زہد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

زُہد اخلاقی فضائل میں سے ایک ہے جس کے معنی دنیا سے بے رغبتی کے ہیں۔ زہد ایک نفسانی حالت ہے جو آخرت کی طرف راغب ہونے، غیر خدا سے دور ہوکر خدا کی طرف متوجہ ہونے کا باعث بنتا ہے۔ زہد اور رہبانیت میں فرق ہے، کیونکہ رہبانیت خدا کی نعمتوں سے منہ موڑنے اور لوگوں سے دور گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے کو کہا جاتا ہے جبکہ زہد کو رہنماؤں کی صفت اور لوگوں کی سعادت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شیعہ احادیث میں زہد کو دل کی نورانیت، زبان پر حکمت جاری ہونے اور دنیا کے عیوب سے آگاہ ہونے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

معانی

زہد کے معنی دنیا سے بے رغبتی، آخرت کی طرف مائل ہونے اور غیر خدا سے منہ موڑ کر خدا کی طرف راغب ہونے کے ہیں۔[1] اس کی ضد دنیا کا حریص ہونا ہے۔[2] امام علیؑ سورہ حدید کی آیت نمبر 23 سے استناد کرتے ہوئے زہد کو مال دولت کے چلے جانے پر افسوس نہ کرنا اور اس کے حصول پر خوش نہ ہونا قرار دیتے ہیں۔[3]
احادیث میں زہد کی تعریف دنیا کی طرف راغب نہ ہونا، اسراف نہ کرنا، خدا کی نعمتوں کا صحیح استفادہ کرنا، خدا کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا، زیادہ آرزو نہ کرنا، محرمات، غرور اور تکبر سے پرہیز کرنے کے ساتھ کی گئی ہے۔[4]

زہد اور رہبانیت میں فرق

اسلام میں زہد اور مسیحیت میں رہبانیت کے درمیان فرق ہے۔ رہبانیت کے معنی لوگوں اور خدا کی نعمتوں سے منہ موڑنے کے ہیں جبکہ زہد کے معنی دنیا اور لوگوں سے مکمل منہ موڑنا نہیں بلکہ صرف دنیا میں غرق نہ ہونا اور اس کی طرف راغب نہ ہونے کے ہیں۔ امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق زہد حلال خدا کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے نہیں بلکہ مال دنیا پر اعتماد کرنے سے زیادہ خدا پر اعتماد کرنے کے ہیں۔[5] شہید مطہری کے مطابق زاہد، راہب کے بر خلاف اپنی سماجی وظائف کو ترک نہیں کرتا اور نہ خدا کی نعمتوں جیسے بیوی بچوں، صفائی ستھرائی اور اپنی سلامتی سے دوری اختیار کرتا ہے۔[6]

اہمیت

زہد اخلاقی اور عرفانی مفاہمیم میں سے ہے اور دینی تعلمیات میں زہد کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ علم عرفان میں زہد کو سیر و سلوک کے مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔[حوالہ درکار] اسی طرح فقہ میں بھی زہد سے بحث کی جاتی ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک زہد مستحب ہے۔ فقہاء زکات کے مستحقین میں زاہدوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں۔[7] بعض فقہی منابع میں زہد کو قاضی کے شرائط میں سے بھی قرار دیا گیا ہے۔[8] اسی فتوا میں اختلاف کی صورت میں جس اس مجتہد کے فتوے کو مقدم قرار دیتے ہیں جو دوسرں سے زیادہ متقی، پرہیزگار اور اعلم ہو۔[9]

بعض احادیث میں زاہدوں کو سب سے زیادہ مہذب لوگوں میں شمار کیا گیا ہے[10] امام علیؑ زہد کو راہنماؤں کی پہلی صفت قرار دیتے ہیں۔[11] اسی طرح پیغمبر اسلامؐ اس صفت کو امت کی سعادت [12] اور آسودگی[13] کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

امام صادقؑ سے بھی منقول ہے کہ تمام خوبیوں کو ایک گھر میں رکھا گیا ہے جس کی چابی زہد اور دنیا سے بے رغبتی ہے۔[14]

درجات، آثار اور علامتیں

علمائے اخلاق ترک دنیا کے لحاظ سے زہد کو تین درجات میں تقسیم کرتے ہیں؛

  • پہلا درجہ؛ زاہد کے اندر دنیا کی طرف میل پایا جاتا ہے لیکن وہ اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے خود کو دنیا سے دور رکھتا ہے، یہ زہد کا سب سے پست درجہ ہے۔
  • دوسرا درجہ: زاہد دنیا کو اپنے اختیار سے ترک کرتا ہے اور دنیا کو ترک کرنے کا مقصد اخروی نعمات تک پہنچنا ہے۔ اس کی نظر میں دنیا آخرت سے پست اور ناچیز ہے۔ زہد کے اس درجے میں زاہد اس شخص کی مانند ہے جو دو درہم کی خاطر ایک درہم سے دستبردار ہوتا ہے۔
  • تیسرا درجہ؛ زاہد دنیا کو اپنے اختیار اور شوق کے ساتھ ترک کرتا ہے اور یہ تصور بھی نہیں کرتا کہ اس نے کسی چیز کو کھو دیا ہے۔ زہد کا یہ درجہ سب سے اعلا درجہ ہے۔ [15]

اسی طرح احادیث میں حرام سے پرہیز کرنا، مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا اور مباح چیزوں سے پرہیز کرنے کو زہد کے مراتب اور درجات میں شمار کیا گیا ہے۔[16]

آثار اور علامتیں

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں دل کی نورانیت، زبان پر حکمت جاری ہونا اور دنیا کے عیوب سے باخبر ہونے کو زہد کے آثار میں شمار کیا گیا ہے۔[17] شیعہ احادیث میں زہد کی کچھ علامتیں بیان ہوئی ہیں جن میں حرام کے مقابلے میں صبر کرنا[18]، خداپسندانہ کاموں میں رغبت پیدا ہونا[19]، دنیا سے بے رغبت ہونا[20] اور آخرت کی طرف متوجہ ہونا[21] شامل ہیں۔

صوفیوں کی نگاہ میں

زہد کو تصوف کے ارکان میں شمار کیا جاتا ہے۔[22] البتہ زہد کی جو تفسیر بعض صوفیوں کی طرف نسبت دی جاتی ہے وہ زہد کے اس مفہوم سے مختلف ہے جسے عام مسلمان زہد سے مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ تفسیر رہبانیت کے ساتھ زیادہ نزدیک ہے۔ صوفیوں کی نگاہ میں زہد اور عزلت(گوشہ نشینی) کے ساتھ تنگا تنگ رابطہ ہے اسی بنا پر اسے ترک دنیا اور دنیا سے دشمنی رکھنے کے ذریعے تفسیر کرتے ہیں۔[23] کہا جاتا ہے کہ صوفیوں کے ابتدائی دور میں بھی وہ زہد ان کی نگاہ میں اہمیت کا حامل تھا۔[24] حضرت علیؑ کے دور حکومت میں بعض لوگ زہد اور پرہیگاری کا بہانہ بنا کر حکومت میں مداخلت کرنے سے دوری اختیار کرتے تھے۔[حوالہ درکار]


لیکن اہل بیتؑ کی نگاہ میں دنیاوی کاموں میں مشغول ہونا اور دنیا کو ذریعہ معاش قرار دینا زہد کے مافی نہیں ہے بلکہ ان کی نگاہ میں دنیا کی محبت میں گم ہو جانا اور صرف دنیا سے لو لگانا زہد کے ساتھ منافات رکھتا ہے۔[25] اسلام کی نگاہ میں حقیقی زاہد وہ ہے جو دنیا اور دنیاوی نعمتوں سے برخوردار ہونے کے ساتھ ساتھ صرف دنیا کو سب کچھ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے باوجود بھی دنیا سے بے رغبت ہونے ہونے ہیں۔[26] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ ان لوگوں کی مذمت فرماتے تھے جو دنیاوی زندگی سے ہاتھ اٹھا کر صرف ریاضت اور عبادت میں مصروف ہوتے تھے۔[حوالہ درکار] اہل بیتؑ باوجود اس کے کے دنیاوی مال و دولت سے محروم نہیں تھے لیکن سادہ زندگی گزارتے تھے۔ حدیثی منابع میں دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود بھی سادہ زندگی گزارنے کے حوالے سے مختلف داستانیں معصومینؑ سے منقول ہیں۔

مونوگراف

زہد کے بارے میں مختلف زبانوں میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب حسین بن سعید کی کتاب الزہد ہے جو عربی زبان میں لکھی گئی ہے یہ کتاب فارسی میں زہد چیست؟ زاہد کیست؟ کے عنوان سے ترجمہ ہوا ہے۔

اسی طرح "زہد در کلام معصومین علیہم‌السلام"[27]، "حماسہ زہد"؛ جس میں زہد کے معانی اور مسلمان مفکرین کی نگاہ میں اس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا ہے،[28] "فقر و زہد"؛ المحجہ البیضاء سے اقتباس[29] اور زہد[30] کے عنوان سے مختلف کتابیں نشر ہو چکی ہیں۔

اسی طرح زہد کے موضوع پر مختلف عناونیں جیسے: "معناشناسی زہد در نہج البلاغہ" [31]، "تعریف زہد"، "جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ" اور "درآمدی بر شناخت مفہوم زہد"[32] سے مختلف مقالات نشر ہو چکے ہیں۔

حوالہ جات

  1. مصطفوی، التحقیق، ۱۴۱۶ق، ذیل واژہ زہد، ج۴، ص۳۱۱۔
  2. ابن منظور، لسان العرب ج۵، ص۹۷۔
  3. فیض الاسلام، شرح و ترجمہ نہج البلاغہ، ج۶، صفحہ۱۲۹۱۔
  4. ری شہری، میزان الحکمہ، ۱۳۷۷-۱۳۷۸ش، ج۵، ص۲۲۲۸و۲۲۲۷.
  5. مجلسی،‌ بحارالانوار، ج۷۰، ص۳۱۰۔
  6. مطہری،‌ سیری در نہج البلاغہ، ص۲۲۱۔
  7. حلی، تذکرۃ الفقہاء، ۱۴۱۴ق، ج۵، ص۳۳۸۔
  8. حلی، السرائر، ج۳، ص۵۳۸۔
  9. حلی، تحریرالأحکام، ۱۴۱۴ق، ج۵، ص۱۱۹۔
  10. ری شہری، میزان الحکمہ، ۱۳۷۷- ۱۳۷۸ش، ج۲، ص۱۱۶۶، ح۷۶۸۶۔
  11. نہج‌البلاغہ، خطبہ۸۱۔
  12. قمی، کنز الدقائق، ج۷، ص۳۰۱۔
  13. طوسی، امالی، ۱۴۱۷ق، ص۲۷۔
  14. کلینی، اصول کافی، ۱۳۶۵ش، ج۲، ص۱۰۴۔
  15. غزالی، احیاء علوم الدین، ۱۴۰۶ق، ج۴، ص۲۳۹-۲۴۰۔
  16. کلینی، اصول کافی، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۶۸۔
  17. مجلسی، بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۶۱، ح۱۷۴۔
  18. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۷، ص۳۱۳۔
  19. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۴، ص۴۲۷۔
  20. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۴، ص۴۲۷۔
  21. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۷، ص۳۱۵۔
  22. حاتمی، تعریف زہد، جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ، ص۵۶۔
  23. حاتمی، تعریف زہد، جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ، ص۶۱-۶۳۔
  24. حاتمی، تعریف زہد، جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ، ص۶۳۔
  25. حاتمی، تعریف زہد، جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ، ص۶۱-۶۳۔
  26. آمدِی، غرر الحکم، ۱۳۹۳ش، ص۴۸، مجلسی، بحارالانوار، ج۲، ص۵۲۔
  27. نجیمی، محسن‌علی، قم، مرکز پژوہش‌ہای اسلامی صداوسیما، ۱۳۸۲ش۔
  28. علی‌اکبر کیوانفر، تہران، جہاد دانشگاہی، ۱۳۹۳ش۔
  29. محمدعلی علی‌دوست، مشہد، ‌بنیاد پژوہش‌ہای‌ آستان قدس رضوی، ۱۳۹۴ش۔
  30. سید محمدمہدی حسینی ہمدانی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۹۳ش۔
  31. دوفصلنامہ، علمی و پژوہشی قرآن و حدیث، دورہ۴، شمارہ۸، صفحہ ۹۷-۱۲۷، بہار و تابستان۱۳۹۰۔
  32. فصلنامہ علمی ترویجی اخلاق، دورہ۱، شمارہ۱، مقالہ۴، ص۱۱۴-۱۳۵، پاییز۱۳۸۴۔

مآخذ

  • آمدی، عبدالواحد، غررالحکم و دررالکلم، ترجمہ: محمدعلی انصاری، قم، امام عصر(عج)، ۱۳۹۳ش۔
  • حاتمی کنکبود، حبیب و دیگران، تعریف زہد، جایگاہ و ارکان آن در نگاہ معصومان و متصوفہ، پژوہش‌نامہ مذاہب اسلامی، سال سوم، شمارہ ششم، ص۵۵-۷۴، پاییز و زمستان۹۵۔
  • ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، ترجمہ: حمیدرضا شیخی، قم، دارالحدیث، چاپ اول، ۱۳۷۷-۱۳۷۸ش۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، الامالی، قم، نشر مؤسسہ بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۷ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافۃ، ۱۴۱۴ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، آل‌البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تحریرالأحکام، قم، موسسہ آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، آل‌البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • غزالی، محمد بن محمد، احیاء علوم الدین، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م۔
  • قمی مشہدی،محمد، تفسیر کنزالدقائق، قم،‌دار الغدیر، ۱۴۲۳ق۔
  • کلینی، محمدبن یعقوب، اصول کافی، چاپ علی‌اکبر غفاری، بیروت، ۱۴۰۱ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، تہران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۶ق۔