نماز جماعت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد الحرام میں نماز جماعت

نماز جماعت، وہ نماز ہے جو اکٹھے مل کر پڑھی جاتی ہے اور اسلامی عبادات میں سے بافضیلت، عبادت ہے. کہا گیا ہے کہ نماز جماعت دین کا عبادی اور سماجی حصہ ہے. نماز جماعت میں جو آگے کھڑا ہوتا ہے اسے امام، اور جو نمازگزار پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں انہیں ماموم کہتے ہیں. بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں نماز، جماعت کی صورت میں ہی تھی. [1] پہلی نماز جماعت کو پیغمبر(ص) اور امیرالمومنین(ع) نے ادا کیا. نماز جماعت کے عبادی اور اخلاقی فوائد کے علاوہ، سیاسی اور سماجی فوائد بھی ہیں جیسے سب لوگوں کا خدا کی عبادت کی طرف رجحان، معاشرے میں دین کا ظہور، نیک کام کے انجام دینے اور گناہ سے دور رہنے میں مدد، اسلامی معاشرے کا تشخص، لوگوں کو ایک دوسرے کی بہتر پہچان، مسلمانوں کے درمیان رابطہ اور الفت کا ایجاد ہونا. [2] روایات میں سختی اور مشکلات کے باوجود بھی نماز جماعت کی تاکید کی گئی ہے. [3] اور اس کا بہت ثواب بیان ہوا ہے یہاں تک کہ اگر نمازیوں کی تعداد دس افراد سے زیادہ ہو تو، ہر رکعت کا ثواب گنتی سے باہر ہے. اور نماز جماعت سنت پیغمبر(ص) ہے اور اگر کوئی بغیر وجہ کہ نماز جماعت کو ترک کرے تو، اصلی نماز کو حاصل نہیں کر پائے گا. [4]

نماز جماعت کی جگہ

قرآن میں دو جگہ پر نماز جماعت کا حکم دیا گیا ہے:

١.«وَ أَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ ارْکعُوا مَعَ الرَّاکعین: اورنماز کو قائم کرو اور زکات دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو[5]اکٹھے رکوع کرنے سے مراد نماز جماعت ہے.

۲. «یا مَرْیمُ اقْنُتی لِرَبِّک وَاسْجُدی وَارْکعی مَعَ الرَّاکعینَ؛: اے مریم، اپنے پروردگار کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ہمراہ رکوع کرو. [6]

روایات میں نماز جماعت کی تاکید کے علاوہ، اس کی بے شمار برکات کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ (نماز جماعت کے آثار) والے باب میں اس کی طرف اشارہ کیا جائے گا.

اور بغیر وجہ کے نماز جماعت کو ترک کرنا ںماز قبول نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کو کم اہمیت سمجھنا خدا کے کم اہمیت سمجھنے کے برابر ہے. [7]

نماز جماعت میں نمازیوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی اتنی وہ عبادت خداوند کے نزدیک محبوب [8] ہو گی اور اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہو گا: اگر ماموم ایک فرد ہو تو نماز کی فضیلت ١٥٠ کے برابر اور اگر دو افراد ہوں تو٦٠٠ کے برابر ہے اور اور ٩ افراد سے زیادہ ہوں تو اس کا اجر خدا کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا. [9]

بعض احادیث کے مطابق ایک نماز جماعت چالیس سال اکیلے گھر میں نماز پڑھنے کے برابر ہے. [10] اور دوسری روایت کے مطابق ایک عالم دین کی امامت میں نماز جماعت، پیغمبراکرم(ص) کی امامت میں نماز ادا کرنے کے جیسا ہے. [11] پیغمبر(ص) نے فرمایا: جب کوئی مسجد کی طرف جاتا ہے ہر ایک قدم پر، ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور ستر ہزار درجات اس کو عطا کئے جاتے ہیں اور اگر اس حالت میں دنیا سے چلا جائے تو حق تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ قبر میں اس کی زیارت کریں اور قبر کی تنہائی میں اس کے مونس ہوں جب تک کہ اسے قبر سے اٹھایا جائے.[12]

تاریخچہ

قرآن کریم میں، حضرت مریم کا نماز جماعت میں شریک ہونا ذکر کیا گیا ہے. اسلام کی پہلی نماز جماعت، رسول خدا(ص) کی امامت اور حضرت علی(ع) کی شرکت میں ادا ہوئی اور اس کے بعد جعفر طیار (حضرت علی علیہ السلام کے بھائی) ابوطالب(حضرت علی علیہ السلام) کے والد گرامی کے حکم پر ان کے ساتھ شامل ہوئے.[13] حضرت خدیجہ(س) پہلی عورت تھیں جنہوں نے نماز جماعت میں شرکت کی تھی.[14]

نماز جماعت، مستحب ہے یا واجب؟

اہل تشیع کے فقہاء کی نظر میں نماز جماعت مستحب ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے. [15] حنبلی اور بعض حنفی مذاہب نے نماز جماعت کو واجب عینی کہا ہے. [16] لیکن نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنا اس کی صحت کی دلیل نہیں ہے. [17]اور بعض شافعی مذہب نے نماز جماعت کو مردوں کے لئے سفر کے علاوہ ، واجب کفائی کہا ہے. [18]اکثر حنفی اور مالکی اور بعض شافعی مذاہب کا اعتقاد ہے کہ نماز جمعہ کے علاوہ، باقی تمام واجب نمازیں، اگر کوئی بغیر کسی مشکل کے اس میں شرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تو مستحب ہے اور اس کی تاکید ہوئی ہے کہ وہ اسے جماعت کے ساتھ ادا کرے. [19] اہل تشیع کے مشہور فقہاء کی نظر میں، عید فطر اور عید قربان کی نماز، تمام شرائط کے ہوتے ہوئے (جیسے امام معصوم کے زمانے میں) واجب ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھی جائے. [20] حنفی [21] اور حنبلی فرقے کی نظر بھی یہی ہے، لیکن مالکی اور شافعی فرقے کے مطابق نماز عید جماعت کے ساتھ ادا کرنا مستحب ہے. [22] اسی طرح تمام اسلامی مذاہب کی نظر میں، نماز جمعہ کی صحت کی شرط اس کا جماعت کے ساتھ ادا کیا جانا ہے. [23] اہل سنت کے اکثر علماء کی نظر میں مستحب نمازیں بھی جماعت کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہیں. [24] مالکی اور حنفی ماہ رمضان کی مستحب نمازوں کے علاوہ دوسری نافلہ نمازیں اور نماز آیات کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہ سمجھتے ہیں.[25] اہل تشیع کے نظر میں بارش کی نماز (نماز استسقاء)کے علاوہ باقی تمام مستحب نمازیں، من جملہ تراویح نماز، جماعت کے ساتھ ادا کرنا بدعت ہے.[26]البتہ بعض فقیہ کی نظر میں عید فطر اور عید قربان کی نماز امام کی غیبت کے زمانے میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز اور مستحب ہے.

نماز جماعت کا طریقہ

واجب نماز میں نماز جماعت کا طریقہ تقریباً سب مذاہب میں ایک جیسا ہے. اس میں امام جماعت، نماز گزاروں کی طرف سے، پہلی اور دوسری رکعت میں حمد اور سورہ کو پڑھتا ہے اور نماز گزار امام جماعت کی حرکت اور اعمال کے ساتھ ساتھ ان دو رکعتوں اور باقی رکعتوں کے ذکر کو آہستہ آواز میں پڑھتے ہیں. نماز گزار نماز کے دوران جان بوجھ کر امام جماعت سے پہلے نماز کے افعال کو انجام نہ دے. اہل تشیع کی مشہور نظر اور بعض اہل سنت مذاہب کے مطابق، نماز گزار کا نماز کے دوران امام کے افعال کی پیروی کرنا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے، اگرچہ بعض فقہاء اس کو نماز کے صحیح ہونے کی شرط سمجھتے ہیں.[27]

نماز جماعت کی صحت کے شرائط

اہل سنت اور اہل شیعہ کی نظر میں، نماز جماعت کے صحیح ہونے کے لئے، کچھ نکات کی رعایت کرنا ضروری ہے، جو درج ذیل ہیں:

  1. کم از کم نماز جماعت میں دو افراد ہوں، کہ جن میں سے ایک امام جماعت ہو. یہ شرط جمعہ اور عید کی نماز کے لئے ایک اور طریقے سے بیان ہوتی ہے.
  2. امام جماعت اور نماز گزار کی نماز مستحب یا واجب ہونے کی نظر سے ایک جیسی ہو (وہ مستحب نمازیں جو کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جا سکتی ہیں) نماز گزار کی جگہ امام جماعت سے آگے نہیں ہونی چاہیے.
  3. امام جماعت اور پہلی صف کے درمیان کوئی پردہ نہ ہو، تا کہ نماز گزار امام جماعت کو دیکھ سکیں.
  4. نماز جماعت میں تمام صفیں ایک دوسرے سے متصل (جڑی ہوئی) ہوں
  5. امام جماعت کی جگہ نماز گزاروں سے بلند نہ ہو، [28] اسی لئے، عام طور پر مسجد کا محراب مسجد کی سطح سے نیچے بنایا جاتا ہے.

امام جماعت

نماز جماعت میں جو شخص آگے کھڑا ہوتا ہے اور لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں اسے امام کہتے ہیں. اسلام کے سیاسی، اور سماجی نظام میں، جو شخص دوسروں کا پیشوا ہوتا ہے اس میں بعض فضیلت اور برتری کا ہونا ضروری ہے، تا کہ اس کے فضائل، دوسروں پر اثر گزار ہوں. نماز جماعت میں بھی، پیش نماز کے لئے عدالت اور نماز کی صحیح قرائت کے علاوہ اس کا علم، عمل اور تقوا کے لحاظ سے دوسروں سے بہتر ہونا ضروری ہے اور لوگ اس پر اطمینان کرتے ہوں[29] اور نماز گزاروں کی دنیا میں رہبری [30] اور آخرت میں انکی شفاعت کی لیاقت رکھتا ہو.[31] اور مسجد کی زینت ہو.[32] اہل تشیع کے علماء نے امام جماعت کے عادل ہونے کی بہت تاکید کی ہے اور نماز جماعت ایک فاسق شخص کے پیچھے صریع طور پر باطل ہے. [33] تمام فقہی مذاہب میں، اگر نماز گزاروں کے درمیان مرد موجود ہو تو امام جماعت عورت نہیں ہو سکتی، لیکن بعض اہل شیعہ علماء کے نزدیک اگر نماز گزار عورتیں ہوں تو وہ عورت کی امامت میں نماز پڑھ سکتی ہیں.[34]

نماز جماعت کے آداب

بہتر ہے کہ نماز گزار پہلی صف میں جگہ لے[35] کہ جس کا ثواب خدا کی راہ میں جہاد کے برابر ہے،[36]اپنی نماز کی طرف توجہ کرے اور دوسروں کے اعمال کی طرف توجہ نہ کرے، اور امام جماعت کے ساتھ حرکت کرے تا کہ جماعت کا نظم برقرار رہے، نماز کے لئے اچھا لباس پہنے اور خود کو معطر کرے، صف میں کسی دوسروں کے لئے مزاحمت ایجاد نہ کرے، اس کے جسم یا منہ کی بو سے دوسروں کو اذیت نہ ہو، نماز کے دوران اس کی آواز سے دوسروں کو اذیت نہ ہو، اپنے دینی بھائیوں سے احوال پرسی کرے اور جو غائب ہوں انکے احوال سے باخبر رہے. امام جماعت بھی نماز میں شرکت کرنے والوں کے احوال کی رعایت کرے. [37]

نماز جماعت کے اثرات

دین کی نماز جماعت پر بہت زیادہ تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جماعت مسلمانوں کی سماجی اور معنوی زندگی میں برکت کا باعث بنتی ہے. ان میں اہم اثرات درج ذیل ہیں: اسلام کا آشکار اور عام ہونا اور لوگوں کا ایک دوسرے کے لئے مخلص ہونا [38] اور نفاق و دشمنی سے دور ہونا[39] خدا اور ملائکہ کی خشنودی،[40] گناہوں کی معافی [41]، قیامت کی سختی کا آسان ہونا، جنت میں داخل ہونا، [42] دعا کا مستجاب ہونا،[43] اور دوسروں کی شفاعت کی توفیق، [44] دین کی عظمت کا نشان، دشمنوں کے دل میں خوف پیدا کرنا اور مومنوں کے لئے باعث آرامش، معاشرے میں نماز کی گسترش، دینی بھائیوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ہمدلی، دینی بھائیوں کی مشکلات دور کرنے کا ذریعہ، علم، تقوا، عدالت اور نظم کا درس، صالحین کی محفل میں شرکت..... وغیرہ

اہم ترین نماز جماعت

مسجد الحرام اور مسجد النبی کی نماز جماعت سب سے اہم نماز جماعت ہے کہ تقریباً طول تاریخ میں مسلمانوں کے مختلف مذاہب اور ہر رنگ و نسل کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر وحدت اور ہمدلی سے نماز ادا کرتے آئے ہیں. مسجد الحرام میں حج کے ایام میں تقریباً ٤ میلیوں نماز گزار، نماز جماعت ادا کرتے ہیں. آیت اللہ محمد حسین کاشف الغطاء نے سنہ ١٣٥٠ق عراق کے علماء کی طرف سے (اسلامی قدس کی کنفرانس) میں شرکت کی اور آپ کی شخصیت باعث بنی کہ مسجد الاقصی میں آپ کی امامت میں نماز جماعت ادا ہوئی اور دنیا کے ہزاروں مسلمان علماء جن کا تعلق مختلف مذاہب سے تھا جو کہ اس کنفرانس میں موجود تھے سب نے آپ کے پیچھے نماز جماعت ادا کی،اس زمانے میں حتی کہ بیروت جیسے شہر میں شیعہ بغیر تقیہ کے نماز جماعت ادا نہیں کر سکتے تھے لیکن اس واقعے کے بعد حالات تبدیل ہو گئے اور شیعہ کو بھی دوسرے مذاہب کی طرح دیکھا جانے لگا.

حوالہ جات

  1. شتهاردی، ج۲، ص۸۴
  2. ابن بابویه، ۱۳۸۶، ج۱، ص۲۶۲، ج۲، ص۳۲۵
  3. پیامبر(ص):الصلاة جماعة و لو علی رأس زج در نماز جماعت شرکت نمایید، گر چه آن را بر سر آهن و نوک نیزه انجام دهید. یعنی هر قدر سخت و دشوار باشد، از حضور در جماعت دریغ نکنید. بحار الانوار، ج,۸۸ ص۴
  4. کلینی، ج۳، ص۳۷۲
  5. بقره: ۴۳.
  6. آل عمران: ۴۳.
  7. من حقره فانما یحقرالله. من لایحضره الفقیه، ج۱، ص۳۷۷.
  8. ما کثر فهو احب الی الله. کنزالعمال، ج۸، ص۲۵۸.
  9. مستدرک الوسائل، ج۱، ص۴۸۷، رساله حضرت امام، مسئله ۱۴۰۰.
  10. رسول خدا صلی الله علیه و آله درباره اهمیت جماعت، فرمود: «صلاة الرجل فی جماعة خیر من صلاته فی بیته اربعین سنة. قیل: یا رسول الله! صلاة یوم؟ فقال صلی الله علیه و آله: صلاة واحدة»، مستدرک الوسائل، ج۱، ص۴۸۸.
  11. قال رسول الله - صلی الله علیه وآله -:من صلی خلف عالم فکانما صلی خلف رسول الله؛ کسی که پشت سر عالم نماز به جا آورد، مانند کسی است که پشت سر پیغمبر خدا نماز خوانده است. بحارالانوار، ج۸۸، ص۱۱۹
  12. ثواب الاعمال، ص۲۵۹، بحار، ج۸۵، ص۴۳۴
  13. بحارالانوار ج۸۵ ص۳
  14. اسدالغابه، ابن اثیر، ج۳، ص۴۱۴
  15. طوسی، ۱۳۸۷، همانجا؛ نراقی، ج۸، ص۱۱ـ۱۲
  16. ابن اثیر، ج۵، ص۵۶۴، ۵۶۶
  17. زحیلی، ج۲، ص۱۱۶۹
  18. خطیب شربینی، ج۱، ص۲۲۹ـ۲۳۰
  19. نووی، ج۴، ص۱۸۸؛ زحیلی، ج۲، ص۱۱۶۷ـ ۱۱۶۸
  20. ابن بابویه، ۱۴۱۵، ص۱۴۹؛ محقق حلّی، ج۱، ص۷۸؛ نراقی، ج۶، ص۶
  21. برای نمونه رجوع کنید به کاسانی، ج۱، ص۶۱۶
  22. رجوع کنید به خطیب شربینی، ج۱، ص۲۲۵؛ بهوتی حنبلی، ج۱، ص۵۵۳
  23. ابوالفضل موصلی، ج۱، ص۸۳؛ علامه حلّی، ج۱، ص۵۱؛ بهوتی حنبلی، ج۱، ص۵۵۲ ۵۵۳
  24. ابن قدامه، ج۱، ص۷۷۵ـ ۷۷۶؛ جزیری، ج۱، ص۳۷۰ـ۳۷۱
  25. شمس الائمه سرخسی، ج۲، ص۳۷؛ جزیری، ج۱، ص۳۷۰
  26. طوسی، ۱۴۰۷ـ۱۴۱۷، ج۱، ص۵۳۰
  27. جزیری، ج۱، ص۳۸۱ـ ۳۸۵؛ بروجردی، ج۱۷، ص۲۲۹ـ۲۳۲
  28. پورتال انهار، توضیح المسائل مراجع.
  29. مستدرک الوسائل، ج۱ ص۴۹۰
  30. مستدرک الوسائل، ج۱ ص۴۹۱، وسائل، ج۵ ص۴۱۶.
  31. وافی، ج۲ ص۱۷۷.
  32. نورالثقلین، ج۲ ص۱۹.
  33. ابن قدامه، ج۲، ص۲۲
  34. شافعی، ج۱، ص۱۹۱؛ طوسی، ۱۳۸۷، ج۱، ص۱۵۷؛ ابن قدامه، ج۲، ص۳۳؛ نووی، ج۴، ص۲۵۵
  35. پیامبر(ص):و من حافظ علی الصف الاول و التکبیرة الاولی لا یؤذی مسلما اعطاه الله من الاجر ما یعطی المؤذنون فی الدنیا و الاخرة کسی که محافظت و مداومت بر صف اول و تکبیر اول نماید، و مسلمانی رااذیت نکند، خداوند به او اجری معادل اجری که مؤذن در دنیا و آخرت دریافت می‌کند، عطاخواهد کرد. وسائل الشیعه، ج۵، ص۳۸۷
  36. قال ابوالحسن موسی بن جعفر - علیه‌السلام -:ان الصلوة فی الصف الاول کالجهاد فی سبیل الله - عز و جل -؛ نماز خواندن در صف اول، مانند جهاد در راه خداست. وسائل الشیعه، ج۵، ص۳۸۷
  37. قال علی (علیه‌السلام): و قد سئلت رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) حین وجهنی الی الیمن کیف اصلی بهم؟ فقال صل بهم کصلوه اضعفهم و کن بالمؤمنین رحیما. هنگامی که رسول خدا (صلی الله علیه و آله و سلم) مرا به سوی یمن می‌فرستاد، از ایشان پرسیدم: چگونه با آنان نماز بخوانم؟ آن حضرت فرمود؟ نمازی بخوان همچون نمازی که ناتوان‌ترین آنها می‌خواند و نسبت به مؤمنان رحیم و مهربان باش.نهج البلاغه، نامه ۵۲
  38. امام رضا علیه‌السلام فرمود: «انما جعلت الجماعة لئلا یکون الاخلاص والتوحید والاسلام والعبادة لله الا ظاهرا مشکوفا مشهورا؛ علت تشریع نماز جماعت آن است که اسلام و توحید و بندگی و اخلاص به خداوند متعال در معرض دید عموم و ظاهر و مشهور در میان مردم باشد». وسائل الشیعه، ج۵، ص۳۷۲.
  39. مستدرک الوسائل، ج۱، ص۴۸۸.
  40. پیامبر(ص):ثلاثة یضحک الله الیهم: الرجل اذاقام باللیل یصلی و القوم اذا صفوا فی الصلاة، و القوم اذا صفوا فی قتال العدو. سه گروهند که خداوند از آنان خشنود است:۱- کسی که نماز شب می‌خواند.۲- جمعی که نماز جماعت تشکیل می‌دهند.۳- دسته‌ای که در برابردشمن در راه خدا صف آرایی کرده‌اند. ثواب الاعمال، ص۹۶
  41. پیامبر(ص):من اتی الجماعة ایمانا واحتسابا استأنف العمل کسی که در نماز جماعت با ایمان و قصد پاک و خشنودی خدا داخل شود، اعمال خود را از سر گیرد. (کنایه از این است که گناهان گذشته‌اش بخشیده می‌شود. ثواب الاعمال، ص۸۷
  42. پیامبر(ص):فما من مؤمن مشی الی الجماعة الا خفف الله علیه اهوال یوم القیامة، ثم یأمر به الی الجنة. پس مؤمنی نیست که در راه نماز جماعت قدم بردارد مگر این که خداوندتبارک و تعالی ترس وهراس روز قیامت را برای او سبک می‌گیرد، سپس او راامر می‌کند به ورود به بهشت. وسائل الشیعه، ج۵، ص۳۷۲
  43. پیامبر(ص):ان الله یستحیی من عبده اذا صلی فی جماعة ثم سأله حاجة ان ینصرف حتی یقضیها زمانی که بنده‌ای نمازش را به جماعت بخواند، خداوند از او حیاء می‌کند، وهنگامی که از او طلب حاجت کرد، منصرف نشود، مگراین که حاجتش رابرآورد. بحار الانوار، ج,۸۸ ص۴
  44. پیامبر(ص):ان الله وعد ان یدخل الجنة ثلاثة نفور بغیرحساب و یشفع کل واحد منهم فی ثمانین الفا، المؤذن و الامام، و رجل یتوضا ثم یدخل المسجد فیصلی فی الجماعة همانا خداوند به سه گروه وعده داد، بدون حساب واردبهشت شوند، و هریک از این سه گروه (روز قیامت) می‌توانند هشتاد هزار نفر راشفاعت کنند وآنها عبارتند از: ۱- مؤذن. ۲- امام جماعت. ۳- کسی که وضو بگیرد، سپس داخل مسجد شود و نماز را به جماعت به جا آورد. مستدرک الوسائل، ج۱، ص۴۸۸