غسل مس میت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

غُسل مَسِّ مَیت واجب غسلوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی مردہ انسان کے بدن کے ٹھنڈا ہونے کے بعد اور غسل میت سے پہلے اگر کوئی شخص اس کے بدن کو لمس کرے تو اس پر غسل مست میت واجب ہو جاتا ہے۔ اہل سنت اس غسل کو واجب نہیں سمجھتے ہیں۔

شرائط اور احکام

اہل سنت غسل مس میت کو واجب نہیں سمحھتے ہیں لیکن شیعہ اسے واجب سمجھتے ہیں اور شیعہ علماء میں سے صرف سید مرتضی اس کے مستحب ہونے کا معتقد ہے۔[1] وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں تقریبا 50 حدیث میں غسل مس میت کے احکام بیان ہوئی ہے۔

اگر میت کا بدن ٹھنڈا ہو چکا ہو اور اسے غسل میت بھی نہ دیا گیا ہو تو اسے لمس کرنے والے پر غسل مست میت واجب ہو جاتا ہے لیکن مسلمان میت کے بدن کو غسل میت کے بعد لمس کرنے سے غسل واجب نہیں ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کے علاوہ دوسرے مردہ جانداروں کے بدن کو لمس کرنے سی بھی غسل واجب نہیں ہوتا ہے۔[2]

  • اکثر مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق انسان کے بدن سے جدا ہونے والا حصہ میں گر ہڈی بھی ہو تو اس کو لمس کرنے سے بھی غسل مست میت واجب ہو جاتا ہے۔[3]
  • میت کو مس کرنے سے وضو باطل ہو جاتا ہے یا نہیں اختلاف پایا جاتا ہے۔[4]
  • میت کو بار بار مس کرنے سے غسل میں تکرار نہیں ہوتا ہے۔[5]
  • غسل مسّ میت، قول مشہور کی بنا پر وضو سے کفایت نہیں کرتا اس بنا پر نماز کیلئے غسل کے علاوہ وضو کرنا بھی ضروری ہے۔[6]
  • اکثر مراجع تقلید مس میت کو حدث اصغر مانتے ہیں۔ اس بنا پر ان کی نظر میں غسل مس میت صرف ان واجب کاموں کیلئے ہے جن کیلئے وضو ضروری ہے، مانند نماز اور قرآن کے حروف کو چھونا۔ ان کے علاوہ دوسرے کاموں جیسے مسجد میں ٹھرنے کیلئے غسل مست میت کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ بعض مراجع مس میت کو حدث اکبر مانتے ہیں اس بنا پر ان کی نظر میں ہر وہ کام جس کیلئے طہارت کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے طواف، روزہ اور مسجد میں ٹھرنا وغیرہ، کیلئے غسل مست میت کرنا ضروری ہے۔[7][8]

معصومین اور شہداء کے بدن کو لمس کرنا

معصومین اور شہداء کے بدن کو لمس کرنا نیز بعض کے قول کے مطابق اس شخص کے بدن کو مس کرنا جس نے حد جاری کرنے یا قصاص کرنے سے پہلے غسل میت کی ہو، غسل مس میت کے واجب ہونے سے مستثنی ہیں۔[9]

اس غسل کے انجام دینے کی کیفیت

غسل مسّ میت دیگر عسلوں‌ کی طرح ترتیبی اور ارتماسی دونوں طریقوں سے انجام دیا جا سکتا ہے۔[10]

اس غسل کا فلسفہ

احادیث میں میت کے بدن کو لمس کرنے والے کی جسمانی اور روحانی صفائی، پاکیزگی اور طہارت کو اس غسل کی حکمتوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔[11] [نوٹ 1]

حوالہ جات

  1. مفتاح الكرامۃ في شرح قواعد العلامۃ (ط - القديمۃ)، ج‌۱، ص: ۵۱۲
  2. مسئلہ ۵۲۱
  3. مسئلہ ۵۲۸
  4. العروۃ الوثقی، ج۲، ص۹-۱۰
  5. مسئلہ ۵۳۱
  6. مسئلہ ۵۳۰
  7. العروۃ الوثقی، ج۲، ص۱۰-۱۱
  8. مسئلہ ۵۳۲
  9. جواہر الکلام، ج۵، ص۳۰۷
  10. مسئلہ ۵۳۰
  11. صدوق، علل الشرایع، ج ۱،ص۲۹۹، حدیث ۲، انتشارات داوری، قم، چاپ اول
  1. عَنِ الرِّضَا (ع) قَالَ: إِنَّمَا أُمِرَ مَنْ یغَسِّلُ الْمَیتَ بِالْغُسْلِ- لِعِلَّة الطَّهارَة مِمَّا أَصَابَه مِنْ نَضْحِ الْمَیتِ- لِأَنَّ الْمَیتَ إِذَا خَرَجَ مِنْه الرُّوحُ بَقِی مِنْه أَکثَرُ آفَتِه(ترجمہ: بتحقیق جو شخص کسی مردہ کو غسل دیتا ہے اسے خود بھی میت کے بدن سے منتقل ہونے والی آلودگی کو دور کرنے کیلئے غسل کرنا چاہئے۔ کیونکہ جب انسان کے بدن سے روح نکل جاتی ہے تو بہت ساری آفتیں اور گندگیاں باقی رہ جاتی ہیں۔) (عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۱۱۴)

منابع

  • جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، محمد حسن نجفی (م. ۱۲۶۶ ق.)، ہفتم، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی.
  • العروۃ الوثقی، سید محمد کاظم طباطبایی یزدی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، قم
  • توضیح المسائل مراجع، دفتر انتشارات اسلامی

بیرونی رابطہ