علی بن محمد سمری

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ابو الحسن علی بن محمد سَمُرِیّ امام زمانہ (عج) کے چوتھے اور آخری نائب خاص ہیں جو حسین بن روح نوبختی کے بعد مرتبۂ نیابت پر فائز ہوئے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ ان کے مکاتبات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنجناب(ع) کے اصحاب میں سے تھے۔

حکومت کے شدید دباؤ اور ان کی مختصر مدت نیابت کے دوران سیاسی اور سماجی فضا پر چھائی ہوئی شدید گھٹن کی وجہ نائب چہارم تنظیم وکالت میں وسیع سرگرمیاں نہیں دکھا سکے۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی سفیروں اور امام زمانہ (عج) کے درمیان براہ راست رابطہ ختم ہوا اور غیبت کبری کا آغاز ہوا۔

نسب

سمري ایک دیندار شیعہ خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کا خاندان تنظیم امامیہ کی خدمت گزاری کے حوالے سے مشہور تھا اور ان کی یہی خاندانی شرافت سبب بنی کہ جب سفیر بنے تو انہیں زیادہ مخالفتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔[1]

اسماعیل بن صالح اور علی بن زیاد کے فرزند حسن اور محمد سمیت، اس خاندان کے کئی افراد بصرہ میں وسیع املاک و جائداد کے مالک تھے انھوں نے ان املاک کی نصف آمدنی گیارہویں امام(ع) کے لئے وقف کی تھی اور امام(ع) ہر سال مذکورہ آمدنی وصول کرتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے۔[2]

سمری کے بعض اعزاء و اقارب امام علی رضا علیہ السلام(ع) کے کارگزار تھے؛ منجملہ علی بن محمد بن زیاد، امام ہادی(ع) اور امام عسکری(ع) کے وکیل تھے جنہوں نے امام زمانہ (عج) کی امامت کے اثبات کی غرض سے الاوصیاء کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔[3]

علی بن زیاد صیمری نے بارہویں امام (عج) کو خط لکھا اور آپ(عج) سے ایک کفن کی درخواست کی۔ امام(عج) نے انہیں لکھا: تم کو سنہ 280ہجری قمری میں کفن کی ضرورت پڑے گی؛ صیمری نے سنہ 280ہجری قمری میں وفات پائی جبکہ امام(عج) نے ان کی وفات سے کچھ دن قبل ان کے لئے کفن بھجوایا تھا۔[4]

چوتھے نائب خاص کا لقب

چوتھے نائب خاص کا لقب "سَمَری (بفتح سین و میم) یا سَیْمَری یا سَیْمُری (بفتح سین و سکون یاء و ضم یا فتح میم) یا صَیْمَری (بفتح میم)" ہے، لیکن وہ اول الذکر لقب سے مشہور ہیں۔[5] "صیمری" یا "سیمری" کا لقب کتب رجال و حدیث میں کم ہی دکھائی دیتا ہے گوکہ بعض معاصرین نے ان کے حالات زندگی لکھتے ہوئے ان کا لقب " سَمُری" (بضم میم) صحیح تر قرار دیا ہے؛ کیونکہ یہ لقب بصرہ اور واسط کے درمیان واقع ایک گاؤں "سَمُر" سے منسوب ہے اور شیخ آقا بزرگ طہرانی نے یہ لقب "سَمَری" (بفتح میم) ثبت کیا ہے۔ [6]

امام حسن عسکری(ع) کے ساتھ قریبی تعلق

شیخ طوسی نے انہیں "علی بن محمد صیمری" کے عنوان سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمرے میں شمار کیا ہے۔[7]

حضرت امام حسن عسکری(ع) علی بن محمد سمری کے ساتھ مکاتبہ کرتے رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔

علی بن محمد سمری کہتے ہیں: "میں ابو احمد عبیداللہ بن عبداللہ پر وارد ہوا، دیکھا کہ امام عسکری(ع) کا خط ان کے سامنے ہے جس میں لکھا تھا: میں نے خداوند متعال سے التجا کی ہے کہ اپنی بلا اس سرکش شخص یعنی "زبیری" پر نازل فرمائے۔ اس شخص نے اس سے تین روز قبل آپ(ع) کو گرفتار کیا تھا اور جب تیسرا دن آن پہنچا تو بلا اس شخص پر نازل ہوئی"۔

نیز علی بن محمد سمری کہتے ہیں: "ابو محمد امام حسن عسکری(ع) نے مجھے لکھا: ایک فتنہ پیش آنے والا ہے جو تمہیں بھٹکا دے گا اور تم زدہ ہوجاؤگے، خبردار رہو اور اس سے دور رہو۔ تین روز بعد بنی ہاشم کے درمیان ایک واقعہ پیش آیا جو اس خاندان کے لئے بہت سی ناخوشگواریوں اور دشواریوں کا سبب بنا۔ میں نے امام(ع) کو خط لکھا اور پوچھا کہ کیا یہ وہی واقعہ ہے جو آپ نے فرمایا تھا؟ امام(ع) نے فرمایا: نہیں! اس کے سوا دوسرا واقعہ ہے، مکمل طور پر اپنی حفاظت کرو۔ چند روز بعد معتز عباسی کے قتل کا واقعہ پیش آیا"۔[8] اس خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام عسکری(ع) کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔

چوتھے سفیر

منقولہ روایات کے مطابق حسین بن روح نوبختی نے ابو الحسن علی بن محمد سمری کو اپنے جانشین کے طور پر مقرر کیا اور تمام شیعیان اہل بیت اور مکتب ولایت و امامت کے تمام پیروکاروں نے بغیر کسی اختلاف کے، ان کی جانشینی تسلیم کی۔

حسین بن روح نے سمری کی جانشینی اور نائب خاص کا اعلان [[امام زمانہ(عج) کے صریح حکم پر کیا تھا۔ گو کہ اس حوالے سے کوئی واضح اور متعین حدیث نقل نہیں ہوئی کہ امام زمانہ(عج) نے ایسا حکم حسین بن روح نوبختی کو دیا ہو۔ لیکن احادیث میں بطور عموم بیان ہوا ہے جس نائب کی وفات کا وقت آن پہنچے وہ امام(عج) کے حکم پر اپنا جانشین متعین کرتا ہے اور اس تعین و تقرر میں اس کی ذاتی رائے کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

احمد بن علی بن ابی طالب طبرسی اپنی کتاب الاحتجاج علی اہل اللجاج میں لکھتے ہیں: ان نُواب میں سے کوئی بھی اس اعلی منصب پر فائز نہیں ہوا مگر یہ کہ پہلے صاحب الامر کی طرف سے ان کی تقرری کا حکم جاری فرماتے تھے اور [آپ(عج) ہی کے حکم پر] سابقہ نائب اگلے نائب کی جانشینی کا اعلان کرتے تھے۔[9]

نیابت کا دور

ابو الحسن کو زیادہ فعالیت کے مواقع میسر نہیں تھے لہذا سابقہ نواب کی طرح وسیع سطح پر اقدامات نہیں کرسکے اور اپنے اور وکلاء کے درمیان تعلق میں خاص تبدیلیاں نہ لا سکے لیکن شیعہ ان کی جلالت اور وثاقت پر سابقہ نواب کی مانند، یقین کامل رکھتے تھے اور عام اہل تشیع کے درمیان قابل قبول تھے اور سب ان کے احکامات پر تہہ دل سے عمل کرتے تھے۔

شیخ صدوق کی روایت کے مطابق [ذیلی] وکلاء انہیں امام(عج) کے سچے وکیل سمجھتے تھے اور شرعی وجوہات ان کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔[10]

دوسری طرف سے سمری کی نیابت کے زمانے میں ظلم و ستم اور خونریزی کا عروج تھا، یہ نامناسب صورت حال ان کی سرگرمیوں کی قلت کا سبب تھی۔

چنانچہ انقطاع نیابت کی بنیادی وجہ علی بن محمد سمری کی وفات کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ گھٹن اور دباؤ کی فضا تھی جو عباسی حکام نے معاشرے پر مسلط کی تھی۔[11]

کرامات

علی بن محمد سمری سے بھی سابقہ نواب کی مانند کرامات وقوع پذیر ہوئیں اور شیعیان اہل بیت کے دل مطمئن تر ہوئے۔

(شیخ صدوق کے بھائی) حسین بن علی بن بابویہ روایت کرتے ہیں: "عمران بن صفار، علویہ صفار اور حسین بن احمد بن ادریس رحمۃ اللہ علیہم سمیت اہل قم کی ایک جماعت نے نقل کیا کہ جس سال کو میرے والد علی بن حسین بن موسی بن بابویہ نے وفات پائی وہ (مذکورہ اکابرین) بغداد چلے گئے تھے۔ علی بن محمد سمری ہر اس شخص سے میرے والد علی بن بابویہ کی خیر خبر پوچھتے تھے جس کو ان کے ساتھ قربت حاصل تھی۔ ہم بھی ان سے کہتے تھے کہ ہمیں خط ملا ہے کہ وہ بخیر و عافیت ہیں۔ یہاں تک کہ جس دن وہ وفات پاچکے تھے انھوں نے مجھ سے ان کے بارے میں معلوم کیا اور ہم نے وہی جواب دہرایا۔ لیکن انھوں نے کہا: خداوند متعال علی ابن حسین کی وفات کے صلے میں تمہیں اجر دے؛ کیونکہ وہ اسی لمحے دنیا سے رخصت ہوئے۔ ہم نے اس لمحے اور تاریخ کو یادداشت کیا۔ سترہ یا اٹھارہ روز گذرے تھے کہ ہمیں خبر ملی کہ علی بن حسین بابویہ اسی روز اور اسی لمحے وفات پاچکے تھے جو شیخ ابوالحسن سمری نے ہمیں بتایا تھا۔[12]

شیخ صدوق کہتے ہیں: ابوالحسن صالح بن شعیب طالقانی - رضی اللہ عنہ – نے ذوالحجہ سنہ 339ہجری قمری میں میرے لئے نقل کیا کہ احمد بن ابراہیم مخلد کہتے تھے: میں بغداد میں مشائخ ـ رضی اللہ عنہم ـ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس مجلس میں ابوالحسن علی بن محمد سمری نے بات کا آغاز کیا اور کہا: کہ اللہ تعالی (شیخ صدوق کے والد) علی بن بابویہ قمی پر رحمت کرے۔ اس مجلس میں حاضر مشائخ نے ان کی اس بات کو مکتوب کیا یہاں تک کہ خبر ملی کہ علی بن بابویہ اسی روز دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔[13]

یہ واقعات اس حقیقت کی دلیل ہیں کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کے سچے نائب ہیں اور آپ(عج) ہی کے حکم سے نیابت کے منصب کے لئے متعین ہوچکے ہیں۔

آخری نائب کی وفات

ابوالحسن علی بن محمد سمری 15 شعبان سنہ 329ہجری قمری / 15 مئی سنہ 941عیسوی کو وفات پاگئے اور "ربع المحول" میں واقع شارع خلجانی میں مدفون ہوئے۔[14] ربع المحول بغداد کے مغرب میں براثا نامی گاؤں کے شمال میں واقع میں ہے۔

انقطاع نیابت

ابوالحسن علی بن محمد سمری کی وفات کو ابھی چھ دن باقی تھے کہ امام زمانہ(عج) کی جانب سے ایک توقیع صادر ہوئی جس میں آپ(عج) نے تحریر فرمایا تھا:

"بسم الله الرحمن الرحيم
اے علی بن محمد سمری! خداوند متعال تمہارے حوالے (یعنی تمہاری موت کے حوالے سے) تمہارے بھائیوں کو اجر عطا فرمائے؛ کیونکہ تم 6 دن بعد وفات پاؤگے۔ اسی لئے تیاری کرو اور کسی کو بھی جانشین مت بناؤ کیونکہ ابھی سے غیبت کبری کا آغاز ہوچکا ہے اور طویل عرصے تک ـ جب خداوند متعال اذن عطا فرمائے گا ـ ظہور نہیں ہوگا حتی کہ لوگوں کے دل سنگدلی اور قساوت سے اور دنیا ظلم و جور سے پر ہوجائے اور لوگ ہمارے پیروکاروں کی طرف آئیں اور دعوی کریں کہ "انھوں نے میرا دیدار کیا ہے"، لیکن جان لو اور آگاہ رہو کہ جو بھی سفیانی کے خروج اور آسمانی چیخ سے قبل میرے دیدار کا دعوی کرے وہ جھوٹا اور بہتان تراش ہے[15][16][17]

توقیع صادر ہونے کے 6 دن بعد، مرکزی وکلاء چوتھے سفیر کی بالین پر حاضر ہوئے اور پوچھا: آپ کے بعد کون آپ کا جانشین ہوگا؟ سمری نے جواب دیا: "امر، خدا کا امر ہے اور وہ خود ابلاغ فرمائے گا: (لله امر هو بالغه)"۔[18]

یہ آخری کلام تھا جو ابوالحسن علی بن محمد سمری کی زبان پر جاری ہوا۔ اس کے بعد امام زمانہ(عج) اور سفراء کے درمیان براہ راست تعلق کا خاتمہ ہوا۔ بالفاظ دیگر غیبت صغری اختتام پذیر ہوئی اور ایک متاخرہ ماخذ کی عبارت کے مطابق "غیبت کبری کا آغاز ہوا"۔

قول مشہور یہی ہے کہ چوتھے نائب سنہ 329ہجری قمری کو وفات پاچکے ہیں لیکن شیخ صدوق[19] اور فضل بن حسن طبرسی[20] کہتے ہیں کہ ابو الحسن علی بن محمد طبرسی 15 شعبان المعظم سنہ 228ہجری قمری کو خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت، ص210.
  2. مسعودی، اثبات الوصیة، ص217 -216.
  3. مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص313۔
  4. طوسی، الغبیة، ص283-284.
  5. صدر، تاريخ الغيبة الصغری، ص414۔
  6. آقا بزرگ طہرانی، نوابغ الرواة، ص200.
  7. طوسی، رجال، ص389.
  8. اربلی، کشف الغمه، ج2، ص417.
  9. طبرسی، احمد بن علی، احتجاج، ج2، ص478.
  10. صدوق، کمال الدین، ج2، ص517.
  11. صدر، تاریخ الغیبة الصغری، ص414.
  12. طوسی، الغیبة، ص395.
  13. صدوق، کمال الدین، ج2، ص503۔
  14. طوسی، الغیبة، ص396، حدیث 367۔
  15. اربلی، کشف الغمه، ج2، ص530۔
  16. طبرسی، احمد بن علی، احتجاج، ج2، صص555-556۔
  17. صدوق، کمال الدین، ج2، ص516۔
  18. طوسی، الغیبة، ص395۔
  19. صدوق، کمال الدین، ج2، ص503، روایة 32۔
  20. طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری، ج2، ص260۔


مآخذ

  • آقا بزرگ‌ الطهراني‌، شیخ محمد محسن، نوابغ الرواه في رابعه المئات، ناشر: مركز اطلاعات و مدارك اسلامي، تحقيق:‌ علي‌ نقي‌ منزوي‌، 1378هجری شمسی۔
  • ابن بابویه، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمة، تصحیح و تعلیق علی اکبر غفاری، دار الکتب الاسلامیه، تهران،  1359 ش.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، تعلیقه هاشم رسولی، بنی هاشمی، تبریز.
  • حسین، جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم (عج)، ترجمه محمد تقی آیت اللهی، امیرکبیر، تهران،  1385 ش
  • صدر، سید ‌محمد، موسوعه الامام المهدی (ع): تاریخ الغیبه الصغری۔ قم؛ موسسه دار المجتبی۔ 1384۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، تحقیق ابراهیم بهادری، باشراف جعفر سبحانی تبریزی، تحقیق محمد هادی، اسوه، قم.

الطبرسي، الفضل بن الحسن، إعلام الورى بأعلام الهدى، مؤسسة ال البيت عليهم السلام لاحياء التراث۔ قم المشرفة۔ الطبعة الأولى - 1417هجری قمری۔

  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، تحقیق جواد قیومی اصفهانی، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم، قم، 1415هجری قمری / 1373 هجری شمسی۔
  • طوسی، الغیبة، تصحیح علی احمد ناصح، عبادالله طهرانی، موسسه المعارف الاسلامیه، قم.
  • مسعودی، علي بن حسين، إثبات الوصیة للإمام علیّ بن أبی طالب، ناشر:انصاریان۔ قم ۔ 1384هجری شمسی۔