نماز شکر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

نماز شکر مستحب نمازوں میں سے ایک ہے جسے خداوندعالم کی بارگاہ میں شکرانے کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ نماز شکر کی کوئی مخصوص کیفیت، شرائط یا اس کا کوئی معین وقت نہیں بلکہ اسے عام مستحب دو رکعتی نمازوں کی طرح پڑھی جاتی ہے یہاں تک کہ دوسری مستحب نمازوں کی طرح اسے بھی بیٹھ کر، کھڑے ہو کر، چلتے ہوئے، یا کسی وسیلہ نقلیہ کے اندر بھی حرکت کی حالت میں پڑھی جا سکتی ہے اگرچہ کھڑے ہو کر پڑھنا بہتر ہے۔[1]

لیکن اس کے باوجود امام صادق(ع) سے ایک مخصوص کیفیت والی نماز شکر بھی نقل ہوئی ہے:

"جب تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی نعمت عطا ہو تو دو رکعت نماز پڑھ لیا کریں جس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ اخلاص جبکہ دوسری رکعت میں سوره حمد کے بعد سورہ کافرون کی قرأت کریں، پہلی رکعت کے رکوع اور سجدے میں یہ ذکر پڑھی جائے: "اَلْحَمْدُ لِلهِ شُکْراً شُکْراً وَ حَمْداً" اور دوسری رکعت کے رکوع اور سجدے میں اس ذکر کو پڑھا جائے "اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِی اسْتَجَابَ دُعَائِی وَ أَعْطَانِی مَسْأَلَتِی" (یعنی: حمد و ثنا اس خدا کیلئے ہے جس نے میری دعا قبول فرمائی اور میری حاجت روائی کی)[2]

بعض منابع میں آیا ہے کہ دونوں رکعتوں کے رکوع میں سجدے میں اس ذکر: "اَلحَمدُ لِلهِ شُکراً شُکراً لله وَ حَمداً" کو پڑھا جائے اور جب نماز سے فارغ ہو جائے تو اس "اَلحمدُ للهِ الَّذی قَضا حَاجَتی وَ أعطانی مَسأَلَتی" کو پڑھا جائے۔[3]

اسی طرح ہر نماز شکر کے بعد امام سجاد(ع) سے منقول صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 37 کے پڑھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ [یادداشت 1] [4]

شیعہ منابع میں نقل شدہ اس نماز کے علاوہ اہل سنت منابع میں بھی پیغمبر اسلام(ص) سے ایک نماز، نماز شکر کے عنوان سے نقل ہوئی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ(ص) نے فتح مکہ کے موقع پر بطور شکرانہ دو رکعتی چار نمازیں ادا فرمائی۔ بعض اصحاب نے بھی آپ(ص) کی پیروی کرتے ہوئے اپنے زمانے میں مختلف فتوحات کے بعد اس نماز کو ادا کیں ہیں۔[5]

حوالہ جات

  1. یزدی، سید محمدکاظم، عروۃ الوثقی، ج۲، ص۱۱
  2. کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج۳، ص۴۸۱، شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتهجد و سلاح المتعبّد، ج۲، ص۵۳۲
  3. شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، المقنعہ، ص۲۲۵
  4. علی بن الحسین(ع)، الصحیفہ السجادیہ، دعای ۳۷، ص۱۶۲؛ کفعمی، ابراہیم بن علی، البلد الأمین و الدرع الحصین، ص۱۶۴
  5. ابن کثیر دمشقی‌، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، ج۱، ص۳۲۴؛ سلمی، محمد بن صامل، قصَّاص، عبدالرحمن بن جمیل و…، صَحِیحُ الأثَر و جَمَیلُ العبر من سیره خیر البشر(ص)، ج۱، ص۲۵۴


یادداشت‌

  1. اللَّهُمَّ اِنَّ اَحَداً لایبْلُغُ مِنْ شُکرِک غایةً اِلاَّ حَصَلَ عَلَیهِ مِنْ اِحْسانِک ما یلْزِمُهُ شُکراً، وَ لایبْلُغُ مَبْلَغاً مِنْ طاعَتِک وَ اِنِ اجْتَهَدَ اِلاّ کانَ مُقَصِّراً دُونَ اسْتِحْقاقِک بِفَضْلِک، فَاَشْکرُعِبادِک عاجِزٌ عَنْ شُکرِک، وَ اَعْبَدُهُمْ مُقَصِّرٌ عَنْ طاعَتِک،لایجِبُ لِأَحَدٍ اَنْ تَغْفِرَ لَهُ بِاسْتِحْقاقِهِ، وَ لااَنْ تَرْضی عَنْهُ بِاسْتیجابِهِ، فَمَنْ غَفَرْتَ لَهُ فَبِطَوْلِک، وَ مَنْ رَضیتَ عَنْهُ فَبِفَضْلِک، تَشْکرُ یسیرَ ما شَکرْتَهُ، وَ تُثیبُ عَلی قَلیلِ ما تُطاعُ فیهِ، حَتّی کاَنَّ شُکرَ عِبادِکالَّذی اَوْجَبْتَعَلَیهِثَوابَهُمْ وَ اَعْظَمْتَ عَنْهُ جَزآئَهُمْ اَمْرٌ مَلَکوا اسْتِطاعَةَ الْاِمْتِناعِ مِنْهُ دُونَک فَکافَیتَهُمْ، اَوْ لَمی‌کن سَبَبُهُ بِیدِک فَجازَیتَهُمْ، بَلْ مَلَکتَ -یا اِلهی- اَمْرَهُمْ قَبْلَ اَنْ یمْلِکوا عِبادَتَک، وَ اَعْدَدْتَ ثَوابَهُمْ قَبْلَ اَنْیفیضُوا فی طاعَتِک، وَ ذلِک اَنَّ سُنَّتَک الْاِفْضالُ، وَعادَتَک الْاِحْسانُ، وَ سَبیلَک الْعَفْوُ. فَکلُالْبَرِیةِ مُعْتَرِفَةٌبِاَنَّک غَیرُظالِمٍ لِمَنْعاقَبْتَ، وَشاهِدَةٌ بِاَنَّک مُتَفَضِّلٌ عَلی مَنْ عافَیتَ، وَ کلٌّ مُقِرٌّ عَلی نَفْسِهِ بِالتَّقْصیرِ عَمَّا اسْتَوْجَبْتَ. فَلَوْلا اَنَّ الشَّیطانَ یخْتَدِعُهُمْ عَنْ طاعَتِک ما عَصاک عاصٍ، وَ لَوْلا اَنَّهُ صَوَّرَ لَهُمُ الْباطِلَ فی مِثالِ الْحَقِّ ما ضَلَّ عَنْ طَریقِک ضآلٌّ، فَسُبْحانَک ما اَبْینَ کرَمَک فی مُعامَلَةِ مَنْ اَطاعَک اَوْ عَصاک: تَشْکرُ لِلْمُطیعِ ما اَنْتَ تَوَلَّیتَهُ لَهُ، وَ تُمْلی لِلْعاصی فیما تَمْلِک مُعاجَلَتَهُ فیهِ، اَعْطَیتَ کلاًّ مِنْهُما مالَمْ یجِبْ لَهُ، وَ تَفَضَّلْتَ عَلی کلٍّ مِنْهُما بِما یقْصُرُ عَمَلُهُ عَنْهُ، وَلَوْ کافَأْتَالْمُطیعَ عَلی ما اَنْتَ تَوَلَّیتَهُ لَأوْشَک اَنْ یفْقِدَ ثَوابَک، وَ اَنْ تَزُولَ عَنْهُ نِعْمَتُک، وَلکنَّک بِکرَمِک جازَیتَهُ عَلَی الْمُدَّةِ الْقَصیرَةِ الْفانِیةِ بِالْمُدَّةِ الطَّویلَةِ الْخالِدَةِ، وَ عَلَیالْغایةِ الْقَریبَةِ الزّآئِلَةِ بِالْغایةِ الْمَدیدَةِ الْباقِیةِ، ثُمَّ لَمْ تَسُمْهُ الْقِصاصَ فیما اَکلَ مِنْ رِزْقِک الَّذی یقْوی بِهِ عَلی طاعَتِک، وَ لَمْتَحْمِلْهُ عَلَی الْمُناقَشاتِ فِیالْالاتِ الَّتی تَسَبَّبَ بِاسْتِعْمالِها اِلی مَغْفِرَتِک، وَلَوْفَعَلْتَ ذلِک بِهِ لَذَهَبَ بِجَمیعِ ما کدَحَ لَهُ وَ جُمْلَةِ ما سَعی فیهِ، جَزآءً لِلصُّغْری مِنْ اَیادیک وَ مِنَنِک، وَ لَبَقِی رَهیناً بَینَ یدَیک بِسآئِرِ نِعَمِک، فَمَتی کانَ یسْتَحِقُّ شَیئاً مِنْ ثَوابِک؟ لا! مَتی؟! هذا یا اِلهی حالُ مَنْ اَطاعَک، وَ سَبیلُ مَنْ تَعَبَّدَ لَک، فَاَمَّا الْعاصی اَمْرَک وَ الْمُواقِعُ نَهْیک فَلَمْ تُعاجِلْهُ بِنَقِمَتِک لِکی یسْتَبْدِلَ بِحالِهِ فی مَعْصِیتِک حالَ الْاِنابَةِ اِلی طاعَتِک، وَ لَقَدْ کانَ یسْتَحِقُّ فی اَوَّلِ ما هَمَّ بِعِصْیانِک کلَّ ما اَعْدَدْتَ لِجَمیعِ خَلْقِک مِنْ عُقُوبَتِک، فَجَمیعُ ما اَخَّرْتَ عَنْهُ مِنَ الْعَذابِ،وَ اَبْطَاْتَ بِهِ عَلَیهِ مِنْ سَطَواتِ النَّقِمَةِ وَ الْعِقابِ تَرْک مِنْ حَقِّک، وَ رِضی بِدُونِ واجِبِک. فَمَنْ اَکرَمُ -یا اِلهی- مِنْک، وَ مَنْ اَشْقی مِمَّنْ هَلَک عَلَیک؟ لا! مَنْ؟ فَتَبارَکتَ اَنْ تُوصَفَ اِلاّ بِالْاِحسانِ، وَ کرُمْتَ اَنْ یخافَ مِنْک اِلاَّ الْعَدْلُ، لایخْشی جَوْرُک عَلی مَنْ عَصاک، وَ لایخافُ اٍغفالكَ ثَوابَ مَن اَرضاكَ, فَصَل عَلی محمد و الٍهٍ وَهَب لی اَمَلی، وَ زِدْنی مِنْ هُداک مااَصِلُ بِهِ اِلَی التَّوْفیقِ فی عَمَلی، اِنَّک مَنَّانٌ کریمٌ۔

منابع

  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷ق.
  • سلمی، محمد بن صامل، قصَّاص، عبدالرحمن بن جمیل و…، صَحِیحُ الأثَر و جَمَیلُ العبر من سیرہ خیر البشر(ص)، جدہ، مکتبہ روائع المملکہ، چاپ اول، ۱۴۳۱ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبّد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعہ، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
  • علی بن الحسین(ع)، الصحیفہ السجادیہ، قم، دفتر نشر الہادی، چاپ اول، ۱۳۷۶ش.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، البلد الأمین و الدرع الحصین، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دارالکتب الإسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.
  • شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، المقنعہ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ق.
  • یزدی، سید محمدکاظم، عروہ الوثقی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین، ۱۴۱۹ق.