مطہرات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

مُطَہرات ايک فقہی اصطلاح ہے جو پاک کرنے والى ان گيارہ چيزوں کے لئے استعمال ہوتى ہے جو نجس چيزوں کو پاک کرتى ہيں.

پانى، زمین، سورج، سميت ديگر آٹھ چيزيں مطہرات ميں سے ہيں، اور نجاسات سے طہارت، نماز اور طواف جيسى عبادتوں کے صحيح ہونے کى شرايط ميں سے ہے نيز نجس چيزوں کا کھانا بھى حرام ہے.

طہارت کا معنى

بيرونى اور اندرونى آلودگى اور پليدى سے پاک کرنے کو طہارت کہا جاتا ہے [1] اور اس کے بارے ميں علم فقہ اور علم اخلاق ميں بحث ہوتى ہے. فقہ ميں طہارت کى دو قسميں ہيں: نجاسات سے ظاہرى طہارت جو مطہرات کے ذريعے حاصل ہوتى ہے جبکہ باطنى طہارت وضو، غسل یا تیمم کے ذريعے انجام دى جاتى ہے.

مُطہّرات، مُطَہِّر کى جمع ہے جس کے معنى پاک کرنے والا، جو طہر اور طہارت کے لفظ سے ليا گيا ہے. عربى لغت ميں طہارت پاکيزگى اور صفائى کو کہا جاتا ہے؛ جبکہ اصطلاح ميں شرعى وضعی احکام ميں سے ايک ہے جو نجس چيزوں کے علاوہ تمام چيزوں پر صدق آتا ہے. اور ايک چيز کسى دوسرى چيز کو اس وقت پاک کرسکتى ہے جب وہ خود بھى پاک ہو.

کلی احکام

اسلامى فقہ ميں نماز(نماز میت کے علاوہ) اور طواف جيسى بعض عبادتوں کو انجام دينے کے ليے بدن اور کپڑوں کا نجاسات سے پاک ہونا شرط ہے. مسجديں اور پیغمبر(ص) اور ائمہ عليہم السلام کے حرم کو بھى ہر قسم کے نجاسات سے پاک ہونا چاہئے اور اسى طرح نجس چيزوں کا کھانا بھى حرام ہے. اس قسم کى پاکيزگى کو خَبَث (نجاست) سے طہارت کہا جاتا ہے. شيعہ اکثر فقہاء دس چيزوں کو ذاتى طور پر نجس سمجھتے ہيں جو پاک نہيں ہوسکتے ہيں اور گيلے ہونے کى صورت ميں جو چيز ان سے لگے گى اس کو بھى نجس (مُتِنَجِّس) کرينگے.

خون پيشاب پاخانہ مَنی مردار کتا سور کافر شراب فُقّاع

اگر کوئى پاک چیز نجس ہوجائے تو مطہرات کے ذريعے اسے پاک کيا جاسکتا ہے اور مطہرات مندرجہ ذيل ہيں:

پانى زمین سورج استحالہ اور انقلاب انتقال اسلام تبعیت عين نجاست کا زائل ہونا نجاست کھانے والے جانور کا استبراء مسلمان کا غائب ہونا معمول کے مطابق (ذبیحہ کے) خون کا بہہ جانا

مطہرات

۱. پانى

تمام مسلمانوں کے نزديک پاک کرنے والى چيزوں ميں سب سے زيادہ رائج پانى ہے.[2]

اہل سنت ميں سے صرف حنفیہ والے مضاف پانى جيسے گلاب کا پانى، سرکہ اور ... کو بھى پاک کرنے والا قرار ديتے ہيں.[3]

۲. زمین

زمین اگر خشک اور پاک ہو تو پاوں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصہ کو اس شرط کے ساتھ پاک کرتى ہے کہ زمين پر چلنے، رگڑنے يا .... سے عين نجاست دور ہوئى ہو. شيعہ اور حنفى، زمين کو پاک کرنے والى قرار ديتے ہيں..[4]

۳. سورج

وہ چيزيں جو زمين ميں لگى ہوئى ہيں جيسے درخت اور جو زمين سے اگتى ہيں، عمارتيں، ميخ اور چٹائى وغيرہ اگر صرف دھوپ کى وجہ سے خشک ہوجائيں توشیعہ فقہ کے مطابق ہو پاک ہوتى ہيں.

  • حنفیہ: جب بھى نجس زمين خشک ہوجائے دھوپ کى وجہ سے ہو يا ہوا کى وجہ سے، دونوں صورتوں ميں زمين پاک ہوگى.
  • شافعی، مالکی و حنبلی: ان کے مطابق زمین خشک ہونے سے پاک نہيں ہوتى ہے سورج کے ذريعے خشک ہوجائے يا ہوا کى وجہ سے، بلکہ اس پر پانى ڈالنا چاہئے. ليکن پانى کے ذريعے کيسے پاک ہونگى اس بارے ميں بھى مختلف نظريات ہيں.[5]

۴. استحالہ اور انقلاب

استحالہ یعنی کسى چيز کى حقيقت اور ماہيت کسى دوسرى چيز ميں بدل جانا، جيسے نجس لکڑى جل کر راکھ بن جانا. شافعى اور حنبلى، نجس چيز کا دھواں اور راکھ کو بھى نجس سمجھتے ہيں.[6]

مشہور فقہاء کے نظريے کے مطابق شراب کا سرکے ميں بدل جانے کو «انقلاب» کہا جاتا ہے جو پہلے والے شراب اور اس کا برتن پاک ہونے کا باعث بنتا ہے.[7]

۵. انتقال

«انتقال» یعنی نجس چيز پاک چيز کا جز بن جائے جيسے مچھر کا انسانى جسم سے ليا ہوا خون، مچھر کے بدن ميں منتقل ہونے کے بعد پاک ہے. يا نجس کھاد درخت ميں جذب ہونے کے بعد پاک ہوتى ہے.[8]

۶. اسلام

کافر خود نجس ہے اور اسلام لانے کے بعد اس کا بدن پاک ہوتا ہے.

۷. تبعیت

نجاسات ميں سے کوئى ايک، دوسرے نجس کے پاک ہونے کى وجہ سے پاک ہوجائے تو اسے «تبعیت» کہا جاتا ہے، مثلا شراب سرکہ ميں تبديل ہوکر پاک ہوتے ہى شراب کا برتن بھى خود بخود پاک ہوگا يا والدين کا اسلام لاتے ہى بچہ بھى پاک ہوگا.

۸. عین نجاست کا زائل ہونا

بعض اوقات عين نجاسات کا دور ہوتے ہى نجس شدہ چيز پاک ہوتى ہے مثلا حيوان کا بدن کہيں پر نجاست سے آلودہ ہوچکا ہو تو اس جگہے سے نجاست دور ہوتے ہى حيوان کا بدن پاک ہوگا اسى طرح انسان کے بدن کے داخلى اعضاء جيسے منہ اور ناک بھى بدن پاک ہوتے ہى پاک ہونگے.

۹. نجاست کھانے والے جانور کا استبراء

ان حلال گوشت جانوروں کا پيشاب اور پاخانہ نجس ہے جنہيں انسانى نجاست کھانے کى عادت ہے اور ايسے جانوروں کو پاک کرنے کے لئے استبراء کى ضرورت ہے. يعنى کچھ عرصہ ان جانوروں کو نجاست کھانے سے روکنا ہوگا اور يہ مدت مختلف جانوروں کے لئے مختلف ہے.

۱۰. مسلمان کا غائب ہونا

اگر کسى مسلمان کا بدن يا کپڑے يا اس کے پاس موجود دوسرى کوئى چيز نجس تھى اور کچھ عرصہ بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئى تو انہيں پاک کرنے کا احتمال ديا جاتا ہے تو وہ چيزيں پاک اور طہارت کے حکم ميں ہيں اور اس سے پوچھنے کى ضرروت نہيں ہے ليکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ مسلمان مميز ہو اور طہارت کے موضوع اور احکام سے آگاہ ہو.

۱۱. معمول کے مطابق (ذبیحہ کے) خون کا بہہ جانا

حلال گوشت جانور کو شرعی ذبح اور اس کى رگوں سے معمول کے مطابق خون نکلنے کے بعد جو خون اس کے بدن ميں رہ جاتا ہے وہ پاک ہے.[9]

شيعہ اور اہل سنت کے فقہ ميں مطہرات کا تقابلى جايزہ

مطہرات کے احکام کے بارے ميں شيعہ اور اہل سنت کے مذاہب ميں مندرجہ ذيل کچھ فرق پائے جاتے ہيں:


شيعہ اور اہل سنت کے فقہ ميں مطہرات کا تقابلى جايزہ
عنوان شیعہ مالکی شافعی حنفی حنبلی
سورج سورج سطح زمين، درخت، اور عمارتوں کى نجاست کو اس شرط کے ساتھ پاک کرتا ہے کہ صرف دھوپ کى وجہ سے خشک ہوئے ہوں پاک کرتا ہے پاک نہيں کرتا ہے پاک نہيں کرتا ہے پاک نہيں کرتا ہے
آگ اگر کسى نجس چيز کا استحالہ کرے تو، مطہر ہے(البتہ اس صورت ميں استحالہ نے پاک کيا ہے خود آگ نے نہيں. مطہر ہے اگر استحالہ کا باعث بنے بھى تو مطہر نہيں ہے مطہر ہے اگر استحالہ کا باعث بنے بھى تو مطہر نہيں ہے
دباغت کرنا(کھال کو پکا کر استعمال کے قابل بنانا) مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے کتا اور سور کے علاوہ دوسرے حيوانات ميں مطہر ہے تمام حیوانات يہاں تک کہ کتا اور سور ميں بھى مطہر مطہر نہيں ہے[10]
روى کو دھننا مطہر نہيں ہے مطہر نیست مطہر نہيں ہے مطہر ہے مطہر نہيں ہے
منى کو رومال يا ہاتھ سے خشک کرنا مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر ہے اور پانى سے دھونے کى ضرورت نہيں ہے مطہر نہيں ہے
صيقل اور چمکلى نجس چيز پر ہاتھ پھيرنا مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر ہے اور پانى سے دھونے کى ضرورت نہيں ہے مطہر نہيں ہے
تين مرتبہ نجس انگلى اور پستان پر ہاتھ پھيرنا مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر نہيں ہے مطہر ہے مطہر نہيں ہے[11]

اہل سنت کے مخصوص نظريے

اہل سنت کے بعض گروہ خاص کر حنفى مسلک والے بعض دوسرى چيزوں کو بھي مطہرات ميں سے شمار کرتے ہيں:

کھال کو پکانا: حنفی اور شافعی کے ہاں، صرف سور کے سوا ہر مردار جانور کى کھال پکانے سے پاک ہوتى ہے (اور کتے کى نجاست ميں اختلاف ہے). [12]

حنفی فقہاء مندرجہ ذيل امور کو بھى مطہرات ميں سے شمار کرتے ہيں:

دُھننا: نجس روى دھننے سے پاک ہوجاتى ہے.[13]
کسى چيز کو استعمال کرنا: اگر گندم يا کسى اور چيز کى خاص مقدار نجس ہوجائے اور اتنى مقدار کو استعمال کرے يعنى کھا لے يا بيچے يا کسى کو ديدے تو باقى مقدار جو رہ گئى ہے وہ پاک ہے.[14]
مَلنا (مالش کرنا): اگر منی مَلنے اور مالش کرنے سے ختم ہوجائے تو جس چيز پر منى لگى ہے وہ پاک ہوگى اور پھر پانى سے دھونے کى ضرورت نہيں ہے.[15]
پونچھ لينا: وہ چمکيلى اور صاف چيزيں جن ميں مسام نہيں اور نجاست داخل نہيں ہوسکتى ہے؛ جيسے لوہا، گلٹ، شيشہ اور آئينہ ان کو ہاتھ سے پونچھ لينے سے پاک ہوتى ہيں اور پاني سے دھونے کى ضرورت نہيں.[16]
لعاب دہن: اگر پستان يا انگلى نجس ہوجائے تو تين مرتبہ چاٹنے سے پاک ہوتى ہيں.[17]
ابالنا: اگر گھى يا گوشت نجس ہوجائے تو ابالنے سے پاک ہوتے ہيں.[18]

اس مطلب سے مربوط ديگر مطالب

حوالہ جات

  1. فرہنگ سیاح، ج۲، ص۹۸۰.
  2. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۸
  3. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۸.
  4. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۸.
  5. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۸.
  6. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۸.
  7. فرہنگ فقہ فارسی، ج۱، ص۷۴۲
  8. فرہنگ فقہ فارسی، ج۱، ص۷۱۲
  9. العروۃ الوثقی، ج۱، ص۱۰۷
  10. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۶
  11. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹-۳۰
  12. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  13. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  14. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  15. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  16. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  17. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.
  18. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۲۹.


منابع

  • مغنیہ، محمد جواد‌، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ،‌ بیروت، دار التیار الجدید و دار الجواد، چاپ دہم، ۱۴۲۱ق.
  • الطباطبائی الیزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، تہران، المکتبہ العلمیہ الاسلامیہ