حماد بن عیسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حماد بن عیسی
معلومات شخصیت
مکمل نام حماد بن عیسی جہنی
دینی مشخصات
وجہ شہرت امام صادق (ع) و امام کاظم (ع) کے صحابی، اصحاب اجماع


حَمّاد بن عیسی جُہَنی، دوسری صدی ہجری کے شیعہ اثنا عشری محدث اور فقیہ ہیں۔ انہوں نے امام جعفر صادق (ع) اور امام موسی کاظم (ع) سے روایات نقل کی ہیں۔ بعض نے انہیں امام علی رضا (ع) اور امام محمد تقی (ع) کا معاصر بھی کہا ہے۔ منابع حدیثی شیعہ میں ان سے ۱۵۰۰ سے زائد روایات نقل ہوئی ہیں جن میں سے اکثر احکام سے متعلق ہیں۔ ان سے امامت و اخلاق کے موضوعات پر بھی روایات ذکر ہوئی ہیں۔ بعض کتابیں بھی ان کی طرف منسوب ہیں۔

شیعہ ماہرین رجال نے ان کی توصیف میں ثقہ و صدوق جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ لیکن زیادہ تر اہل سنت علمائے رجال نے انہیں ضعیف اور بعض نے جعل حدیث سے متہم کیا ہے۔

سوانح حیات

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

بعض نے حماد بن عیسی کو غلام[1] اور بعض عرب[2] اہل کوفہ[3] ذکر کیا ہے۔ وہ بعد میں بصرہ میں مقیم ہو گئے[4] اس لئے انہیں بصری کہا جاتا ہے۔[5] اس نظریہ کی تائید ان کے لقب جہنی سے ہوتی ہے جس کا انتساب قبیلہ جہینہ سے ہے جو فضاعہ عرب قبائل کا ایک قبیلہ ہے[6] جس نے کوفہ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔[7]

ان کے جد عبیدہ بن صیفی جہنی، اصحاب پیغمبر اکرم (ص) میں سے تھے۔ حماد نے اپنے والد کے واسطہ سے ان سے روایت نقل کی ہے۔[8]

سن 209 ھ میں[9] 90 برس سے زائد عمر میں[10] ان کی وفات ہوئی۔ ایک قول کے مطابق امام موسی کاظم (ع) نے ان کے حق میں دعا کی تھی کہ انہیں 50 حج نصیب ہوگا۔ جب وہ اپنے 51 ویں حج کے لئے روانہ ہوئے تو اس سیلاب میں جو جحفہ سے مسجد شجرہ اور وہاں سے مدینہ تک جاری تھا، غرق ہو گئے اور اسی سبب سے وہ غریق الجحفہ بھی مشہور ہیں،[11] ان کی قبر مدینہ کے پاس تھی۔[12]

ان کے معاصر ائمہ (ع)

حماد امام صادق، امام کاظم، امام رضا اور امام تقی (علیہم السلام) کے ہم عصر رہے ہیں۔[13] وفات کے وقت ان کی عمر کے مد نظر وہ احتمالا سن 110 سے 120 ھ تک پیدا ہوئے ہوں گے اور اس لحاظ سے امام جعفر صادق (ع) (شہادت 148 ھ) کے معاصر رہے ہیں۔ بعض نے نقل کیا ہے کہ وہ امام علی رضا (ع) کے زمانہ (شہادت 203 ھ) تک زندہ تھے۔[14] البتہ بہاء الدین اربلی نے[15] ان کی امام محمد تقی (ع) سے ملاقات کا تذکرہ کیا ہے۔ حماد کا شمار امام صادق، امام کاظم و امام رضا علیہم السلام کے مشترک روات میں ہوتا ہے۔[16] حالانکہ ان کی امام رضا اور امام جواد علیہما السلام سے نقل شدہ کوئی بھی روایت محفوظ نہیں ہے۔

خصوصیات

علامہ حلی کے قول کے مطابق حماد نقل حدیث کے معاملہ میں اہل دقت و محتاط تھے۔[17] یہی سبب ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق (ع) سے 70 احادیث سماع کرنے کے باوجود اطمینان کی خاطر فقط آپ سے 20 روایات نقل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔[18]

علمائے رجال کے نظریات

شیعہ علماء

حماد بن عیسی شیعہ و اہل سنت کے مشترک راویوں میں سے ہیں۔ شیعہ ماہرین رجال نے ثقہ و صدوق جیسے الفاظ میں ان کی توصیف کی ہے۔[19] شیخ طوسی[20] کے مطابق امام موسی کاظم (ع) کے بعض اصحاب امام رضا (ع) کے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے واقفیہ والے عقیدہ سے پلٹ گئے اور ان کی امامت کو قبول کر لیا۔ ان افراد میں حماد کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ حالانکہ دوسرے کسی منابع میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔ کشی نے[21] حماد کا شمار امام صادق (ع) کے چھ فقیہ راویوں میں سے کیا ہے اور کہا ہے کہ شیعہ ان کی روایات کی صحت، ان کے منقولات کی تصدیق اور ان کی فقاہت پر اجماع رکھتے ہیں۔ اس گروہ کے افراد امام صادق (ع) کے نستبا جوان طبقہ کے دانشمند ترین شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔

اہل سنت علماء

اہل سنت علماء میں سے فقط یحیی بن معین نے انہیں شیخ صالح قبول کیا ہے[22] اور دوسرے افراد نے انہیں ضعیف اور حتی افتراء اور جعل حدیث سے متہم کیا ہے۔[23] اس کے باوجود اہل سنت محدثین نے اپنی کتابوں میں ان کی روایات کو امام صادق (ع) سے حنظلہ بن ابی سفیان جمحی، سفیان ثوری اور ابن جریح کے واسطے سے نقل کیا ہے۔[24]

راوی حدیث

۱۸۰۰ سے زائد احادیث کے سلسلہ سند میں حماد کا نام موجود ہے۔[25] یہ حماد ممکن ہے حماد بن عیسی ہوں یا حماد بن عثمان اور اس بات کی شناخت کے لئے کہ کس سلسلہ سند میں کون سے حماد ہیں، دوسرے قرائن بھی ذکر ہوئے ہیں جیسے اس بات کی تحقیق کی جائے کہ حماد نے کس امام سے حدیث نقل کی ہے۔ اگر انہوں نے حریز بن عبد اللہ سجستانی کے واسطہ سے روایت نقل کی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس حماد سے مراد حماد بن عیسی ہیں اور اگر حماد نے عبید اللہ بن علی حلبی کے واسطہ سے حدیث نقل کی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس حماد سے مراد حماد بن عثمان ہیں۔[26] اس کے علاوہ حماد بن عیسی کا نام ۱۰۳۶ روایات[27] کے سلسلہ سند میں ذکر ہوا ہے۔ روایات کی اس کثرت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے محدث گزرے ہیں۔

ان سے منقول روایات کے متن کی تحقیق

حماد سے منقول احادیث کے متن کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ احکام سے متعلق روایات کے نقل و ثبت کے سلسلہ میں زیادہ اہتمام کرتے تھے اور اس سلسلہ میں ان کا شمار کثرت سے نقل کرنے والوں میں ہے۔ ان سے امامت و اخلاق کے بارے میں بھی روایات نقل ہوئی ہیں۔[28] انہوں نے سب سے زیادہ امام صادق (ع) اور امام کاظم (ع)[29] سے تقریبا ۵۰ راویوں کے واسطے سے جن میں سے زیادہ تر حریز بن عبد اللہ سجستانی سے جس میں ان کی کتاب کتاب الصلاۃ حریز بھی شامل ہے، سے نقل کی ہیں۔[30]

صحیحہ حماد

آداب و کیفیت نماز کے بارے میں ایک روایت صحیحہ حماد کے نام سے شیعہ کتب حدیث میں وارد ہوئی ہے[31] جو شیعہ امامیہ فقہاء کے نزدیک مقبول و معتبر سمجھی جاتی ہے۔[32]

ان سے نقل شدہ روایات کے راوی

۴۰ سے زیادہ راویوں نے بلا واسطہ ان سے روایات نقل کی ہیں۔[33] جن میں سب سے زیادہ ابراہیم بن ہاشم نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ بعض اسانید میں غلطی سے ابراہیم بن ہاشم کا نام حماد بن عثمان سے نقل کرنے والے راوی کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ جبکہ ابراہیم بن ہاشم نے حماد بن عثمان کا زمانہ درک نہیں کیا ہے اور احتمالا ان اسناد میں تصحیف یا حذف پیش آئی ہے۔[34]

تالیفات

حماد کی طرف چند کتابوں کی نسبت دی گئی ہے جیسے کتاب الصلاۃ، کتاب الزکاۃ و کتاب النوادر۔[35] جن میں احتمالا حزیر بن عبد اللہ سجستانی کے رسالے شامل ہیں۔[36] جیسا کہ ائمہ (ع) کے بہت سے اصحاب کے اصول اور سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب ان کے واسطہ سے نقل ہوئی ہے۔[37] ان کی دیگر تصںیف مسائل التلمیذ و تصنیفہ کے نام سے ہے جس میں وعظ و نصیحت، توحید کے مطالب اور انسان و حیوانات سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ جن کے بارے میں حماد نے امام صادق (ع) سے سوال کئے اور آپ نے ان کے جواب مرحمت فرمائے۔[38] ابو غالب رازی[39] نے بھی حماد سے منقول روایات کے ایک مجموعہ کو تحریر کیا ہے جو ان کے بقول حماد کی ایک کتاب سے ماخوذ ہیں۔

حوالہ جات

  1. برقی، رجال البرقی، ص۲۱، ۴۸؛ نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۲
  2. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۲
  3. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۳۱۷؛ طوسی، رجال الطوسی، ص۱۸۷
  4. برقی، رجال البرقی، ص۲۱
  5. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۳۱۶
  6. سمعانی، ج۲، ص۱۳۴
  7. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۳۱۷
  8. ابن ماکولا، الاکمال فی رفع الارتیاب، ج۶، ص۴۷ـ۴۸؛ ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، ج۳، ص۳۵۶
  9. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۳
  10. شوشتری، قاموس الرجال، ج۳، ص۶۶۲؛ خویی، معجم رجال الحدیث، ج۶، ص۲۲۸
  11. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۲طوسی، رجال الطوسی، ص۱۸۷
  12. بہاء الدین اربلی، کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، ج۳، ص۵۱۸
  13. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۲، بہاء الدین اربلی، کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، ج۲، ص۴۱۸ـ۴۱۹، ج۳، ص۱۵۷
  14. الاختصاص، منسوب بہ شیخ مفید، ص۲۰۵
  15. اربلی، کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، ج ۳، ص۱۵۷
  16. برقی، رجال البرقی، ص۲۱، ۴۸، ۵۳؛ طوسی، رجال الطوسی، ص۱۸۷، ۳۳۴
  17. علامہ حلی، خلاصة الاقوال، ص ۱۲۴
  18. کشّی، اختیار معرفة الرجال، ص۳۱۶
  19. طوسی، فہرست کتب الشیعہ و اصولہم، ص۱۵۶؛ طوسی، رجال الطوسی، ص۳۳۴
  20. طوسی، کتاب الغیبہ، ص۷۱
  21. کشی، اختیار معرفة الرجال، ص۳۷۵
  22. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۰، ص۴۹؛ ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، ج۵، ص۶۳
  23. ابو داوود، سؤالات، ج۱، ص۳۶۰، ج۲، ص۱۲۶؛ ابن ابی حاتم، کتاب الجرح و التعدیل، ج۳، ص۱۴۵؛ ابن حِبّان، کتاب المجروحین من المحدثین و الضعفاء و المتروکین، ج۱، ص۲۵۳ـ ۲۵۴
  24. ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، ج۲، ص۱۳۸۰؛ ترمذی، سنن الترمذی، ج۵، ص۱۳۱ـ۱۳۲؛ طبرانی، المعجم الاوسط، ج۴، ص۲۳۵، ج۷، ص۱۲۴؛ ابو نعیم اصفہانی، جزء فیہ طرق حدیث «‌ان اللّه تسعة و تسعین اسمآ »، ص۱۵۲ـ۱۵۵
  25. خویی، ج۶، ص ۱۸۹
  26. شوشتری، ج۳، ص۶۶۳
  27. خویی، ج۶، ص۲۱۶
  28. اردبیلی، جامع الروات، ج۱، ص۲۷۳ـ۲۷۶
  29. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۶، ص۲۳۱، ۴۲۲ـ۴۲۴
  30. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۶، ص۱۸۹، ۲۳۱، ۴۲۶ـ۴۳۷
  31. کلینی، الکافی، ج۳، ص۳۱۱ـ۳۱۲؛ ابن بابویہ، کتاب مَن لایحضُرُه الفقیہ، ج۱، ص۳۰۰؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ج۲، ص۸۱ـ۸۲
  32. ابن شہید ثانی، منتقی الجمان فی الاحادیث الصحاح، ج۲، ص۶۴ـ۶۵
  33. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۶، ص۲۳۱ـ۲۳۲
  34. شوشتری، قاموس الرجال، ج۳، ص۶۵۲، ۶۵۹
  35. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۲ـ۱۴۳؛ طوسی، فہرست کتب الشیعہ و اصولہم، ص۱۵۶
  36. طوسی، فہرست کتب الشیعہ و اصولہم، ص۱۶۲
  37. طوسی، فہرست کتب الشیعہ و اصولہم و اسماء المصنفین و اصحاب الاصول، ص۲۲، ۱۹۵، ۲۳۰، ۲۳۵
  38. ابن غضائری، الرجال لابن الغضائری، ص۱۲۳؛ نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۴۳
  39. زراری، رسالہ ابی غالب الرازی، ص۱۷۸


مآخذ

  • آقا بزرگ طہرانی.
  • ابن ابی حاتم، کتاب الجرح و التعدیل، حیدرآباد، دکن ۱۳۷۱ـ۱۳۷۳/ ۱۹۵۲ـ۱۹۵۳، چاپ افست بیروت، بی‌ تا.
  • ابن اثیر، اسد الغابة فی معرفة الصحابہ، تہران: انتشارات اسماعیلیان، بی ‌تا.
  • ابن بابویہ، کتاب مَن لایحضُرُه الفقیہ، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۴۱۴.
  • ابن حِبّان، کتاب المجروحین من المحدثین و الضعفاء و المتروکین، چاپ محمود ابراہیم زاید، حلب ۱۳۹۵ـ۱۳۹۶/ ۱۹۷۵ـ۱۹۷۶.
  • ابن شہید ثانی، منتقی الجمان فی الاحادیث الصحاح، الحسان، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۲ـ۱۳۶۵ش.
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۵ـ۱۴۲۱/ ۱۹۹۵ـ۲۰۰۱.
  • ابن غضائری، الرجال لابن الغضائری، چاپ محمد رضا حسینی جلالی، قم ۱۴۲۲.
  • ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، چاپ محمد فؤاد عبد الباقی، (قاہره ۱۳۷۳/ ۱۹۵۴)، چاپ افست (بیروت، بی ‌تا.
  • ابن ماکولا، الاکمال فی رفع الارتیاب عن المؤتلف و المختلف من الأسماء و الکنی و الأنساب، چاپ عبد الرحمان بن یحیی معلمی یمانی، حیدرآباد، دکن ۱۳۸۱ـ۱۴۰۶/ ۱۹۶۲ـ۱۹۸۶.
  • سلیمان بن اشعث ابو داوود، سؤالات ابی عبید الآجری أبا داود سلیمان بن الاشعث السجستانی، چاپ عبد العلیم عبد العظیم بستونی، بیروت ۱۴۱۸/۱۹۹۷.
  • ابو نعیم اصفہانی، جزء فیہ طرق حدیث «‌ان اللّه تسعة و تسعین اسمآ »، چاپ مشہور بن حسن بن سلمان، مدینہ (۱۴۱۳).
  • الاختصاص، (منسوب بہ) محمد بن محمد مفید، چاپ علی اکبر غفاری، قم: جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، بی ‌تا.
  • محمد بن علی اردبیلی، جامع الروات و ازاحة الاشتباہات عن الطرق و الاسناد، بیروت ۱۴۰۳/ ۱۹۸۳.
  • احمد بن محمد برقی، رجال البرقی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، (تہران) ۱۴۱۹.
  • علی بن عیسی بہاءالدین اربلی، کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، بیروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵.
  • محمد بن عیسی ترمذی، سنن الترمذی، ج۵، چاپ عبد الرحمان محمد عثمان، بیروت ۱۴۰۳.
  • خوئی، ابو القاسم، معجم رجال الحدیث.
  • محمد بن احمد ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، چاپ بشار عواد معروف، بیروت ۱۴۲۴/۲۰۰۳.
  • احمد بن محمد زراری، رسالہ ابی غالب الزراری الی ابن انبہ فی ذکر آل اعین، چاپ محمد رضا حسینی، قم ۱۴۱۱.
  • شوشتری، محمد تقی، قاموس الرجال.
  • سلیمان بن احمد طبرانی، المعجم الاوسط، چاپ ابومعاذ طارق بن عوض اللّه، (قاہره) ۱۴۱۵ـ۱۴۱۶.
  • فخر الدین بن محمد طریحی، جامع المقال فیما یتعلق باحوال الحدیث و الرجال، چاپ محمد کاظم طریحی، تہران ? (۱۳۷۴)؛
  • محمد بن حسن طوسی، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تہران ۱۳۹۰.
  • محمد بن حسن طوسی، رجال الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم ۱۴۱۵.
  • محمد بن حسن طوسی، فہرست کتب الشیعہ و اصولهم و اسماء المصنفین و اصحاب الاصول، چاپ عبد العزیز طباطبائی، قم ۱۴۲۰.
  • محمد بن حسن طوسی، کتاب الغیبہ، چاپ عبداللّه طہرانی و علی احمد ناصح، قم ۱۴۱۱.
  • حسن بن یوسف علامہ حلّی، خلاصة الاقوال فی معرفة الرجال، چاپ جواد قیومی اصفہانی، (قم) ۱۴۱۷.
  • محمد امین بن محمد علی کاظمی، ہدایة المحدثین الی طریقة المحمدین، چاپ مہدی رجایی، قم ۱۴۰۵.
  • محمد بن عمرکشّی، اختیار معرفة الرجال، (تلخیص) محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸ش.
  • کلینی، الکافی؛
  • احمد بن علی نجاشی، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ المشتہر بـ رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم ۱۴۰۷.