مومن الطاق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مومن الطاق
خانہ معلومات اصحاب ائمہ
نام: محمد بن علی بن نعمان بن ابی طریفہ بجلی کوفی
لقب: مومن طاق، طاقی، احول
محل زندگی: کوفہ
وفات/شہادت: 160 یا 180 ق کے بعد
اصحاب: امام صادق (ع) و امام کاظم (ع)
سماجی خدمات: نقل روایت، مناظرہ
مشایخ: ابو عبیدہ حذاء، سلام بن مستنیر
شاگرد: حسن بن محبوب، ابان بن عثمان
قلمی آثار: الاحتجاج فی إمامت أمیرالمؤمنین(ع) • نظراتش بر رد خوارج • مناظرات با أبی حنیفہ • الإمامہ • المعرفہ • الرد علی المعتزلہ فی إمامت المفضول • الجمل فی أمر طلحہ و الزبیر و عائشہ • إثبات الوصیہ • کتاب افعل لا تفعل

محمد بن علی بن نعمان بن ابی طریفہ بجلی کوفی (متوفی 160 یا 180 ق کے بعد) لقب مومن الطاق، امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب اور دوسری صدی ہجری کے شیعہ متکلمین میں سے ہیں۔ وہ علم کلام میں خاص تبحر رکھتے تھے اور شیعہ مخالفین جیسے ابو حنیفہ سے مناطرہ کرتے تھے۔ بعض مخالفین نے ان کی طرف غیر توحیدی عقائد اور نعمانیہ فرقہ کی نسبت دی ہے۔ علمائے شیعہ نے ان تہمتوں کو رد کرتے ہوئے ان کی مدح اور توثیق کی ہے۔ انہوں نے امام جعفر صادق (ع) سے بلا واسطہ اور امام سجاد (ع) اور امام باقر (ع) سے واسطہ کے ساتھ روایات نقل کی ہیں۔

سوانح عمری

ان کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں کوئی اطلاع نہیں ہے البتہ ان کی تاریخ وفات 160 یا 180 ق کے بعد نقل ہوئی ہے۔[1] ان کے والد کا نام علی ہے لیکن ان کے جد نعمان سے انتساب کے سبب انہیں محمد بن نعمان بھی کہتے تھے۔[2] ان کی کنیت ابو جعفر[3] اور القاب احول،[4] طاقی، صاحب طاق[5] اور شاہ طاق ہیں۔[6] اس لقب کی وجہ یہ تھی کہ کوفہ کے علاقہ طاق المحافل میں ان کی صرافی (نوٹ یا کرنسی) کی دکان تھی۔ البتہ اس لحاظ سے کہ انہیں نوٹ کی شناخت تھی اور وہ اصلی اور نقلی کی پہچان بتا دیتے تھے، انہیں شیطان طاق کہتے تھے۔[7] کہا گیا ہے کہ چونکہ وہ مناظرہ میں ابو حنیفہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے تھے اس لئے ابو حنیفہ نے انہیں سب سے پہلے شیطان طاق کا لقب دیا اور جب ہشام بن حکم کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے انہیں مومن طاق کا لقب دیا۔[8]

مقام علمی

علم کلام میں تبحر

مومن طاق ماہر علم کلام تھے[9] اور مناظرات میں ید طولی رکھتے تھے یہاں تک کہ امام صادق (ع) انہیں علم کلام کے مناظرات کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ علم کلام کی کتابوں میں ان کے مناظرات ابو حنیفہ،[10] زید بن علی بن حسین،[11] ابن ابی خدرہ،[12] ضحاک شادی جو خوارج میں سے تھا[13] اور ابن ابی العوجاء[14] سے درج ہوئے ہیں۔[15]

علم حدیث میں مقام

مومن طاق امام صادق (ع)[16] اور امام کاظم (ع)[17] کے اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے بلا واسطہ[18] اور با واسطہ دونوں طریقوں سے احادیث نقل کی ہیں۔[19] جبکہ امام سجاد (ع)[20] اور امام محمد باقر (ع)[21] سے با واسطہ روایات نقل کی ہیں۔

ان روایات کی تعداد جن کی سند میں ان کا نام ذکر ہوا ہے 30 سے کم ہے۔[22] ان روایات کے موضوعات اعتقادات (امامت اور فضائل امیر المومنین (ع))[23]، فقہ[24] اور اخلاق [25]پر مشتمل ہیں۔

امام صادق (ع) نے اپنی وصیت میں انہیں تقیہ،[26] محبت اہل بیت (ع) اور بحث و جدال[27] سے پرہیز کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔

شیعہ علم رجال کے ماہرین نے مومن طاق کی مدح اور توثیق کی ہے۔[28] کشی نے دو روایت ان کی مذمت میں نقل کی ہیں۔ لیکن آیت اللہ خوئی کا ماننا ہے کہ ان کی سند ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان کی مذمت پر دلالت نہیں کرتی ہیں۔[29]

بعض روایات کے مطابق، ان کا شمار امام صادق (ع) کے محبوب ترین افراد میں سے ہوتا تھا۔[30]

ملکہ شعرگوئی

مرزبانی نے کتاب الشعراء میں ایک قصیدہ مومن طاق سے نقل کیا ہے جس کے بعض اشعار یہ ہیں:

عن ذکر آل النبی اذ قهروا للناس فی الملک دوننا طمع
قالت قریش منا الرسول فما فقد اقرّوا ببعض ما صنعوا
فان یکونوا فی القول قد صدقوا اولی بها منهمُ اذا اجتمعوا
لأن آل الرسول دونهمُ وانّهم بالکتاب أعلمهم والقرب منه و السبق قد جمعوا
[31]
ولا تک فی حب الأخلاء مفرطاً وإن أنت أبغضت البغیض فأجمل
فإنک لا تدری متی أنت مبغض صدیقک أو تعذر عدوک فاعقل
[32]

تالیفات

  • تاب الاحتجاج فی إمامت أمیرالمؤمنین(ع)
  • کتاب نظراتش بر رد خوارج
  • مناظرات با أبی حنیفہ و مرجئہ[33]
  • کتاب الإمامہ
  • کتاب المعرفہ
  • کتاب الرد علی المعتزلہ فی إمامت المفضول
  • کتاب الجمل فی أمر طلحة و الزبیر و عائشہ
  • کتاب إثبات الوصیہ
  • کتاب افعل لا تفعل؛[34] اس کتاب میں انہوں نے اپنے زمانہ کے مہم ترین اسلامی فرق و مذاہب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسے قدریہ، خوارج، عامہ (اہل سنت) اور شیعہ۔ وہ فقط شیعہ مذہب کو نجات یافتہ اور حق مانتے ہیں۔ نجاشی نے انہیں احمد بن حسین بن عبیداللّه غضائری کے پاس دیکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض متاخرین نے ان کے سلسلہ میں دست درازی کی ہے اور ان احادیث جو اقوال صحابہ کی تناقض گوئی اور برائی کو بیان کرتی ہیں، کا اضافہ کر دیا ہے۔[35]

ان کے بارے میں شایعات

بعض نے انہیں نعمانیہ یا شیطانیہ فرقہ کا بانی کہا ہے اور بعض نے ان کی طرف غیر توحیدی عقاید کی نسبت دی ہے۔[36] جیسے:

1۔ خداوند عالم کو خلقت سے پہلے ان اشیاء کا علم نہیں تھا۔ [37]

2۔ خداوند عالم انسانی شکل میں ایک نورانی پیکر ہے لیکن وہ جسم نہیں رکھتا ہے۔ [38]

شہرستانی نے ان کی طرف مشبھہ اور غیر توحیدی عقائد کی نسبت دی ہے۔[39] ابن حزم کا ماننا ہے کہ انہوں نے کتاب الامامہ میں کہا ہے کہ سورہ توبہ کی چالیسویں آیت قرآن مجید میں نہیں ہے۔[40]

البتہ شیعہ علماء نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے؛ نجاشی کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی نسبت ان کی طرف دی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہیں۔[41] مامقانی نے بھی ان کی طبرستان اور شیطانیہ فرقہ کی طرف ان کی نسبت کو رد کیا ہے۔ محسن امین عاملی نے کہا ہے کہ ابن حزم کو ان کا نام تک نہیں پتہ ہے تو وہ کس طرح سے ان کے احوال کا علم رکھتے ہیں۔[42] اسی طرح سے ان کا ماننا ہے کہ خود مولف کے زمانہ میں اس فرقہ کا وجود خارجی نہیں تھا اور مومن طاق ان تہمتوں سے مبرا ہیں۔[43]

حوالہ جات

  1. شفیعی، مکتب حدیثی شیعه در کوفه، ص۱۷۹.
  2. مامقانی، تنقیح المقال، ص۱۶۳؛ حلی، رجال، ص۲۲۹.
  3. نجاشی، رجال، ص۳۲۵؛ ابن داود، رجال، ص۳۹۴.
  4. الکنی و الالقاب، ج۲، ص ۱۴.
  5. طوسی،رجال، ص۲۹۶.
  6. طوسی، الفهرست، ص۱۳۲؛ نجاشی، ص۳۲۵؛ کشی، ج۲، ص۴۲۲.
  7. اسد حیدر، الامام الصادق و المذاهب الاربعه، ج۳، ص۶۳.
  8. نجاشی، رجال، ص۳۲۶؛ طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۳۸۱.
  9. طوسی، الفهرست، ص۱۳۲.
  10. نجاشی، رجال، ص۳۲۶.
  11. کشی، ص۱۸۶-۱۸۷؛ قمی، سفینة البحار، ج۳، ص۵۶۷، ج۸، ص۱۲.
  12. قمی، سفینة البحار، ج۲، ص۳۸۶.
  13. کشی، ص۱۸۸.
  14. قمی، سفینة البحار، ج۲، ص۴۰۰.
  15. اسد حیدر، الامام الصادق و المذاهب الاربعه، ج۳، ص۶۵-۶۸.
  16. طوسی، رجال، ص۲۹۶.
  17. طوسی، رجال، ص۳۴۳.
  18. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۲۶، ص۲۱۱؛ کلینی، کافی، ج۳، ۳۸؛ ج۵، ص۴۵۷.
  19. کلینی، کافی، ج۳، ص۳۲۲؛ کلینی، کافی، ج۸، ص۲۹۶؛ کلینی، کافی، ج۲، ص۴۲۳، ج۷، ص۴۴۸، ج۸، ص۱۴۵، ج۸، ص۲۵۶.
  20. قمی، تفسیر قمی، ج۲، ص۲۵۲.
  21. قمی، تفسیر قمی، ج۱، ص۱۹۱؛ کلینی، کافی، ج۸، ص۲۵۶.
  22. خوئی، ج۲۱، ص۹۱؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱۷، ص۳۰۲.
  23. کلینی، کافی، ج۱، ۱۷۶، ج۸، ص۲۵۶؛ قمی، تفسیر قمی، ج۱، ص۱۹۱.
  24. کلینی، کافی، ج۱، ص۴۰، ج۳، ص۱۳، ۳۸،۵۰۹، ج۵، ص۳۰۵، ۴۵۷، ص۴۹۲؛ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۲۶، ص۲۱۱، ج۱، ص۴۳۹.
  25. کلینی، کافی، ج۲، ص۴۲۳، ج۳، ۳۲۲.
  26. قمی، سفینة البحار، ج۴، ۱۸۶.
  27. تحف العقول، ص۳۰۹
  28. طوسی، رجال، ص۳۴۳.
  29. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱۷، ص۳۹-۴۰.
  30. کشی، ص۱۸۵؛ابن داود، رجال، ص۳۹۴.
  31. مرزبانی، شعراء الشیعہ، ص۸۶. بہ نقل از اسد حیدر، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ، ج۳، ص۶۴.
  32. صفدی، الوافی بالوفیات ج ۴ص۷۸.
  33. نجاشی، رجال، ص۳۲۶
  34. نجاشی، رجال، ص۳۲۶؛ طوسی، الفہرست، ص۱۳۲؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱۷، ص۳۳؛ ابن غضائری، ص۱۲۴.
  35. نجاشی، رجال، ص۳۲۵-۳۲۶.
  36. بغدادی، الفرق بین الفرق، ص۵۳؛ شهرستانی، الملل و النحل، ج۱، ص۲۱۸-۲۱۹.
  37. شهرستانی، الملل و النحل، ج۱، ص۲۱۹؛ اشعری، مقالات الاسلامیین، ص۴۹۳.
  38. بغدادی، الفرق بین الفرق، ص۵۳؛ شهرستانی، الملل و النحل، ج۱، ص۲۱۹.
  39. شهرستانی، الملل و النحل، ج۱، ص۲۱۹-۲۲۰.
  40. ابن حزم، الفصل، ج۳، ص۱۱۵.
  41. نجاشی، رجال، ص۳۲۵
  42. امین، اعیان الشیعه، ج۱، ص۴۱.
  43. امین، اعیان الشیعه، ج۱، ص۳۰.


منابع

  • اسد حیدر، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ مع اضافات و تحقیقات جدیده، المجمع العالمی لاهل البیت، الطبعہ الرابعہ، ۱۴۳۱ق/۲۰۱۰ع
  • ابن حزم اندلسی، الفصل فی الملل و الأهواء و النحل، تعلیق: احمد شمس الدین، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۶ق
  • اشعری، ابو الحسن، مقالات الإسلامیین و اختلاف المصلین، فرانس شتاینر، آلمان- ویسبادن، ۱۴۰۰ق
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعہ، دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۶ق
  • بغدادی، عبد القاہر بغدادی، الفرق بین الفرق و بیان الفرقہ الناجیہ منهم، دار الجیل-‌دار الآفاق، بیروت، ۱۴۰۸ق
  • طبرسی، احمد بن علی، الإحتجاج، نشر مرتضی، مشہد، ۱۴۰۳ق
  • مفید، الإختصاص، انتشارات کنگره جهانی شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق
  • طوسی، رجال، جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۱۵ق
  • طوسی، الفہرست، المکتبہ المرتضویہ، نجف. بی‌ تا
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہر، رجال العلامہ الحلی، مصحح: بحر العلوم، محمد صادق، دار الذخائر، نجف، ۱۴۱۱ق
  • ابن داود حلی، رجال ابن داود، انتشارات دانشگاه تہران، ۱۳۸۳ق
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، انتشارات جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۰۷ق
  • قمی، عباس، سفینة البحار، اسوه، قم، ۱۴۱۴ق
  • واسطی بغدادی، احمد بن حسین، الرجال(لابن الغضائری)، مصحح: حسینی، محمد رضا،‌ دار الحدیث، قم،۱۳۶۴ش
  • مامقانی، عبدالله، تنقیح الرجال فی علم الرجال، جہان، تهران، ۱۳۵۲ق
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، مصحح: علی اکبر غفاری علی اکبر و محمد آخوندی، دار الکتب الإسلامیہ، تهران، ۱۴۰۷ق
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، ۱۴۰۹ق
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی، إختیار معرفة الرجال، محقق / مصحح: طوسی، محمد بن الحسن / مصطفوی، حسن، مؤسسہ نشر دانشگاه مشہد، ۱۴۰۹ق
  • شفیعی، سعید، مکتب حدیثی شیعہ در کوفہ (تا پایان قرن سوّم ہجری)، سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، قم، ۱۳۸۹
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد، مصحح: مؤسسة آل البیت علیهم السلام، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، مصحح: موسوی جزائری، طیب، دار الکتاب، قم، ۱۴۰۴ق
  • ابن شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، مصحح: غفاری، علی اکبر، جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۰۴/۱۳۶۳ق