غسل میت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
سکرات موت
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
برزخی جسم
تجسم اعمال
خلود
برزخی حیات


مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

غُسل مَیِّت سے مراد وہ غسل ہے جو مسلمان میت کو مخصوص شرائط کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہ غسل واجب غسلوں میں سے ہے جس کا انجام دینا ہر مکلف پر واجب کفائی ہے۔ اس غسل میں میت کو بالترتیب آب سِدر (وہ پانی جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں)، آب کافور (وہ پانی جس میں کافور ملا ہوا ہو) اور خالص پانی سے تین دفعہ غسل دیا جاتا ہے۔

غسل میت کی اہمیت

کسی مسلمان کی موت واقع ہونے کے بعد دوسروں پر واجب کفایی ہے کہ اسے غسل دی جائے، کفن پہنایا جائے، اس پر نماز میت پڑھی جائے اور اسے دفن کیا جائے۔ وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں تقریبا 200 سے زائد احادیث میں غسل میت کے احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

احادیث میں میت کو غسل دینے والے کیلئے بہت زیادہ ثواب بیان کی گئی ہے یہاں تک کہ اس عمل کو غسل دینے والے کیلئے جہنم کی آگ سے دوری، بہشت کی طرف ہدایت دینے والا نور اور اس کے ایک سال کے گناہ صغیرہ کے معاف ہونے کا سبب قرار دیا ہے۔[1]

ائمہ معصومین(ع) کا غسل

متعدد احادیث کے مطابق ہر امام کو صرف بعد والا امام ہی غسل دے سکتا ہے،[2] اس بنا پر امام مہدی(عج) کی رحلت کے بعد امام حسین(ع) رجعت فرمائیں گے اور امام زمانہ(ع) کو غسل دے کر ان کی نماز میت ادا کی جائے گی۔[3]

شہید کا غسل

ایسا مسلمان جو جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے شدہ اسے غسل میت اور کفن کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسے اسی لباس میں دفن کیا جائے گا جو اس کے بدن پر شہادت کے وقت موجود ہو۔ بعض فقہاء شہید کو غسل دینا جائز بھی نہیں سمجھتے ہیں۔[4]

بچوں کا غسل

اگر بچے (اسی طرح دیوانہ) کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو دوسرے تمام مسلمانوں پر واجب کفائی ہے کہ اس بچے کو غسل دیا جائے۔ چار ماہ سے پہلے اگر جنین سقط ہو جائے اسے غسل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے لیکن اگر جنین کے چار ماہ پورے ہو چکے ہوں تو اسے بھی غسل دنیا واجب ہے۔[5]

قصاص کے بعد کا غسل

اگر حاکم شرع کسی مجرم کو اعدام کرنے کا حکم سنائے تو یہ شخص اعدام سے پہلے اپنے آپ کو غسل میت دے سکتا ہے اس صورت میں اعدام کے بعد دوبارہ اسے غسل دینا ضروری نہیں ہے۔[6]

غسل سے پہلے میت کے بدن کی نجاست

مسلمان کا بدن موت کے بعد سے اسے غسل میت دینے تک نجس ہے اور اگر کوئی گھیلا چیز اس سے ملاقات کرے تو وہ چیز بھی نجس ہو جائے گی۔ چنانچہ اگر کسی میت کے بدن کو سرد ہونے کے بعد اور غسل میت دینے سے پہلے مس کرے تو لمس کرنے والے پر غُسل مَسِّ مَیت واجب ہو جاتا ہے لیکن غسل میت کے بعد اگر کسی میت کے بدن کو لمس کرے تو غسل مس میت واجب نہیں ہے۔

غسل میت کی کیفیت

مشہور مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق میت کو تین غسل دینا واجب ہے: سب سے پہلے بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے اس کے بعد کافور ملا ہوا پانی سے اور آخر میں خالص پانی سے غسل دینا واجب ہے۔ غسل میت میں مذکورہ ترتیب کی رعایت کرنا ضروری ہے پس اگر اس ترتیب کی رعایت نہ کی ہو تو ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے دوبارہ غسل دینا ضروری ہے۔ غسل میت میں دوسرے واجب غسلوں کی طرح نیت اور قصد قربت کے بعد سب سے پہلے سر اور گردن پھر دائیں طرف اور آخر میں بائیں طرف کو دھونا ضروری ہے، ناف اور شرمگاہ کو دونوں اطراف کے ساتھ غسل دینا ضروری ہے۔[7]

غسل میت کو ارتماسی طور پر انجام دینا صحیح نہیں ہے۔[8] اسی طرح میت کو غسل دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے تمام بدن کو نجاسات سے پاک کیا جائے۔ بعض فقہاء میت کے جسم کے ہر حصے کو اسی حصے کو غسل دینے سے پہلے پاک کرنا کافی سمجھتے ہیں۔[9]

سدر اور کافور کی مقدار نہ اتنا زیادہ ہو کہ پانی مضاف ہو جائے اور نہ اتنا کم ہو کہ نہ کہا جائے سدر اور کافور ڈالا گیا ہے۔[10]

اگر بیری کے پتے یا کافور پیدا نہ ہو تو ہر ایک کے بدلے خالص پانی سے غسل دینا کافی ہے۔ اس صورت میں بعض فقہاء صرف ایک غسل کو کافی سمجھتے ہیں۔[11] چنانچہ میت کو پانی سے غسل دینا ناممکن ہو تو غسل کے بدلے اسے تیمّم کرنا ضروری ہے لیکن آیا غسل کی طرح تمم بھی تین دفعہ انجام دیا جائے گا یا صرف ایک بار تیمم کافی ہے، مورد اختلاف ہے۔[12]

جو شخص جنابت یا حیض کی حالت میں فوت ہوا ہو، اسے غسل میت دینا کافی ہے اور دوبارہ غسل جنابت یا حیض دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بعض فقہاء معتقد ہیں کہ بنا بر اختیاط غسل دینے والا غسل میت کی نست کے ساتھ اسی ایک غسل میں غسل جنابت یا حیض کی نیت بھی کرے۔ [13]

غسل میت دینے والے کے شرایط

جو شخص کسی میت کو غسل دینا چاہتا ہو اسے غَسّال کہا جاتا ہے۔ غسال کیلئے مسلمان، شیعہ اثنا عشری، بالغ اور عاقل ہونا ضروری ہے۔ [14] صرف میاں اور بیوی کے علاوہ مرد میت کو مرد اور عورت میت کو عورت غسل دینا ضروری ہے اور اکثر فقہاء غیر ہم جنس محرم کو عام حالات میں جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[15] بعض فقہاء معتقد ہیں کہ میاں بیوی بھی اگر ایک دوسرے کو غسل دینا چائے تو لباس کے اوپر سے غسل دینا چاہئے۔ [16]

اگر غسّال دستانہ پہن کر میت کو غسل دے دے اور اس کا ہاتھ میت کے بدن کے ساتھ لمس نہ کرے تو اس پر غسل مس میت واجب نہیں ہے۔

میت کو غسل دینے کی اجرت لینا

اکثر مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق غسل میت کی اجرت لینا حرام ہے۔ اس سلسلے میں بعض فقہاء اصلِ غسل کو اجرت لینے کی صورت میں باطل سمجھتے ہیں لیکن غسل کے مقدماتی امور وغیرہ کو انجام دینے کیلئے اجرت لینے کو جائز سمجھتے ہیں۔[17]


حوالہ جات

  1. "عَنْ رَسُولِ اللَّہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ فِی حَدِیثٍ أَنَّہ قَالَ:مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یغَسِّلُ مَیتاً إِلَّا یتَبَاعَدُ عَنْہ لَہبُ النَّارِ وَ یوَسِّعُ اللَّہ عَلَیہ الصِّرَاطَ بِقَدْرِ مَا یبْلُغُ الصَّوْتُ وَ یعْطَی نُوراً حَتَّی یوَافِی الْجَنَّةَ(:ترجمہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس نے کسی میت کو غسل دیا ہو مگر یہ کہ جہنم کی آگ اس سے دور رہے گی اور اس کیلئے بہشت کے راستے کو اس کی آواز کی پہنچ تک کشادہ کر دے گا اور اس کیلئے ایک نور عطا کرتا ہے جس کی روشنی میں وہ بہشت تک پہنچ جائے گا۔) شیخ مفید، الاختصاص، محقق و مصحح:غفاری، علی اکبر، محرمی زرندی، محمود، ص ۴۰، المؤتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، قم، چاپ اول، ۱۴۱۳ق امام محمدباقر علیہ‌السلام فرماتے ہیں: "کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس نے کسی میت کو غسل دیا ہو اور اس کو کروٹ بدلتے وقت کہے: اَللَّہمَّ إِنَّ ہذَا بَدَنُ عَبْدِکَ الْمُؤْمِنِ قَدْ أَخْرَجْتَ رُوحَہ مِنْہ وَ فَرَّقْتَ بَینَہمَا فَعَفْوَکَ عَفْوَکَ‌(:ترجمہ خدایا! یہ آپ کا بندہ ہے جس کی روح نکل چکی ہے اور اس کے اور اس کی روح کے درمیان جدائی ڈال دی گئی ہے پس اس کی مغفرت فرما، اس کی مغفرت فرما)، مگر یہ کہ خدا اس کے ایک سال کے گناہ صغیرہ کو معاف کر دیتا ہے۔ شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص ۱۹۵، دارالشریف الرضی للنشر، قم، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق امام صادق علیہ‌السلام فرماتے ہیں: "جو شخص کسی مؤمن کو غسل دیتا ہے اور اس سے متعلق امانت کا حق ادا کرتا ہے تو خدا اسی مغفرت کرتا ہے۔" روای نے سوال کیا: کس طرح اس سے متعلق امانت کے حق کو ادا کیا جا سکتا ہے؟! آپ(ع) نے فرمایا: "(غسل دیتے وقت) جس چیز کو بھی دیکھے اسے فاش نہ کرے"۔ شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص ۱۹۵، دارالشریف الرضی للنشر، قم، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق
  2. امام صادق(ع):إنّ الامام لایغسله الا الامام(:ترجمہ بتحقیق امام کو صرف امام ہی غسل دے سکتا ہے)(اصول کافی، ج ۱، ص ۳۸۴.) اسی طرح بحارالانوار جلد ۲۷ ص ۲۸۸ میں سات روایت نقل ہوئی ہے جن میں سے بعض احادیث بھی اس بات کے اوپر دلالت کرتی ہے کہ امام کو صرف امام ہی غسل دے سکتا ہے۔
  3. بحارالانوار، ج ۵۳، ص ۱۳
  4. عروۃ الوثقی
  5. عروۃ الوثقی
  6. عروۃ الوثقی
  7. العروۃ الوثقی، ج۲، ص۴۶
  8. موسوعۃ الخویی، ج۹، ص۹
  9. العروۃ الوثقی، ج۲، ص۴۷
  10. تذکرۃ الفقہاء، ج۱، ص۳۵۲
  11. الحدائق الناضرۃ، ج۳، ص۴۵۵
  12. العروۃ الوثقی، ج۲، ص۴۸
  13. پورتال انہار
  14. عروۃ الوثقی
  15. عروۃ الوثقی
  16. عروۃ الوثقی
  17. پورتال انہار

مآخذ

  • مختلف الشیعۃ فی احکام الشریعہ، حسن بن یوسف العلامۃ الحلی (م. ۷۲۶ ق.)، بہ کوشش مرکزالابحاث والدراسات الاسلامیۃ، اول، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۲ ق.
  • العروۃ الوثقی، سید محمد کاظم یزدی (م. ۱۳۳۷ ق.)، پنجم، قم،‌دار التفسیر، اسماعیلیان، ۱۴۱۹ ق.
  • جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، محمد حسن نجفی (م. ۱۲۶۶ ق.)، ہفتم، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی.
  • مستند العروۃ الوثقی، تقریرات آیۃ اللہ خوئی (م. ۱۴۱۳ ق.)، مرتضی بروجردی، قم، مدرسۃ‌دار العلم، [بی تا].
  • مستمسک العروۃ الوثقی، سید محسن حکیم (م. ۱۳۹۰ ق.)، اول، قم، مؤسسہ‌دار التفسیر، ۱۴۱۶ ق.
  • الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرہ، یوسف بحرانی (م. ۱۱۸۶ ق.)، بہ کوشش علی آخوندی، قم، نشر اسلامی، ۱۳۶۳ ش.
  • تذکرۃ الفقہاء، حسن بن یوسف العلامۃ الحلی (م. ۷۲۶ ق.)، بہ کوشش مؤسسہ آل البیت(علیہ‌السلام)لاحیاء التراث، اول، قم، ۱۴۱۴ ق.