ماہ ذو القعدہ میں اتوار کے دن کی نماز

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ماہ ذو القعدہ میں اتوار کے دن کی نماز چار رکعتی مستحب نماز ہے جو ذی القعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن پڑھی جاتی ہے۔ احادیث میں اس نماز کی بہت زیادہ فضیلت نقل ہوئی ہے من جملہ ان میں گناہوں کی مغفرت اور دنیا سے ایمان کے ساتھ مرنا شامل ہیں۔

کیفیت

اس نماز کیلئے ضروری ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن غسل اور وضو(غسل سے پہلے یا بعد میں) کرے اس کے بعد نماز صبح کی طرح اس دن کی نماز کی نیت سے دو رکعتی دو نماز پڑھیں جس کی ہر رکعت میں ایک بار سورہ حمد، تین بار سورہ توحید اور ایک ایک بار سوره ناس اور سورہ فلق کی تلاوت کرے اور نماز کے اختتام پر ستر بار استغفار(اَستَغفِرُ اللهَ و اَتوبُ إلیه) اور ایک بار ذکر لا حول و لا قوة الا بالله پڑھے اور آخر میں اس طرح دعا کرے: "یا عَزِیزُ یا غَفَّارُ اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی وَ ذُنُوبَ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ فَإِنَّهُ لَا یغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ[1]

فضیلت

اس نماز کے لئے بہت زیادہ ثواب ذکر کئے گئے ہیں من جملہ یہ کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص اس نماز کو بجا لائے اس کی توبہ‌ قبول ہو گی، اس کے گناہیں معاف کئے جائیں گے، اس کے دشمن قیامت کے دن اس سے راضی ہونگے، دنیا سے دین اور ایمان کے ساتھ مرے گا، اس کی قبر کشادہ اور نورانی ہوگی اور اس کے والدین اس سے راضی ہونگے؛ اسی طرح اس کے والدین اور ذریہ کو بھی بخش دی جائی گی؛ رزق و روزی میں اضافہ ہو گا؛ موت کے وقت ملک الموت اس سے مدارا کریں گے اور وہ آسانی سے جان دے گا و...[2]

وقت

اس نماز کو ذیقعدہ کے مہینے میں اتوار کے دن کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ حدیث کے آخری حصے کے مطابق [3] اگر دوسری مہینوں میں بھی اتوار کے دن پڑھی جائے تو بھی اس کا ثواب مل جاتا ہے۔

سند حدیث

سید بن طاووس نے کتاب اقبال الاعمال میں ماہ ذی القعدہ کے اعمال کے ضمن میں اس نماز سے متعلق ایک حدیث انس بن مالک کے توسط سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں۔[4][نوٹ 1]

حوالہ جات

  1. قمی، مفاتیح الجنان، اعمال ماہ ذیقعدۃ، اتوار کے دن کی نماز، ص۳۴۴.
  2. قمی، مفاتیح الجنان، اعمال ماہ ذیقعدہ، اتوار کی نماز، ص۳۴۴۔
  3. ابن طاووس، اقبال الإعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۰۸۔
  4. ابن طاووس، اقبال الإعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، صص ۳۰۸۔
  1. کتاب اقبال الاعمال کا متن کچھ اس طرح ہے: فیما نذکره ممّا یعمل فی یوم الأحد من الشّهر المذکور و ما فیه من الفضل المذخور وجدنا ذلک بخطّ الشیخ علی بن یحیی الخیاط رحمه اللّه و غیره فی کتب أصحابنا الإمامیة، و قد روینا عنه کلّما رواه، و خطّه عندنا بذلک فی إجازة تاریخها شهر ربیع الأوّل سنة تسع و ستّمائة، فقال ما هذا لفظه: روی أحمد بن عبد اللّه، عن منصور بن عبد الحمید، عن أبی أمامة، عن انس بن مالک قال: خرج رسول اللّه صلّی اللّہ علیه و آله یوم الأحد فی شهر ذی القعدة فقال: یا أیها النّاس من کان منکم یرید التّوبة؟ قلنا: کلّنا نرید التوبة یا رسول اللّه، فقال علیه السلام: اغتسلوا و توضّئوا و صلّوا اربع رکعات و اقرءوا فی کلّ رکعة فاتحة الکتاب مرّة و «قُلْ هوَ اللَّہُ أَحَدٌ» ثلاث مرّات و المعوّذتین مرة، ثمّ استغفروا سبعین مرّة، ثمّ اختموا بلا حول و لا قوّة إلّا باللّه العلی العظیم، ثم قولوا: یا عَزِیزُ یا غَفَّارُ، اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی وَ ذُنُوبَ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِناتِ فَإِنَّه لا یغْفِرُ الذُّنُوبَ الَّا انْتَ۔ ثم قال علیه السلام: ما من عبد من أمّتی فعل هذا الّا نودی من السّماء: یا عبد اللّه استأنف العمل فإنّک مقبول التّوبة مغفور الذنب، و ینادی ملک من تحت العرض: أیها العبد بورک علیک و علی أهلک و ذریتک، و ینادی مناد آخر: أیها العبد ترضی خصماؤک یوم القیامة، و ینادی ملک آخر: أیها العبد تموت علی الایمان و لا یسلب منک الدّین و یفسح فی قبرک و ینوّر فیه، و ینادی مناد آخر: أیها العبد یرضی أبواک و ان کانا ساخطین، و غفر لأبویک ذلک و لذرّیتک و أنت فی سعة من الرّزق فی الدنیا و الآخرة، و ینادی جبرئیل علیه السلام: انا الّذی آتیک مع ملک الموت ان یرفق بک و لا یخدشک اثر الموت، انّما تخرج الروح من جسدک سلا۔ قلنا: یا رسول اللّه لو انّ عبدا یقول فی غیر الشهر؟ فقال علیه السلام: مثل ما وصفت، و انّما علّمنی جبرئیل علیه السلام هذه الکلمات أیام أسری۔ ابن طاووس، اقبال الإعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، صص ۳۰۸۔

مآخذ

  • ابن طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، دارالکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۹ق۔
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، مشعر، قم، ۱۳۸۷ش۔