حدث اصغر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


حَدَثِ اَصغر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو وضو کے باطل ہونے کا سبب بنتی ہے یا اس حالت کو کہا جاتا ہے جو وضو کے باطل ہونے کے بعد انسان میں پیدا ہوتی ہے۔[1]

فقہا حدث کو حدث اکبر اور حدث اصغر میں تقسیم کرتے ہیں اور حدث اصغر سے ان کی مراد وہ چیزیں ہیں جو وضو کو باطل کر دیتی ہیں اور وہ یہ ہیں: پیشاب و پاخانے کا نکلنا، معدے اور آنتوں کی ہوا کا مقعد سے خارج ہونا، نیند کی وجہ سے آنکھوں کا نہ دیکھ سکنا اور کانوں کا سن نہ سکنا، دیوانگی، مستی و بے ہوشی وغیرہ کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا اور استحاضہ قلیلہ۔[2]

حدث اس چیز کو کہا جاتا ہے جو طہارت کے زائل ہونے کا سبب بنتی ہے۔[3] اس کے علاوہ فقہا کے کلام میں حدث اس حالت کو بھی کہا جاتا ہے جو پیشاب، منی اور حیض کے خارج ہونے کے بعد انسان پر طاری ہوتی ہے اور ایسی عبادتوں کی انجام دہی میں مانع بنتی ہے جن میں طہارت یعنی وضو یا غسل شرط ہے۔[4] حدث کے احکام توضیح المسائل اور دوسری فقہی کتابوں میں طہارت کے باب میں بیان کی جاتی ہے۔[5] جس شخص سے حدث سرزد ہوتی ہے اسے مُحْدِثْ کہا جاتا ہے۔[6]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۷ش، ج۳، ص۲۴۶-۲۴۸.
  2. فیض کاشانی، رسائل، ۱۴۲۹ق، ج۲، رسالہ۴، ص۲۲.
  3. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۷ش، ج۳، ص۲۴۶.
  4. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۶۳؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۷ش، ج۳، ص۲۴۶.
  5. مراجعہ کریں: شیخ انصاری، کتاب الطہارہ، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۴۳.
  6. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۴۶.


منابع