جعفر کذاب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
جعفر کذاب
کردار امام زادے
نام جعفر بن علی نقی ؑ
کنیت ابو عبد اللہ
تاریخ پیدائش 226 ھ
وفات 271 ھ
مدفن حرم عسکریین سامرا
محل زندگی سامرا، مدینہ
والد ماجد امام علی نقیؑ
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


جعفر بن علی (226۔271 ھ) جعفر کذاب کے نام سے معروف، امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند اور امامت کا دعوی کرنے والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی امام حسن عسکری ؑ کی شہادت کے بعد امامت کا دعوی کیا جس کی وجہ سے اثنا عشری شیعوں کی طرف سے انہیں کذاب کا لقب دیا گیا۔

جعفر نے اپنی امامت کے اثبات کے لئے امام زمانہ ؑ کا انکار کیا اور امام حسن عسکری ؑ کی میراث کا دعوی کیا۔ اسی طرح سے وہ امام حسن عسکری کی نماز جنازہ بھی پڑھانا چاہتے لیکن امام عصر ؑ نے انہیں اس سے روک دیا۔

ان کے ماننے والوں کو جعفریہ کہا جاتا تھا۔ ان میں اس بات پر کہ جعفر کس امام کے بعد امام بنے، اختلاف پایا جاتا تھا۔ بعض انہیں امام علی نقی ؑ، بعض سید محمد بن علی نقی ؑ اور بعض امام حسن عسکری ؑ کا جانشین مانتے ہیں۔

نسب اور القاب

جعفر، دسویں امام، امام علی نقی ؑ کے بیٹے و گیارہویں امام، امام حسن عسکری ؑ کے بھائی ہیں۔[1] ان کی تاریخ ولادت منابع میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔ لیکن بعض افراد اس دلیل کی وجہ سے کہ وہ امام حسن عسکری ؑ سے بڑے تھے لہذا سن 232 ھ میں ان کی ولادت ذکر کرتے ہیں۔[2] سن 271 ھ میں سامرا میں ان کی وفات ہوئی[3] اور ان کا محل دفن حرم عسکریین ؑ ہے۔[4]

امامت کا دعوی کرنے کی وجہ سے شیعوں نے انہیں کذاب کا لقب دیا۔[5] ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں امامت کے ان کے جھوٹے دعوی کی وجہ سے کذاب کا لقب دیا ہے اور ان کی ولادت و ان سے صادر ہونے والے اعمال کی خبر دی ہے اور امام جعفر صادق ؑ کو صادق کا لقب دیا تا کہ وہ ان سے متمایز ہو سکیں۔[6]

اسی طرح سے نقل ہوا ہے کہ انہیں کذاب کا لقب امام حسن عسکری ؑ کی میراث کا دعوی کرنے اور ان کے فرزند کے انکار کی وجہ سے دیا گیا۔[7] حالانکہ ان سب کے باوجود ان کے پیرو انہیں زکی کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔[8]

ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔[9] چونکہ ان کی نسل میں ایک سو بیس بچے پیدا ہوئے اس بنا پر ابو کرین بھی ان کا ایک لقب تھا۔[10]

جعفر کو زق الخمر (ظرف شراب) کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ ان پر شراب خوری کی تہمت بھی لگائی گئی ہے۔[11] بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ تہمت شیعہ اثنا عشری اور ان کے ماننے والوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے لگائی گئی ہوگی۔[12] اسی طرح سے جس طرح سے جعفر کے پیرو امام حسن عسکری اور ان کے ساتھیوں کی طرف نا روا نسبتیں دیا کرتے تھے۔[13]


دعوی امامت

جعفر نے امام حسن عسکری ؑ کی شہادت کے بعد امامت کا دعوی کیا۔[14] اس بارے میں کہ وہ کون سے امام کے جانشین ہیں، انکے ماننے والوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[15] بعض انہیں امام علی نقی ؑ کا جانشین مانتے ہیں[16] اور بعض سید محمد بن امام علی نقی کا جن کا انتقال امام نقی کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ سید محمد امام علی نقی کے بعد ان کے جانشین تھے۔[17] ایک گروہ جعفر کو امام حسن عسکری کا جانشین مانتا ہے۔[18]

جعفر نے اپنے دعوائے امامت کو ثابت کرنے کے لئے کئی قدم اٹھائے۔ لیکن شیخ مفید کے مطابق ان کی کسی کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔[19]

ان کے بعض اقدامات درج ذیل ہیں:

۱۔ وہ امام حسن عسکری ؑ کی نماز جنازہ پڑھانا چاہتے تھے لیکن امام زمانہ ؑ جو کمسن طفل تھے، نے انہیں کنارے کرکے خود اپنے والد کی نماز جنازہ پڑھائی۔[20] بعض محققین نے جعفر کے اس عمل کو امامت کے اثبات کے لئے اٹھایا گیا قدم مانتے ہیں۔[21]

۲۔ جعفر نے معتمد عباسی کو ورغلایا کہ وہ امام حسن عسکری کے گھر کی تلاشی لے تا کہ ان کے فرزند کو تلاش کر سکے اور ان ہی کے تعاون کی وجہ سے امام ؑ کی ایک کنیز کو قید کیا گیا۔[22] جعفر نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب اہل قم کا ایک گروہ امام ؑ سے ملاقات کے لئے سامرا آیا اور انہیں امام کی شہادت کی خبر ملی[23] اور جعفر کو ان کے سامنے جانشین کے طور پر پیش کیا گیا۔ شیخ صدوق کہتے ہیں: انہوں نے جعفر سے کچھ سوالات کئے جن کی بنیاد پر وہ انہیں امامت کے اہل نہیں لگے اور انہیں وہ جواب امام زمانہ ؑ سے ملے۔[24]

۳۔ جعفر نے امام حسن عسکری ؑ کی تدفین کے بعد جبکہ ان کی والدہ حیات تھیں، ان کی میراث کا دعوی کیا۔[25] حالانکہ شیعہ فقہ کے مطابق اگر میراث کے طبقہ اول میں والدین میں سے کوئی زندہ ہو تو میراث طبقہ دوم کے افراد جیسے بھائی تک نہیں پہچے گی۔[26]

۴۔ وہ حکومت وقت کو سالانہ رقم دینے کے لئے تیار ہو گئے تا کہ حکومت ان کی امامت کی تائید کرے۔ [27]

شیعوں کا موقف

شیخ صدوق کے مطابق شیعوں نے جعفر مختلف طریقوں سے آزمایا[28] اور ان کے دعوی امامت کو رد کر دیا۔[29] انہیں وہ منصب امامت کے لائق نہیں لگے۔ شیعہ جعفر کے دعوی امامت کے رد کے سلسلہ میں ان احادیث سے استناد کرتے تھے جو فطحیہ کے رد میں ذکر ہوئی تھیں۔[30] ان روایات کے مطابق حسنینؑ کے علاوہ دو بھائیوں میں امامت کا ہونا جائز نہیں ہے۔[31]

خصوصیات

منابع نے جعفر کو ایک خطا کار، دنیا طلب اور فاسق انسان کے طور پر ذکر کیا ہے۔[32] کتاب الغیبہ میں شیخ طوسی کی گزارش کے مطابق امام علی نقی علیہ السلام نے جعفر کی ولادت کے وقت ان کے ذریعہ سے بعض افراد کے گمراہ ہونے کی خبر دی تھی۔[33]

امام زمانہ (عج) سے منقول ایک روایت میں ایک شیعہ کے خط کے جواب میں جعفر کو احکام دین سے بے خبر اور ایسے انسان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جو حرام و حلال کی تشخیص پر قادر نہیں تھا۔ اس روایت کے مطابق جعفر نے سحر سیکھنے کے لئے مسلسل ۴۰ روز تک اہنی نمازیں قضا کی ہیں۔[34]

اسی طرح سے نقل ہوا ہے کہ جعفر نے فارس بن حاتم کی طرف داری کی جبکہ امام علی نقی ؑ نے فارس پر لعن اور ااس کے قتل کا حکم صادر کر چکے تھے۔[35]

توبہ

نقل ہوا ہے کہ جعفر نے مرنے سے پہلے توبہ کر لی تھی۔[36] اس سلسلہ میں امام زمانہ ؑ سے نقل ایک توقیع میں جعفر کے عمل کو حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کے عمل سے تشبیہ دیئے[37] جانے سے استناد کیا گیا ہے۔[38] البتہ بعض نے جعفر کے دعوی امامت کے سلسلہ میں شیخ مفید کے قول سے استناد کرتے ہوئے[39] ذکر کیا ہے کہ امام زمانہ (عج) کی توقیع سے مراد انبیائے الہی کی اولاد میں گمراہی کا سابقہ پایا جانا ہے۔[40]

جعفریہ فرقہ

جعفر کے پیروکار تاریخ میں جعفریہ کے نام سے معروف ہیں۔[41] البتہ ان سے پہلے جعفریہ کا اطلاق امام جعفر صادق علیہ السلام کے ماننے والوں پر ہوتا تھا۔[42] جعفر طیار کی اولاد و جعفر بن‌ حَرْب‌ ہمدانی‌ (متوفی ۲۳۶ ھ) و جعفر بن‌ مُبَشِّر ثَقَفی‌ (متوفی ۲۳۴ ھ) کے ماننے والوں کو بھی جعفریہ کہا جاتا تھا۔[43]

اسی طرح سے فتحیہ نے، جو دو بھائیوں کی امامت کو قبول کرتے تھے، جعفر کی طرف رجوع کر لیا۔[44] یہی سبب ہے کہ ابن بابویہ نے جعفر کو فطحیہ کی دوسری نسل کے پیشوا کا لقب دیا ہے۔[45]

جعفر کی وفات کے بعد ان کے بعض ماننے والوں نے ان کے بیٹے ابو الحسن علی کی طرف جو سادات بغداد کے بزرگ نقیب تھے،[46] رجوع کیا۔[47] بعض دیگر کا ماننا تھا کہ امامت ابو الحسن علی اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ کے درمیان تقسیم ہو گئی ہے اور ان دونوں کے بعد جعفر کی دوسری اولاد کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔[48] سعد بن عبد اللہ اشعری الضِّیاءِ فی‌ الردِّ علی‌ المُحَمَّدیةِ وَ الْجَعفَریة نامی کتاب فرقہ جعفریہ کے رد میں تحریر کی ہے۔[49] علی الطاحن کا شمار فرقہ جعفریہ کے بزرگوں میں کیا گیا ہے۔[50]

جعفر کی اولاد کو امام علی رضا ؑ سے ان کے انتساب کی وجہ سے بنو الرضا[51] یا رضویون[52] کہا جاتا تھا۔ شیخ مفید کہتے ہیں کہ اپنی کتابوں کی تصنیف کے زمانے میں جعفر کی اولاد میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو مذہب شیعہ اثنا عشری سے ملحق نہ ہو چکا ہو۔[53]

جعفر کے بارے میں کتاب

طہر مطہر نامی کتاب جعفر کی تطہیر اور ان کے انحراف کے رد کے سلسلہ میں تالیف کی ہے۔ مولف کتاب نے جعفر کی مذمت کے بارے میں نقل ہونے والی بہت سی روایات کو جعلی قرار دیا ہے۔ اس کتاب میں جعفر کے بعض دعووں کو از باب تقیہ و امام زمانہ ؑ کی جان کی حفاظت کے طور پر قرار دیا گیا ہے۔[54]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۴-۱۳۵.
  2. ہوشنگی، «جعفر بن علی»، ص۱۶۹.
  3. عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۴-۱۳۵.
  4. قائدان، عتبات عالیات عراق، ۱۳۸۷ش، ص۲۰۶.
  5. ابن‌ عنبہ، عمدةالطالب، ۱۴۱۷ق، ص۱۸۰؛ نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۹۵، پانویس ۱.
  6. صدوق، کمال‌ الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۳۱۹-۳۲۰.
  7. بحرانی، حلیة الابرار، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۹۰، پانویس ۳.
  8. نگاه کریں بہ عرشی‌، بلوغ‌‌ المرام‌، ۱۹۳۹م، ص۵۱.
  9. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۹۵، پانویس۱.
  10. ابن‌ عنبہ، عمدة الطالب، ۱۴۱۷ق، ص۱۸۰؛ نوبختی، فرق‌ الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۹۵، پانویس ۱.
  11. عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۱.
  12. سعیدی، «جعفر بن علی»، ج۱، ص۴۷۰۰.
  13. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۱۳؛ شہرستانی‌، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۱۹۹-۲۰۰.
  14. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۳۱۹.
  15. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۰۲ـ۱۱۶.
  16. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۰۱.
  17. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۱۲.
  18. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۰۱.
  19. نگاه کریں بہ: مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۳۷.
  20. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۵.
  21. ابو الحسینی، «مہدی از نگاه اہل سنت»، ص۸۴.
  22. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۵.
  23. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۵.
  24. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۵.
  25. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۴۳.
  26. نصیر الدین طوسی، جواهر الفرایض، ۱۴۲۶ق‌، ج۱، ص۱۹.
  27. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۴۳-۴۴.
  28. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۶.
  29. نگاه کریں بہ طوسی‌، الغیبه، ۱۴۱۱ق، ص۸۴-۸۵.
  30. نگاه کریں بہ طوسی‌، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۸۴.
  31. کلینی‌، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج‌۱، ص۲۸۵ـ۲۸۶؛ صدوق، کمال‌الدین‌، ۱۳۹۵ق، ج‌۲، ص۴۱۴ـ۴۱۷.
  32. عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۱،۱۳۶.
  33. طوسی‌، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۲۶ـ۲۲۷.
  34. مجلسی‌، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج‌۵۰، ص۲۲۸ـ۲۳۱.
  35. ابن‌ قِبہ رازی‌، النقض‌، ۱۳۷۵ش‌، ص‌۲۰۰ بہ نقل از سعیدی، «جعفر بن علی»، ج۱، ص۴۷۰۰.
  36. نگاه کریں بہ عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۰
  37. صدوق، کمال‌الدین، ۱۳۹۵ق، ج‌۲، ص۴۸۴(أما سبيل عمي جعفر فسبيل إخوة يوسف‏).
  38. ابن‌ عنبہ، عمدةالطالب، ۱۴۱۷ق، ص۱۸۰، پانویس؛ بحرانی، حلیة‌الابرار، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۹۰، پانویس ۳؛ نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۹۵، پانویس ۱.
  39. شیخ مفید، الفصول العشره، ۱۴۱۳ق، ص۶۱-۶۲.
  40. سعیدی، «جعفر بن علی»، ج۱، ص۴۷۰۰.
  41. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۰۱؛ فخر رازی‌، اعتقادات‌ فرق‌ المسلمین‌ و المشرکین، ۱۴۱۳ق، ص۴۳.
  42. مدرسی‌ طباطبائی‌، مکتب‌ در فرآیند تکامل‌، ۱۳۷۵ش‌، ص۱۱۵ بہ نقل از سعیدی، «جعفر بن علی»، ج۱، ص۴۷۰۰.
  43. سمعانی‌، الانساب، ۱۳۸۲ق، ج‌۳، ص۲۹۰
  44. اشعری‌، المقالات و الفرق، ۱۳۶۰ش، ص۱۱۰.
  45. شیخ صدوق، معانی‌ الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۶۵
  46. فخر رازی، الشجرة المبارکہ، ۱۴۱۹ق، ص۹۳.
  47. شہرستانی‌، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۲۰۰.
  48. شهرستانی‌، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۲۰۰.
  49. نجاشی‌، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص‌۱۷۷.
  50. شهرستانی‌، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۱۹۹-۲۰۰.
  51. عمری، المجدی، ۱۴۰۹ق، ص۱۳۴.
  52. ابن‌ عنبہ، عمدةالطالب، ۱۴۱۷ق، ص۱۸۰.
  53. شیخ مفید، الفصول العشره، ۱۴۱۳ق، ص۶۵.
  54. خبرگزاری بین المللی قرآن، ««طُہر مُطہر در دفاع از عموی امام زمان(عج)»، انتشار ۲۲ خرداد ۱۳۹۶ش، بازبینی ۱۴ آذر ۱۳۹۷ش


مآخذ

  • محمد محسن‌ آقا بزرگ‌ طہرانی‌، الذریعۃ الی‌ تصانیف‌ الشیعۃ، طبع علی ‌نقی‌ منزوی‌ و احمد منزوی‌، بیروت‌ ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • وہی، طبقات‌ اعلام‌ الشیعۃ: الکرام‌ البررۃ، مشہد ۱۴۰۴.
  • ابن‌بابویہ‌ (علی ‌بن‌ حسین‌)، الامامۃ و التبصرۃ من‌ الحیرۃ، قم‌ ۱۳۶۳ ش‌.
  • ابن‌بابویہ‌ (محمدبن‌ علی‌)، کمال‌الدین‌ و تمام‌ النعمۃ، طبع‌ علی‌اکبر غفاری‌، قم‌ ۱۳۶۳ ش‌.
  • وہی، معانی‌ الاخبار، چاپ‌ علی‌اکبر غفاری‌، قم‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • ابن ‌حمزہ‌، الثاقب‌ فی ‌المناقب‌، طبع‌ نبیل‌ رضا علوان‌، قم‌ ۱۴۱۲.
  • ابن ‌شہر آشوب‌، مناقب‌ آل‌ ابی‌ طالب‌، طبع‌ ہاشم‌ رسولی‌ محلاتی‌، قم‌،
  • ابن‌ عنبہ‌، عمدۃ الطالب‌ فی‌ انساب‌ آل‌ ابی ‌طالب، چاپ‌ محمد حسن‌ آل‌ طالقانی‌، نجف‌ ۱۳۸۰/۱۹۶۱.
  • ابن‌ قبہ رازی‌، النقض‌ علی‌ أبی‌ الحسن‌ علی ‌بن‌ احمد بن‌ بشار فی ‌الغیبۃ، در حسین‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، مکتب‌ در فرآیند تکامل‌: نظری‌ بر تطور مبانی‌ فکری‌ تشیع‌ در سہ‌ قرن‌ نخستین‌، ترجمہ ہاشم‌ ایزد پناہ‌، نیوجرسی‌ ۱۳۷۵ ش‌.
  • ابو حاتم‌ رازی‌، کتاب‌ الزینۃ فی‌ الکلمات‌ الاسلامیۃ العربیۃ، قسم‌ ۳، طبع‌ عبداللّہ‌ سلوم‌ سامرائی‌، در عبداللّہ‌ سلوم‌ سامرائی‌، الغلو و الفرق‌ الغالیۃ فی‌ الحضارۃ الاسلامیۃ، بغداد ۱۳۹۲/۱۹۷۲.
  • علی ‌بن‌ عیسی‌ اربلی‌، کشف‌ الغمۃ فی‌ معرفۃ الائمۃ، طبع‌ ہاشم‌ رسولی‌ محلاتی‌، بیروت‌ ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱.
  • سعد بن‌ عبداللّہ‌ اشعری‌، کتاب‌ المقالات ‌ و الفرق‌، چاپ‌ محمد جواد مشکور، تہران‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • عباس‌ اقبال‌ آشتیانی‌، خاندان‌ نوبختی‌، تہران‌ ۱۳۵۷ ش‌.
  • امین‌.
  • صحتی سردرودی، محمد، گزیدہ سیمای سامرا سینای سہ موسی، مشعر، تہران، ۱۳۸۸ش.
  • محمد علی‌ حبیب‌آبادی‌، مکارم‌الا´ثار در احوال‌ رجال‌ دو قرن‌ ۱۳ و ۱۴ ہجری‌، ج‌ ۳، اصفہان‌ ۱۳۵۱ ش‌.
  • حسین ‌بن‌ حمدان‌ خصیبی‌، الہدایۃ الکبری‌، بیروت‌ ۱۴۰۶/۱۹۸۶.
  • ذہبی‌.
  • حسن ‌بن‌ علی‌ شدقمی‌، المستطابۃ فی‌ نسب‌ سادات‌ طابۃ، در الرسائل‌ الثلاث‌، طبع مہدی‌ رجایی‌، قم‌: کتابخانہ آیۃ اللّہ‌ مرعشی‌ نجفی‌، ۱۳۸۱ ش‌.
  • علی‌ بن‌ حسن‌ شدقمی‌، زہرۃ المقول‌ فی‌ نسب‌ ثانی‌ فرعی‌ الرسول‌ (ص)، گزشتہ حوالہ.
  • محمد بن‌ عبدالکریم‌ شہرستانی‌، کتاب‌ الملل‌ و النحل، چاپ‌ محمد بن‌ فتح‌اللّہ‌ بدران‌، قاہرہ‌، ۱۳۷۵/۱۹۵۶، طبع‌ افست‌ قم‌ ۱۳۶۷ ش‌.
  • فضل ‌بن‌ حسن‌ طبرسی‌، اعلام‌ الوری‌ بأعلام‌ الہدی، طبع‌ علی‌اکبر غفاری‌، بیروت‌ ۱۳۹۹/۱۹۷۹.
  • محمد بن‌ حسن‌ طوسی‌، کتاب‌ الغیبۃ، چاپ‌ عباداللّہ‌ طہرانی‌ و علی‌ احمد ناصح‌، قم‌ ۱۴۱۱.
  • حسین‌ بن‌ احمد عرشی‌، کتاب‌ بلوغ‌ المرام‌، فی‌ شرح‌ مسک‌ الختام‌ فی‌ من‌ تولّی‌ ملک‌ الیمن‌ من‌ ملک‌ و امام‌، چاپ‌ انستاس‌ ماری‌ کرملی‌، قاہرہ‌، ۱۹۳۹، طبع افست‌ بیروت‌،
  • علی ‌بن‌ محمد عمری‌، المجدی‌ فی‌ انساب ‌الطالبیین، چاپ‌ احمد مہدوی‌ دامغانی‌، قم‌ ۱۴۰۹.
  • محمد بن‌ عمر فخررازی‌، اعتقادات‌ فرق‌ المسلمین‌ و المشرکین، چاپ‌ محمد معتصم‌ باللّہ‌ بغدادی‌، بیروت‌ ۱۴۰۷/۱۹۸۶.
  • گزشتہ حوالہ، الشجرۃ المبارکۃ فی‌ انساب‌ الطالبیۃ، طبع مہدی‌ رجائی‌، قم‌ ۱۴۰۹.
  • قاضی‌ عبدالجباربن‌ احمد، المغنی‌ فی‌ ابواب‌ التوحید و العدل‌، ج‌۲۰، طبع عبدالحلیم‌ محمود و سلیمان‌ دنیا، [ قاہرہ‌،
  • حسن ‌بن‌ محمد قمی‌، کتاب‌ تاریخ‌ قم‌، ترجمہ حسن ‌بن‌ علی‌ قمی‌، طبع‌ جلال‌الدین‌ طہرانی‌، تہران‌ ۱۳۶۱ ش‌.
  • محمد بن‌ عمرکشی‌، اختیار معرفہ الرجال‌، المعروف‌ برجال‌ الکشی، [تلخیص‌] محمد بن‌ حسن‌ طوسی‌، تصحیح‌ و تعلیق‌ محمد باقر بن‌ محمد میر داماد، طبع مہدی‌ رجائی‌، قم‌ ۱۴۰۴.
  • کلینی‌.
  • مجلسی‌.
  • حسین‌ مدرسی‌ طباطبائی‌، مکتب‌ در فرآیند تکامل‌: نظری‌ بر تطور مبانی‌ فکری‌ تشیع‌ در سہ‌ قرن‌ نخستین، ترجمہ ہاشم‌ ایزدپناہ‌، نیوجرسی‌ ۱۳۷۵ ش‌.
  • مسعودی‌، مروج‌ (بیروت‌۔
  • محمدبن‌ محمد مفید، الارشاد، قم‌: مکتبہ بصیرتی‌،
  • گزشتہ حوالہ، الفصول‌ العشرہ فی‌ الغیبہ، طبع‌ فارس‌ حسون‌، قم‌، ۱۴۱۳.
  • گزشتہ حوالہ، الفصول‌ المختارہ، طبع‌ علی‌ میرشریفی‌، بیروت‌ ۱۴۱۴/۱۹۹۳.
  • یحیی ‌بن‌ حسین‌، ناطق‌ بالحق‌، نصرہ مذاہب‌ الزیدیہ عنوان‌ صحیح‌: الدعامہ فی‌ تثبیت‌ الامامہ، طبع‌ ناجی‌ حسن‌، بیروت‌ ۱۹۸۱.
  • احمد بن‌ علی‌ نجاشی‌، فہرست‌ اسماء مصنفی‌ الشیعہ المشتہر برجال‌ النجاشی‌، طبع‌ موسی‌ شبیری‌ زنجانی‌، قم‌ ۱۴۰۷.
  • حسن ‌بن‌ موسی‌ نوبختی‌، فرق‌ الشیعہ، چاپ‌ محمد صادق‌ آل‌ بحرالعلوم‌، نجف‌ ۱۳۵۵/۱۹۳۶.