتا ہے تو اس جسم کو بھی مرطوب کرتا ہے۔ لیکن یہ چیز انسان کے احساسات اور خیالات کو مرطوب نہیں کرتا بلکہ ذہن اور خیال میں ایک تصور پیدا ہوتا ہے جسے صورت محسوسہ یا متخیلہ کہا جاتا ہے اور جب یہ جیز عقل پر اثر انداز ہوتا ہے تو صورت عقلیہ وجود میں آجاتی ہے۔ پس ایک ہی ماہیت مختلف جگہوں پر مختلف آثار کا حامل ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف سے غصہ اور اس طرح کی دوسری انسانی باطنی حالتیں بھی بیرونی اور عینی اشیاء کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ مثلا چہرے کا سرخ ہونا یا دل کی دھڑکن کا تیز ہونا وغیرہ۔ پس بعید نہیں ہے کہ انسان کا یہی غصہ کسی اور جگہ آگ کی شکل اختیار کرے۔

انسان کے اعمال اخلاقی اور نفسانی ملکات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یعنی جسمانی شکل و صورت سے خارج ہو کر باطنی حالت اختیار کرے اسی طرح اخلاقی اور نفسانی ملکات دوبارہ کسی اور عالم میں اس عالم سے متناسب اجسام میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

ملاصدرا کے بعد اس نظریے کو بہت زیادہ پذیرائی ملی اور بہت سارے علماء نے اسے قبول کئے من جملہ‌ ان میں فیض کاشانی[18] اور ملاہادی سبزواری کا نام لیا جا سکتا ہے۔[19] معاصرین میں سے بھی اس نظرے کے مخالفین [20] اور موافقین[21] نے اس بارے میں اظہار نظر کئے ہیں.

لیکن بعض معاصر مفکرین کے مطابق تجسم اعمال کے نظریے کو قبول کرنا کسی غیر تکوینی اور اعتباری ثواب و عقاب کے قائل ہونے کے منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ بعض آیات جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے سے بھی اس نظریے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ لہذا ان دونوں نظریوں کو مان لینے میں بظاہر کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے۔ [22]

حوالہ جات

  1. الکافی، ج۳، ص۲۳۱؛ المیزان، ج ۱۸، ص۱۸۰، ۲۰۵۔
  2. زلزال : ۶ـ ۸
  3. (آل عمران : ۳۰؛ نیز رجوع کنید بہ بقرہ: ۱۷۴؛ نباء:۴۰؛ یس: ۵۴)
  4. ابراہیم : ۵۱
  5. مائدہ: ۱۱۸؛ نیز رجوع کنید بہ دہر: ۴؛ فتح: ۶؛ مائدہ: ۱۱۸
  6. بحار الانوار، ج۳ ص۲۵۹
  7. مرآۃ العقول، ج ۹ ص۹۵
  8. طبری؛ زمخشری؛ طبرسی؛ فخررازی؛ بیضاوی، ذیل آیہ
  9. ذیل زلزال: ۶
  10. ذیل آل عمران: ۳۰
  11. مجلسی، ۱۳۶۳ ش، ج ۹، ص۹۵
  12. برای نمونہ رجوع کنید بہ امام خمینی، ص۴۳۹
  13. ص ۴۰۲
  14. ہمان، ص۴۹۳ـ ۴۹۵
  15. آشتیانی، ص۸۷
  16. مثنوی معنوی، ص۷۲۰، دفتر ۴، ۳۶۶۷ و ۳۶۶۸
  17. آشتیانی، ہمانجا
  18. ج ۲، ص۱۰۶۴
  19. صدرالدین شیرازی، ۱۳۳۷ ش، سفر چہارم، ج ۲، ص۲۹۵، تعلیقۃ سبزواری ؛ نیز رجوع کنید بہ سبزواری، ص۲۱۴، ۲۶۸، ۳۱۱
  20. برای نمونہ رجوع کنید بہ فیاض، ج ۲، ص۱۱۶، کہ تجسم اعمال بہ معنای نفی وجود معذب و معاقب خارجی را نفی می‌کند
  21. برای نمونہ رجوع کنید بہ اصفہانی، ج ۱، ص۲۹۷ـ ۲۹۸؛ امام خمینی، ص۴۳۷ـ۴۳۹؛ طباطبائی، ج ۶، ص۳۷۶؛ مطہری، ص۲۰۶ـ۲۱۳
  22. برای نمونہ رجوع کنید بہ جوادی آملی، ص۳۲۱؛ مصباح، ص۵۰۴ ـ۵۱۲

منابع

  • قرآن کریم؛
  • جلال الدین آشتیانی، شرح حال و آراء فلسفی ملاصدرا، تہران ۱۳۶۰ ش؛
  • ابن عربی، الفتوحات المکیۃ، بیروت: دارصادر،بی تا؛
  • واژہ نامہ از رحیم عفیفی، تہران : توس، ۱۳۷۲ ش؛
  • محمدحسین اصفہانی، نہایۃ الدرایۃ فی شرح الکفایۃ، قم ۱۴۱۴ـ۱۴۱۵؛
  • عبداللّہ بن عمر بیضاوی، انوار التّنزیل و اسرار التّأویل، المعروف بتفسیر البیضاوی، مصر ۱۳۳۰، چاپ افست بیروت، بی‌تا؛
  • بہرام بیضایی، تاریخ سرّی سلطان در آبسکون: فیلمنامہ [، تہران ۱۳۷۶ ش؛
  • عبداللّہ جوادی آملی، دہ مقالہ پیرامون مبداء و معاد،تہران۱۳۶۳ ش؛
  • روح اللّہ خمینی، رہبر انقلاب و بنیانگذار جمہوری اسلامی ایران، شرح چہل حدیث ( اربعین حدیث )، تہران ۱۳۷۳ ش؛
  • محمودبن عمر زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت ۱۳۶۶/ ۱۹۴۷؛
  • جعفر سبحانی، مفاہیم القرآن، ج ۸؛
  • المعاد فی القرآن الکریم، قم ۱۴۲۰؛
  • ہادی بن مہدی سبزواری، شرح الاسماء؛
  • او، شرح دعاء الجوشن الکبیر، چاپ نجفقلی حبیبی، تہران ۱۳۷۵ ش؛
  • جعفر سجادی، فرہنگ علوم فلسفی و کلامی، تہران ۱۳۷۵ ش؛
  • محمدبن حسین شیخ بہائی، الاربعون حدیثاً، قم ۱۴۱۵ ق؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی، تفسیرالقرآن الکریم، چاپ محمد خواجوی، ج ۴ و ۵، قم ۱۳۶۱ ش؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، الحکمۃ المتعالیۃ فی الاسفار العقلیۃ الاربعۃ، تہران ۱۳۳۷ ش، چاپ افست قم ] بی‌تا؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، شرح اصول الکافی، چاپ محمد خواجوی، ج ۱، تہران ۱۳۶۶ ش؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، الشّواہد الرّبوبیۃ فی المناہج السلوکیۃ، با حواشی ملاہادی سبزواری، چاپ جلال الدین آشتیانی، چاپ افست تہران ۱۳۶۰ ش؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، کتاب العرشیۃ، ترجمۃ غلامحسین آہنی، اصفہان ۱۳۴۱ش؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، مجموعہ رسائل فلسفی صدرالمتألہین، چاپ حامد ناجی اصفہانی، ردّ الشبہات الابلیسیۃ، تہران ۱۳۷۵ ش؛
  • محمدبن ابراہیم صدرالدین شیرازی ، المظاہر الالہیۃ، چاپ جلال الدین آشتیانی، قم ۱۳۷۷ ش؛
  • طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن؛
  • فضل‌بن حسن طبرسى، مجمع‌البيان فى تفسيرالقرآن، چاپ ہاشم رسولى محلاتى و فضل‌اللہ يزدى طباطبائى، بيروت ۱۴۰۸/۱۹۸۸؛
  • محمدبن‌جرير طبرى، جامع‌البيان‌عن‌تأويل آى‌القرآن، مصر۱۳۷۳/۱۹۵۴؛
  • محمدبن محمد غزالی، کتاب الاربعین فی اصول الدّین، بیروت ۱۴۰۸/ ۱۹۸۸؛
  • محمدبن عمر فخررازی، التفسیر الکبیر، قاہرہ ] بی‌تا۔ [، چاپ افست تہران ] بی‌تا؛
  • محمداسحاق فیاض، محاضرات فی اصول الفقہ، تقریرات درس آیت اللّہ خوئی، نجف ۱۹۷۴؛
  • محمدبن شاہ مرتضی فیض کاشانی، علم الیقین فی اصول الدین، قم ۱۳۵۸ ش؛
  • محمدحسن قدردان قراملکی، «کاوشی در تجسم اعمال»، کیہان اندیشہ، ش ۶۸ (مہر و آبان ۱۳۷۵)؛
  • محمدباقربن محمدتقی مجلسی، بحارالانوار، بیروت ۱۴۰۳؛
  • محمدباقربن محمدتقی مجلسی ، مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول، ج ۹، چاپ ہاشم رسولی، تہران ۱۳۶۳ ش؛
  • محمد محمدی ری شہری، میزان الحکمۃ، قم ۱۳۶۲ـ۱۳۶۳ ش؛
  • محمدتقی مصباح، معارف قرآن: خداشناسی، کیہان شناسی، انسان شناسی، قم ۱۳۷۳ ش؛
  • مرتضی مطہری، عدل الہی، تہران ۱۳۷۰ ش؛
  • جلال الدین محمدبن محمدمولوی، مثنوی معنوی، تصحیح رینولد ا۔ نیکلسون، تہران ۱۳۷۰ ش؛