شہید ثانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شہید ثانی
ذاتی کوائف
مکمل نام زین الدین بن نور الدین علی بن احمد عاملی جُبَعی
لقب شہید ثانی
نسب/قبیلہ خاندان سلسلۃ الذہب
مشہور اقارب جمال الدین حسن (صاحب معالم)، سید محمد باقر صدر، سید محمد علی عاملی (صاحب مدارک)
وفات/شہادت 955ق یا 965ق
دینی خدمات
وجۂ شہرت فقیہ، محدث
تالیفات روضۃ البہیہ(شرح اللمعۃ الدمشقیہ)، روض الجنان فی شرح ارشاد الاذہان، ...


زین الدین بن نور الدین علی بن احمد عاملی جُبَعی معروف شہید ثانی علامہ حلی کی نسل سے ہیں اور دسویں صدی ہجری کے نامور شیعہ علماء اور فقہاء میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ فقہ اسلامی کے عظیم ترین علماء میں سے ہیں اور کثیر کتب کے مؤلف ہیں۔ الروضۃ البہیہ فی شرح اللمعۃ الدمشقیہ ان کی مشہور ترین فقہی کاوش ہے۔ وہ سنہ 966 ہجری قمری میں جام شہادت نوش کرگئے۔ انھوں نے بہت سے علمی سفر کئے، بہت سے اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔

ولادت

شہید ثانی 13 شوال سنہ 911 ہجری قمری کو لبنان کے شیعہ علاقے جبل عامل کے نواحی گاؤں جُبَع میں پیدا ہوئے۔[1]

خاندان

شہید ثانی کے خاندان کے تمام افراد شیعہ علماء کے زمرے میں شمار ہوتے تھے حتی کہ ان کا خاندان "سلسلۃ الذہب" کے عنوان سے مشہور ہوا:

تعلیمی مراحل

شہید ثانی نے 9 سال کی عمر میں ناظرہ قرآن سے فراغت حاصل کی اور قرآن کو ختم کیا اور اس کے بعد حصول تعلیم میں مصروف ہوئے۔ ان کے پہلے استاد ان کے والد علی بن احمد عاملی تھے جن سے شہید نے عربی ادب میں محقق حلی کی کتاب مختصر النافع، شہید اول کی کتاب اللمعۃ الدمشقیہ اور بعض دیگر کتابیں پڑھ لیں۔

وہ سنہ 925 ہجری قمری میں والد کی وفات کے بعد تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے جبل عامل کے گاؤں "میس" چلے گئے اور ارشاد بن عبدالعالی میسی نے جو شہید کے خالو بھی تھے، آٹھ سال تک انہیں محقق حلی کی کتاب شرائع الاسلام اور علامہ حلی کی کتابیں ارشاد الاذہان اور قواعد الاحکام کی کتابیں پڑھائیں اور ان ساری کتابوں کا موضوع فقہ ہے۔

سفر و سیاحت

اس عظیم شیعہ عالم نے اپنی زندگی میں مختلف علاقوں کی طرف علمی سفر کیا اور سفر کے دوران بہت سے علماء سے فیض حاصل کیا۔

انھوں نے جبل عامل کے بعد کرک نوح کا سفر اختیار کیا اور نحو اور اصول کو سید جعفر کرکی سے حاصل کیا اور جبیع میں تین سال تک قیام کے بعد سنہ 937 ہجری قمری کو دمشق چلے گئے اور حکیم و فلسفی شیخ محمد مکی کو طب اور ہیئت کی بعض کتب پڑھ کر سنائیں اور شیخ احمد جابر کے درس میں حاضر ہوئے اور قرائت و تجوید کی کتاب شاطبیہ انہیں پڑھ کر سنائی اور تائید حاصل کی۔ شہید ثانی نے صحیح مسلم اور صحیح بخاری شمس الدین طولون کو پڑھ کر سنائی۔

انھوں نے سنہ 942 ہجری قمری میں مصر کی طرف عزیمت کی اور عربی علوم، اصول فقہ، معانی، [[علم بیان|بیان، عروض، منطق، تفسیر قرآن اور دیگر علوم کے حصول کے لئے وہاں کے 16 اساتذہ سے استفادہ کیا۔

شہید ثانی نے شوال 944 ہجری قمری میں زیارت خانۂ خدا کی توفیق پائی اور سنہ 646 ہجری قمری میں عراق جاکر ائمۂ اطہار(ع) کی زيارت کا شرف حاصل کیا۔ وہ ہر سفر سے وطن لوٹ کر اپنے آبائی گاؤں جبع میں قیام کرتے تھے۔

سنہ 948 ہجری قمری کو شہید نے "بیت المقدس" کا سفر اختیار کیا اور شیخ شمس الدین بن ابی اللطیف مقدّسی سے روایت کا اجازت نامہ حاصل کیا اور اپنے وطن پلٹ کر آئے۔

بعدازاں وہ روم شرقی کے سفر کی غرض سے روانہ ہوئے اور سنہ 949 ہجری قمری میں قسطنطنیہ پہنچے۔ شہید نے اس سفر میں اپنا رسالہ ـ جو دس علوم کے بارے میں تھا ـ قاضی عسکر محمد بن محمد بن قاضی زادہ رومی کے پاس بھجوایا اور ان سے ملاقات اور علمی مباحثہ کرنے کے بعد، قاضی رومی نے انہیں تجویز دی کہ اپنی پسند کے کسی بھی مدرسے میں تدریس کریں۔ شہید ثانی نے استخارہ کرنے کے بعد بعلبک کے "مدرسہ نوریہ" کو تدریس کے لئے منتخب کیا اور مذکورہ قاضی کی طرف سے اس مدرسے کا انتظام انہیں سونپ دیا گیا۔

شہید بزرگوار سنہ 953 ہجری قمری میں ائمۂ اطہار(ع) کے مراقد منورہ کی زیارت کے بعد جبع واپس چلے گئے اور اپنے موطن میں دائمی قیام کا فیصلہ کیا اور وہاں تدریس اور علمی کتب کی تالیف میں مصروف ہوئے۔[4]

مرجعیت

شہید ثانی بعلبک میں سکونت پذیر ہونے کے بعد، اپنی علمی شہرت کے سائے میں، علمی مرجعیت کے رتبے پر فائز ہوئے اور اس علاقے کے نامی گرامی علماء اور فضلاء دور افتادہ ترین علاقوں سے، علمی فیض کے حصول کے لئے ان کی طرف رجوع کیا اور ان کی علمی اور اخلاقی برکات سے بہرہ ور ہوئے۔ انھوں نے اس شہر میں جامع تدریس کا آغاز کیا؛ بایں معنی کہ، چونکہ وہ علمی لحاظ سے پنجگانہ مذاہب ـ جعفری، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی ـ سے پوری آگاہ تھے اور ان پر عبور کامل رکھتے تھے چنانچہ وہ پانچوں مذاہب کے مطابق شاگردوں کی تربیت کرتے تھے اور وہ درحقیقت فقہ مقارن اور تقابلی عقائد کی تدریس کرتے تھے۔ عام لوگ بھی اپنے اپنے مذاہب کے مطابق اپنے استفتائات کا جواب ان سے وصول کرتے تھے۔

مشاہیر اور علماء کا کلام

شیخ حر عاملی (متوفٰی 1104 ہجری قمری) شہید ثانی کے بارے میں لکھتے ہیں: ان کی شخصیت وثوق، علم و فضل اور زہد و پارسائی، عبادت اور پرہیزگاری، تحقیق و مہارت، جلالت قدر اور عظمت شان اور تمام فضائل و کمالات کے لحاظ سے، اس سے کہیں زيادہ مشہور ہے اس کا ذکر کرنے کی ضرورت پیش آئے اور ان کی خوبیاں اور اوصاف حمیدہ اس سے کہیں زيادہ ہیں کہ انہیں شمار کیا جاسکے اور ان کی تصانیف بھی مشہور ہيں۔[5]

شیعہ عالم رجال جناب تفرشی ان کے احوالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: شہید ثانی مکتب شیعہ کے تابندہ چہروں میں سے چمکتا دمکتا چہرہ اور ان کے موثق علماء میں سے ہیں۔ ان کی محفوظات کثیر اور مکتوبات پاکیزہ ہیں۔[6]

اساتذہ

  1. ان کے والد علی بن احمد عاملی جبعی، متوفٰی 925 ہجری قمری؛
  2. شیخ علی بن عبد العالی میسی متوفٰی 938 هجری؛
  3. دمشق کے حکیم اور فیلسوف، شیخ محمد بن مکی؛
  4. کرک نوح کے سید حسن بن جعفر کرکی؛
  5. دمشق کے شمس الدین طولون دمشقی حنفی؛
  6. شیخ ابو الحسن بکری؛
  7. بیت المقدس کے شیخ شمس الدین ابو اللطیف مقدسی؛
  8. ملا حسن جرجانی؛
  9. ملا محمد استر آبادی؛
  10. ملا محمد علی گیلانی؛
  11. شہاب الدین بن نجار حنبلی؛
  12. زین الدین حرّی مالکی؛
  13. شیخ ناصر الدین طلاوی کفعمی۔[7]

شاگرد

  1. شہید کے داماد، نور الدین علی بن حسین موسوی عاملی؛
  2. سید علی حسینی جزینی عاملی، المعروف بہ صائغ؛
  3. شیخ بہائی کے والد شیخ حسین عبدالصمد عاملی؛
  4. علی بن زہرہ جبعی؛
  5. سید نورالدین کرکی عاملی؛
  6. بہاء الدین محمد بن علی عودی جزینی، المعروف بہ ابن العودی؛
  7. شیخ محی الدین بن احمد میسی عاملی؛
  8. سید عزالدین حسین بن ابی الحسن عاملی؛
  9. شیخ تاج الدین بن ہلال جزائری۔[8]

تألیفات

  1. روض الجنان فی شرح ارشاد الاذہان؛
  2. مسالک الافہام فی شرح شرائع الاسلام؛
  3. الفوائد العملیہ فی شرح النفلیہ؛
  4. المقاصد العلیہ فی شرح الألفیہ؛
  5. مناسک الحج الکبیر و مناسک الحج الصغیر؛
  6. الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ؛
  7. رسالۃ فی شرح بسملہ؛
  8. حقائق الایمان؛
  9. منظومۃ فی النحو اور اس کی شرح؛
  10. تمہید القواعد الأصولیہ لتفریع الاحکام الشرعیہ؛
  11. غنیۃ القاصدین فی اصطلاحات المحدثین؛
  12. رسالۃ فی الأدعیہ
  13. رسالۃ فی آداب الجمعہ؛
  14. البدایۃ فی علم الدرایہ اور اس کی شرح، شہید ثانی اولین شیعہ عالم ہیں جنہوں نے درایۃ الحدیث میں اہم کتاب تالیف کی ہے؛[9]
  15. کتاب فی الأحادیث، یہ کتاب 1000 احادیث پر مشتمل ہے جن کو حسن بن محبوب کی کتاب "مشیخہ" سے منتخب کیا گیا ہے؛[10]
  16. منیۃ المرید فی ادب المفید و المستفید، یہ کتاب تعلیم و تعلم کے آداب پر مشتمل ہے جو بہت تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بہت مفید ہے؛
  17. مسکّن الفؤاد عند فقد الاحبۃ و الاولاد، یہ کتاب انھوں نے کئی فرزندوں کی وفات کے بعد اپنی اور دوسروں کی تسکین کے لئے تالیف کی ہے؛
  18. کشف الریبۃ عن احکام الغیبۃ.[11]

شہادت

جس طرح کہ ذرائع و منابع نے نقل کیا ہے، شہید ثانی نے دو افراد کے درمیان تنازعے میں ایک فریق کے خلاف فیصلہ سنایا تو انہیں روم کے سلطان کے حکم پر گرفتار کیا گیا۔ شہید کی درخواست پر انہیں زیارت خانۂ خدا مکہ لے جایا گیا اور وہاں سے انہیں سمندر کے راستے سے روم کے دارالحکومت قسطنطنیہ لے جایا گیا۔ اور سرکاری گماشتوں نے خودسرانہ طور پر ان کا سر تن سے جدا کیا اور ان کا جسم زمین پر چھوڑ دیا اور بعدازاں سمندر میں پھینک دیا۔[12] ان کی تاریخ شہادت سنہ 955 ہجری قمری ذکر کی گئی ہے لیکن سید محسن امین کے بقول انہیں سنہ 965 ہجری قمری میں شہید کیا گیا۔[13]

بیرونی روابط

پاورقی حاشیے

  1. امین العاملی، اعیان الشیعہ، ج7، ص143. الاعلام، ج3، ص64۔
  2. اعیان الشیعہ، ج7، ص144۔
  3. مفاخر اسلام، ج4، ص484۔
  4. امین العاملی، اعیان الشیعہ، ج7، ص147 - 152۔
  5. شیخ حر عاملی، امل الآمل، ج1، ص85۔
  6. تفرشی، نقد الرجال، ج2، ص292۔
  7. امین العاملی، اعیان الشیعہ، ج7، ص153 و 154۔
  8. امین العاملی وہی ماخذ، ج7، ص154۔
  9. امین العاملی، وہی ماخذ، ج7، ص145۔
  10. حر عاملی، امل الآمل، ج1، ص87۔
  11. حرم عاملی، امل الآمل، ج1، ص87. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج1، ص193، ج2، ص296، ج3،ص 58، ج4، ص433 و 452، ج5، ص278، ج11، ص126 و 275، ج20، ص378۔
  12. حر عاملی، امل الآمل، ج1، ص90 و 91۔
  13. امین العاملی، اعیان الشیعه، ج7، ص143


مآخذ

  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، 1403 ہجری قمری۔
  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دارالتعارف، بی‌ تا.
  • تفرشی، مصطفی بن حسین، نقد الرجال، قم، آل البیت، 1418 ہجری قمری۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، امل الآمل، بغداد، مکتبہ الاندلس، بی‌ تا.
  • دوانی، علی، مفاخر اسلام.