جعفر کذاب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جعفر بن علی (۲۲۶ ۔ ۲۷۱ ھجری قمری) جعفر کذاب کے نام سے معروف، امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی ہیں، جنہوں نے اپنے بھائی کی شہادت کے بعد امامت کا دعوی کیا اور ایک قلیل مدت تک شیعوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے ماننے والوں کا ماننا تھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام صاحب اولاد نہیں تھے لہذا ان کے بعد ان کے بھائی امامت کے عہدہ پر فائز ہوں گے۔ ایک روایت کے مطابق وہ خود کو امام علی نقی علیہ السلام کا جانشین سمجھتے تھے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی میں ہی امامت کا دعوی کر چکے تھے۔ ان کے پیروکاروں کو جعفریہ کا نام دیا گیا ہے۔[1]

کنیت، نسب اور القاب

جعفر امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند سن ۲۲۶ ھ ق میں ان کی ولادت ہوئی، ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور انہیں ان کے بھائی امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد اپنی امامت کا دعوی اور ان کے صاحب اولاد ہونے کے انکار کی وجہ سے جعفر کذاب کا لقب دیا گیا تھا۔[2] ان کے ماننے والے اور ان کی اولاد انہیں زکی کے لقب سے پہچانتے ہیں،[3] چونکہ ان کی نسل میں ایک سو بیس بچے پیدا ہوئے اس بنائ پر ابو کرین [4] بھی ان کے القاب میں سے ان کا ایک لقب ہے۔[5] جعفر نے سن ۲۷۱ ھ ق میں وفات پائی اور سامرا میں انہیں دفن کیا گیا۔ [6]

خصوصیات

جعفر ایک خطاکار، دنیا طلب اور فاسق انسان کے طور پر معروف ہیں۔[7]

امام سجاد علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جعفر کی ولادت اور ان سے سرزد ہونے والے واقعات کی خبر دے دی تھی۔[8] امام علی نقی علیہ السلام بھی جعفر کی ولادت پر خوش نہیں ہوئے اور آپ نے فرمایا: وہ بہت سے افراد کو گمراہی کی طرف لے جائے گا۔[9]

روایت میں کہا گیا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، جعفر سے کنارہ کشی اختیار کرتے اور ان کی مصاحبت سے پرہیز کرتے تھے۔[10]

جعفر بن علی نے فارس بن حاتم کے سلسلہ میں، جس کی امام علی نقی علیہ السلام نے مذمت کی، جس پر لعن کیا اور جس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تھا، اس کی طرف داری کی تھی۔[11]

جعفر پر شراب خوری کا اتہام لگایا گیا تھا، یہاں تک کہ انہیں زق الخمر (شراب کا برتن) کا لقب بھی دیا گیا تھا۔[12] بعض افراد نے احتمال دیا ہے کہ اس تہمت کا سر چشمہ اثنا عشری شیعوں اور جعفر کے پیرو کاروں کی دشمنی ہو سکتی تھی۔ جس طرح سے جعفر کے ماننے والے امام حسن عسکری اور ان کے اصحاب کی طرف مختلف القاب اور نا روا تہمتوں کی نسبت دیتے رہتے تھے۔ [13]

ایک روایت میں امام زمانہ علیہ السلام نے شیعوں کے جعفر بن علی کے بارے میں ایک خط کے جواب میں جعفر کو احکام دین سے بے خبر انسان کے طور پر پیش کیا ہے جو حلال و حرام میں تشخیص کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور اوامر و نواہی کی نا فرمانی کی علامتیں اس کے وجود میں مشہود ہیں۔ اسی روایت کے مطابق، جعفر نے سحر و جادو سیکھنے کی غرض سے چالیس شب و روز نماز کو ترک کیا ہے۔[14]

اسی طرح سے امام زمانہ علیہ السلام نے ایک توقیع میں جعفر کے کام اور راہ کو جناب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے تشبیہ دی ہے۔[15] بعض لوگوں نے اس عبارت کی تفسیر کی ہے کہ چونکہ جعفر نے بھی جناب یوسف کے بھائیوں کی طرح آخر میں توبہ کر لیا تھا،[16] اسی وجہ سے انہیں تواب کا لقب بھی دیا گیا ہے۔[17] البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کی اس توقیع سے مراد انبیائ و اولیائ کی اولاد میں گمراہی کے ماضی کی طرف اشارہ ہے۔[18]

امامت حاصل کرنے کے لئے کوشش

روایت میں کہا گیا ہے کہ جعفر نے امامت حاصل کرنے کے لئے بہت سعی کی۔ انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد، ان کی والدہ کے زندہ ہونے کے باوجود ان کی میراث کا دعوی کیا۔[19] انہوں نے اسی طرح سے حاکم وقت کو ورغلا کر اس پر آمادہ کیا کہ وہ امام علیہ السلام کے گھر کی تلاشی لیں تا کہ ان کے فرزند کا پتہ لگا سکیں اور جعفر کی مدد سے حکومت نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک کنیز کو قید میں ڈال دیا اور اسے شدید نگرانی میں رکھا گیا۔[20] اس کے علاوہ جعفر اس بات آمادہ ہو گئے کہ ایک عباسی عمال کو بیس ہزار دینار رشوت دیں تا کہ وہ ان کی امامت کی تائید کرے۔[21] جعفر امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے جنازہ پر نماز بڑھانا چاہتے تھے لیکن حضرت مھدی علیہ السلام نے جو کمسن طفل تھے، انہیں کنارے کرکے خود نماز جنازہ پڑھائی۔[22]

جعفر کے سلسلے میں شیعوں کے نظریات

شیعہ، فطحیہ کے رد میں پیش کی جانے والی احادیث کی رو سے امامت کو امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے علاہ دو بھائیوں کے لئے جائز نہیں سمجھتے تھے۔[23] اسی طرح سے جعفر کے اعمال کی خبر ہونے کی وجہ سے انہیں اس منصب کے لائق نہیں مانتے تھے۔[24] لہذا امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور جعفر کے ان کی جانشینی کے دعوی کے بعد انہوں نے مختلف طریقے سے ان کا امتحان لیا اور ان کا امام نہ ہو نے ان کے لئے واضح اور آشکار ہو گیا۔[25]

جعفریہ فرقہ

جعفر کے پیروکار تاریخ میں جعفریہ کے نام سے معروف ہیں۔[26] ان کے ماننے والے ان کی جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف نظر کا شکار ہیں، ان میں سے بعض انہیں امام علی نقی علیہ السلام کا بلا فصل نایب مانتے ہیں تو بعض انہیں ان کے بھائی سید محمد کا جانشین کہتے ہیں جن کا انتقال امام علی نقی علیہ السلام کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا اور بعض دوسرے انہیں امام حسن عسکری علیہ السلام کا جانشین مانتے ہیں۔[27] البتہ اسی طرح سے ان کے امام پہچنے کی کیفیت کے سلسلہ میں بھی اس فرقہ کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے جو اس فرقہ کے مختلف گروہوں میں بٹنے کا سبب بنا۔[28]

اسی طرح سے فتحیہ نے، جو دو بھائیوں کی امامت کو قبول کرتے تھے، جعفر کی طرف رجوع کر لیا۔ یہی سبب ہے کہ ابن بابویہ نے جعفر کو فطحیہ کی دوسری نسل کے پیشوا کا لقب دیا ہے۔[29]

جعفر کی اولاد

جعفر کی اولاد، امام علی رضا علیہ السلام سے ان کی نسبت کی وجہ سے بنو الرضا [30] یا رضویون [31] مشہور ہوئے۔ جعفر کے پیرو بھی اثنا عشری شیعوں کے درمیان کوفہ میں ان کے رہبر علی الطاحن کے نام سے طاحنیہ معروف تھے۔ [32]

ان کے بعض ماننے والوں نے، ان کے بیٹے ابو الحسن علی، جو سادات بغداد کے نقیب تھے، کی طرف رجوع کیا۔[33] بعض دوسروں کا عقیدہ تھا کہ امامت ابو الحسن اور ان کی بہن فاطمہ کے درمیان تقسیم ہوئی ہے اور ان دونوں کے بعد جعفر کی دوسری اولاد کی طرف منقتل ہوئی ہے۔[34]

واضح نہیں ہے کہ جعفر کے ماننے والے کس زمانے تک شیعوں میں ایک مستقل فرقہ کی شکل میں باقی رہے۔ شیخ مفید [35] اور شیخ طوسی [36] نے بیان کیا ہے کہ ان کی تالیفات کے زمانہ تک جعفر کی اولاد میں سے کوئی ایسا نہیں بچا تھا جو صحیح شیعہ اثنا عشری عقیدہ سے ملحق نہ ہو گیا ہو۔[37]

سعد بن عبد اللہ اشعری نے اس فرقہ کے رد میں ایک مستقل کتاب اس عنوان کتاب الضیائ فی الرد علی المحمدیہ والجعفریہ کے تحت تحریر کی ہے۔[38]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. کتاب صحتی سردرودی، کتاب سیمای سامرا سینای سه موسی کا خلاصہ، ص۱۱۵.
  2. عمری‌، ص‌۱۳۰ـ ۱۳۱؛ فخررازی‌، ۱۴۰۹، ص۷۸؛ ابن‌عنبه‌، ص۱۹۹؛ علی‌ شدقمی‌، ص۱۶۱، ۱۶۵ـ۱۶۶
  3. رجوع کریں: عرشی‌، ص۵۱
  4. ہر کرّ دلالت‌ ساٹھ پر دلالت رکھتا ہے؛ حبیب‌آبادی‌، ج‌ ۳، ص۹۸۷
  5. رجوع کریں: عمری‌، ص۱۳۱، ۱۳۴؛ ابن‌عنبه‌، ص۱۹۹؛ حسن‌ شدقمی‌، ص۶۴؛ علی‌ شدقمی‌، ص۱۶۶
  6. عمری‌، ص۱۳۴ـ۱۳۵؛ حبیب‌آبادی‌، وہی؛ قس‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، ص۱۱۸ـ۱۱۹، حاشیہ‌ ۱۷۴
  7. قس‌ عمری‌، ص۱۳۵ـ۱۳۶
  8. رجوع کریں: خَصیبی‌، ص۲۴۸؛ قمی‌، ص۲۰۳؛ ابن‌بابویه‌، کمال‌الدین، ج‌ ۱، ص۳۱۹ـ۳۲۰؛ ابن‌شهر آشوب‌، ج‌ ۴، ص۲۷۲ـ۲۷۳
  9. طوسی‌، ص۲۲۶ـ۲۲۷؛ مجلسی‌، ج‌۵۰، ص۲۳۱
  10. رجوع کریں: خصیبی‌، ص۳۸۲؛ عمری‌، ص۱۳۲
  11. ابن‌ قِبه رازی‌، ص‌۲۰۰
  12. رجوع کریں: خصیبی‌، ص۲۴۸؛ عمری‌، ص۱۳۱؛ ابن ‌شهرآشوب‌، ج‌ ۴، ص۲۷۳؛ علی‌ شدقمی‌، ص۱۶۱، ۱۶۵ـ۱۶۶
  13. رجوع کریں: اشعری‌، ص۱۱۳؛ نوبختی‌، ص۱۰۸؛ ابوحاتم‌ رازی‌، قسم‌ ۳، ص۲۹۱ـ۲۹۲؛ شهرستانی‌، قسم‌ ۱، ص۱۵۱
  14. کشی‌، ج‌ ۱، ص۲۸۷ـ۲۹۰؛ مجلسی‌، ج‌۵۰، ۲۲۸ـ۲۳۱
  15. ابن ‌بابویه‌، کمال‌الدین، ج‌ ۲، ص۴۸۴؛ کشی‌، ج‌ ۱، ص‌۲۹۰؛ مجلسی‌، ج‌۵۰، ص۲۲۷
  16. رجوع کریں: نوبختی‌، ص۹۵، حاشیہ‌ ۱؛ عمری‌، ص‌۱۳۰
  17. رجوع کریں: ابن‌عنبه‌، ص۱۹۹، حاشیہ‌؛ علی‌ شدقمی‌، ص۱۶۱، ۱۶۵؛ امین‌، ج‌ ۶، ص۴۲۵؛ آقا بزرگ‌ طهرانی‌، ۱۴۰۴، قسم‌ ۲، ص۵۱۹
  18. رجوع کریں: مفید، الفصول‌ العشرة فی ‌الغیبة، ص۶۲؛ کشی‌، ج‌ ۱، ص۱۰۷
  19. مفید، الارشاد، ص۳۴۵؛ اربلی‌، ج‌ ۲، ص۲۰۵، ۲۲۳؛ ذهبی‌، ج‌ ۱۳، ص۱۲۱؛ نیز رجوع کریں: ابن ‌قبه رازی‌، وہیں، جہاں کہا گیا ہے کہ جعفر نے اپنے والد کی رای کے بر خلاف عمل انجام دیا ہے، کیونکہ والدہ کے زندہ ہونے کی صورت میں بھائی کو میراث نہیں ملے گی۔
  20. مفید، الارشاد، وہی؛ طبرسی‌، ص‌۳۶۰؛ اربلی‌، ج‌۳، ص‌۲۰۵
  21. رجوع کریں: مفید، الارشاد، وہی؛ اربلی‌، ج‌۳، ص‌۱۹۹، ۲۰۵
  22. مجلسی‌، ج‌۵۰، ص۳۳۲
  23. رجوع کریں: کلینی‌، ج‌ ۱، ص۲۸۵ـ۲۸۶؛ ابن ‌بابویه‌، الامامة، ص۵۶ـ۵۹؛ ابن‌ بابویه‌، کمال‌الدین‌، ج‌ ۲، ص۴۱۴ـ۴۱۷؛ کشی‌، ج‌ ۲، ص۵۲۵
  24. رجوع کریں: طوسی‌، ص۸۴ - ۸۵، ۲۲۲
  25. رجوع کریں: خصیبی‌، ص۳۸۳؛ ابن ‌بابویه‌، کمال‌الدین‌، ج‌ ۲، ص۴۷۵ـ ۴۷۸، ۴۸۸ـ۴۸۹؛ ابن ‌حمزه‌، ص۶۰۷ـ۶۱۱
  26. ابن‌ قبه رازی‌، ص۱۹۸؛ اشعری‌، ص۱۰۱؛ فخررازی‌، ۱۴۰۷، ص۶۸؛ اقبال‌ آشتیانی‌، ص۱۶۳؛ نیز رجوع کریں: مدرسی‌ طباطبائی‌، ص۱۱۵ ، ان کا ماننا ہے کہ ان سے پہلے جعفریہ کا اطلاق امام جعفر صادق علیہ السلام کے ماننے والوں پر ہوتا تھا ؛ قس‌ فخررازی‌، ۱۴۰۷، ص۶۸، حاشیہ‌ ۲
  27. برای‌ نمونه‌ ر.ک: قاضی‌ عبدالجباربن‌ احمد، ج‌۲۰، قسم‌ ۲، ص۱۸۲؛ ناطق‌ بالحق‌، ص۱۶۶
  28. رجوع کریں: اشعری‌، ص۱۰۲ـ۱۱۶؛ نوبختی‌، ص۹۵ـ۱۱۲؛ مسعودی‌، ج‌ ۵، ص۱۰۷؛ مفید، الفصول‌ المختارة، ص۳۱۷ـ۳۲۱؛ شهرستانی‌، قسم‌ ۱، ص۱۵۱ـ۱۵۲؛ اقبال‌ آشتیانی‌، ص۱۶۱ـ ۱۶۵
  29. معانی‌ الاخبار، ص۶۵
  30. عمری‌، ص۱۳۴
  31. ابن‌عنبه‌، گزشتہ حوالہ
  32. ابوحاتم‌ رازی‌، قسم‌ ۳، ص۲۹۱؛ شهرستانی‌، قسم‌ ۱، ص۱۵۱؛ قس‌ نوبختی‌، ص۹۹، حاشیہ‌ ۱، وہاں پر ان کا نام علی بن طاحن ذکر ہوا ہے جو احتمالا طاحن کی تصحیف ہوا ہے۔
  33. رجوع کریں: فخررازی‌، ۱۴۰۹، ص۷۹ـ۸۰؛ مدرسی‌ طباطبائی‌، ص۱۱۸ـ۱۱۹
  34. رجوع کریں: ابوحاتم‌ رازی‌، قسم‌ ۳، ص۲۹۲؛ شهرستانی‌، گزشتہ حوالہ؛ نیز رجوع کریں: مدرسی‌ طباطبائی‌، ص۱۱۹ـ۱۲۲
  35. الفصول‌ العشرة فی ‌الغیبة، ص۶۵؛ گزشتہ حوالہ، الفصول‌ المختارة، ص۳۱۲
  36. طوسی، ص۲۱۸
  37. قس‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، ص‌۱۲۰ـ۱۲۲
  38. رجوع کریں: نجاشی‌، ص‌۱۷۷؛ آقا بزرگ‌ طهرانی‌، ۱۴۰۳، ج‌۲۴، ص‌۲۳۱

منابع

  • محمد محسن‌ آقا بزرگ‌ طہرانی‌، الذریعۃ الی‌ تصانیف‌ الشیعۃ، طبع علی ‌نقی‌ منزوی‌ و احمد منزوی‌، بیروت‌ ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • وہی، طبقات‌ اعلام‌ الشیعۃ: الکرام‌ البررۃ، مشہد ۱۴۰۴.
  • ابن‌بابویہ‌ (علی ‌بن‌ حسین‌)، الامامۃ و التبصرۃ من‌ الحیرۃ، قم‌ ۱۳۶۳ ش‌.
  • ابن‌بابویہ‌ (محمدبن‌ علی‌)، کمال‌الدین‌ و تمام‌ النعمۃ، طبع‌ علی‌اکبر غفاری‌، قم‌ ۱۳۶۳ ش‌.
  • وہی، معانی‌ الاخبار، چاپ‌ علی‌اکبر غفاری‌، قم‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • ابن ‌حمزہ‌، الثاقب‌ فی ‌المناقب‌، طبع‌ نبیل‌ رضا علوان‌، قم‌ ۱۴۱۲.
  • ابن ‌شہر آشوب‌، مناقب‌ آل‌ ابی‌ طالب‌، طبع‌ ہاشم‌ رسولی‌ محلاتی‌، قم‌،
  • ابن‌ عنبہ‌، عمدۃ الطالب‌ فی‌ انساب‌ آل‌ ابی ‌طالب، چاپ‌ محمد حسن‌ آل‌ طالقانی‌، نجف‌ ۱۳۸۰/۱۹۶۱.
  • ابن‌ قبہ رازی‌، النقض‌ علی‌ أبی‌ الحسن‌ علی ‌بن‌ احمد بن‌ بشار فی ‌الغیبۃ، در حسین‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، مکتب‌ در فرآیند تکامل‌: نظری‌ بر تطور مبانی‌ فکری‌ تشیع‌ در سہ‌ قرن‌ نخستین‌، ترجمہ ہاشم‌ ایزد پناہ‌، نیوجرسی‌ ۱۳۷۵ ش‌.
  • ابو حاتم‌ رازی‌، کتاب‌ الزینۃ فی‌ الکلمات‌ الاسلامیۃ العربیۃ، قسم‌ ۳، طبع‌ عبداللّہ‌ سلوم‌ سامرائی‌، در عبداللّہ‌ سلوم‌ سامرائی‌، الغلو و الفرق‌ الغالیۃ فی‌ الحضارۃ الاسلامیۃ، بغداد ۱۳۹۲/۱۹۷۲.
  • علی ‌بن‌ عیسی‌ اربلی‌، کشف‌ الغمۃ فی‌ معرفۃ الائمۃ، طبع‌ ہاشم‌ رسولی‌ محلاتی‌، بیروت‌ ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱.
  • سعد بن‌ عبداللّہ‌ اشعری‌، کتاب‌ المقالات ‌ و الفرق‌، چاپ‌ محمد جواد مشکور، تہران‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • عباس‌ اقبال‌ آشتیانی‌، خاندان‌ نوبختی‌، تہران‌ ۱۳۵۷ ش‌.
  • امین‌.
  • صحتی سردرودی، محمد، گزیدہ سیمای سامرا سینای سہ موسی، مشعر، تہران، ۱۳۸۸ش.
  • محمد علی‌ حبیب‌آبادی‌، مکارم‌الا´ثار در احوال‌ رجال‌ دو قرن‌ ۱۳ و ۱۴ ہجری‌، ج‌ ۳، اصفہان‌ ۱۳۵۱ ش‌.
  • حسین ‌بن‌ حمدان‌ خصیبی‌، الہدایۃ الکبری‌، بیروت‌ ۱۴۰۶/۱۹۸۶.
  • ذہبی‌.
  • حسن ‌بن‌ علی‌ شدقمی‌، المستطابۃ فی‌ نسب‌ سادات‌ طابۃ، در الرسائل‌ الثلاث‌، طبع مہدی‌ رجایی‌، قم‌: کتابخانہ آیۃ اللّہ‌ مرعشی‌ نجفی‌، ۱۳۸۱ ش‌.
  • علی‌ بن‌ حسن‌ شدقمی‌، زہرۃ المقول‌ فی‌ نسب‌ ثانی‌ فرعی‌ الرسول‌ (ص)، گزشتہ حوالہ.
  • محمد بن‌ عبدالکریم‌ شہرستانی‌، کتاب‌ الملل‌ و النحل، چاپ‌ محمد بن‌ فتح‌اللّہ‌ بدران‌، قاہرہ‌، ۱۳۷۵/۱۹۵۶، طبع‌ افست‌ قم‌ ۱۳۶۷ ش‌.
  • فضل ‌بن‌ حسن‌ طبرسی‌، اعلام‌ الوری‌ بأعلام‌ الہدی، طبع‌ علی‌اکبر غفاری‌، بیروت‌ ۱۳۹۹/۱۹۷۹.
  • محمد بن‌ حسن‌ طوسی‌، کتاب‌ الغیبۃ، چاپ‌ عباداللّہ‌ طہرانی‌ و علی‌ احمد ناصح‌، قم‌ ۱۴۱۱.
  • حسین‌بن‌ احمد عرشی‌، کتاب‌ بلوغ‌ المرام‌، فی‌ شرح‌ مسک‌ الختام‌ فی‌ من‌ تولّی‌ ملک‌ الیمن‌ من‌ ملک‌ و امام‌، چاپ‌ انستاس‌ ماری‌ کرملی‌، قاہرہ‌، ۱۹۳۹، طبع افست‌ بیروت‌،
  • علی ‌بن‌ محمد عمری‌، المجدی‌ فی‌ انساب ‌الطالبیین، چاپ‌ احمد مہدوی‌ دامغانی‌، قم‌ ۱۴۰۹.
  • محمد بن‌ عمر فخررازی‌، اعتقادات‌ فرق‌ المسلمین‌ و المشرکین، چاپ‌ محمد معتصم‌ باللّہ‌ بغدادی‌، بیروت‌ ۱۴۰۷/۱۹۸۶.
  • گزشتہ حوالہ، الشجرۃ المبارکۃ فی‌ انساب‌ الطالبیۃ، طبع مہدی‌ رجائی‌، قم‌ ۱۴۰۹.
  • قاضی‌ عبدالجباربن‌ احمد، المغنی‌ فی‌ ابواب‌ التوحید و العدل‌، ج‌۲۰، طبع عبدالحلیم‌ محمود و سلیمان‌ دنیا، [ قاہرہ‌،
  • حسن ‌بن‌ محمد قمی‌، کتاب‌ تاریخ‌ قم‌، ترجمہ حسن ‌بن‌ علی‌ قمی‌، طبع‌ جلال‌الدین‌ طہرانی‌، تہران‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • محمد بن‌ عمرکشی‌، اختیار معرفہ الرجال‌، المعروف‌ برجال‌ الکشی، [تلخیص‌] محمد بن‌ حسن‌ طوسی‌، تصحیح‌ و تعلیق‌ محمد باقر بن‌ محمد میر داماد، طبع مہدی‌ رجائی‌، قم‌ ۱۴۰۴.
  • کلینی‌.
  • مجلسی‌.
  • حسین‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، مکتب‌ در فرآیند تکامل‌: نظری‌ بر تطور مبانی‌ فکری‌ تشیع‌ در سہ‌ قرن‌ نخستین، ترجمہ ہاشم‌ ایزدپناہ‌، نیوجرسی‌ ۱۳۷۵ ش‌.
  • مسعودی‌، مروج‌ (بیروت‌۔
  • محمدبن‌ محمد مفید، الارشاد، قم‌: مکتبہ بصیرتی‌،
  • گزشتہ حوالہ، الفصول‌ العشرہ فی‌ الغیبہ، طبع‌ فارس‌ حسون‌، قم‌، ۱۴۱۳.
  • گزشتہ حوالہ، الفصول‌ المختارہ، طبع‌ علی‌ میرشریفی‌، بیروت‌ ۱۴۱۴/۱۹۹۳.
  • یحیی ‌بن‌ حسین‌، ناطق‌ بالحق‌، نصرہ مذاہب‌ الزیدیہ عنوان‌ صحیح‌: الدعامہ فی‌ تثبیت‌ الامامہ، طبع‌ ناجی‌ حسن‌، بیروت‌ ۱۹۸۱.
  • احمد بن‌ علی‌ نجاشی‌، فہرست‌ اسماء مصنفی‌ الشیعہ المشتہر برجال‌ النجاشی‌، طبع‌ موسی‌ شبیری‌ زنجانی‌، قم‌ ۱۴۰۷.
  • حسن ‌بن‌ موسی‌ نوبختی‌، فرق‌ الشیعہ، چاپ‌ محمد صادق‌ آل‌ بحرالعلوم‌، نجف‌ ۱۳۵۵/۱۹۳۶.