واقعہ فدک

ویکی شیعہ سے
(واقعۂ فدک سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فدک کے باغات کا ایک منظر

واقعہ فدک، پیغمبر اکرمؐ کی وصال کے بعد پیش آنے والے واقعات میں سے ایک ہے جس میں خلیفہ اول کے حکم پر فدک کو حضرت فاطمہؑ سے چھین کر بیت المال میں شامل کیا گیا۔ حضرت ابوبکر، پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ایک حدیث(جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے ابوبکر کے علاوہ کسی اور نے نہیں سنا) سے استدلال کرتے ہوئے مدعی ہوا کہ انبیا کسی چیز کو بطور ارث نہیں چھوڑا کرتے۔ جس پر حضرت فاطمہؑ نے فرمایا کہ اسے پیغمبر اکرمؐ نے اپنی وصال سے پہلے مجھے بخش دی تھی۔ حضرت زہراؑ نے اپنے اس مدعا کو ثابت کرنے کیلئے امام علیؑ اور ام ایمن کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔ شیعہ اور بعض اہل سنت علماء کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے فدک حضرت زہراؑ کیلئے اس وقت بخش دی تھی جب "آیت ذوی القربی" نازل ہوئی اور پیغمبر اکرمؐ کو یہ حکم دیا گیا کہ حقدار کو اس کا حق دیا جائے۔

بعض مصادر کے مطابق حضرت زہراؑ کی گفتگو سننے کے بعد حضرت ابوبکر نے فدک پر حضرت زہراؑ کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک سند تحریر کیا۔ لیکن حضرت عمر نے اس سند کو حضرت فاطمہؑ سے چھین کر پھاڑ دیا۔ ایک اور نقل کے مطابق ابوبکر نے حضرت زہراؑ کے گواہوں کو رد کیا اور فدک واپس کرنے سے انکار کیا تو اس موقع پر حضرت فاطمہؑ نے مسجد نبوی کا رخ کیا اور وہاں پر ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبہ فدکیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپؑ نے خلافت کو غصب کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے انبیاء کے ارث نہ چھوڑنے پر مبنی ابوبکر کی بات کو سراسر قرآنی آیات کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس مقدمے کو قیامت کے دن خدا کی عدالت پر موکول کیا۔ اس واقعے کے بعد حضرت زہراؑ ابوبکر اور عمر سے ناراض ہوئیں اور اسی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

فدک کا علاقہ، جنگ خیبر میں یہودیوں کے