نماز جماعت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد الحرام میں نماز جماعت

نماز جماعت امام جماعت کی اقتدا میں پڑھی جانے والی نماز کو کہا جاتا ہے۔اسلامی عبادات میں اسے افضل ترین عبادت سمجھا جاتا ہے۔ نماز جماعت میں آگے کھڑے ہونے والے شخص کو امام اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے کو ماموم کہتے ہیں۔

بعض فقہاء کے مطابق جس وقت نماز واجب ہوئی اس وقت اسے جماعت کے ساتھ ہی پڑھی جاتی تھی اور پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علیؑ نے اسلام میں پہلی نماز جماعت قائم کیں۔ احادیث میں جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی ایک کعت کو بغیر جماعت کے 25 رکعت کے برابر قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے خاص کر مسجد کے همسایے میں رہنے والوں کیلئے۔

شیعہ نقطہ نگاہ سے نماز جماعت میں شرکت کرنا مستحب مؤکد ہے اور صرف واجب نمازوں جیسے یومیہ نمازیں، نماز آیات، نماز عیدین، نماز میت اور نماز جمعہ کو جماعت کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے۔ مشہور شیعہ فقہاء کے نزدیک مستحب نمازوں کو سوائے نماز استسقاء کے جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔ اہل سنت نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں لیکن شیعہ اسے بدعت شمار کرتے ہیں۔

مفہوم‌ شناسی

نماز جماعت مل کر اکھٹے پڑھی جانے والی نماز کو کہا جاتا ہے۔ نماز جماعت میں آگے کھڑے ہونے والے کو امام جماعت اور پیچھے کھڑے ہو کر امام کی اقتداء کرنے والوں کو مأموم کہا جاتا ہے۔ نماز جماعت کیلئے کم از کم دو اشخاص کا ہونا ضروی ہے ایک امام اور دوسرا مأموم۔[1]

اہمیت

نماز جماعت اسلامی عبادات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اسی بنا پر اسے مستحب مؤکد قرار دیا گیا ہے[2] اور احادیث میں بغیر غذر کے نماز جماعت کو ترک کرنا نماز کی عدم قبولیت کے اسباب اور نماز جماعت کو اہمیت نہ دینا خدا کو اہمیت نہ دینے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔[3]

قرآن کریم میں براہ راست نماز جماعت کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا لیکن فقہاء نماز جماعت کی فضیلت کے باب میں آیت: وَ أَقیمُوا الصَّلاۃَ وَ آتُوا الزَّکاۃَ وَ ارْکعُوا مَعَ الرَّاکعین"[4] کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔[5] بعض مفسرین اس آیت میں "رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے" کو نماز جماعت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔[6] اسی طرح بعض شیعہ حدیثی کتابوں میں ایک باب کو نماز جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام سے مختص کیا گیا ہے۔[7]

آیت اللہ بروجردی بعض احادیث کے ساتھ استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ شروع میں دین اسلام میں نماز، جماعت ہی کی صورت میں واجب ہوئی تھی۔[8] حضرت محمدؐ کی نبوت کے ابتدائی دور میں رسول خداؐ کی امامت میں نماز جماعت برگزار ہوتی تھی اور مردوں میں صرف حضرت علیؑ اور خواتین میں صرف حضرت خدیجہ[9] آپؐ کے پیچھے نماز پڑھتی تھیں۔[10] اس کے بعد جعفر طیار بھی ان کے ساتھ ملحق ہو گئے۔[11]

حکمت تشریع

امام رضاؑ سے نقل شدہ احادیث کے مطابق نماز جماعت کے تشریع ہونے کی علت لوگوں کے درمیان اسلام، توحید اور اخلاص کا آشکار ہونا ہے۔[12] کتاب علل الشرائع میں امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے خدا نے نماز جماعت کو اس لئے قرار دیا ہے تاکہ نماز پڑھنے والے نماز نہ پڑھنے والوں سے مشخص ہو سکے اور یہ معلوم ہو کہ کون نماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے اور کون اسے ضایع کرتا ہے۔ اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ اگر نماز جماعت نہ ہوتی تو کوئی دوسرے کے بارے میں خیر اور نیکی کی گواہی نہیں دے سکتے تھے۔[13]

فضیلت

نماز جماعت کے لئے بہت زیادہ ثواب اور فضیلت‌ نقل ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ نماز جماعت میں حاضرین کی تعداد جتنی زیادہ ہو خدا کے یہاں اتنا ہی پسندیدہ[14] اور اس کے ثواب میں اضافہ ہو گا۔ اگر مأموم ایک شخص ہو تو 150 نماز کے برابر اگر دو نفر ہوں تو 600 نماز کے برابر اور اگر 9 نفر سے زیادہ ہو تو اس کا ثواب سوائے خدا کے کوئی اور شمار نہیں کر سکتا۔[15]

اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ ایک نماز جماعت 25 نمازوں سے بہتر ہے جو جماعت کے بغیر ادا کی گئی ہو[16] اور ایک نماز جماعت کا ثواب چالیس سال خانہ کعبہ میں پڑھی جانے والی فرادا نمازوں سے بہتر ہے[17] اور کسی عالم کی اقتداء میں پڑھی جانے والے نماز جماعت پیغمبر اکرمؐ کی اقتداء میں پڑھی جانے والی نماز کی طرح ہے۔[18]

آثار

احادیث کے مطابق نماز جماعت نفاق سے دوری،[19] گناہوں کی مغفرت،[20] استجابت دعا،[21] قیامت کی سختیوں کی آسانی، بہشت میں داخل ہونے[22] اور خدا اور ملائکہ کی خشنودی[23] کا سبب ہے۔ اسی طرح جو شخص نماز جماعت میں شرکت کرتا ہے وہ قیامت کے دن دوسروں کی شفاعت کر سکتا ہے۔[24]

پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ نماز پڑھنے والے کی مسجد کی طرف بڑھانے والے ہر قدم کے بدلے اسے ہزار حسنہ دیا جائے گا، اس کے درجات میں 70 ہزار درجے کا اضافہ ہوگا اور اگر اسی حالت میں دنیا سے چلا جائے تو 70 ہزار خدا فرشتوں کو مأمور کرتا ہے کہ قبر میں جا کر اس کی زیارت کریں اور قبر سے دوبارہ اٹھائے جانے تک قبر کی کی تنہائی میں اس کا مونس و غمخوار بنیں۔[25]

اسی طرح اسلامی معاشرے کا تشخص، لوگوں کا ایک دوسرے کے حالات سے زیادہ آگاہ ہونا، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت پیدا ہونا اور آپس میں باہمی رابطوں میں اضافہ ہونا وغیرہ نماز جماعت کے فوائد میں سے جانا گیا ہے۔[26]

احکام

شیعہ ففہاء نماز جماعت میں شرکت کرنے کو مستحب مؤکد قرار دیتے ہیں[27]‌ اور نماز صبح، مغرب اور عشاء کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی زیادہ تأکید فرماتے ہیں۔[28] اسی طرح مسجد کے ہمسائے میں رہنے والوں پر نماز جماعت میں شرکت کرنے کی بھی زیادہ سفارش فرماتے ہیں۔[29] نماز جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا ہے۔[30]

اہل سنت میں سے حنبلی اور بعض حنفی نماز جماعت کو واجب عینی قرار دیتے ہیں۔[31] اسی طرح شافعیوں میں سے ایک گروہ بھی مردوں کیلئے سفر کے علاوہ نماز جماعت کو واجب کفایی قرار دیتے ہیں۔[32]

مستحب نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنا

شیعہ فقہاء کے نزدیک سوائے نماز استسقاء کے باقی مستحب نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔[33] اس کے باوجود بعض شیعہ فقہاء کے نزدیک نماز عیدین کو عصر غیبت میں جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔[34] جبکہ مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق نماز عیدین چاہے واجب ہو یا مستحب جماعت کے بغیر نہیں پڑھی جا سکتی۔[35] صاحب حدائق بعض شیعہ فقہاء مانند ابوصلاح حلبی اور شہید اول کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ یہ حضرات نماز غدیر کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن خود صاحت حدایق اسے جماعت کے ساتھ پڑھنے کو حرام سمجھتے ہیں۔[36] اس کے مقابلے میں اکثر اہل سنت فقہاء تمام مستحب نمازوں جیسے نماز تراویح وغیره کو جائز سمجھتے ہیں۔[37] مالکی اور حنفی ماہ رمضان کے مستحب نمازوں اور نماز آیات کے علاوہ بعض نوافل کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔[38] از نظر فقیہان شیعہ بہ جماعت خواندن نماز تراویح بدعت است۔[39]

امام جماعت کی شرایط

اصل مضمون: امام جماعت

شیعہ فقہ میں امام جماعت کا عاقل،[40] بالغ،[41] مؤمن[42] اور عادل[43] ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح امام جماعت کا حلال‌زادہ[44] ہونا اور اس کی قرائت کا صحیح ہونا بھی شرط ہے۔[45] اگر تمام یا بعض مأمومین مرد ہوں تو امام جماعت کا مرد ہونا بھی شرط ہے۔[46]

اہل سنت کی اقتدا

امام جماعت کی شرائط میں سے ایک مؤمن ہونا ہے جس کے معنی شیعہ اثنا عشری کے ہیں؛[47] اس بنا پر شیعہ فقہاء شیعہ مأمومین کو اہل سنت امام جماعت کی اقتداء کرنے کو بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے[48] جائز نہیں سمجھتے ہیں؛[49] لیکن بعض خاص حالات مثلا تقیہ کی حالت میں اہل سنت کی اقتداء کرنا جائز ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ امام خمینی اور بعض دیگر مراجع اہل سنت کی اقتداء کو بلا اشکال مانتے ہیں،[50] بعض دوسرے مراجع تماز کو بعد میں تکرار کرنے کے قائل ہیں یا ان کے ساتھ کھڑے ہو کر بغیر اقتداء کے حمد و سورہ پڑھنے کو شرط قرار دیتے ہیں۔[51] اس اختلاف کی وجہ ثانوی شرائط میں احادیث کے تعارض کی بنا پر وجود میں آیا ہے۔[52]

خواتین کی شرکت

بعض احادیث میں آیا ہے کہ خواتین کا گھر میں نماز پڑھنا انکے مسجد میں پڑھنے اور جماعت میں شرکت کرنے سے بہتر ہے؛ اسی طرح ان احادیث میں آیا ہے کہ خواتین کی بہترین مسجد ان کا گھر ہے[53] اور خواتین کی گھروں میں فرادا نماز کا ثواب ان کے نماز جماعت میں شرکت کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔[54] بعض شیعہ فقہاء ان احادیث سے استناد کرتے ہوئے خواتین کی گھر میں پڑھی جانے والی فرادا نماز کو مستحب اور مسجد میں جانے سے بہتر قرار دئے ہیں۔[55] بعض اور فقہاء مذکورہ احادیث کو خاص شرائط کے ساتھ مختص جانتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ خواتین کا حجاب کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں نماز پڑھنا گھر میں پڑھنے سے بہتر ہے۔[56] فقہاء کا یہ گروہ ایسے احادیث سے استناد کرتے ہیں جن میں خواتین کا پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ نماز جماعت میں شرکت کرنے پر دلالت کرتی ہیں۔[57]

دوسرے احکام

  • مأموم کے اوپر پہلی اور دوسرے رکعت میں حمد اور سورہ کے علاوہ باقی اذکار کا پڑھنا ضروری ہے۔[58]
  • مأموم کو کسی افعال میں امام کی تبعیت اور اقتداء ضروری ہے اور کسی بھی رکن کو امام سے پہلے انجام نہیں دینا چاہیئے۔[59]
  • نماز جماعت میں امام کے بیٹھنے کی جگہ مأموم کے بیٹھنے کی جگہ سے بلند نہیں ہونا چاہیئے۔[60] اسی بنا پر عموما مساجد میں محراب کو مسجد کی سطح سے نیچے بنایا جاتا ہے۔[حوالہ درکار]
  • امام اور مأموم نیز لائنوں کے درمیان پردہ اور دیورا وغیرہ حائل نہیں ہونا چاہیئے لیکن مردوں اور عورتوں کے درمیان پردہ لگانا اس حکم سے مستثنی ہے۔[61]
  • نماز جماعت کی امامت کرنے میں امام راتب دوسروں پر فوقیت رکھتا ہے۔[62]
  • عورت صرف اس صورت میں نماز جماعت کی امامت کر سکتی ہے جب تمام مأمومین بھی خواتین ہوں۔[63]

آداب

نماز جماعت کے کچھ آداب، مستحبات اور مکروہات ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:

  • مستحبات
  1. اہل تقوا اور اہل علم کا پہلی صف میں ہونا۔[64]
  2. مأموم کا امام کے دائیں طرف ہونا۔[65]
  3. کمزور مأمومین کی رعایت کرنا اور نماز کو طولانی نہ کرنا۔[66]
  4. قد قامت الصلاة کہنے کے بعد مأمومین کا کھڑے ہونا۔[67]
  5. امام کی طرف سے سورہ حمد کی قرأت کے اختتام پر مأمومین کی طرف سے "الحمدلله رب العالمین" کہنا۔[68]
  • مکروہات
  1. مأموم کا ایک صف میں اکیلے کھڑا ہونا
  2. قد قامت الصلوة کہنے کے بعد نافلہ پڑھنا
  3. چار رکعتی نمازوں میں غیر مسافر کا مسافر کی اقتداء کرنا یا بالعکس[69]
  4. مأموم کی طرف سے اذکار کو اتنا بلند کہنا کہ امام سن لے[70]

مونوگراف

نماز سے مربوط تقریبا تمام آثار میں فقہاء نے نماز جماعت اور اس کے احکام کا ذکر کیئے ہیں۔[71] اس کے علاوہ نماز جماعت سے متعلق بعض نے مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • رسالۃ صلاۃ الجماعۃ، یہ کتاب عربی میں ہے جسے جودہویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ محمد حسین کمپانی (1296-1361ھ) نے تحریر کی ہیں۔ اس کتاب میں نماز جماعت کے احكام، موارد وجوب، استحباب اور حرام کی چھان بین کی گئی ہیں، اسے مؤسسہ نشر اسلامی قم نے سنہ 1409ھ میں "بحوث فی الفقہ و ہی بحوث فی صلاۃ الجماعۃ و المسافر و الاجارہ" کے عنوان سے منتشر کیا ہے۔[72]
  • کتاب نبذۃ حول صلاۃ الجماعہ، یہ کتاب آیت اللہ بروجردی کے مباحث سے ماخوذ ہے جسے سید محمد تقی شاہرخی خرم‌آبادی نے مرتب اور انتشارات نصایح نے شایع کی ہے۔ اس کتاب میں نماز جماعت کے صحیح ہونے کی شرائط، جماعت کی اہمیت، احکام، امام کی شرایط اور اہل سنت کی اقتداء کے جائز ہونے اور نہ ہونے سے بحث کی ہیں۔[73]
  • نماز جماعت و برکات آن، یہ کتاب محمداسماعیل نوری کی تحریر ہے جسے انہوں نے فارسی زبان میں تحریر کی ہیں جس میں قرآن میں نماز جماعت، نماز جماعت کے آثار اور برکات، ترک نماز جماعتکا مذموم ہونا، نماز جماعت کی شرایط اور اس کے احکام سے متعلق بحث کی ہیں، اس کتاب کو انتشارات بوستان کتاب نے اس کی چوتھی ایڈیشن منتشر کی ہے۔[74]

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۷۶؛ ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۷۷.
  2. نراقی، مستند الشیعہ، ۱۴۱۶ق، ج۸، ص۱۱ـ۱۲؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۲۸۵۔
  3. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۲۹۵۔
  4. سورہ بقرہ، آیت ۴۳۔
  5. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۷۵۔
  6. کاشانی، زبدۃ التفاسیر، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۱۳۹؛ ملاصدرا، تفسیر القرآن الکریم، ۱۳۶۶ش، ج۳، ص۲۵۵۔
  7. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۳۷۱-۳۸۷؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۷۵-۴۰۹۔
  8. بروجردی، قبلہ ستر و ساتر و مکان مصلی، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۸۴۔
  9. ابن اثیر، جامع الاصول، ۱۴۰۳ق، ج۳، ص۴۱۴۔
  10. اشتہاردی، تقریر بحث السید البروجردی، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۸۴۔
  11. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۱۰ق، ج۸۵، ص۳۔
  12. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۲۸۷۔
  13. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص۳۲۵۔
  14. ابن حنبل، مسند، دار الصادر، ج۵، ص۱۴۰.
  15. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۱۰ق، ج۸۵، ص۱۵.
  16. شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۲۶۵؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۳۷۳.
  17. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۶، ص۴۴۶.
  18. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۱۰ق، ج۸۸، ص۱۱۹.
  19. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۶، ص۴۴۹.
  20. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۳۷.
  21. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۱۰ق، ج۸۸، ص۴.
  22. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۳۷۲.
  23. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۳۷.
  24. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۶، ص۴۴۹.
  25. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۱۰ق، ج۸۵، ص۴۳۴.
  26. زحیلی، الفقہ الاسلامی و ادلتہ، دار الفکر، ج۲، ص۱۱۶۷.
  27. نراقی، مستند الشیعہ، ۱۴۱۶ق، ج۸، ص۱۱ـ۱۲؛ ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۷۷۔
  28. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۶۱۔
  29. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۶۱۔
  30. موصلی، الاختیار لتعلیل المختار، ۱۹۸۴م، ج۱، ص۸۳؛ بہوتی حنبلی، کشاف القناع، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۵۵۲-۵۵۳؛ یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۶۳۔
  31. ابن اثیر، جامع الاصول، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۵۶۴-۵۶۶۔
  32. خطیب شربینی، مغنی المحتاج، دار الفکر، ج۱، ص۲۲۹ـ۲۳۰۔
  33. محقق حلی، المعتبر، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۱۵۔
  34. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۶۵؛ امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۳۸۷ش، ص۲۳۴۔
  35. شیخ صدوق، المقنع، ۱۴۱۵ق، ص۱۴۹؛ نراقی، مستند الشیعہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۶۔
  36. بحرانی، الحدائق الناضرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۱، ص۸۷۔
  37. جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۳۷۰ـ۳۷۱۔
  38. جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۳۷۰۔
  39. شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۲۸۔
  40. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۳۲۳۔
  41. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۳۲۵۔
  42. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۲۷۳-۲۷۵۔
  43. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۲۷۵۔
  44. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۳۲۴۔
  45. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج‌۱، ص۷۹۸۔
  46. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۳۳۶-۳۳۷۔
  47. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۲۷۳-۲۷۵۔
  48. نوری، مستدرک الوسایل، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۳۰۹، ج۸، ص۳۱۲۔
  49. شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۴۹؛ محقق حلی، المعتبر، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۳۲۔
  50. امام خمینی، الرسائل العشریہ، ۱۳۸۷ش، ص۶۳-۶۴۔
  51. نراقی، مستند الشیعہ، ۱۴۱۵ق، ج۸، ص۵۳-۵۴۔
  52. کمالی اردکانی، «بررسی فقہی اقتدای بہ اہل تسنن در حرمین شریفین»،
  53. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۷۴۔
  54. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۲۳۷۔
  55. علامہ حلی، تذکرۃ الفقہا، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۲۳۸۔
  56. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۳۸۷ش، ص۱۴۲، مسالہ ۸۹۴۔
  57. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۳۴۳۔
  58. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۳۸۷ش، ص۲۲۶، مسالہ ۱۴۶۱۔
  59. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۸۵۔
  60. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۸۸؛ یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۷۷۔
  61. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۷۷۷۔
  62. بحرانی، الحدائق الناضرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۱، ص۱۹۷؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۳، ص۳۴۸۔
  63. ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۸۱۔
  64. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۴.
  65. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۳.
  66. یزدی طباطبایی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۴.
  67. یزدی طباطبایی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۴.
  68. یزدی طباطبایی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۴.
  69. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۸۰۵.
  70. امام خمینی، توضیح المسائل، ص۲۲۹، مسالہ۱۴۸۹.
  71. ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۷۷.
  72. اصفہانی، بحوث‌ فی‌ الفقہ، ۱۴۰۹ق.‌
  73. «کتاب نبذۃة حول صلاۃ الجماعۃ کتاب نبذہ حول صلۃ الجماعۃ بہ زیور چاپ آراستہ شد».
  74. «کتاب نماز جماعت و برکات آن بہ چاپ چہارم رسید».


مآخذ

  • ابن اثیر الجزری، مبارک بن محمد، جامع الاصول فی احادیث الرسول، تصحیح عبدالقادر ارناؤوط، بیروت، دار بن الاثیر، ۱۴۰۳ق۔
  • ابن ادریس حلی، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۰ق۔
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند احمد بن حنبل، بیروت، دار صادر، [بی‌تا]۔
  • اصفہانی، محمدحسین، بحوث‌ فی‌ الفقہ‌: یحتوی علی‌، صلاہ‌ الجما‌عہ‌، صلاہ‌ المسا‌فر، الاجا‌رہ‌، قم، دفتر انتشا‌رات‌ اسلامی جا‌معہ‌ مدرسین‌ حوزہ‌ علمیہ‌ قم، ۱۴۰۹ق/ ۱۳۶۷ش۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، الرسائل العشرہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۷ش/۱۴۲۹ق۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، توضیح المسائل حضرت امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۷ش۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترہ الطاہرہ، تحقیق: محمدتقی ایروانی، سید عبدالرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۰۵ق۔
  • بروجردی، حسین، قبلہ ستر و ساتر و مکان مصلی، بہ تقریر علی‌پناہ اشتہاردی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۶ق۔
  • بہوتی حنبلی، منصور بن یونس، کشاف القناع عن متن الاقناع، تصحیح محمدحسن شافعی، بیروت، بی‌نا، ۱۴۱۸ق۔
  • جزیری، عبدالرحمان، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۲۴ق۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۹ق۔
  • خطیب شربینی، محمد بن احمد، مغنی المحتاج الی معرفۃ معانی الفاظ المنہاج، با تعلیقات جوبلی بن ابراہیم شافعی، بیروت، دار الفکر، [بی‌تا]۔
  • زحیلی، وہبۃ بن مصطفی، الفقہ الاسلامی و ادلتہ، دمشق، دار الفکر، بی‌تا۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، المقنع فی الفقہ، قم، مؤسسۃ الامام الہادی، ۱۴۱۵ق۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال، قم، دار الشریف، ۱۴۰۶ق،
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، کتابفروشی داوری، ۱۳۸۵ش۱۹۶۶م۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تصحیح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیۃ، تصحیح محمد تقی کشفی، تہران، مرتضویہ، ۱۳۸۷ش۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تصحیح: حسن موسوی خرسان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۰۷ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، موسسہ آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • کاشانی، ملا فتح اللہ، زبدۃ التفاسیر، قم، بنیاد معارف اسلامی، ۱۴۲۳ق۔
  • «کتاب نبذۃ حول صلاۃ الجماعۃ بہ زیور چاپ آراستہ شد»، سایت بلاغ، تاریخ درج مطلب: ۱۶ مہر ۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۲۰ آبان ۱۳۹۷ش۔
  • «کتاب نماز جماعت و برکات آن‌بہ چاپ چہارم رسید»، خبرگزاری فارس، تاریخ درج مطلب: ۱۳ تیر ۱۳۹۵ش، تاریخ بازدید: ۲۰ آبان ۱۳۹۷ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ق۔
  • کمالی اردکانی، حمید، «بررسی فقہی اقتدای بہ اہل تسنن در حرمین شریفین»، در مجلہ میقات حج، ش۹۸، زمستان ۱۳۹۵ش۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسسہ الطبع و النشر،۱۴۱۰ق۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسین، المعتبر فی شرح المختصر، تحقیق: محمدعلی حیدری و سید مہدی شمس الدین و سید ابومحمد مرتضوی و سید علی موسوی، قم، مؤسسہ سید الشہدا، ۱۴۰۷ق۔
  • ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، تفسیر القرآن الکریم، تصحیح: محمد خواجوی، قم، بیدار، ۱۳۶۶ش۔
  • موصلی، ابوالفضل عبداللّہ بن محمود ، الاختیار لتعلیل المختار، تعلیقات محمود ابودقیقہ، استانبول، بی نا، ۱۹۸۴م۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق۔
  • نراقی، احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، قم، موسسہ آل البیت، ۱۴۱۵ق۔
  • نراقی، احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۱۶ق۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ق۔
  • یزدی طباطبایی، سید محمدکاظم، العروہ الوثقی، بیروت، موسسہ اعلمی، ۱۴۰۹ق۔