شہادت ثالثہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شہادت ثالثہ یا تیسری گواہی، شہادتین کے بعد حضرت علی (ع) کی ولایت کی گواہی دینے کو کہتے ہیں جسے عام طور پر ان الفاظ: أشهَدُ أَنّ عَلیاً ولی‌ُّ الله یا أشهَدُ أَنّ عَلیاً حُجَّةُ اللہ کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ شیعہ فقہی منابع میں مسلمان ہونے کیلئے شہادت ثالثہ کو لازمی نہیں کہا گیا۔ فقہی مقامات جیسے اذان اور اقامت کے ذیل میں اس کے متعلق بحث کی گئی ہے لیکن اسے اذان و اقامت کے اجزا میں سے شمار نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے اکثر فقہا کے نزدیک یہ حصہ اذان و اقامت کا جزو نہیں ہے لیکن اسے اذان و اقامت کا جز مانے بغیر قصد قربت کے ساتھ کہنا مستحب یا جائز ہے۔

مفہوم

شہادت ثالثہ یعنی شہادتین: توحید و نبوت، کی گواہی دینے کے بعد علی‌ بن ابی‌ طالب کی ولایت کی گواہی دینا ہے۔ عام طور پر یہ گواہی ان الفاظ:أشهَدُ أَنّ عَلیاً ولی‌ُّ الله یا أشهَدُ أَنّ عَلیاً حُجَّةُ اللہ کے ساتھ دی جاتی ہے۔ [1]

بعض روایات میں آیا ہے کہ جب بھی توحید اور رسالت کی گوہی دی جائے تو ولایت علی‌ بن ابی‌ طالب کی گواہی بھی دی جائے۔ [2] اذان و اقامت شہادت ثالثہ کی بحث کا اصلی مقام ہے۔ نیز تشہد نماز میں بھی اس سے بحث کی جاتی ہے۔ [3]

اذان و اقامت

اذان و اقامت میں شہادت ثالثہ سے متعلق بحث زیادہ تر تاریخی اور فقہی حوالے سے ہوئی ہے۔

تاریخچہ

مشہور ہے کہ شہادت ثالثہ صفویہ دور میں باقاعدہ طور پر شروع ہوئی۔ لیکن ایسے شواہد موجود ہیں کہ اس سے پہلے بھی بعض علاقوں میں کہیں کہیں کہی جاتی تھی۔ جیسا کہ ۸ویں صدی ہجری قمری کے ابن بطوطہ نے سعودی عرب کے شہر قطیف میں شیعہ اذان میں اشهد ان علیاً ولی‌ الله کا تذکرہ کیا ہے۔ [4] اسی طرح شیخ صدوق کا شہادت ثالثہ کے جواز سے متعلق روایات [5] کے بارے میں مخالفانہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس زمانے میں ایسے گروہ موجود تھے جو اذان میں شہادت ثالثہ کہتے تھے۔

عبد المحسن سراوی اَشْهَدُ اَنَّ علیاً وَلی‌ّ الله کی قدامت کو امویوں کے دور میں سمجھتا ہے اور اسے اس فعل شنیع کا عکس العمل کہتا ہے جس میں حاکمان وقت کی جانب سے منبروں پر اور گلدستۂ اذانوں پر حضرت علی(ع) کو لعن کرنے کی باقاعدہ رسم رائج تھی۔ [6]

کہا گیا ہے کہ عبد الله مراغی مصری نے اپنی کتاب السلافة فی أمر الخلافة میں روایت نقل کی ہے جس کے مطابق سلمان و ابو ذر رسول اللہ کے زمانے میں اذان میں شہادت ثالثہ کہتے تھے ۔[7] البتہ بعض مصنفین اس کتاب میں تردید رکھتے ہیں۔ [8]

فقہی اختلاف

شیعہ فقہ کے مطابق اشهد ان علیاً ولی‌ الله تشریعی اعتبار سے اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے شیعہ فقہا نے اسے اذان و اقامت کے اجزا میں ذکر نہیں کیا ہے۔[9] لیکن اذان و اقامت میں اس کے کہے جانے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال درج ذیل ہیں:

  • اذان و اقامت میں شہادت ثالثہ کہنا جائز نہیں ہے۔ شیخ صدوق شہادت ثالثہ کے جواز کی روایات کو غالیوں کی جعل کردہ سمجھتے ہیں۔[10] جبکہ شیخ طوسی کے مطابق یہ روایات شاذ ہیں اور جو کوئی اذان و اقامت میں کہتا ہے وہ گناہ کار ہے۔[11]
  • اذان و اقامت میں جز کی نیت کے بغیر شہادت ثالثہ کہنا مستحب یا جائز ہے؛[12] عبدالحلیم غزّی نے کتاب «الشہادة الثالثہ المقدسہ میں سو سے زیادہ فقہا کے فتاوا جمع کئے ہیں جن میں سے اکثر اذان و اقامت میں جزو اذان و اقامت کی نیت کے بغیر کہنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔[13] اس گروہ کی دلیل وہ روایات ہیں جو کسی شرط کے بغیر توحید و نبوت کے بعد ولایت علی کی گواہی دینے کو بیان کرتی ہیں۔ [14] نیز وہ فقہا شیخ صدوق اور شیخ طوسی کے مؤقف کو جز سمجھنے والوں کے بارے میں سمجھتے ہیں۔
  • شہادت ثالثہ کو اگر شیعہ مذہب کا شعار سمجھا جائے تو مستحب ہی نہیں بلکہ واجب ہے۔ آیت اللہ حکیم، شہادت ثالثہ کو اذان و اقامت میں جز کی نیت کے بغیر کہنے کو مستحب کہتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ زمانے میں شہادت ثالثہ، مذہب شیعہ کا شعار (پہچان) بن چکا ہے اس لحاظ سے مستحب بلکہ ممکن ہے واجب ہو.[15]
  • اذان و اقامت میں شہادت ثالثہ کا جز ہونا بعض فقہا مدعی‌ ہیں کہ شہادت ثالثہ جزو اذان و اقامت ہے۔[16] ان کا مستند وہ روایات ہیں جنہیں شیخ صدوق و شیخ طوسی مردود کہتے ہیں۔ ان میں سے بعض ان روایات سے استناد کرتے ہیں جنہیں مراغی مصری نے سلمان و ابوذر کے اذان و اقامت میں نقل کیا ہے۔[17] جبکہ بعض محققین کتاب کے مصنف کے مجہول الحال، کتابخانوں میں اس کتاب کی عدم موجودگی، ایسی احادیث کا شیعہ کتب میں موجود نہ ہونا جیسے دلائل سے استدلال کرتے ہوئے خود اس کتاب کے وجود میں شک و تردید کرتے ہیں۔ [18][19][نوٹ 1]

بعض شیعہ فقہا شہادت ثالثہ کو اذان و اقامت میں جزئیت کے قصد کے بغیر مستحب جانتے ہیں اور اس کے قصد جزئیت کے ہونے کو بعید نہیں سمجھتے ہیں۔ [20]، صاحب جواہر نے کہا:

اگر اصحاب و فقہا کا شہادت ثالثہ کے جز نہ ہونے پر اتفاق اور تسالم نہ پایا جاتا تو ہمارے پاس شہادت ثالثہ کے اذان و اقامت کے جز ہونے کی گنجائش موجود تھی۔[21]

نماز کا تشہد اور سلام

یوں تو فقہی استدلالی کی کتابوں اور مراجع عظام کی توضیحوں میں نماز کے تشہد میں شہادت ثالثہ بیان نہیں ہوئی ہے لیکن بعض شیعہ مراجع تقلید کے استفتائات میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اکثر موجود مراجع تقلید نماز کے تشہد میں شہادت ثالثہ کہنے کو جائز نہیں کہتے ہیں۔ [22] [نوٹ 2]لیکن بعض مصنفین مطلق روایات جیسے: جب توحید و رسالت کو گواہی دو تو ولایت علی گواہی بھی دو، [23] کی بنا ہر نماز کے تشہد میں شہادت ثالثہ کو جائز سمجھتے ہیں۔[24] اسی طرح بعض شیعہ فقہا بعض فقہا کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ وہ اس شہادت کو جائز سمجھتے تھے۔[25]

مسلمانوں کے نزدیک مسلمان ہونے کیلئے شہادتین کہنا کافی ہے نیز شیعہ فقہا بھی مسلمان ہونے کیلئے شہادت ثالثہ کہنے کو لازم نہیں سمجھتے ہیں۔[26]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. حکیم الہی، «شہادت ثالثہ از بدعت تا وجوب»، ص۱۴۵.
  2. طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۵۸؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، دار إحياء التراث العربي، ج۲۷، ص۱؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج‌۹، ص۸۷.
  3. ر.ک. حکیم الہی، شہادت ثالثہ از بدعت تا وجوب، ص۱۴۹.
  4. ابن بطوطہ، سفرنامہ (رحلہ) ابن بطوطہ، ۱۳۵۹ش، ج۱، ص۳۰۸.
  5. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۹۰.
  6. سراوی، القطوف الدانیہ، [۱۴۱۳ق]، ج۱، ص۵۵.
  7. مراغی مصری، السلافة فی أمر الخلافة، ص۳۲، بحوالہ: حسینی میلانی، الشہادة بالولایۃ فی الاذان، ۱۴۲۱ق، ص۲۵.
  8. کدیور، «نقد مستندات شہادت ثالثہ در اذان»؛ مہریزی، «پدیده ارجاع به کتاب‌ ہای خیالی و ساختگی».
  9. شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۷۸؛ شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۹۹؛ یزدی، العروة الوثقیٰ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۶۰۲؛ شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۹۰؛ علامہ حلی، منتہی المطلب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۳۷۴.
  10. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۹۰؛ شوشتری، النجعہ فی شرح اللمعہ، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۰۵.
  11. شیخ طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۶۹؛ شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۹۹؛ علامہ حلی، منتہی المطلب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۳۸۱.
  12. ر. ک: نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج‌۹، ص۸۷؛ علامہ مجلسی، بحارالانوار، دار إحياء التراث العربي، ج۸۱، ص۱۱۱؛ امام خمینی، الآداب المعنویہ للصلاة، ۱۴۰۶ق، ص۲۶۵.
  13. غزی، الشہادة الثالثہ المقدسہ، ۱۴۲۳ق، ص۳۶۱-۳۸۵.
  14. طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۵۸؛ علامہ مجلسی، بحارالانوار، دار إحياء التراث العربي، ج۲۷، ص۱؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج‌۹، ص۸۷.
  15. حکیم، مستمسک العروة الوثقی، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۵۴۵.
  16. غزی، الشہادة الثالثہ المقدسہ، ۱۴۲۳ق، ص۳۶۱-۳۸۵.
  17. مراغی مصری، السلافۃ فی أمرالخلافۃ، ص۳۲، بحوالہ: حسینی میلانی، الشہادة بالولایۃ الاذان، ۱۴۲۱ق، ص۲۵.
  18. مہریزی، «پدیده ارجاع به کتاب‌ ہای خیالی و ساختگی».
  19. کدیور، «نقد مستندات شہادت ثالثہ در اذان».
  20. غزی، الشہادة الثالثہ المقدسہ، ۱۴۲۳ق، ص۳۶۱-۳۸۵؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، دار إحياء التراث العربي، ج۸۱، ص۱۱۱.
  21. نجفی، جواہر الکلام، دار إحياء التراث العربي، ج‌۹، ص۸۷.
  22. ر. ک. امام خمینی، استفتاءات، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۶۷.
  23. طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۵۸؛ علامہ مجلسی، بحارالانوار، دار إحياء التراث العربي، ج۲۷، ص۱.
  24. حکیم الہی، شہادت ثالثہ از بدعت تا وجوب، ص۱۴۵.
  25. حکیم الہی، شہادت ثالثہ از بدعت تا وجوب، ص۱۴۹.
  26. ر.ک. نجفی، جواہرالکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۱، ص ۱۴۳، ج۴۱، ۶۳۰.
  1. پہلی مرتبہ عبدالنبی اراکی (۱۳۰۷-۱۳۸۵ق) نے کتاب «رسالۃ الہدایہ» میں کتاب «السلافۃ فی امر الخلافه» سے استناد کیا ہے۔ اس کے بعد سید محمد شیرازی (۱۳۰۷-۱۳۸۰ش) دوسری شخصیت ہے جس نے اس کتاب سے استناد کیا ہے۔ سید اسماعیل مرعشی (۱۳۴۰-۱۴۲۵ق)(حسینی مرعشی، اجماعیات فقہ الشیعہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۴۲، بحوالہ: مہریزی، «پدیده ارجاع به کتاب‌ ہای خیالی و ساختگی».)، سید علی شہرستانی دیگر ان افراد میں سے ہیں جنوں نے اس کتاب سے استناد کیا ہے۔ (شہرستانی، جایگاه «أشہد أن علیاً ولی اللہ» در اذان، ۱۳۸۸ش، ص۲۵۶.) بعض محققین مدعی ہیں کہ ان مذکورہ افراد میں سے کسی ایک نے بھی اصل کتاب یعنی السلافة فی أمر الخلافة نہیں دیکھی ہے۔ (ر. ک: مہریزی، «پدیده ارجاع به کتاب‌ ہای خیالی و ساختگی».)
  2. بعض مراجع کے نزدیک نماز کے تشہد میں صلوات کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں: اللّهمّ صلّ على محمّد و آل محمّد سيّما على اميرالمؤمنين خليفة رسول اللّٰه بلا فصل و على اولاده اوصيائه الطّاهرين البتہ اس سے یہ نماز کا جزو ہونا نہ سمجھا جائے۔(بہجت، استفتاءات، ۱۴۲۸ق، ج۲، ص۱۷۹.)

نوٹ


مآخذ

  • ابن بطوطہ، سفرنامہ (رحلہ) ابن بطوطہ، ترجمہ محمدعلی موحد، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۵۹ش.
  • امام خمینی، سید روح اللہ موسوی، استفتاءات، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۲۲ق.
  • امام خمینی، سید روح اللہ موسوی، الآداب المعنویہ للصلاة، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۶ق.
  • بہجت، محمد تقی، استفتاءات، قم، دفتر حضرت آیت اللہ بہجت، ۱۴۲۸ق.
  • حسینی میلانی، سید علی، الشہادة بالولایۃ فی الاذان، قم، مرکز الابحاث العقائدیة، ۱۴۲۱ق.
  • حکیم، سید محسن طباطبایی‌، مستمسک العروة الوثقی‌، قم، مؤسسہ دارالتفسیر‌، ۱۴۱۶ق.
  • سراوی، عبدالمحسن، القطوف الدانیہ، [دمشق]، [مرکز الابحاث العقائدیہ]، [۱۴۱۳ق].
  • شوشتری، محمد تقی‌، النجعہ فی شرح اللمعہ، تہران، کتاب‌فروشی صدوق‌، ۱۴۰۶ق.
  • شہرستانی، سید علی، جایگاہ «أشہد أن علیاً ولی اللہ» در اذان، ترجمہ سید ہادی حسینی، قم، دلیل ما، ۱۳۸۸ش.
  • شیخ صدوق، محمّد بن علی بن بابویہ، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‌، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن‌، الخلاف‌، بہ تصحیح علی خراسانی و سید جواد شہرستانی و مہدی طہ نجف و مجتبی عراقی‌، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‌، ۱۴۰۷ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن‌، المبسوط فی فقہ الإمامیةہ، تصحیح سید محمدتقی کشفی‌، تہران، المکتبہ المرتضویہ لإحیاء الآثار الجعفریہ، ۱۳۸۷ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن‌، النہایہ فی مجرد الفقہ و الفتاوی‌ٰ، بیروت، دارالکتاب العربی‌، ۱۴۰۰ق‌.
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف بن مطہر، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب‌، تحقیق بخش فقہ در جامعہ پژوہش‌ ہای اسلامی‌، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیہ، ۱۴۱۲ق.
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار إحياء التراث العربی.
  • غِزّی، عبدالحلیم، الشہادة الثالثہ المقدسہ، بیروت، دارالقاری، ۱۴۲۳ق.
  • کدیور، محسن، «نقد مستندات شہادت ثالثہ در اذان، سایت محسن کدیور، تاریخ درج مطلب: ۲ اردیبہشت ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۳ مرداد ۱۳۹۶ش.
  • مہریزی، مہدی، «پدیدہ ارجاع بہ کتاب‌ ہای خیالی و ساختگی»، سایت کتابخانہ تخصصی تاریخ اسلام و ایران، تاریخ درج مطلب: ۲۷ مہر ۱۳۹۳ش. بایگانی شدہ از نسخہ اصلی در ۵ شہریور ۱۳۹۵ش.
  • نجفی، محمدحسن‌، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام‌، تحقیق و تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی‌، بیروت، دار إحياء التراث العربی، چ۷، ۱۴۰۴ق.
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروة الوثقی فیما تعم بہ البلوی‌، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۹ق.
  • حکیم الہی، عبدالمجید، «شہادت ثالثہ از بدعت تا وجوب»، فقہ تاریخ تمدن، دورہ۴۸، تابستان ۱۳۹۵ش.

بیرنی لنک