اسحاق بن جعفر صادق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اسحاق بن جعفرامام صادق(ع) کے فرزندوں میں سے تھے اور مؤتمن ان کا لقب تھا ۔ان سے روایات منقول ہیں۔وہ اپنے بھائی امام کاظم(ع) کی امامت کے معتقد تھے اور امام کی وصیت کے گواہوں میں سے تھے ۔ امام رضا(ع) کی امامت کے قائل اور بعض موقعوں پر انکی طرف سے امام کا دفاع کرنے کے بھی شواہد موجود ہیں ۔ اسحاق کی بیوی کا نام نفیسہ تھا جو حسن بن زید بن حسن کی بیٹی تھیں اور یہ مصر میں بہت مشہور شخصیت ہیں۔ بعض ان کی جائے دفن سمجھتے ہیں ۔

زندگی‌ نامہ

نسب

ابو محمد انکی کنیت تھی۔[1] امانتداری کی وجہ سے ان کا لقبمؤتمن قرار پایا [2] لوگوں کے سامنے کبھی نہیں ہنستے تھے اس وجہ انہیں اسحاق حزین بھی کہتے تھے[3][4][5]

ان کے باپ کا نام امام جعفر صادق(ع) اور ماں ام ولد (کنیزی) تھیں جن کا نام حمیده تھا۔[6] وہ امام موسی کاظم(ع) کے بھائی تھے ۔[7] و در مدینے کے نزدیک عریض نامی گاؤں پیدا ہوئے [8]

ازدواج

تفصیلی مضمون: سیده نفیسہ

اسحاق نے نفسیہ سے شادی کی جو حسن بن زید بن امام حسن(ع) کی بیٹی تھیں۔اسحاق کی نفیسہ کی شادی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شروع میں حسن بن زید ان سے نفیسہ کی شادی پر راضی نہیں تھے ۔لیکن ایک رات پیامبر اکرم(ص) کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا ۔اس طرح اس نے اس شادی پر رضامندی ظاہر کی ۔[9]

اولاد

انکی اولاد کے متعلق اختلاف مذکور ہے ۔بعض نے تین اولادیں شمار کیں اور بعض نے زیادہ ذکر کی ہیں۔مجموعی طور پر ان کے فرزندوں کے نام درج ذیل ہیں : محمد،.[10]حسن.[11]، حسین.[12]، جعفر.[13] و قاسم[14] نیز ام کلثوم.[15][16] کے نام سے بیٹی مذکور ہے ۔

قاسم اور ام کلثوم اسحاق کی سیده نفیسہ سے پیدا ہونے والی اولادیں ہیں [17][18]

اسحاق کی نسل حلب، شام اور بعلبک میں نقیب سادات کے درجے پر فائز رہی اور وہ اسحاقییون کے نام سے معروف تھے.[19]

ہجرت

اسحاق، سال ۱۹۳ق میں اپنی بیوی نفیسہ کے ساتھ مصر گئے۔لوگ جب آنے سے مطلع ہوئے تو ان کے استقبال کیلئے آئے ۔ ناسخ التواریخ میں اس سفر کے متعلق لکھا ہے: لوگوں کیلئے ان کا آنا ایک عظیم امر تھا انکی درگاہ عفت اور انکی پناہ ملجاء قرار پائی [20][21]

اسحاق نے جمال الدین بن عبداللہ بن جَصّاص کے نام سے تاجر کے گھر سکونت اختیار کی ۔پھر کچھ مہینوں کے بعد ام ہانی کے گھر منتقلہو گئے اور پھر ابوالسریا ایوب بن صابر کے گھر چلے گئے ۔بعض مؤلفین لکھتے ہیں : لوگوں نے انکے آنے کا اس قدر استقبال کیا کہ نفیسہ خاتون نے احساس کرنے لگیں کہ ہمارا رہنا صاحب خانہ کیلئے اذیت کا موجب ہے لہذا انہوں نے مصر چھوڑنے کا ارادہ کیا ۔لوگوں نے مصر کے حاکم سے تقاضا کیا کہ ان کے لئے گھر کا بندوبست کرے پس اس نے ایک گھر ان کے لئے مخصوص کر دیا [22][23]

وفات

اسحاق کی وفات کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے ؛ لیکن کہتے ہیں: اپنی بیوی نفیسہ کی وفات کے بعد ان کی وفات ہوئی ؛ نفیسہ خاتون سال ۲۰۸ق میں بیمار ہوئیں اور اسی سال فوت ہوئیں ۔[24]اسحاق اپنی بیوی کی بیماری کے دوران مدینه میں تھے جب مصر پہنچے تو سیده نفیسہ فوت ہو چکی تھیں ۔ انہوں تہیہ کیا بیوی کا جسد مدینہ لے جائیں لیکن مصر کے لوگوں نے انہیں وہیں دفن کرنے پر اصرار کیا اور اس وقت کے مصر کے حاکم پاس گئے اور اس سے کہا اسحاق اس کام سے منع کریں ۔لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔لوگوں نے بہت سا مال انکے حوالے کیا پھر بھی وہ اس پر راضی نہیں ہوئے لیکن کہتے ہیں ایک خواب کی وجہ سے اس بات پر راضی ہوئے کہ نفیسہ کو وہیں مصر میں دفن کریں ۔اس خواب میں رسول اکرم نے انہیں حخم دیا کہ انکے اموال قبول نہ کرو لیکن اپنی بیوی کو کیہیں دفن کرو۔[25]

کہتے ہیں اپنی بیوی کو مصر میں دفن رنے کے بعد اسحاق ساری عمر وہیں رہے وہیں فوت ہوئے اور انہیں وہیں دفن کیا گیا ۔[26]

خصوصیات

اسحاق ظاہری طور پر پیامبر(ص) کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے [27]

شیخ مفید انہیں دانشمند ، شائستہ ، پارسا اور پرہیزگار کہتے ہیں ۔[28]نیز کہتے ہیں ابن کاسب اس سے حدیث نقل کرتا تھا اور اسے پسندیدہ راستگو کہتا تھا ۔[29] شیخ حر عاملی نے بھی اس کی حدیث، پرہیزگاری اور فضل کی تعریف کی ہے [30] برقی کے مطابق اسحاق امام جعفرصادق(ع) کے اصحاب میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ [31]

دفاع امامت

وہ ان دونوں کی امامت کے قائل تھے۔ امام صادق سے حدیث امام موسی کاظم کی امامت پر حدیث نقل کی ہے۔[32][33] اسحاق ان افراد میں سے ہیں جو امام کاظم (ع) کی وصیت پر گواہ تھے ۔[34] اس وصیت میں امام رضا کو انکے باپ کا جانشین بیان کیا ہے ۔[35]

اسکے باوجود امام صادق کی وفات کے بعد ایک گروہ نے انہیں امام کہا اور امام موسی کاظم کی امامت سے انکاری ہوا۔امام موسی کاظم کی شہادت کے امام رضا(ع) کے بھائیوں میں سے ایک امام کی نسبت معترض تھا . اسحاق نے اسکی مخالفت کی اور امام رضا(ع) سے دفاع کیا۔[36]

حوالہ جات

  1. الاصول فی ذریہ البضعہ البتول ص۱۲۲
  2. نساجی، ص۱۳۷
  3. تاج العروس من جواہر القاموس، ج۱۸، ص۲۸
  4. الاصول فی ذریہ البضعہ البتول، ص۹۲
  5. الکواکب المشرقیہ، ج۲، ص۲۵۶.
  6. ارشاد، ج۲، ص۲۱۱
  7. الاصول فی ذریۃ البضعہ البتول، ص۱۲۳
  8. الاصول فی ذریۃ البضعہ البتول، ص۱۲۳
  9. عطاردی،ص۱۰؛ آل بیت النبی فی مصر،ص۱۰۱ ـ ۱۰۲؛ السیدہ النفیسہ، توفیق ابوعلم، ص۹۵ ـ۹۶.
  10. الکواکب المشرقیہ، ج۱ص ۲۵۶
  11. الکواکب المشرقیہ، ج۱ص ۲۵۶
  12. الکواکب المشرقیہ، ج۱ص ۲۵۶
  13. جمہرةأنساب العرب،متن،ص:۶۰
  14. جمہرةأنساب العرب،متن،ص:۶۰
  15. المواعظ والاعتباربذکر الخط و آثار، ج ۴ص ۳۵
  16. بانوی باکرامت ۱۳۸۲ش
  17. المواعظ والاعتباربذکر الخط و آثار، ج ۴ص ۳۵
  18. بانوی باکرامت ۱۳۸۲ش
  19. معجم القبائل عرب، ج۱،ص۲۰
  20. ناسخ التواریخ امام کاظم(ع)،ج۳،ص۱۲۰؛
  21. ریاحین الشریعہ،ج۵،ص۸۸.
  22. عطاری ص۱۳-۲۰-۲۱
  23. آل بیت النبی فی مصر،احمدابوکف،ص۱۰۸
  24. غلامرضاگلی زواره،ص ۱۲
  25. نور الابصار فی مناقب آل البیت النبی المختار، ص۲۵۸؛ آل بیت النبی فی مصر، ص۱۰۴؛ اسعاف الراغبین، ص۲۰۷؛ السیدة نفیسہ، توفیق ابوعلم، ص۱۳؛ منتہی الامال، ج۲، ص۳۰۰؛ تتمۃ المنتہی، ص۱۹۵؛ ریاحین الشریعہ، ح۵،
  26. الکواکب المشرقیہ، ج۱، ص۲۵۶
  27. الاصول فی بضعہ البتول، ص۱۲۳
  28. ارشاد، ج۲، ص۲۱۱
  29. دائره المعارف تشیع، ج۲، مدخل اسحاق بن جعفر.
  30. وسائل الشیعہ، ج۳۰، ص۳۱۶
  31. رجال البرقی - الطبقات، ص: ۴۷
  32. المفید، الارشاد، ترجمہ و شرح فارسی: محمدباقر ساعدی، تصحیح: محمدباقر بہبودی، بیجا، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ه‍.ش، ص۵۵۵.
  33. کشف الغمہ فی معرفۃ الأئمہ، ج۲، ص: ۲۲۱
  34. الکافی، ج۱، ص۳۱۶
  35. عیون أخبار الرضا علیہ السلام، ج۱، ص۳۳
  36. کافی، ج۱ص ۳۱۶


منابع

  • ابن بابویہ، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا علیہ السلام، نشر جہان، تہران، ۱۳۷۸ ق، چاپ اول.
  • ابن حزم، جمہرة أنساب العرب،، تحقیق لجنہ من العلماء، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • اربلی، علی بن عیسی،کشف الغمہ فی معرفہ الأئمہ، بنی ہاشمی، تبریز، ۱۳۸۱ ق، چاپ اول.
  • ابوکف، احمد، آل بیت النبی فی مصر،قاہره، دارمعارف، ۱۹۷۵م.
  • برقی، احمد بن محمد، رجال البرقی- الطبقات، انتشارات دانشگاه تہران، ۱۳۴۲ ش، چاپ اول.
  • توفیق ابوعلم، سیده النفیسہ، قاہره، دارالمعارف، بی‌تا.
  • حسینی زبیدی، محمد مرتضی، تاج العروس من جواہر القاموس، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۴ق، چاپ اول.
  • شبلنجی، نورالابصار فی مناقب بنت النبی المختار، مطبوع در حاشیہ کتاب اسعاف الراغبین، قاہره، چاپ سنگی، بی‌تا.
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، ۱۴۰۹ ق،چاپ اول.
  • عطاردی عزیز اللہ، گوہر خاندان امامت یا زندگی نامہ سیده النفیسہ، انتشارات عطارد، پاییز ۷۳.
  • کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی،‌دار الکتب الإسلامیہ، ۱۴۰۷ ق، چهارم.
  • محلاتی ذبیح اللہ، ریاحین الشریعہ، دارالکتب الاسلامیه،طہران.
  • مفید، الارشاد، ترجمہ و شرح فارسی: محمدباقر ساعدی، تصحیح: محمدباقر بہبودی، بیجا، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ ش.
  • مقریزی، تقی الدین، المواعظ و الاعتبار و الآثار، مدینہ الشرقاوی، مکتبہ مدبولی، قاہره، ۱۹۹۷م.
  • رجائی،سید مہدی، کواکب المشرقیہ، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، قم، ۱۳۸۰ق.
  • حسنی، شریف انس کتبی، الاصول فی ذریۃ البضعہ الرسول، مدینہ منوره، ۱۴۲۰ق.
  • نساجی، زہرا، سیده نفیسہ بانوی پرہیزکار و پارسا، نشریہ مبلغان، خرداد و تیر۱۳۸۹ش، شماره۱۲۹، صص۱۳۴تا۱۷۴.