قیاس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قیاس علم اصول فقہ کی ایک اصطلاح ہے۔ جو ایک موضوع کے شرعی حکم کو اس جیسے دوسرے ایسے موضوع میں جاری کرنے کو کہا جاتا ہے کہ جس کے لئے شریعت میں یہی حکم ذکر نہیں ہوا ہے۔ قیاس کی مختلف اقسام قیاس منصوصی (عربی میں منصوص العلہ)، قیاس استنباطی (عربی میں مستنبط العلہ)، قیاس اولویت اور تنقيح مناط ہیں۔ قیاس استنباطی (مُستَنبَطُ العلہ) کے متعلق اہل سنت اور شیعہ علما کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ مکتب تشیع کے علما، آئمہ کی روایات کے پیش نظر اسے معتبر نہیں سمجھتے ہیں جبکہ اہل سنت علما اس کو معتبر سمجھتے ہیں۔ابو حنیفہ وہ پہلا شخص ہے جس نے فقہ میں وسیع پیمانے پر اس سے استفادہ کیا۔ شیعہ اکثر علما قیاس مَنصوص، قیاس اولویت اور تنقيح مناط کو معتبر سمجھتے ہیں۔

تعریف

علم اصول میں ایک موضوع پر جاری ہونے والے حکم کو اس سے مشابہ ایسے موضوع پر حکم جاری کرنے کو کہتے ہیں جس کا حکم شریعت میں مذکور نہ ہو۔ مثلا دینی تعلیمات میں آیا ہے کہ انگور کی شراب پینا حرام ہے لیکن خرمے (کھجور) سے بنائی گئی شراب کا حکم بیان نہیں ہوا ہے لیکن یہ دلیل خرمے (کھجور) کی شراب انگور کی شراب کی مانند مست کرنے والی ہے لہذا خرمے کی شراب کا پینا بھی حرام ہے، قیاس ہے ۔[1]

  • اس بات کی جانب توجہ رہنی چاہئے کہ فقہ اور علم اصول فقہ میں استعمال ہونے والی قیاس کی اصطلاح علم منطق میں استعمال ہونے والی قیاس سے مختلف ہے۔ اصولی قیاس علم منطق کی رو سے تمثیل کہلاتا ہے۔ البتہ علم منطق میں (قیاس منطقی) معتبر استدلال کی شکل سمجھا جاتا ہے لیکن قیاس اصولی یا تمثیل کے اعتبار کے قائل نہیں ہیں۔ [2]

ارکان

اصولیوں کے مطابق قیاس چار ارکان سے تشکیل پاتا ہے:

  1. اصل: ایسے موضوع کا ہونا کہ جس کا حکم شریعت میں مذکور ہو جیسے انگور کی شراب پینے کی حرمت شریعت میں مذکور ہے۔
  2. فرع: مشابہ موضوع کا ہونا کہ جس کا حکم اسلامی تعلیمات میں مذکور نہ ہو جیسے کھجور کی شراب پینے کا حکم مذکور نہیں ہے۔
  3. علت یا جامع: اصل(موضوع) اور فرع (مشابہ موضوع) کے درمیان مشابہت کا ہونا جیسے انگور اور خرمے کی شراب میں مست کرنے کی خصوصیت ہونا۔
  4. حکم: اصل میں حکم شرعی کا ہونا جسے ہم فرع پر جاری کرنا چاہتے ہیں جیسے حرام ہونا۔[3]

اقسام

قیاس کی متعدد اقسام بیان ہوئی ہیں مثلا:

  • مَنصوصی: اسے عربی میں منصوص العلہ کہا جاتا ہے۔ ایسا قیاس جس کی اصل (موضوع) میں حکم کی علت مذکور ہو مثلا اگر روایت میں آیا ہو کہ انگور کی شراب مت پئیں کیونکہ وہ انسان کو مست کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت کا سبب اس کا مست کرنا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ لیا جائے گا کہ ہر وہ چیز جس کے اندر مست کرنے کی خصوصیت پائی جائے گی لہذا وہ بھی حرام ہو گی۔ایسے قیاس کو منصوص العلت کہتے ہیں۔ [4]
  • قیاس استنباطی :اسے عربی میں مستنبط العلہ کہتے ہیں۔ اصل میں حکم کی علت مذکور نہ ہو لیکن فقیہ حدس و گمان کی بنا پر اصل کے حکم کی علت بیان کرتا ہے۔اس قیاس کا دوسرا نام قیاس خفی ہے۔[5]
  • قیاس اولویت: اصل میں حکم کی علت کی نسبت فرع میں وہ علت زیادہ قوی صورت میں پائی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر اصل کا حکم حرمت ہو تو فرع میں حرمت قوی تر صورت میں موجود ہونی چاہئے اور اسی طرح اگر اصل میں وجوب کا حکم موجود ہے تو فرع میں وجوب کا حکم زیادہ قاطعیت اور یقینی صورت کے ساتھ موجود ہونا چاہئے جیسے قرآن کریم میں والدین کی نسبت «اُفّ» (اہانت آمیز کلمہ) کہنے سے روکا گیا ہے۔[6] پس انہیں اف کہنا حرام ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کو مارنا بھی حرام ہے کیونکہ انہیں اہانت آمیز کلمہ کہنے کی نسبت مارنا زیادہ بدتر ہے۔ [7]
  • تنقيح مناط: اس قسم میں جس موضوع کا حکم شرعی بیان ہوا ہوتا ہے اس کی خصوصیات کی تحقیق اور چھان بین کے ذریعے اس موضوع کے حکم کی علت کو کشف کیا جاتا ہے اور پھر ہر وہ فرع جس میں یہ علت پائی جاتی ہو اس میں وہی حکم جاری کرتے ہیں۔ [8] بعض اسے قیاس کی اقسام میں نہیں سمجھتے ہیں۔ [9]

اسلامی مذاہب کا نقطہ نظر

قیاس، شیعہ اور اہل سنت کے درمیان نظریاتی اختلافی مسائل میں ایک مشہور اختلافی مسئلہ ہے۔ شیعہ حضرات ائمہ طاہرین سے مروی کثیر تعداد میں قیاس سے منع کرنے والی روایات کی وجہ سے قیاس کو معتبر نہیں سمجھتے ہیں۔ مثلا تحف العقول میں حضرت علیؑ سے منقول ہے: «...دین میں قیاس مت کرو کیونکہ دین قیاس کو قبول نہیں کرتا ہے»[10]؛ اسی طرح امام صادق ؑسے نقل ہوا ہے کہ اگر سنت میں قیاس کیا جائے تو دین نابود ہو جائے گا۔[11] لیکن اس کے مقابلے میں اہل سنت اسے معتبر سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے فقہ میں جس نے قیاس بہت زیادہ استعمال کیا وہ ابو حنیفہ تھا البتہ کہتے ہیں: اس سے پہلے بھی قیاس کا استعمال رائج تھا جیسے خلفائے راشدین میں سے پہلے تین خلفا جن موضوعات کا حکم، شریعت میں مذکور نہ ہوتا تو وہ قیاس سے استفادہ کرتے تھے۔ [12]

قیاس کی مختلف اقسام کے پیش نظر اس بات کی جانب توجہ رہنی چاہئے کہ قیاس کی قسم مستنبط العلت اختلافی ہے کہ جو ایک ظنی امر ہے[13] جبکہ اکثر شیعہ فقہا قیاس اولویت، منصوص العلت اور تنقیح مناط کو معتبر سمجھتے ہیں۔ [14]

مناظرہ

شیخ مفید نے اختصاص میں قیاس کے بارے میں ابو حنیفہ اور امام صادقؑ درمیان ایک مناظرے کی روایت نقل کی ہے:

امام صادق: اے ابو حنیفہ تمہاری نظر میں زنا زیادہ بڑا گناہ ہے یا قتل نفس۔ ابو حنیفہ: یقینی طور پر قتل نفس۔ امام: پھر کیوں خدا نے قتل نفس میں دو آدمیوں کی شہادت کافی سمجھی لیکن زنا میں چار شہادتیں ضروری قرار دی ہیں۔ اسے کیسے قیاس کے ذریعے بیان کرو گے۔ اے ابو حنیفہ روزہ اور نماز میں کس کا ترک کرنا بدتر ہے؟ ابو حنیفہ: یقینا ترک نماز۔ امام: تو پھر کیوں عورت کیلئے حکم ہے کہ وہ حیض کے ایام میں قضا چھوٹنے والے روزوں کی قضا کرے لیکن ان ایام کی چھوٹنے والی نمازوں کی قضا نہیں ہے؟ اسے کیسے قیاس کے ذریعے بیان کرو گے۔ اے ابو حنیفہ تجھ پر وائے ہو! تجارت میں عورتیں ضعیف ہیں یا مرد؟ ابو حنیفہ: عورتیں۔ امام: تو پھر خدا نے کیسے ارث میں عورتوں کیلئے ایک حصہ اور مردوں کیلئے دو حصے رکھا ہے؟ اسے کیسے قیاس کے ساتھ بیان کرو گے؟ اے ابو حنیفہ! پاخانہ اور منی میں سے کون زیادہ نجس ہے؟ ابو حنیفہ: یقینی طور پر پاخانہ. امام: تو پھر خداوند پاخانے کی طہارت کیلئے صرف پانی بہانے کو کافی سمجھا لیکن منی کیلئے غسل ضروری کہا؟ اس کی کیسے قیاس کے ذریعے توجیہ کرو گے؟»[15]

حوالہ جات

  1. مشكينى، اصطلاحات الأصول و معظم أبحاثہا، ۱۳۷۴ش، ص۲۲۶.
  2. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۶۵۱.
  3. ولائی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول، ۱۳۸۷ش، ص۲۷۷.
  4. حسينى، الدليل الفقہى تطبيقات فقہيہ لمصطلحات علم الأصول، ۲۰۰۷م، ص۲۵۱، ۲۵۲.
  5. حسينى، الدليل الفقہى تطبيقات فقہيہ لمصطلحات علم الأصول، ۲۰۰۷م، ص۲۵۱، ۲۵۲.
  6. سورہ اسراء، آیہ ۲۳.
  7. حسينى، الدليل الفقہى تطبيقات فقہيہ لمصطلحات علم الأصول، ۲۰۰۷م، ص۲۵۱، ۲۵۲.
  8. جناتی، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، ص۹۶.
  9. جناتی، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، ص۹۶.
  10. ابن شعبہ حرّانی، تحف العقول، ۱۳۶۳ش، ص۱۰۵.
  11. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۷.
  12. جناتی، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، ص۷۱، ۷۲.
  13. جناتی، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، ص۹۲.
  14. جناتی، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، ص۹۲.
  15. شیخ مفید، اختصاص، ۱۴۱۳ق، ص۱۸۹، ۱۹۰.


مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن شعبہ حرانی، حسن بن على‏، تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق/۱۳۶۳ش.
  • جناتی، محمدابراہیم، «جایگاہ قیاس در منابع اجتہاد»، کیہان اندیشہ، ش۲۶، ۱۳۶۸ش.
  • حسينى، محمد، الدليل الفقہى تطبيقات فقہيہ لمصطلحات علم الأصول، دمشق، چاپ اول، ۲۰۰۷م.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق و تصحیح على‌اكبر غفارى و محمد آخوندى، تہران، دارالکتب الإسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.
  • مركز اطلاعات و مدارک اسلامى، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، قم، چاپ اول، ۱۳۸۹ش.
  • مشكينى اردبيلى، على، اصطلاحات الأصول و معظم أبحاثہا، قم، چاپ ششم، ۱۳۷۴ش.
  • مفيد، محمد بن محمد، الإختصاص، تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری، قم، ‏المؤتمر العالمى لالفيہ الشيخ المفيد، چاپ اول، ۱۴۱۳ق.
  • ولائى، عيسى، فرہنگ تشريحى اصطلاحات اصول، تہران، چاپ ششم، ۱۳۸۷ش.