نماز استغاثہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نَماز اِسْتغاثہ، مستحب نماوں میں سے ایک ہے جس میں خدا کی درگاہ میں مصیبت اور گرفتاریوں سے نجات اور حاجت روائی کی درخواست کی جاتی ہے۔ نماز استغاثہ کی کئی اقسام میں ہیں جن میں خدا سے استغاثہ ، حضرت زہرا(س) سے استغاثہ اور امام زمان(ع) سے استغاثہ کی نمازیں احادیث کی کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔

تعارف

نَماز اِسْتغاثہ، مستحب نمازوں میں سے ایک ہے جسے مصیبت اور گرفتاریوں سے نجات اور حاجت روائی کیلئے خدا کی درگاه میں درخواست اور فریاد کے طورپر ادا کی جاتی ہے۔[1] اس نماز کو نماز استغاثہ کہنے کی وجہ اور علت یہ ہے کہ اس نماز کو سختی اور تنگی کے وقت مصبتوں اور گرفتاریوں سے نجات اور حاجت روایی کیلئے خدا کی بارگاہ میں خضوع اور خشوع کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ [2] نماز استغاثہ، استجابت دعا کیلئے بہت مفید جانا جاتا ہے۔ [3]

اقسام

دعا کی کتابوں میں نماز استغاثہ کی کئی اقسام کا ذکر ملتا ہے جن میں خدا سے استغاثہ، حضرت فاطمہؑ سے استغاثہ اور امام زمانہؑ سے استغاثہ کی نمازیں مشہور ہیں۔

خدا سے استغاثہ

چنانچہ امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جب بھی خدا کی بارگاه میں استغاثہ کا ارادہ ہو تو دو رکعت نماز پڑھ کر سجدے میں سر رکھ کر یہ دعا پڑھی جائے: "یا مُحَمَّدُ یا رَسُولَ اللَّہ یا عَلِی یا سَیدَ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِکمَا أَسْتَغِیثُ إِلَی اللَّہ تَعَالَی یا مُحَمَّدُ یا عَلِی أَسْتَغِیثُ بِکمَا یا غَوْثَاه بِاللَّه وَ بِمُحَمَّدٍ وَ عَلِی وَ فَاطِمَة" اسی طرح تمام ائمہ معصومین کا نام لیں پھر یہ کہے: "أَتَوَسَّلُ إِلَی اللَّه تَعَالَی"[4] احادیث کی کتابوں میں خدا سے استغاثہ کیلئے ایک اور نماز بھی نقل ہوئی ہے جس کا طریقہ مذکورہ طریقے سے قدرے متفاوت بیان ہوئی ہے۔[5]

حضرت فاطمہؑ سے استغاثہ

احادیث میں آیا ہے کہ جب بھی کسی کو کوئی مشکل پیش آئے تو دو رکعت نماز پڑھی جائے۔ نماز کے بعد تیس مرتبہ تکبیر پڑھ کر تسبیحات حضرت زہراؑ پڑھی جائے پھر سجدے میں جا کر سو مرتبہ: "یا مَوْلاتی یا فاطِمَة اَغیثینی پھر چہرے کا دائیں طرف اس کے بعد بائیں طرف زمین پر رکھ کر مذکورہ ذکر کا تکرار کیا جائے اس کے بعد دوبارہ پیشانی زمین پر رکھ کر مذکورہ ذکر کو 110 مرتبہ پڑھا جائے۔ اس کے بعد اپنی حاجات طلب کریں۔ [6] یہ نماز کتاب مکارم الاخلاق فضل بن حسن طبرسی میں کسی اور طریقے کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔[7]

امام زمانہؑ سے استغاثہ

کتاب بلد الامین میں امام زمانہؑ سے استغاثہ کی نماز وارد ہوئی ہے۔ یہ نماز دو رکعت پر مشتمل ہے جس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ فتح جبکہ دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ نصر پڑھی جاتی ہے اور نماز کے بعد "سَلامُ اللہ الکامِلُ التّامُّ الشّامِلُ العامُّ..." سے شروع ہونے والی دعا پڑھی جاتی ہے جس کے بعد اپنی حاجات طلب کی جاتی ہے۔ کفعمی اس نماز کے پڑھنے کی شرائط کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ نماز آسمان تلے پڑھی جاتی ہے اور اس سے پہلے غسل انجام دیا جاتا ہے۔[8]

غیر خدا سے استغاثہ کا شبہہ

اصل مضمون: استغاثہ

بعض حضرات استغاثہ کو ایک قسم کی عبادت سمجھتے ہیں اس بنا پر غیر خدا سے استغاثہ کی خاطر پڑھی جانے والی نمازوں کو بھی شرک سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے منع کرتے ہیں۔[9] اس شبہے کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ عبادت ایسے رفتار اور گفتار کو کہا جاتا ہے جسے الوہیت کی نیت سے انجام دی جائے اس بنا پر استغاثہ جو ایک طرح کی درخواست اور امداد طلبی ہے، کو عبادت قرار نہیں دیا جا سکتا؛[10] اسی طرح اہل سنت حدیثی کتابوں میں بھی پیغمبر اکرمؐ کی سیرت میں استغاثہ نقل ہوئی ہے۔[11]

حوالہ جات

  1. طبرسی، مکارم الأخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۳۱.
  2. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم‌، ۱۳۶۸ش، ج۷، ص۲۷۷-۲۷۹.
  3. طبرسی، مکارم الأخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۳۰؛ کفعمی، البلد الأمین و الدرع الحصین، ۱۴۱۸ق، ص۱۵۷.
  4. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۳۰-۳۳۱.
  5. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۸، ص۳۵۶.
  6. کفعمی، البلد الأمین و الدرع الحصین، ۱۴۱۸ق، ص۱۵۹.
  7. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۳۰.
  8. کفعمی، البلد الأمین و الدرع الحصین، ۱۴۱۸ق، ص۱۵۸.
  9. قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریۃ، ۱۴۱۸ق، ج۲، ص۴۹۵.
  10. سبحانی، آیین وہابیت، ۱۳۶۴ش، ص۱۹۲.
  11. بخاری، صحیح، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۴۳.


منابع

  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت،‌ دار ابن کثیر، ۱۴۰۷ق.
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الأخلاق، قم، شریف رضی، ۱۴۱۲ق.
  • قفاری، ناصر بن عبداللہ، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریۃ،‌ دار الرضا، ۱۴۱۵ق.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، البلد الأمین و الدرع الحصین، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۸ق.
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم‌، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۶۸ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت،‌دار الاحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.