عبد اللہ بن مسکان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن مسکان
ذاتی معلومات
مکمل نام عبد اللہ بن مسکان
لقب/کنیت ابن مسکان
رہایش کوفہ(عراق)
تاریخ وفات 183 سے قبل
علمی معلومات
اساتذہ ابو بصیر لیث مرادی • زرارہ بن اعین • جابر بن یزید جعفی • برید بن معاویہ عجلی • ہشام بن سالم جوالیقی • ابان ابن تغلب • محمد بن مسلم • ابن ابی یعفور • محمد بن علی حلبی •
شاگرد صفوان بن یحیییونس بن عبدالرحمن • محمد بن سنان • حماد بن عیسی • حماد بن عثمان • ایوب بن نوح • جمیل بن دراجحسن بن علی بن فضالحسن بن محبوبابن ابی عمیر
سیاسی-سماجی فعالیت

عبداللہ بن مُسکان (وفات 183 ھ سے پہلے)، ابن مسکان کے نام سے معروف امام موسی کاظمؑ سے روایات نقل کرنے والے راوی ہیں۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور ان کا تعلق قبیلہ عنزہ یا قبیلہ عجل کے غلاموں میں سے تھا۔ ان کے روایی اساتید میں ابو بصیر لیث مرادی، زرارہ بن اعین، جابر بن یزید جعفی و برید بن معاویہ عجلی جیسے مشہور حضرات شامل تھے۔ صفوان بن یحیی، یونس بن عبد الرحمن، جمیل بن دراج، حسن بن محبوب و ابن ابی عمیر جیسے افراد نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ (کتاب فی الامامہ) اور (کتاب فی الحلال والحرام) ان سے منسوب ہیں۔

صحابی امام کاظم

ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم اطلاعات میسر ہیں۔ ان کے سلسلہ میں تنہا واضح امر یہ ہے کہ وہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے صحابی تھے اور نجاشی کے مطابق، ابن مسکان نے امام کاظم ؑ کی امامت کے زمانہ میں وفات پائی ہے۔[1] بعض نے ان کا شمار امام صادق ؑ کے اصحاب میں کیا ہے۔ البتہ یہ مسئلہ مورد اختلاف ہے۔ اس لئے کہ ایک طرف تو ابن فضال[2]، برقی[3] اور شیخ طوسی[4] نے انہیں امام جعفر صادق ؑ کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں اور منابع حدیثی شیعہ میں امام صادق ؑ کی روایات میں ان کا نام کثرت سے دیکھنے میں آتا ہے اور ان میں سے بعض روایات میں بلا واسطہ امام سے نقل ہونے کی تصریح ہوئی ہے۔[5] تو دوسری طرف نجاشی[6] ان کے امام صادق ؑ سے روایت نقل کرنے کو ثابت نہیں مانتے ہیں اور انہیں فقط امام کاظم ؑ کے راویوں میں شمار کرتے ہیں اور عیاشی نے بھی یونس بن عبد الرحمن (صحابی امام کاظم) سے نقل کیا ہے کہ اس کے باوجود کہ ابن مسکان نے امام صادقؑ سے ان کے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں۔ انہوں نے امام سے فقط ایک حدیث سماع کی ہے۔[7]

مقام حدیثی و آثار

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

ابن مسکان کے سلسلہ میں جو بات مسلم ہے وہ امامیہ ماہرین علم رجال کی طرف سے ان کی توثیق اور اصحاب اجماع میں ان کا شمار کرنا ہے۔[8]

نجاشی نے انہیں ثقہ و عین کے طور پر متعارف کرایا ہے۔[9] علامہ حلی نے بھی ان کی ان ہی الفاظ میں توصیف کی ہے۔[10]

شیخ مفید نے رسالہ عددیہ میں انہیں فقہاء اصحاب صادقین اور ان شیعہ رئیسان مذہب میں شمار کیا ہے جو احکام الہی میں صاحب فتوی ہیں، کے طور پر متعارف کرایا ہے اور مزید ذکر کیا ہے کہ ان کے سلسلہ میں ظن و ذم کا مورد نہیں پایا جاتا ہے۔[11]

محدث قمی بن مسکان کے بارے میں تحریر کرتے ہیں: ان کا شمار امام صادق ؑ کے جلیل القدر اصحاب میں ہوتا تھا۔ ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جس کے بارے میں شیعہ گروہ کا اجماع و اتفاق ہے کہ جو کچھ ان سے نقل ہوا ہے وہ صحیح ہے۔[12]

آثار

نجاشی نے کتاب فی الامامۃ و کتاب فی الحلال و الحرام کو ان کی تالیفات میں شمار کیا ہے اور تصریح کی ہے کہ کتاب فی الحلال و الحرام کے زیادہ تر مطالب ان کے استاد محمد بن علی حلبی کی روایات سے اخذ کئے گئے ہیں۔[13]

ان کے مشایخ

ابن مسکان کا نام 1252 احادیث کی سند میں ذکر ہوا ہے۔[14] انہوں نے بہت سے محدثین سے روایات نقل کی ہیں ان میں بعض درج ذیل ہیں:

ان سے روایت نقل کرنے والے

ان سے روایات نقل کرنے والوں میں درج ذیل افراد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال، ص۲۱۵
  2. رجوع کریں: الاکمال،ج ۷، ص۲۵۷
  3. برقی، الرجال،ص ۲۲
  4. طوسی، رجال، ص۲۶۴
  5. نمونہ کے طور پر رجوع کریں: التوحید، ص۱۳۷
  6. نجاشی،الرجال، ص۲۱۴
  7. رجوع کریں: طوسی، اختیار، ص۳۸۲-۳۸۳
  8. اختیار معرفہ الرجال، ص۳۷۵؛ فہرست، ص۱۹۶؛ رجال، ص۲۶۴
  9. نجاشی، رجال، ص۲۱۴.
  10. علامہ حلی،خلاصہ الاقوال، ص۱۹۴.
  11. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۱۱، ص۳۴۸.
  12. قمی، الکنی والألقاب، ج۱، ص ۴۰۸.
  13. نجاشی، رجال، ص۲۱۴
  14. خویی،معجم رجال الحدیث، ج۱۱، ص۳۵۲.
  15. طب الائمہ، ص۵۵؛ تفسیر، ص۱۶۵؛ کافی، ج۶، ص۱۴۳؛ اختیار معرفۃ الرجال، ص۳۳۰؛ تہذیب، ج۲، ص۱۶۸،ص ۱۷۴،ص ۲۴۵ و ج۷، ص۴۱.
  16. المحاسن، ص۱۴۵؛ کافی، ج۷، ص۱۴۴؛ التوحید، ص۳۵۲؛ علل، ص۳۷۷؛ کمال الدین، ج۱، ص۲۶۲؛ رجال، ص۲۶۴؛ تہذیب، ج۱، ص۳۰۷، ج۲، ص۱۷۴، ص۲۸۵،ج۸، ص۳۹


مآخذ

  • ابن بابویہ، محمد، التوحید، بہ کوشش ہاشم حسینی تہرانی، تہران، ۱۳۸۷ق
  • ابن بابویہ، محمد، علل الشرائع، نجف، ۱۳۸۵ق /۱۹۶۶ء
  • ابن بابویہ، محمد، کمال الدین، بہ کوشش علی اکبر غفاری، تہران، ۱۳۹۰ق
  • ابن بابویہ، محمد، «مشیخہ»، فقیہ من لا یحضرہ الفقیہ، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف، ۱۳۷۷ق، ج۴
  • ابن بسطام، عبداللہ و حسین، طب الائمہ، نجف، ۱۳۸۵ق /۱۹۶۵ء
  • ابن ماکولا، علی، الاکمال، بیروت، نشر محمد امین دمج
  • برقی، احمد، الرجال، بہ کوشش جلال الدین، محدث، تہران، ۱۳۴۲ش
  • برقی، احمد، المحاسن، بہ کوشش جلال الدین، محدث، تہران، ۱۳۷۰ق
  • خویی، سید ابو القاسم، معجم الرجال، دار الزہرا، بیروت،۱۴۰۹ ق
  • طوسی، محمد، اختیار معرفۃ الرجال، بہ کوشش حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش
  • طوسی، محمد، تہذیب الاحکام، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، تہران، ۱۳۹۰ق
  • طوسی، محمد، رجال، بہ کوشش محمد صادق بحر العلوم، نجف، ۱۳۸۱ق /۱۹۶۱ء
  • طوسی، محمد، فہرست، بہ کوشش محمود رامیار، مشہد، ۱۳۵۱ش
  • فرات بن ابراہیم کوفی، تفسیر، نجف، ۱۳۵۴ق
  • قمی، عباس، الکنی و الالقاب، انتشارات کتاب خانہ صدر، تہران، ۱۳۶۸ ش
  • کلینی، محمد، الکافی، بہ کوشش علی اکبر غفاری، تہران، ۱۳۸۸ق
  • نجاشی، احمد، الرجال، بہ کوشش موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق