ہشام بن حکم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہشام بن حکم
کوائف
نام: ہشام بن حکم
وجہ شہرت: متکلم، راوی حدیث
پیدائش: حدود ۱۳۳ ق
محل زندگی: کوفہ، واسط
اصحاب: امام صادقؑ اور امام کاظمؑ
مذہب: اسلام، شیعہ
شاگرد: یونس بن عبدالرحمن، ابن میثم تمار

ہشام بن حَکَم دوسری صدی ہجری کے شیعہ متکلم اور امام صادقؑ اور امام کاظمؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک طرف ائمہ معصومین سے ان کی مدح اور توصیف میں احادیث وارد ہوئیں ہیں تو دوسری طرف سے بہت سارے شیعہ علماء نے بھی ان کی تعریف و تمجید کی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اہل سنت علماء بھی ان کی علمی مقام کے معترف تھے۔ یحیی‌ بن خالد برمکی کے علمی محافل میں بحیثیت ناظر ان کی موجودگی نیز عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی طرف سے تحائف وصول کرنا اس بات کی تصدیق کیلئے کافی ہے۔

تعارف

آپ کی کنیت ابومحمد اور ابوالحکم ہے[1]۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں دقیق معلومات میسر نہیں مگر یہ کہ اتنا مسلم ہے کہ آپ دوسری صدی ہجری کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔[2] البتہ بعض مورخین کا خیال ہے کہ آپ سنہ 133 ہجری قمری کو دنیا میں آئے تھے۔[3] اکثر مورخین انہیں موالی‌(غیر عرب جو کسی عرب کی تحت حمایت میں ہو) کے عنوان سے یاد کرتے ہوئے انہیں بنی کندہ اور بعض بنی شیبان سے نسبت دیتے ہیں۔[4] دوسری طرف سے بعض انہیں عربی الاصل مانتے ہوئے ان کا تعلق قبیلہ خزاعہ سے جوڑتے ہیں۔[5]

نجاشی کوفہ کو ان کی جائ پیدائش قرار دیتے ہوئے انہیں اصالتا کوفہ کے باسی مانتے ہیں،[6] لیکن ان کی نشو نما واسط میں ہوئی ہے۔ نجاشی کے بقول ان کا گھر واسط میں تھا لیکن چونکہ وہ پیشے کی اعتبار سے ایک تاجر تھا اس بنا پر ان کا محل تجارت بغداد میں کرخ نامی جگہ پر تھا اور اس کا گھر وضّاح کے قصر کے قریب تھا۔[7] پیشے کے اعتبار سے آپ کپڑے کا کاربار کرتے تھے[8]۔

علم رجال میں محمد نامی آپ کے ایک بھائی کا ذکر ملتا ہے جو حدیث نقل کیا کرتے تھے اور محمد بن ابی عمیر نے ان سے روایت نقل کی ہے[9]۔ اسی طرح آپ کے دو فرزند حَکَم اور فاطمہ کا نام بھی منابع میں آیا ہے۔ حکم بن ہشام بصرہ کے متکلمین میں سے تھا۔ امامت کے بارے میں ان سے ایک کتاب اور مناظرات پر مشتمل مجالس بھی نقل ہوئی ہے[10]۔

اخلاقی اعتبار سے بھی آپ برجستہ اخلاقی خصوصیات کے حامل تھے۔ من جملہ ان خصوصیات میں سعہ صدر اور تحمل و بردباری کا نام لیا جا سکتا ہے۔ عقیدتی طور پر شدید اختلاف رکھنے کے باوجود آپ کا عبداللہ بن یزید اِباضی کے ساتھ تجارتی شراکت نے سب کو حیرت میں مبتلا کر رکھا تھا یہاں تک کہ جاحظ اس بارے میں کہتے ہیں: "ایک دوسرے کے مخالفین میں یہ دونوں سب سے افضل ہیں"۔[11] اس کے علاوہ متعدد مناظروں میں شرکت کرنا آپ کی شجاعت پر واضح دلیل ہے۔ اسی طرح ادب کی رعایت اور ہر قسم کی نازیبا حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا نیز مناظرے میں مد مقابل کا احترام اور سچائی اور انصاف کی رعایت کرنا آپ کی بارز خصوصیات میں سے تھے۔[12]

فکری اور مذہبی وابستگی

ہشام فکری اور مذہبی حوالے سے مختلف فرقوں سے منسوب ہے اس بنا پر ان کی فکری اور عقیدتی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔[13]

  • بعض ہشام کو ابوشاکر دیصانی کے پیروکاروں میں شمار کرتے ہوئے انہیں بھی ملحد اور دہری قرار دیتے ہیں[14]۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے امام رضاؑ سے منقول ایک حدیث سے بھی تمسک کرتے ہیں جس میں امامؑ انہیں ابوشاکر کے خاص اصحاب میں سے قرار دیتے ہیں اور ابوشاکر کو زندیق کے عنوان سے مورد خطاب قرار دیا ہے[15]۔ لیکن حقیقت امر کچھ اور دکھائی دیتا ہے کیوںکہ ہشام ابوشاکر دیصانی سے فکری اور عقیدتی طور پر کس قدر متأثر تھا اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کیا جا سکتا بلکہ قرائن و شواہد اس کے برخلاف موجود ہیں[16] دوسری طرف سے ان سے منسوب بعض نظریات جیسے بعض اعراض (جیسے رنگ‌، بو اور ذائقہ وغیرہ) کی جسمیت کا قائل ہونا، جزء لایتجزا اور تجسیم کا انکار وغیرہ کے بارے میں بھی یہ نسبت ثابت نہیں ہے۔[17] بلکہ جنہوں نے یہ نسبت دی ہے ان کا خیال تھا کہ چونکہ ان نظریات کو یونان کے "رواقی" فلاسفہ کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ ان کے یہ نظریات دیصانیہ -جو عراق میں پھیلے ہوئے تھے اور ابوشاکر ان کے بزرگان میں سے تھا- کے ذریعے ہشام پر اثر انداز ہوئے ہوں[18]۔

بعض منابع کے مطابق مذکورہ شواہد قابل اعتماد نہیں کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس روایت سے تمسک کیا گیا ہے وہ مرسل اور غیرقابل تمسک ہے۔ دوسری طرف سے صرف اس کا کسی دہری کی شاگردی کرنے سے خود اسکا بھی دہری ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ تیسری بات یہ کہ کسی دو اشخاص کے نظریات میں تھوڑی بہت مماثلت پائے جانے کا لازمہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے پیروکار ہونا نہیں[19]۔

  • ابن ندیم کا خیال ہے کہ ہشام شروع میں جہم بن صفوان کے اصحاب میں سے تھا لیکن بعد میں انہوں نے امامیہ مذہب اختیار کیا۔ ہشام اور جہم بن صفوان کے نظریات میں بعض مماثلتوں کی وجہ سے یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ شاید بعض ادوار میں ہشام ان کے پیروکاروں میں سے تھے[20]۔

احادیث میں ان کی شخصیت

ہشام سے متعلق روایات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: بعض میں ان کی مدح اور بعض میں ان کی مذمت کی گئی ہے۔

مدح اور ستائش والی احادیث

امام صادقؑ، امام کاظمؑ، امام رضاؑ اور امام جوادؑ سے ان کی مدح میں احادیث نقل ہوئی ہیں۔ ان احادیث کے مطابق آپ ائمہ کی حقانیت کے معترف، حق و حقیقت کے مؤید، اہل بیتؑ کی ولایت کے مدافع اور ان کے دشمنوں کے باطل ہونے کو ثابت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح ان احادیث میں ان کی پیروی کو ائمہ کی پیروی نیز ان کی مخالفت کو ائمہ کی مخالفت کے مترادف جانا گیا ہے[22]۔ وہ خدا کا خیرخواہ بندہ ہے جو اصحاب کی حسادت کی وجہ سے مورد آزار و اذیت واقع ہوئے ہیں[23]۔ ہشام اپنے دل، زبان اور تمام اعضاء و جوارح کے ساتھ ائمہ کے حامی ہیں[24]۔ امام صادقؑ نے خود ان سے مخاطب ہو کر فرمایا جب تک تم اپنی زبان سے ہماری حمایت کرتے رہے گے روح القدس کی تائید میں رہو گے[25]۔

مذمت والی احادیث

ان کی مذمت میں نقل ہونے والی احادیث میں سے ایک وہ روایت ہے جس میں امام کاظمؑ کی زندانی اور پھر شہادت میں ان کے کردار کی وجہ سے ان کی مذمت کی گئی ہے۔ ان احادیث کے مطابق امامؑ نے اپنے اصحاب کو مناظرہ کرنے سے منع کیا تھا لیکن ہشام نے امام کی نافرمانی کرتے ہوئے مناظرات کو جاری رکھا جو امامؑ کی قید اور آخر کار شہادت کا باعث بنا۔[26]۔

مذمت والی احادیث کا جواب

ہشام کی مذمت میں وارد ہونے والی احادیث کے بارے میں مختلف جوابات دی گئی ہیں من جملہ ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ امام کاظمؑ نے مہدی عباسی کے دور حکومت میں مناظرات سے منع کیا تھا پھر ان کے دور حکومت کے بعد تقیہ کا دور ختم ہوا تھا اور ہشام نے بھی مہدی عباسی کے دورمیں امام کاظمؑ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے مناظرات سے دوری اختیار کیا تھا۔[27] دوسرا جواب یہ ہے کہ مناظرات سے امام نے جو منع کیا تھا وہ شروع سے ہشام کو شامل ہی نہیں کرتا تھا یعنی امام کا مقصود ہشام کے علاوہ دوسرے اصحاب تھے اس بارے مس خود ہشام کہتا تھا: "مثلی لاینهی عن الکلام" یعنی مجھ جیسوں کو مناظره وغیرہ سے منع نہیں کیا گیا[28]۔ اسی طرح امام صادقؑ نے خود ہشام سے فرمایا تھا: تم جیسوں کو لوگوں سے گفتگو کرنی چاہئے۔[29] ان کے علاوہ اگر یہ بات درست ہوتی اور اس نے امام کی نافرمانی کی ہوتی تو امام رضاؑ اور امام جوادؑ ان کے حق میں طلب رحمت کی دعا نہ فرماتے[30]۔

علمی مقام و منزلت

ہشام بن حکم اپنے زمانے کے مایہ ناز علمی شخصیات اور دوسری صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے تھا جو اپنے زمانے کے مختلف علوم و فنون سے آشنا تھے۔

ابن ندیم آپ کو ان شیعہ متکلمین میں شمار کرتے ہیں جو علم کلام اور فن مناظرہ میں خاص مہارت رکھتے تھے[31]۔ علی بن اسماعیل میثمی کو جب پتہ چلا کہ ہارون الرشید ہشام کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہا ہے تو اس نے کہا: انّا لله و انّا الیه راجعون اگر ہشام مارا جائے تو علم پر کیا مصیبت آئے گی۔ وہ ہمارا بازو، استاد اور ہمارے درمیان سب کے لئے مورد توجہ تھا[32]۔

شیعہ بزرگان کے علاوہ بہت سارے اہل سنت علماء نے بھی ہشام بن حکم کی تعریف و تمجید کی ہیں؛ ہشام کا یحیی بن خالد برمکی کے علمی محافل میں ناظر کی حیثیت سے شرکت کرنا اور دوسرں کے مناظروں میں ان کا بطور جج مقرر ہونا نیز ہارون رشید کی طرف سے بعض تحائف کی وصولی اس بات پر واضح دلیل ہیں[33]۔ جب صَفَد کے بادشاہ نے ہارون سے درخواست کیا کہ ایک ایسے شخص کو وہاں بھیجا جس سے لوگ دین حاصل کر سکیں، تو یحیی بن خالد برمکی نے اس کام کیلئے صرف ہشام بن حکم اور ضرار کو سزاوار قرار دیا[34]۔ شہرستانی نے بھی ہشام سے منسوب بعض اتہامات کی صحت پر شک کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہشام اصول اور مبانی میں عمیق فکر و اندیشے کا مالک تھا اور معتزلہ کے ساتھ ان کے مناظرات اور مباحثات سے چشم پوشی نہیں کیا جا سکتا ہے[35]۔

بعض اقوال کی بنا پر ہشام فلاسفہ کے بارے میں تنقیدی نظریے کے حامل تھے۔ ان پر تنقید اور ان کی مذمت کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ان کے نظریات سے آشنا تھے[36] اسی طرح علوم نقلی پر بھی ہشام تسلط تھا۔ کتاب الالفاظ جسے علم اصول میں پہلی تصنیف مانا جاتا ہے، ان کی ہی تصنیف ہے[37]۔ حجیت خبر متواتر، استصحاب اور اجماع وغیرہ ان کی اصولی نظریات میں سے ہیں[38]۔

ہشام فن مناظرہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے معتزلہ کے بڑے بڑے علماء سے مناظرہ کیا ان میں ابوعثمان عمرو بن عبید عبدالتمیمی بصری (متوفی 144 ہجری)، عبدالرحمان بن کیسان (ابوبکر اصم بصری) (متوفی 200 ہجری)، ابوالہذیل علاف (متوفی 235 ہجری) اور نظّام (متوفی 231 ہجری) شامل ہیں۔[39]

اساتید اور شاگردان

ہشام نے ایک طویل مدت امام صادقؑ اور امام کاظمؑ کی شاگردی کی۔ وہ مشکل مسائل کو حل کرنے میں ان دو بزرگواروں سے مدد لیتے تھے اور بعض اوقات جب امام اس سے سوال کرتے کہ اس مطلب کو تم نے کس سے سیکھا ہے تو وہ جواب دیتے کہ اسے میں نے آپ ہی سے سیکھا ہے[40]۔ ہشام کے بہت سارے عقائد اور افکار امام صادقؑ اور امام کاظمؑ کے احادیث سے مطابقت رکھتے ہیں جو اس بات کی علامت ہی کہ ان کے اعتقادات کا سرچشمہ یہی احادیث تھے۔ ان کے دیگر اساتید کے بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں ہے۔

ہشام کے شاگردوں میں سے بعض افراد درج ذیل ہیں:

  • یونس بن عبدالرحمن: مخالفین کو رد کرنے میں ہشام کا جانشین تھا[45] 30 کتابوں کو ان کی طرف نسبت دی گئی ہے [46]۔ یونس نے ہشام سے اور ہشام نے امام صادق سےروایت نقل کی ہے[47]۔
  • علی بن اسماعیل میثمی : ہشام کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا یہاں تک کہ اس وجہ سے انہیں قید خانوں میں بھی جانا پڑا[48] وہ "المجالس" نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں جس میں انہوں نے ہشام کے نظریات کو جمع کیا ہے اور نجاشی نے انہیں اپنے زمانے کے علم کلام کے ماہرین میں سے قرار دیا ہے۔[49]

ان کے علاوہ ابواحمد محمد بن ابی عمیر (متوفی 21 ہجری)، نشیط بن صالح بن لفافہ، عبدالعظیم حسنی (متوفی 252 ہجری) وغیرہ نے ہشام سے اور ہشام نے امام صادق یا امام کاظم علیہماالسلام سے روایت نقل کی ہیں اور نقل حدیث میں یہ اشخاص ان کے شاگرد محسوب ہوتے ہیں۔[50] معتزلہ کے بزرگان میں سے بھی ابراہیم بن سیار(نظام) بھی اپنے بعض افکار میں ہشام سے متأثر تھے۔[51]

کلامی نظریات

ہشام کے اعتقادی نظریات کو تین حصوں خداشناسی، نبوت اور امامت میں مورد بحث قرار دیا جا سکتا ہے:

خداشناسی

ہشام خدا کی معرفت اور شناخت کے واجب اور ضروری ہونے کے قائل تھے۔[52] ابوالحسن اشعری،[53] کے مطابق ہشام کے نزدیک تمام معارف من جملہ معرفت الہی ضروری ہیں لیکن ان کو ثابت کرنے کیلئے دلیل اور برہان کی ضرورت ہوتی ہے۔[54]

خدا کے وجود کو ثابت کرنے کیلئے شیخ صدوق نے اپنی کتاب التوحید[55] میں ہشام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی معرفت، پیدائش اور جسمانی خصوصیات کے ذریعے خدا کے وجود پر استدلال کی ہیں۔

تشبیہ اور تجسیم من جملہ عقائد میں سے ہیں جن کو ہشام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس عقیدے کا اصلی موجد ہشام کو قرار دیتے ہوئے شیعوں کو سب سے پہلے تجسیم کے قائلین میں سے شمار کیا گیا ہے۔[56]

بعض منابع کے مطابق ہشام نے تجسیم کے عقیدے پر تین دلائل قائم کی ہیں۔[57]

ہشام کی طرف تجسیم کی نسبت دینے پر شیعوں کی طرف سے مختلف رد عمل کا اظہار ہوا ہے۔ اس حوالے سے بعض لوگ سرے سے اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ ہشام تجیسم کا قائل ہی نہیں تھا اور ان کی طرف یہ نسبت حھوٹی اور مخالفین کی طرف سے ان پر لگائے جانے والا ناروا الزام ہے۔[58] بعض کا خیال ہے اس کا یہ عقیدہ امام صادق علیہ‌السلام سے ملاقات سے پہلے کا تھا۔[59] بعض اس کی اس بات کو کہ "خدا جسمی ہے لیکن دوسرے اجسام کی طرح نہیں" کی توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات معتزلہ یا ابوالہذیل یا ہشام بن سالم جوالیقی کے مقابلے میں قرار دیئے ہیں۔[60]

جبر و اختیار

جبر و اختیار کے بارے میں ہشام سے مختلف نظریات نقل ہوئی ہیں۔ بعض انہیں جبر کا قائل مانتے ہیں۔[61] لیکن شیعہ بزرگان من جملہ سید مرتضی،[62] اس بات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں کیونکہ ائمہ معصومین سے منقول ہشام کی مدح و ستائش پر مبنی احادیث اس احتمال کو باطل مردود قرار دیتے ہیں اس سے بھی بڑھ کہ یہ کہ جبر کی نفی سے متعلق بعض احادیث کو خود ہشام نے ہی نقل کیا ہے۔[63] دوسری طرف سے یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ ہشام اختیار کا قائل تھا مثلا انہوں نے علم الہی کے حادث ہونے پر استدلال کرتے ہوئے علم ازلی کو انسان کے مکلف اور مختار ہونے کے ساتھ منافات رکھتا ہے۔[64]

اشعری لکھتے ہیں کہ[65] جعفر بن حرب قائل ہیں کہ ہشام ایک طرف سے افعال انسان کو اختیاری جبکہ ایک طرف سے اضطراری جانتے تھے؛ اس حیثیت سے کہ انسان خود انہیں ارادہ کرتا ہے، اختیاری ہے۔ جبکہ ان افعال کا انجام پانا ان کے مہیج اسباب و شرائط پر موقوف ہے، اس اعتبار سے یہ اضطراری ہیں۔ ہشام کی باتوں کو دقیق طور پر سمجھنا شرط مہیج کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ بہر حال سبب مہیج سے کسی فعل کے جبری ہونے کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ احادیث میں جبر کی نفی کے ساتھ ساتھ سبب مہیج کو استطاعت کے ارکان میں سے قرار دیا ہے۔ لہذا ہشام کا نظریہ امر بین الامرین کے نظریے پر قابل تطبیق ہے۔[66]

جہان شناسی

جہاں شناسی میں بھی ہشام بن حکم صاحب نظریہ ہیں۔ حدوث عالم کے نظریے کا نام ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے، اسی طرح عالم کا لا منتاہی ہونا، جزء لایتجزا کا انکار اور بعض اجسام کا دوسرے اجسام میں مداخلت وغیرہ جہان شناسی میں ان کے نظریات میں سے ہیں۔[67]

بعض قدرتی حوادث و واقعات (من جملہ زلزلہ، فضا، بارش اور ہوا) کے بارے میں بھی ہشام کے نظریات موجود ہیں۔[68] اشعری[69] ہشام سے نقل کرتے ہیں کہ فرشتوں کے بارے میں ان کا نظریہ تھا کہ فرشتوں پر بھی امر و نہی ہوتی ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کیلئے وہ سورہ نحل کی آیت نمبر 49 اور 50 سے تمسک کرتے ہیں۔

انسان شناسی

ہشام انسان کی حقیقت کو غیر جسمانی جانتے تھے۔ نظّام کے ساتھ ہونے والے مناظرے میں انہوں نے روح کے غیر جسمانی ہونے پر تصریح کی ہیں۔[70] اس کے علاوہ شیخ مفید اپنی کتاب المسائل السّرویہ،[71] میں انسان کی حقیقت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اسے قائم بہ نفس مانتے ہوئے اسے حجم، حیز، ترکیب، سکون، حرکت، اتصال اور انفصال سے عارضی مانتے ہیں۔ شیخ مفید اس نظریے میں اپنے آپ کو نوبختیان اور ہشام بن حکم کا تابع قرار دیتے ہیں۔[72]

ہشام بن حکم انسان کی جاودانگی کے بھی قائل تھے اور اسی موضوع پر انہوں نے نظّام سے مناظرہ کرتے ہوئے اس بات پر اہل بہشت کا بہشت میں ہمیشہ رہنے کے ذریعے استدلال کیا ہے۔[73]

نبوت

ہشام کے مطابق پیغمبر اور نبی ایک ایسا انسان ہے جسے خدا نے ملائکہ کے ذریعے نبوت پر فائز کیا اور ان پر وحی کرتا ہے اور یہی وحی پیغمبر اور امام کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں۔[74]

عصمت

اشعری[75] اور بغدادی[76] کے مطابق ہشام پیغمبر کے معصوم ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے کیونکہ عالم غیب سے متصل ہونے کے کی وجہ سے جب بھی گناہ میں مرتکب ہونے کا خدشہ پیش آتا خدا انہیں ان کی غلطی اور اشتباہ سے آگاہ کرتے ہیں لیکن امام چونکہ اس کا خدا سے براہ راست رابطہ نہیں ہوتا اسے لئے اسے معصوم ہونا ضروری ہے۔

اگر بر فرض یہ نسبت ثابت بھی ہو جائے کہ یہ نظریہ ہشام کا ہی تھا تو بھی اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ وہ انبیاء کی عصمت کا مطلقا منکر تھا یہاں تک کہ وحی کے دریافت اور ابلاغ میں بھی۔ بلکہ اس کے برعکس بعض قرائن و شواہد موجود ہیں جس کی بنا پر ہشام ایسے نظریات کا قائل ہونا محال ہے۔[77] اس بنا پر یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ ہشام نے ان باتوں کو مد مقابل کو مناظرے کے دوران خاموش کرنے اور اسے منوانے کیلئے کہا ہے۔[78] پس حقیقت میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہشام اس مقام پر امام کی عصمت کو ثابت کرنا چاہتا تا تھا نہ انبیاء کی عصمت کو نفی کرنا کے درپے۔ البتہ ایک چیز رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ توجیہ ان کی طرف سے انبیاء کو جائز الخطاء ماننے کے نظریے سے سازگار نہیں ہے مگر یہ کہ اس حوالے سے اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ نظریہ بھی دوسرے الزامات کی طرح اس پر لگائے جانے والے الزامات میں سے ہیں نہ یه کہ حقیقتا اس نے ایسا کہا ہے۔[79]

معجزہ

پیغمبروں کی دوسری خصوصیت معجزہ ہے۔ ہشام خارق عادت امور کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ان میں سے بعض امور فقط انبیاء سے مخصوص ہیں اور یہ دوسروں کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ علم کلام کی اصطلاح میں ان امور کو معجزہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[80] بعض خارق العادت امور پیغمبروں سے مختص نہیں بلکہ دوسروں سے بھی ان امور کی انجام دہی ممکن ہے۔ ہشام بن حکم سے منسوب بعض مطالب میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ پانی پر چلنے کو پیغمبروں سے مختص نہیں سمحھتے بلکہ اسے دوسرے انسانوں کیلئے ممکن سمجھتے ہیں۔[81] ایسے خارق العادت امور کو اصطلاح میں کرامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بات کے کچھ قرائن و شواہد موجود ہیں کہ ہشام ائمہ خاص کر امام صادق اور امام کاظم علیہماالسلام سے کرامات کے ظاہر ہونے کے قائل تھے۔[82] تیسری قسم میں ایسے امور شامل ہیں جنہیں بظاہر لوگ خارق العادت تصور کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ چیزیں فریب اور دھوکا دهی پر مشتمل ہوتا ہے اصطلاح میں اسے سحر یا جادو کہا جاتا ہے۔ لہذا کوئی ساحر حقیقتا کسی انسان کو گدھا یا لاٹھی کو سانپ میں تبدیل نہیں کر سکتا۔[83]

نبوت کی ضرورت

ہشام کے نزدیک نبوت کے مسئلے میں ایک اور موضوع اس کی ضرورت ہے کہ آیا کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے جو نبوت کو ثابت کر سکے؟ ہشام کے مطابق نبوت اور امامت کی ضرورت یکساں ہے یعنی جن دلائل کی رو سے آپ نبوت کو ثابت کر سکتے ہیں بالکل انہی دالائل کی رو سے آپ امامت کو بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو انسان کا مدنی بالطبع ہونا یا قاعدہ لطف کی دوسری تعبیر قرار دے سکتے ہیں۔ ان سے منقول مناظروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کو اختلاف اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا، لوگوں کے درمیان الفت ور محبت پیدا کرنا اور لوگوں کو خدا کے قوانین سے آگاه کرنا نبوت کو ثابت کرنے کے اہم ترین دلائل میں سے ہیں۔[84]

امامت

ہشام اپنے زمانے کے ان مایہ نام متکلمین میں سے تھے جنہوں نے امامت کے بارے میں مناظرہ کیا اور مخالفین کے اعتراضات اور اشکالات کا جواب دیا یہاں تک کہ امام صادقؑ نے شام کے باشندے سے مناظرہ امامت کے بارے میں مناظرہ کرنے کو ہشام کے ذمے لگا دیا تھا۔[85]

منصوص من اللہ ہونا

ہشام دیگر شیعہ متکلمین کی طرح امام کو منصوص من الله سمجھتے تھے یعنی امام کو نصب اور معین کرنا خدا پر واجب ہے۔ انہوں نے اس موضوع کو چار دلائل: برہان حکمت، برہان عدالت، برہان اضطرار اور برہان رحمت کی روشنی میں ثابت کیا ہے۔[86] یہ تمام دلائل کسی نہ کسی طرح قاعدہ لطف کی طرف لوٹتی ہیں کیونکہ ان کا استدلال یہ ہے کہ: کسی امام، معلم، رہنما، مرجع اور مفسر کا ہونا انسان کو دینی تعلیمات سے آشنا ہونے، ان پر عمل کرنے اور اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے اور انسانوں کو اختلاف اور پریشانی سے دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے؛ اس بنا پر ان کی نظر میں امام کا وجود، لطف کے مصادیق میں سے ہیں۔ ان کے استدلال کا لازمہ تمام زمانوں میں امام کا موجود ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بریہہ نصرانی اور ضرار کے ساتھ انجام دئے جانے والے مناظرے میں یہ ثابت کیا کہ دنیا ایک لمحے کیلئے بھی حجت‌ خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔[87]

امام کی خصوصیات

ہشام کے مطابق امام کی خصوصیات نَسَبی اور ذاتی میں تقسیم ہوتی ہے۔ نسبی خصوصیات یہ ہیں: شہرت، قوم، قبیلہ، خاندان اور منصوص ہونا۔[88] یہاں تک کہ قاضی عبدالجبار کتاب المغنی[89] میں ہشام کو نظریہ منصوص من الله ہونے کے قائلین میں پہلا شخص قرار دیتے ہیں اور ابن راوندی اور ابو عیسی وراق وغیرہ نے اس نظریے کو ہشام سے ہی لئے ہیں۔ البتہ شیعہ متکلمین نے اس کا جواب دیا ہے۔[90]

ہشام نے ابن ابی عمیر کے جواب میں عصمت کے حوالے سے ایک تجزیہ و تحلیل پیش کی ہے جس سے اس موضوع کی حقیقت اور اس کی نوعیت کے بارے میں ان کے نظریات کا علم ہوتا ہے۔ اس تجزیہ اور تحلیل کے مطابق انسان کی وہ اخلاقی رزائل جو اسے گناہ پر ابھارتی ہیں جیسے حرص، حسد، غضب اور شہوت وغیرہ، معصوم کے اندر ایسے صفات کا منشاء ہی موجود نہیں ہوتا اسی بنا پر یہ ہستیاں گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے جہاں عصمت کا اختیاری ہونا ثابت ہوتا ہے وہاں اس کی حقیقت اور منشاء کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ہشام کے مطابق عصمت کا منشاء ایک طرف سے گناہوں کی حقیقت سے امام کی آگاہی اور دوسری طرف سے ان ہستیوں کی سامنے خدا کی عظمت اور جلالت ہے، ان دو چیزوں کے ہوتے ہوئے ان ہستیاں میں سرے سے گناہوں کی طرف رغبت پیدا ہی نہیں ہوتی۔[91]

ہشام نے عصمت کی ضرورت کو متخلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے من جملہ ان دلائل میں، برہان تسلسل اور گناہ کا امامت کے شان و منزلت سے منافات رکھنا شامل ہیں۔[92] عصمت کا دائرہ کار کہاں تک ہے؟ اس حوالے سے جو چیز ہشام سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان ہستیوں کو حتی گناہ صغیرہ سے بھی معصوم سمجھتے تھے۔[93] عصمت سے متعلق ہشام سے منقول تعریف اور اس پر اس کے دلائل نیز بغدادی[94] اور شہرستانی[95] کے نقل کے مطابق عصمت گناہوں سے پرہیز کا نام ہے صرف اشعری[96] کے مطابق عصمت کیلئے سہو اور اشتباہ سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔

علم

امام کی دوسری خصوصیت اس کا علم ہے۔ ہشام کے مطابق امام کو نصب کرنے کا ایک فلسفہ نیز امام کی ذمہ داریوں میں سے ایک دین اور شریعت کی حفاظت ہے[97] اور دین و شریعت کی حفاظت اس کے تمام تعلیمات سے مکمل آگاہی اور آشنائی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

احکام کا اجرا

امام کی ذمہ داریوں میں سے ایک دین اور شریعت کے احکام کا اجرا ہے اور یہ چیز بھی شریعت کے تمام تعلیمات کے بارے میں مکمل علم اور آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور چہ بسا ممکن ہے یہ چیز احکام و حدود الہی میں دگرگونی پیدا ہونے[98] اور انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں صلاح اور خوبی کی بجای فساد واقع ہونے کا موجب بھی بن سکتی ہے[99] اور یہ چیز امام کو نصب کرنے کے مقصد اور ہدف کے بھی خلاف ہے۔ ہشام اس استدلال کی تأئید اور تصدیق کیلئے قرآن کریم کی آیت مجیدہ: أَفَمَن یہْدِی إِلَی الْحَقِّ أَحَقُّ أَن یتَّبَعَ أَمَّن لَّا یہِدِّی إِلَّا أَن یہْدَیٰ۔۔۔(ترجمہ: اور جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابلِ اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے۔۔۔)کو بطور شاہد لایا ہے۔[100]

شجاعت

امام کی ایک اور خصوصیت امام کا لوگوں میں سب سے زیاده شجاع اور سخی ہونا ہے۔ اس بارے میں بھی ہشام نے مختلف دلائل اقامہ کئے ہیں۔[101]

ہشام نے اپنے والد سے انہوں نے کئی واسطوں سے پیغمبر اسلامؐ سے ایک حدیث نقل کی ہے اس میں پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: میرے جانشین جو مخلوق پر خدا کی حجت‌ ہیں، کی تعداد بارہ(12) ہیں جن میں پہلا امام میرے بھائی علی اور سب سے آخری امام میرے بیٹے مہدی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔[102] ہشام بن حکم حضرت علیؑ کی امامت کو ثابت کرنے کیلئے مختلف عقلی اور نقلی دلائل سے استفادہ کئے ہیں۔ ان کی پیش کرده عقلی دلائل میں امام کا منصوص من الله ہونا، معصوم ہونا نیز امام کا باقی امت سے افضل ہونا شامل ہیں۔ امامت و خلافت کے دوسرے دعویداروں میں ان تین دلائل میں سے منصوص من الله نہ ہونا اور معصوم نہ ہونے میں سب کا اتفاق ہے کیونکہ نہ یہ لوگ خود ان دو چیزوں کا ادعا کرتے تھے اور نہ ہی ان کے پیروکار ان کو منصوص و معصوم سمجھتے ہیں۔ فقط شیعہ اس حوالے سے یہ ادعا کرتے ہیں کہ ان کے ائمہ ایک طرف سے منصوص من الله تھے اور دوسری طرف سے وہ عصمت کے مقام پر فائز تھے اور ہیں۔ ہشام سے بھی ائمہ کے بارے میں یہ ادعا تطور صریح رپورٹ کی گئی ہے۔[103]

ہشام اس سوال کے جواب میں کہ کیوں حضرت علیؑ کو ابوبکر پر برتری اور فوقیت دیتے ہیں؟ حضرت علی کی برتری اور افضلیت کے وجوہات کو تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔ ہشام امام علیؑ کو بہشت کے چار مشتاقین، اسلام کے چار حامیوں، چار قرّاء، خدا کی طرف سے طہارت کی سند ملنے والی چار شخصیات، چار ابرار اور چار شہداء میں سے قرار دیتے ہیں۔ پس چونکہ امام علیؑ ان تمام فضائل کے حامل تھے اس لئے آپ ابوبکر سے افضل ہیں جو ان میں سے کسی ایک فضیلت کے بھی حامل نہیں تھے، پس حضرت علیؑ ابوبکر سے افضل اور برتر ہیں۔[104]

علمی آثار

ہشام من جملہ مایہ ناز شیعہ مصنفین میں سے تھے جن کی بہت زیادہ تصنیفات ہیں[105]۔ رجالی اور فہرستی کتابوں میں ان کی تقریبا 35 کتابوں اور رسائل کا نام لیا گیا ہے، البتہ ان میں سے بعض آثار ان کے شاگردوں کی جمع کردہ مطالب پر مشتمل ہیں لیکن اس وقت ان میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں ہے۔ ان آثار میں متعدد موضوعات پر قلم فرسائی کی گئی ہے جو ان کی علمی جامعیت کی گواہ ہے۔

  • فقہی اور حدیثی آثار:
  1. علل التحریم
  2. الفرائض
  3. الالفاظ
  4. الاخبار کیف تفتح
  5. اصل ہشام
  6. کتاب المیراث
  • آکلامی اور فلسفی آثار:

ان کی کتاب "اختلاف الناس فی الامامۃ" حسن بن موسی نوبختی کی کتاب فرق الشیعۃ کی بنیاد ہے[106]۔

وفات

ہشام کی وفات کی نوعیت کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ پہلا قول شیخ صدوق کا ہے۔[107] آپ ضرار بن ضبی اور عبداللہ بن یزید اباضی کے ساتھ امامت کے موضوع پر انجام پانے والے مناظرے کو ان کی موت کا باعث قرار دیتے ہیں۔ شیخ صدوق کے مطابق ان مناظروں میں ہشام نے امامت کی ضرورت پر اس طرح سے استدلال کیا کہ ہارون الرشید جو مخفیانہ طور پر ان مناظروں کو سنتا تھا، نے ہشام کی گرفتاری کا حکم دیا اور جب ہشام ہاروں کی ناراضگی سے مطلع ہوئے تو کسی بہانے سے مجلس سے باہر نکل گیا اور کوفہ کی طرف فرار کر گیا۔ آپ بشیر نبّال جو علم حدیث کے طرفداروں اور امام صادق علیہ‌السلام کے پیروکاروس میں سے تھے، کے پاس چلا گیا۔ وہاں پر ہشام سخت بیمار ہوئے اور اسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

اس سلسلے میں دوسرے دو قول کشّی سے منسوب ہیں۔ ان میں سے ایک قول ہشام کا سلیمان بن جریر کے ساتھ امامت کے موضوع پر مناظرے سے مربوط ہے۔ اس مناظرے میں ہشام نے امام علی علیہ‌السلام کو مفروض الطاعہ امام ثابت کرتے ہوئے امام علیہ السلام کے اقدامات کے بارے میں کچھ وضاحتیں دی جس سے ہارون ناراض ہوئے جب ہشام ہارون کی ناراضگی سے مطلع ہوئے تو مدائن کی طرف چلا گیا۔ وہا سے آپ کوفہ چلا گیا اور کوفہ میں ابن‌ شرف کے گھر میں آپ کا انتقال ہوا۔[108]

دوسرے قول[109] میں کشی یونس سے ایک داستان نقل کرتے ہیں جس میں شیعوں کا امام پر اعتقاد رکھنے سے متعلق یحیی بن خالد برمکی کے ایک اعتراض کا ہشام نے ان کی مجلس میں ہی ان کو جواب دیتے ہیں۔ جب یحیی بن خالد کو اس جواب کا علم ہوا تو اس نے اسے ہارون تک پہنچایا جس پر ہارون نے ہشام کو احضار کیا لیکن ہشام وہاں سے بھاگ گیا۔ اس واقعے کے بعد ہشام دو ماہ یا اس سے بھی کم مدت زندہ نہ رہ سکا یہاں تک کہ محمد اور حسین حنّاطین کے یہاں ان کا انتقال ہوا۔

ان اقوال کی روشنی میں ہشام کی تاریخ وفات کو کسی حد تک معین کیا جا سکتا ہے۔ کشّی[110] کے مطابق آپ سنہ 179 ہجری کو ہارون رشید کی خلافت کے دوران کوفہ میں انتقال کر گئے۔ یہ قول تاریخی قرائن و شواہد کے ساتھ زیادہ سازگار نظر آتا ہے اس بنا پر یہی قول صحیح ہے۔ پس یہ ادعا کہ آپ برامکہ کی سقول کے کے کچھ عرصہ بعد مأمون عباسی کی خلافت( ۱۹۸ ۲۱۸) کے دوران وفات پائی ہے،[111] یا سنہ 199 ہجری کو کوفہ سے بغداد جانے کے بعد آپ کی وفات واقع ہوئی،[112] زیادہ قابل وثوق دکھائی نہیں دیتا۔

حوالہ جات

  1. مامقانی، ج ۳، ص۲۹۴
  2. نعمہ، ص۴۲ ۴۳؛ صفایی، ص۱۰ ۱۱
  3. عبداللہ نعمہ،ص۴۲
  4. رجال النجاشی، ص:۴۳۳
  5. صدر، ص۳۶۰؛ نعمہ، ص۴۰ ۴۱
  6. نجاشی،ص۴۳۳
  7. نجاشی،ص۴۳۳
  8. ابن بابویہ، ۱۴۱۴، ج۴، ص۴۳۷
  9. مامقانی، ص۱۰۹
  10. نجاشی، ص۱۳۶
  11. أنہما افضلا علی سائرالمتضادَین‌: جاحظ، ج۱، ص۴۶ ۴۷؛ راغب اصفہانی، ج۳، ص۱۳
  12. اسعدی، ص۵۲ ۵۴
  13. نعمہ، ص۵۵
  14. خیاط، ص۴۰ ۴۱؛ ملطی شافعی، ص۳۱
  15. رجال کشّی، ص۲۷۸
  16. توحیدمفضل/ترجمہ علامہ مجلسی،ص۱۸
  17. مفید،الحکایات فی مخالفات المعتزلہ من العدلیہ،ص۷۷
  18. نعمہ، ص۵۶ ۵۸
  19. اسعدی، ص۲۸
  20. نعمہ، ص۵۸
  21. ص ۲۵۶ ۲۵۷
  22. کشی، ص۲۷۸؛ ابن شہر آشوب، ۱۳۸۰، ص۱۲۸
  23. ہمان، ص۲۷۰
  24. کلینی، ج۱، ص۱۷۲؛ مامقانی، ج۳، ص۲۹۴
  25. شریف مرتضی، ج۱، ص۸۵
  26. کشّی، ص۲۷۰ ۲۷۱؛ مامقانی، ج ۳، ص۲۹۸
  27. کشّی، ص۲۶۵ ۲۶۶، ۲۶۹ ۲۷۰
  28. ہمان، ص۲۷۰ ۲۷۱
  29. کلینی، ج۱، ص۱۷۳
  30. کشّی، ص۲۷۰، ۲۷۸؛ مامقانی، ج۳، ص۲۹۷ ۲۹۸
  31. ص۲۲۳
  32. کشی، ص۲۶۳؛ مجلسی، ج ۴۸، ص۱۹۳؛ مامقانی، ج ۳، ص۲۹۶
  33. مفید، ۱۴۰۵، ص۹ ۱۰؛ ابن شہر آشوب، ۱۳۸۵ش، ج ۱، ص۳۲۹
  34. راغب اصفہانی، ج ۱، ص۳۷ ۳۸
  35. ج ۱، ص۳۱۱
  36. کشّی، ص۲۵۸ ۲۶۳؛ شوشتری، ج ۱، ص۳۶۹ ۳۷۰
  37. طوسی، ص۳۵۵ ۳۵۶؛ نیز صدر، ص۳۶۰ ۳۶۱
  38. خیاط، ص۱۳۹، ۱۵۷ ۱۵۸؛ مامقانی، ج ۳، ص۲۹۶؛ نیز اسعدی، ص۴۶، پانویس ۱
  39. مسعودی، ج۵، ص۲۱ ۲۲؛ کشّی، ص۲۷۴ ۲۷۵؛ شہرستانی، ج۱، ص۳۰۸؛ اسعدی، ص۴۹، ۲۵۱ ۳۰۳
  40. کلینی، ج ۱، ص۲۳۸ ۲۴۰
  41. ابن ندیم، ص۲۲۵؛ نجاشی، ص۳۲۸ ۳۲۹
  42. کشّی، ص۵۳۹
  43. اشعری، ص۶۳؛ شہرستانی، ج ۱، ص۳۲۸، پانویس ۳
  44. نجاشی، ص۲۵۰، ۴۳۳
  45. کشّی، ص۵۳۹؛ ابن ندیم، ص۲۷۶
  46. طوسی، ص۳۶۷
  47. کشّی، ص۲۲۴
  48. علیپور،شخصیت و اندیشہ‌ہای کلامی علی بن اسماعیل میثمی،ص۵۶
  49. رجال النجاشی، ص: ۴۳۳
  50. رجوع کنید بہ: نبہا، ص۹۲ ۹۳، ۹۷، ۱۰۲
  51. رجوع کنید بہ: بغدادی، ص۶۸
  52. کلینی، ج۱، ص۱۰۴؛ ابن بابویہ، ۱۳۵۷ش، ص۹۸
  53. ص ۵۲
  54. ہشان کے ان نظریا کی بررسی اور تحقیق کیلئے رجوع کریں: اسعدی، ص۶۶ ۷۳
  55. ص ۲۸۹
  56. رجوع کنید بہ: خیاط، ص۶۰؛ اشعری، ص۳۱ ۳۳؛ بغدادی، ص۶۶؛ شہرستانی، ج۱، ص۳۰۸
  57. کلینی، ج۱، ص۱۰۵ ۱۰۶؛ اشعری، ص۳۱ ۳۳؛ ابن بابویہ، ۱۳۷۵ش، ص۹۹؛ لیکن یہ دلائل نہ صرف تام نہیں ہیں بلکہ ان کی نسبت ہشام کی طرف دینا بھی ثابت اور صحیح ہونا محل اشکال ہے، اسعدی، ص۱۱۸ ۱۲۱
  58. مامقانی، ج۳، ص۳۰۰؛ شرف الدین، ص۴۲۰ ۴۲۱
  59. شوشتری، ج۱، ص۳۶۵ ۳۶۶؛ مجلسی، ج۳، ص۲۹۰؛ مدرس یزدی، ص۶۷؛ شرف الدین، ص۴۲۰
  60. شریف مرتضی، ج۱، ص۸۳ ۸۴؛ شہرستانی، ج۱، ص۳۰۷ ۳۰۸؛ مجلسی، ج۳، ص۲۹۰
  61. ابن قتیبہ، عیون الاخبار، ج۲، ص۱۴۲ ہمو، تأویل مختلف الحدیث، ص۳۵؛ خیاط، ص۶؛ ابن عبدربہ، ج۲، ص۲۳۶؛ مقدسی، ج۵، ص۱۳۲
  62. ج ۱، ص۸۶ ۸۷
  63. مجلسی، ج۵، ص۱۸ ۲۰
  64. بغدادی، ص۶۷
  65. ص ۴۰ ۴۱
  66. اسعدی، ص۱۷۷ ۱۸۱
  67. ابن قتیبہ، عیون الاخبار، ج۲، ص۱۵۳؛ اشعری، ص۵۹؛ بغدادی، ص۶۸
  68. کشّی، ص۲۶۷ ۲۶۸؛ اشعری، ص۶۳؛ بغدادی، ص۶۸
  69. ص ۶۲
  70. مقدسی، ج۲، ص۱۲۳ ۱۲۴
  71. ص۵۷ ۵۹
  72. ایضا، ۱۴۱۴، ص۷۷
  73. کشّی، ص۲۷۴ ۲۷۵؛ مقدسی، ج۲، ص۱۲۱ ۱۲۲
  74. ابن بابویہ، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۵؛ مجلسی، ج۶۹، ص۱۴۸ ۱۴۹
  75. ص ۴۸
  76. ص ۶۷ ۶۸
  77. اسعدی، ص۱۸۹- ۱۹۱
  78. نعمہ، ص۲۰۳
  79. اسعدی، ص۱۹۱
  80. بغدادی، ص۶۸
  81. اشعری، ص۶۳؛ بغدادی، ص۶۸
  82. کشّی، ص۲۷۱، ۳۱۰؛ قطب راوندی، ج۱، ص۳۲۵؛ مجلسی، ج۴۸، ص۳۱، ۳۳ ۳۴
  83. اشعری، ص۶۳
  84. کلینی، ج۱، ص۱۷۲؛ اسعدی، ص۱۹۴ ۱۹۶
  85. طبرسی، ۱۴۰۱، ج۲، ص۳۶۵ ۳۶۷
  86. کلینی، ج۱، ص۱۶۸، ۱۷۳؛ مسعودی، ج۵، ص۲۲ ۲۳؛ ابن بابویہ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۰۷ ۲۰۹، ج۲، ص۳۶۵؛ طبرسی ۱۴۰۴، ج۲، ص۳۶۷ ۳۶۸؛ ابن شہر آشوب، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۰۵
  87. ابن بابویہ، ۱۳۷۵ش، ص۲۷۰ ۲۷۵؛ ہمو، ۱۳۸۵، ص۲۰۲ ۲۰۴؛ اسعدی، ص۲۰۱ ۲۱۲
  88. ابن بابویہ، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۲ ۳۶۸؛ مجلسی، ج۴۸، ص۱۹۷ ۲۰۳
  89. ج ۲۰، قسم ۱، ص۱۱۸
  90. شریف مرتضی، ج۲، ص۱۱۹ ۱۲۰؛ نباطی، ج۲، ص۱۰۴ ۱۰۵
  91. ابن بابویہ، ۱۳۶۱ش، ص۱۳۳؛ ایضا، ۱۳۶۲ش، ص۲۱۵
  92. ابن بابویہ، ۱۳۸۵، ص۲۰۴؛ ایضا، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۷
  93. ابن بابویہ، ۱۳۸۵، ص۲۰۳؛ مجلسی، ج۲۵، ص۱۴۳
  94. ص ۶۷
  95. ج۱، ص۳۱۰ ۳۱۱
  96. ص۴۸
  97. ابن بابویہ، ۱۳۵۷ش، ص۲۷۴
  98. ایضا، ۱۳۸۵، ص۲۰۳
  99. ایضا، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۷
  100. ایضا، ۱۳۸۵، ص۲۰۳ ۲۰۴
  101. رجوع کریں: ابن بابویہ، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۷؛ ایضا، ۱۳۸۵، ص۲۰۴؛ مجلسی، ج۲۵، ص۱۴۳ ۱۴۴
  102. طبرسی، ۱۳۹۹، ص۳۷۱
  103. رجوع کریں: ملطی شافعی، ص۳۱
  104. رجوع کریں: مفید، ۱۴۲۵، ص۹۶ ۹۸؛ مجلسی؛ ج۱۰، ص۲۹۷ ۲۹۸
  105. اشعری، ص۶۳؛ طوسی، ص۳۵۵
  106. http://encyclopaediaislamica۔com/madkhal2۔php?sid=6843
  107. ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۳۶۲ ۳۶۸
  108. کشّی، ص۲۶۱ ۲۶۲
  109. ایضا، ص۲۶۶ ۲۶۷
  110. ص ۲۵۶
  111. رجوع کریں: ابن ندیم، ص۲۲۴
  112. رجوع کریں: نجاشی، ص۴۳۳


مآخذ

  • قرآن کریم ؛
  • ابن بابویہ، علل الشرائع، نجف ۱۳۸۵/ ۱۹۶۶۔
  • ابن بابویہ، التوحید، چاپ ہاشم حسینی طہرانی، قم (؟۱۳۵۷ش)۔
  • ابن بابویہ، معانی الاخبار، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۱ش۔
  • ابن بابویہ، الخصال، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۲ش۔
  • ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۀ، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۳ش۔
  • ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۴۱۴۔
  • ابن شہرآشوب، معالم العلما، نجف ۱۳۸۰/ ۱۹۶۱۔
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، چاپ یوسف بقاعی، قم ۱۳۸۵ش۔
  • احمدبن محمد ابن عبدربہ، عقدالفرید، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۰۹/ ۱۹۸۹۔
  • ابن قتیبہ، عیون الاخبار، بیروت (بی‌تا۔)۔
  • ابن قتیبہ، تأویل مختلف الحدیث، بیروت (بی‌تا۔)۔
  • ابن ندیم، کتاب الفہرست، چاپ محمدرضا تجدد، تہران ۱۳۵۰ش؛
  • ابوحیان توحیدی، البصائر و الذخائر، چاپ وداد قاضی، بیروت ۱۴۰۸۔
  • احمد صفایی، ہشام بن حکم متکلم معروف قرن دوم ہجری و شاگرد مبرز مکتب جعفری، تہران ۱۳۸۳ش۔
  • اسعدی، علیرضا، ہشام بن حکم، قم، ۱۳۸۸ش۔
  • اشعری، علی بن اسماعیل، کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلّین، چاپ ہلموت ریتر، ویسبادن ۱۴۰۰/ ۱۹۸۰۔
  • علیپور، امید، شخصیت و آراء کلامی علی بن اسماعیل بن شعیب بن میثم تمار، بہ راہنمایی محمد غفوری نژاد، دانشکد شیعہ‌شناسی دانشگاہ ادیان و مذاہب، ۱۳۹۴ش۔
  • بغدادی، عبدالقاہربن طاہر، الفرق بین الفرق، چاپ محمد محیی الدین عبدالحمید، بیروت (بی‌تا۔)
  • عمروبن بحر جاحظ، البیان والتبیین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، بیروت (بی‌تا۔)
  • جرجانی، علی بن محمد، شرح المواقف، چاپ محمد بدرالدین نعسانی حلبی، مصر ۱۳۲۵/ ۱۹۰۷۔
  • خیاط، عبدالرحیم بن محمد، الانتصار و الرد علی ابن راوندی الملحد، چاپ نیبرج، بیروت (بی‌تا۔)
  • اصفہانی، حسین بن محمد راغب، محاضرات الادباء و محاورات الشعراء و البلغاء، بیروت (بی‌تا۔)
  • عبدالحسین شرف الدین، المراجعات، چاپ حسین راضی، بیروت ۱۴۰۲/ ۱۹۸۲۔
  • علی بن حسین شریف مرتضی، الشافی فی الامۀ، چاپ عبدالزہراء حسینی خطیب و فاضل میلانی، تہران ۱۴۱۰۔
  • شوشتری، نوراللہ بن شریف الدین، مجالس المؤمنین، تہران ۱۳۵۴ش۔
  • شہرستانی، محمدبن عبدالکریم، الملل و النحل، چاپ احمد فہمی محمد، بیروت ۱۳۶۸/ ۱۹۴۸۔
  • شہرستانی، محمدبن عبدالکریم، نہایۃ الاقدام فی علم الکلام، چاپ آلفردگیوم، قاہرہ (بی‌تا۔)۔
  • صدر، حسن بن ہادی، تأسیس الشیعۀ لعلوم الاسلام، بغداد ۱۳۸۱، چاپ افست تہران (بی‌تا۔)
  • شیرازی، محمدبن ابراہیم صدرالدین، شرح اصول الکافی، چاپ محمد خواجوی، تہران ۱۳۷۰ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، چاپ علی اکبر غفاری، بیروت ۱۳۹۹۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، الاحتجاج، بیروت ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱۔
  • طوسی، محمدبن حسن، الفہرست، چاپ محمود رامیار، مشد ۱۳۵۱ش۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، انوار الملکوت فی شرح الیاقوت، چاپ محمدنجمی رنجانی، (قم) ۱۳۶۳ش۔
  • قمی، محمدسعید بن محمد مفید قاضی سعید، شرح توحید صدوق، چاپ نجفقلی حبیبی، تہران ۱۳۷۳ ۱۳۷۴ش۔
  • قاضی عبدالجبار معتزلی، شرح اصول الخمسۀ، چاپ عبدالکریم عثمان، قاہرہ ۱۴۰۸/ ۱۹۸۸۔
  • قاضی عبدالجبار معتزلی، المغنی فی ابواب التوحید و العدل، چاپ عبدالحلیم محمود و دیگران، مصر (بی‌تا۔)
  • قطب راوندی، الخرائج والجرائح، قم ۱۳۵۹۔
  • کشّی، محمدبن عمر، اختیار معرفۀالرجال، (تلخیص) محمدبن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸ش۔
  • مامقالی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، نجف ۱۳۵۲۔
  • مامقالی، عبداللہ، مرآۃ العقول، چاپ ہاشم رسولی، تہران ۱۳۶۳ش۔
  • مدرس یزدی، علی اکبر، مجموعہ رسائل کلامی و فلسفی و ملل و نحل، تہران ۱۳۷۴ش۔
  • مسعودی، مروج الذہب(بیروت)۔
  • شیخ مفید، الفصول المختارۃ من العیون و المحاسن، بیروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵۔
  • شیخ مفید، المسائل السرّویہ، قم ۱۴۱۳۔
  • شیخ مفید، اوائل المقالات، بیروت ۱۴۱۴۔
  • شیخ مفید، الاختصاص، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۴۲۵۔
  • مقدسی، مطہربن طاہر، البدء و التاریخ، پاریس ۱۸۹۹، چاپ افست تہران ۱۹۶۲۔
  • محمدبن احمد ملطی شافعی، التنبیہ و الردعلی اہل الاہواء و البدع، چاپ محمد زاہد کوثری، قاہرہ ۱۳۶۸/ ۱۹۴۹۔
  • بناطی بیاضی، علی بن یونس، الصراط المستقیم الی مستحقی التقدیم، چاپ محمدباقر بہبودی، قم ؟۱۳۸۴۔
  • خضرمحمد نبہا، مسند ہشام بن الحکم، بیروت ۱۴۲۷/ ۲۰۰۶۔
  • نجاشی احمدبن علی، رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم ۱۴۰۷۔
  • نعمہ، عبداللہ، ہشام بن الحکم، بیروت دارالفکر، سال چاپ ۱۴۰۴۔