آستانہ حضرت معصومہ (ع)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آستانہ حضرت معصومہ (ع)
حرم حضرت معصومه.jpg
مشخصات
تأسیس: صفویہ و قاجار دور حکومت
محل وقوع: شہر قم، ایران
معماری


آستانہ حضرت معصومہ (ع)؛ روضہ حضرت معصومہ، اس کی عمارتوں، موقوفات اور اس سے مربوط انتظامیہ دفاتر، جن میں اکثر شہر قم میں واقع ہیں، پر مشتمل ہے۔ حضرت فاطمہ معصومہ(س) ۲۰۱ ھ/۸۱۶ ء میں امام علی رضا (ع) کے مرو آنے کے ایک سال بعد خراسان کے ارادہ سے روانہ ہوئیں۔ جب ساوہ شہر کے قریب پہچیں تو بیمار ہو گئیں۔ موسی بن خرزج اشعری، جو قم میں مقیم اشعریوں میں سے تھے، ساوہ گئے اور انہیں قم لے آئے، اپنے یہاں مہمان رکھا، کچھ مدت کے بعد حضرت معصومہ کی وفات ہو گئی۔ ان کے جنازہ کو باغ بابلان نامی مقام، جہاں آج ان کا روضہ ہے، پر دفن کیا گیا۔ ان کی قبر پر اولین قبہ علوی خاتون زینب نے تعمیر کرایا۔ اس روضے نے صفویہ دور میں ایک خاص شکوہ و جلال حاصل کیا۔ روضہ میں اولین ضریح شاہ طہماسب اول نے تعمیر کرائی۔ آج آستانہ و بارگاہ حضرت معصومہ (ع) میں دو صحن، صحن عتیق و صحن جدید ہیں۔ اسی طرح سے اس وقت اس درگاہ کے تمام امور مندرج قوانین کے مطابق، اس کے متولی کے ذمہ ہیں۔

سوانح حیات

اصلی مقالہ: حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

نسب و مدت حیات

فاطمہ معصومہ (متوفی ۲۰۱ ھ/۸۱۶ ء) امام موسی کاظم (ع) (۱۲۸۔۱۸۳ ھ/۷۴۵۔۷۹۹ ء) کی بیٹی ہیں۔ وفات کے وقت ان کی عمر کے سلسلہ میں روایات مخلتف ہیں۔ بعض نے انہیں ۱۸ سالہ اور بعض سے زیادہ ذکر کیا ہے۔ البتہ اس بات کے پیش نظر کہ ان کے والد امام موسی کاظم (ع) کو ۱۷۹ ھ/۷۹۵ ء میں ہارون رشید کے حکم سے گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا گیا اور چار سال کے بعد اسی قید میں آپ کی شہادت واقع ہوئی اور جناب معصومہ کی وفات ۲۰۱ ھ ہوئی۔ اس لحاظ سے وفات کے وقت ان کی عمر کم سے کم ۲۱ یا ۲۲ سال بنتی ہے۔

شہرت

معصومہ کے نام سے مشہور ہونے کی علت اور تاریخ کے سلسلہ میں قطعی طور پر اظہار نظر کرنا مشکل ہے۔ جہان شاہ قرہ قویولنو (۹ ھ/۱۵ ء) کے حکم کے مطابق فقط یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسی دور میں آپ معصومہ کے نام سے مشہور ہوئی ہیں۔

سفر ایران اور وفات

حضرت فاطمہ معصومہ(س) ۲۰۱ ھ/۸۱۶ ء میں امام علی رضا (ع) کے مرو آنے کے ایک سال بعد خراسان جانے کے قصد سے روانہ ہوئیں اور جب ساوہ شہر کے قریب پہچیں تو بیمار ہو گئیں۔ موسی بن خرزج اشعری، جو قم میں مقیم اشعریوں میں سے تھے، ساوہ گئے اور انہیں قم لے آئے اور اپنے یہاں مہمان رکھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق، انہوں نے اپنے خادم سے کہا کہ انہیں قم لے چلیں۔ آپ کی بیماری ۱۷ دن تک چلی اور وفات پر منتہی ہوئی۔

ایک ضعیف روایت کے مطابق آپ کو زہر دیا گیا۔

محل دفن

آپ کا جنازہ باغ بابلان نامی محلہ میں جہاں اس وقت آپ کا روضہ واقع ہے۔ (جو شہر قم کے باہر موسی اشعری کی ملکیت تھا) دفن کیا گیا۔ حسن قمی نے اس مقام کو مقبرہ بابلان کے نام سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ موسی بن خزرج اشعری نے جناب معصومہ کی تدفین کے بعد اس باغ کو عمومی قبرستان کے لئے وقف کر دیا تھا۔

قیام گاہ

موسی بن خزرج نے اس مقام کو جہاں جناب معصومہ نے چند روز قیام کیا تھا، مسجد میں تبدیل کر دیا۔ وہ گھر بھی شہر قم سے پاہر تھا جو اس وقت سرائے ستیہ، جس سے متصل بیت النور بھی ہے جہاں وہ عبادت کیا کرتی تھیں، کے نام سے مشہور زیارت گاہ ہے۔

سب سے پہلے میر ابو الفضل عراقی نے اس مقام کے برابر میں ایک مسجد تعمیر کرائی، اسی سبب سے اس کے اطراف کا وسیع محوطہ میدان میر کے نام سے مشہور ہو گیا۔

روضہ کا محل وقوع

باغ بابلان (روضہ معصومہ) نہر کے کنارے اور شہر سے باہر واقع تھا۔ یہ باغ حتی ساتویں آٹھویں صدی ہجری تک بھی شہر سے باہر شمار ہوتا تھا۔ کیونکہ قاضی احمد قمی نے شمس الدین صاحب دیوان سے ذکر کرتے ہیں کہ شہر قم کا قصد کیا اور جب وہاں پہچے تو روضہ مبارک کے پاس جو بیرون شہر تھا، سواری سے اترے۔ اسی طرح سے صفویہ دور کے ایک وقف نامہ کے مطابق، حرم شہر قم کی فصیل کے باہر تھا۔ جن ایام میں شاردن قم کا دیدار کرنے جاتے تھے اس وقت روضہ کی عمارت اور نہر کے درمیان ایک موٹی و چوڑی اینٹوں کی دیوار بنی ہوئی تھی تا کہ نہر کی طغیانی کی وقت روضے کو نقصان نہ پہچ سکے۔

لہذا اس زمانہ میں بھی روضہ کی چار دیواری اور نہر کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ اگر چہ آج یہ فاصلہ سینکڑوں میٹر تک پہچ چکا ہے۔ البتہ اس فاصلہ کو طبیعی نہیں سمجھا جا سکتا ہے بلکہ قوی احتمال یہ ہے کہ نہر کے رخ کو بعد میں ذرا سا موڑ دیا گیا ہوگا تا کہ حرم نقصان سے محفوظ رہے۔

تاریخچہ بناء حرم

حضرت معصومہ کی وفات اور باغ بابلان میں تدفین کے بعد ان کے روضہ میں تاریخ کے مختلف ادوار میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اور دھیرے دھیرے اس کی اور اس کے اطراف کی عمارتوں کی وسعت اور شان و شکوہ میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ روضہ امام علی رضا (ع) مشہد کے بعد ایران کی سب سے شاندار اور مشہور زیارت گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ روضے کی بناء اندرون ضریح کے حصہ والی عمارت اور اس کے اطراف میں متصل عمارتوں پر مشتمل ہے۔

روضہ کی اندرونی عمارت

پہلی تعمیر

حضرت معصومہ کی تدفین کے بعد اشعریوں نے قبر پر بوریے سے سائبان بنایا۔ یہ سائبان باقی تھا یہاں تک کہ زینب نامی علوی خاتون نے اس پر قبہ تعمیر کرایا۔ البتہ زینب کے نسب کے سلسلہ میں اختلاف ہے۔ تاریخ قم (تالیف: ۳۷۸ ھ، ۹۸۸ ء) کے مولف حسن قمی نے انہیں امام محمد تقی (ع) کی بیٹی اور بعض نے حضرت موسی مبرقع کی دختر تحریر کیا ہے۔ شیخ عباس قمی کا بھی یہ ماننا ہے کہ امام محمد تقی (ع) کی بیٹی نے قم میں وفات پائی اور حضرت معصومہ کے حرم میں دفن ہوئیں۔ ام محمد و میمونہ، زینب کی بہنیں بھی وہیں دفن ہیں۔[1]

قبر پر جو سائبان اشعریوں نے بنایا تھا۔ وہ تیسری صدی ہجری کے نصف تک قائم رہا ہوگا۔ کیونکہ حسن قمی کی تصریح کے مطابق، زینب کے بھائی موسی بن محمد بن علی بن موسی الرضا (ع) ۲۵۶ ھ، ۸۶۹ ء میں قم میں وارد ہوئے اور ان کے قم سے خارج ہو جانے کے بعد ان کی تلاش میں زینب کوفہ سے قم آئیں۔

زینب کے ذریعہ تعمیر بناء بھی کم از کم ۳۷۸ ھ، ۹۸۸ ء جس دور میں تاریخ قم تصنیف ہوئی، تک باقی رہی۔ اس کے بعد سے ۴۵۷ ھ، ۱۰۶۷ ء تک روضہ کی تجدید بناء کے سلسلہ میں کوئی اطلاع دسترس نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ ۳۵۰ ھ، ۹۶۱ ء میں حاکم قم، ابو الحسن زید بن احمد بن بحر اصفہانی نے نہر کی طرف اس کی توسیع کی اور اس کے لئے ایک بڑا دروازہ تعمیر کرایا۔

روضہ اور قبہ ستی

۴۴۷ ھ، ۱۰۵۵ ء میں طغرل سلجوقی امیر ابو الفضل عراقی (۴۵۵ ھ، ۱۰۶۳ ء) نے شیخ طوسی (۳۸۵۔۴۶۰ ھ، ۹۹۵۔۱۰۶۷ ء) کے مطابق قبر اور قبہ ستی کو تعمیر کرایا۔ اس بناء کی تعمیر ۴۵۷ ھ، ۱۰۶۵ ء تک ہوئی۔ اس میں ایوان، حجرے اور گل دستے شامل نہیں تھے۔

مغول و تیمور کے حملے

مغولوں کے حملے میں قم بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہا۔ البتہ احتمالا روضے کو کوئی ضرر نہیں پہچا۔ کیوکہ امیر عراقی کی بنائی ہوئی عمارت صفویوں کے زمانہ تک باقی تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ تیمور گورکانی (۷۳۶۔۸۰۷ ھ، ۱۳۳۵۔۱۴۰۴ ء) نے بھی قم کو ویران کیا لیکن بعض نے قم پر اس کے حملے کا انکار کیا ہے۔

حمد اللہ مستوفی نے قم کے ویران ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ لیکن اس میں واضح نہیں ہے کہ یہ ویرانی مغولوں کے حملے کی وجہ سے ہوئی یا کسی اور کی وجہ سے۔ نیز یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس سے روضے کو کوئی نقصان پہچا یا نہیں۔

سلطان محمد الجایتو کے ذریعہ تجدید

اس کے بعد سلطان محمد الجایتو (متوفی ۷۱۶ ھ۔ ۱۳۱۶ ء) جس کے آثار مشہد میں مشہور ہیں، نے شہر قم اور زیارت گاہوں کی ترقی میں حصہ لیا۔ روضہ میں موجود کاشی کاری، جن میں مغول کے سواروں کی تصاویر نقش ہیں، اسی کے زمانہ کے آثار میں سے ہے۔

توسیع

ادوار صفویہ

صفویوں کے زمانہ میں آستانہ حضرت معصومہ کی شان و شوکت میں اضافہ ہو گیا۔ صفویوں نے گنبد اور روضے کی بناء کو مزید مرتفع کیا اور اسے کاشی سے آراستہ و مزین کیا۔ وہ خدام، حفاظ اور زائرین کی پزیرائی کا اہتمام کرتے تھے اور ان کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ اس دور میں انہوں نے دار المومنین قم کو معماری اور آباد کاری کے کمال تک پہچایا۔

امیر ابو الفضل عراقی کی بناء ۹۲۵ ھ۔ ۱۵۱۹ ء تک باقی رہی۔ اسی سال شاہ اسماعیل اول صفوی (متوفی ۹۳۰ھ ۔۱۵۲۳ ء) کی بیٹی شاہ بیگم نے عماد بیگ کے ذریعہ روضے کو ۸ پہلو بناء جو ۸ پہلو چبوتروں پر استوار تھی، تعمیر کرائی اور روضے کی دیواروں کو منقش کاشی سے آراستہ کرایا اور اس کے سامنے کے حصے میں ایک ایوان دو میناروں کے ساتھ تعمیر کرایا اور اس میں ایک صحن کی کئی بقعات اور ایوانات کے ساتھ منصوبہ بندی کی۔ لیکن قاضی میر احمد منشی نے اس بناء کی تاریخ کو ۹۴۶ ھ ۔ ۱۵۳۹ ء اور اس کے بانی کا نام شاہ بیگی بیگم جو مہماد بیگ کی بیٹی تھیں، ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت معصومہ کے روضہ کی عمارت کو بلند کرایا اور تقریبا ایک ہزار تومان کی نفیس املاک کو روضے کے لئے وقف کیا۔

کجوری و آل بحر العلوم کہتے ہیں: (۵۲۹ ھ، ۱۱۳۴ ء) میں عماد بیگ کی بیٹی شاہ بیگم نے حضرت معصومہ(س) کے روضہ پر گنبد تعمیر کرایا۔ یہ اقوال بلا شبہہ غلط ہیں۔ اس لئے کتاب النقض کے مولف قزوینی رازی جو (۵۶۰ ھ، ۱۱۶۴ ء) میں تالیف ہوئی ہے اس میں ابو الفضل عراقی کے بناء کا ذکر ہوا ہے لہذا اگر شاہ بیگم نے اس روضہ میں کوئی بھی تعمیراتی کام انجام دیا ہوتا تو اس کا ذکر ہوتا۔

یہ غلطی ظاہرا ۹۲۵ اور ۵۲۹ جیسے اعداد اور عماد بیگ و مہماد بیگ کی شباہت اور ان کتیبوں کے سبب پیدا ہوئی ہے جسے ان دونوں نے نقل کئے ہیں۔ خاص طور پر فیض نے گنجینہ آثار قم میں اس غلطی کی جو اس بناء کی تاریخ کے ذکر میں ہوئی ہے، وجہ اس دور کے رسم الخط کے مطابق اعداد کا کتبیوں پر بر عکس تحریر کیا جانا بتائی ہے۔ خود انہوں ںے اس طرح کی تاریخ نویسی کی مثالوں کو دیکھا ہے اور ان کے شواہد پیش کئے ہیں۔

کجوری کا مورد نظر کتیبہ جو قاجاریوں کے دور میں زندگی بسر کرتے تھے، حرم اور اطراف کے دیواروں کی آئینہ کاری کے وقت قدیم کاشی کاری اور گچ کاری کو محو کرنے کی وجہ سے کیکاوس میرزای قاجار کے ذریعہ مٹ گئی۔

غارت افاغنہ

صفویوں کی حکومت کے آخری دور میں جب افغانیوں نے ایران پر حملہ کیا تو حضرت معصومہ کا روضہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا اور اشرف افغان (متوفی ۱۱۴۲ ھ، ۱۷۲۹ ء) نے نادر شاہ سے مقابلہ میں ہزیمت کے وقت اس آستانہ کی تمام نفیس اشیاء اور زر و زیور حتی شاہ اسماعیل کی قبر کے صندوق پر لگے سونے تک کو لوٹ لیا۔

افشاریان سے قاجاریان تک

نادر شاہ (۱۱۴۸۔۱۱۶۰ ھ۔ ۱۶۸۸۔ ۱۷۴۷)؟ اور زندی (۱۱۶۲-۱۲۰۹ھ/۱۷۴۸-۱۷۹۴ء) کے دور میں حرم کی بناء کی مرمت یا تجدید کے سلسلہ میں کوئی اطلاع دسترس میں نہیں ہے۔ لیکن قاجاریوں کے دور میں اس روضے نے صفویوں جیسی رونق اور عظمت حاصل کر لی تھی۔

فتح علی‎ شاہ (متوفی ۱۲۵۰ھ/۱۸۳۴ ء) نے روضہ کی زمین پر سنگ مرمر بچھایا۔ موجود کتیبوں کی تصریح کے مطابق حرم کی دیواروں کی آئینہ کاری بھی اسی کے دور میں شروع ہوئی اور محمد شاہ (متوفی ۱۲۶۴ھ/۱۸۴۷ ء) کے زمانہ میں مکمل ہوئی۔

مرقد مطہر

روضہ کی تعمیر اور اس کی عمارت کی تجدید و باز سازی کے بعد ۶۰۵ ھ، ۱۲۰۸ ء میں امیر مظفر احمد بن اسماعیل کے اشارہ پر اس وقت بڑے کاشی ساز محمد بن ابی طاہر کاشی قمی یا محمد بن طاہر بن ابی الحسن ۸ سال حرم مطہر کے لئے کاشی بنانے میں مشغول رہے اور آخر کار ۶۳۰ ھ ۱۲۳۲ ء میں تمام کاشی آمادہ ہوئی اور اسے نصب کیا گیا۔ وہ ساری کاشیاں آج تک باقی ہیں اور آستانہ مقدس میں موجود تمام آثار میں ان کا شمار قدیمی ترین اور قیمتی ترین اشیاء میں ہوتا ہے۔

قبر کی لمبائی ۹۰۔۲ میٹر اور اس کی چوڑائی و اونچائی ۲۰۔۱ میٹر ہے اور چونکہ وہ قبلہ کے خط سے ذرا سی منحرف تھی اس لئے شاہ طہماسب صفوی کے دور میں محقق ثانی کی رہنمائی میں ضریح کو قبلہ رخ سے اس کے اوپر نصب کیا گیا۔

ضریح

قبر مبارک پر پہلی ضریح شاہ طہماسب اول نے نصب کروائی۔ یہ ضریح ۹۵۰ ھ، ۱۵۴۳ ء میں اینٹوں سے بنی جس کی لمبائی ۸۰۔۴ میٹر، چوڑائی ۴۰۔۴ میٹر اور اونچائی ۲ میٹر تھی۔

اس ضریح کی شمالی سمت میں اس کے اندر داخل ہونے کے لئے لکڑی کا دروازہ بنا ہوا تھا۔ ۱۲۱۳ ھ، ۱۷۹۸ ء میں فتح علی شاہ کئ حکم سے اسے تبدیل کرکے اس کی جگہ پر ایک نفیس سونے کا دروازہ نصب کیا گیا۔ شاہ طہماسب نے بعد میں ایک دوسری لوہے کی سفید و شفاف ضریح وہاں پر اس ضریح کے اطراف میں آدھے میٹر کے فاصلہ پر روضہ کے جنوب مغربی سمت میں نصب کی۔ ۱۰۰۰ ھ، ۱۵۹۱ ء میں اس ضریح کو تبدیل کرکے شاہ عباس اول نے وہاں ایک دوسری ضریح نصب کرائی۔

فتح علی شاہ نے اس ضریح پر ۱۲۴۵ ھ، ۱۸۲۹ ء میں چاندی کی پرتوں کا غلاف چڑھایا اور اسے زمین سے ۳۰ سینٹی میٹر اوپر سنگ مرمر کے پایہ پر قرار دیا۔ یہ ضریح ایک بار فرسودگی کی وجہ سے فتح علی شاہ کے دور میں ۱۲۱۹ ھ، ۱۹۱۰ میں اور ایک بار ۱۳۶۵ ھ، ۱۹۴۵ ء میں مرمت کی گئی اور آخر کار ۱۳۴۸ ش میں اس کی شکل تبدیل کرکے اس کی اونچائی میں اضافہ کیا گیا۔

گنبد و گلدستے

گنبد

حضرت معصومہ کی قبر پر پہلا گنبد ۴۵۷ ھ، ۱۰۶۴ ء میں ابو الفضل عراقی نے بنوایا تھا۔ ۹۲۵ ھ، ۱۵۱۹ ء میں شاہ بیگم صفوی نے اسے ختم کرکے وہاں ایک دوسرا گنبد بنوایا جو آج تک باقی ہے۔ ۱۵۱۸ ھ، ۱۸۰۳ ء میں فتح علی شاہ کے حکم سے اسے ۱۲۰۰۰ سونے کی اینٹوں سے آراستہ کیا گیا۔ اس گنبد کی اونچائی چھت کی سطح سے ۱۶ میٹر اور سطح زمین سے ۳۲ میٹر ہے۔ اس کا خارجی احاطہ ۶،۳۵ و داخلی احاطہ ۶۶،۲۸ اور قطر ۱۲ میٹر ہے۔

گلدستے

حضرت معصومہ کے روضہ میں مجموعی طور پر ۶ گلدستے ہیں۔ حرم کے دو گلدستے صفویہ دور کے اوائل میں شاہ بیگم نے بنوائے۔ ۱۱۸۹ ھ، ۱۷۸۳ ء میں ان دونوں کی تجدید بناء لطف علی خان زند نے کرائی۔ اس لئے کہ ھاتف اصفہانی کے قصیدہ سے جو ایوان طلا کی پیشانی پر ایک کتیبہ کی صورت میں موجود ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہ بیگم کے تعمیر کردہ یہ دونوں گلدستے لطف علی خان زند کی تعمیر سے پہلے بوسیدہ ہو چکے تھے۔

  • روضے کے اصلی گلدستے

۱۲۱۸ ھ، ۱۸۰۳ ء میں فتح علی شاہ ان گلدستوں پر سونے کا ملمع کرایا۔ ناصر الدین شاہ کے دور میں ان گلدستوں کی حسین خان شاہ سوند جو شہاب الملک کے نام سے معروف ہے، نے ۱۲۸۶ ھ، ۱۸۶۹ ء میں تجدید بناء کرائی اور اس کی زمین کو کاشی سے مزین کیا۔ ۱۲۹۹ ھ، ۱۸۸۱ ء میں کامران میرزا قاچار نے انہیں سونے کی اینٹوں سے آراستہ کیا۔ صحن سے ان گلدستوں کی اونچائی ۲۰۔۳۲ اور چھت کی سطح سے ۴۰۔۱۷ اور ان کا قطر ۳۰۔۱ میٹر ہے۔

  • صحن اتابکی کے گلدستے

۱۳۰۳ھ، ۱۸۸۵ ء میں دو اور گلدستے اصغر علی خان اتابک نے صحن جدید میں ایوان طلا کے دونوں طرف تعمیر کرائے جو گلدستہ اتابکی کے نام سے مشہور ہیں۔ صحن سے ان کی بلندی ۸۰۔۴۲ اور چھت کی سطح سے ۲۸ میٹر اور ان کا قطر ۳۰۔۳ میٹر ہے۔

  • چھوٹے گلدستے

دو دوسرے گلدستے جنہیں چھوٹے گلدستوں کا نام دیا گیا ہے۔ صحن جدید کے اندرونی حصے کے دونوں اطراف میں واقع ہیں جن کا استعمال ہمیشہ اذان دینے کے لئے کیا جاتا تھا۔ سطح صحن سے ان کی بلندی ۵۰۔۱۳ اور قطر ۳ میٹر ہے اور اس کا احاطہ ۹۔۹۰ میٹر منظم ۸ ضلعی شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔

صحن و ایوان

حضرت معصومہ کے روضے میں دو صحن ہیں: صحن عتیق اور صحن جدید۔

صحن عتیق

۹۲۵ ھ، ۱۵۱۹ ء میں شاہ بیگم صفوی نے پہلی بار ایک صحن مربع شکل میں تین ایوانوں کے ہمراہ تعمیر کرایا۔ یہ صحن اور ایوان اسی طرح سے باقی تھے یہاں تک کہ فتح علی شاہ کے زمانہ میں اس کے ظاہر کو تبدیل کیا گیا اور اسے نا منظم ۸ گوشہ شکل میں بنا دیا گیا۔ اس کے بعد صحن عتیق اور صحن جدید میں ایوانات کا اضافہ کیا گیا اور اس وقت اس میں ۷ ایوان ہیں۔ جن میں سے ۴ صحن کے جنوب کی سمت اور ۳ شمال میں ہیں۔

ُایوان طلا صحن عتیق کے مشہور ترین ایوان میں سے ہے جسے شاہ بیگم نے تعمیر کرایا اور جس پر ۱۲۴۹ ھ، ۱۸۳۳ ء میں فتح علی شاہ نے سونے کا ملمع کرایا۔ ان ایوانات میں مختلف قسم کے اسلامی ہنر کی تزئین کی گئی ہے جیسے مقرنس کاری، گچ بری و آئینہ کاری اور اس میں خط کوفی، خظ نسخ اور خط ثلث میں نفیس کتیبے موجود ہیں۔ ایوان طلا کی لمبائی ۹ میٹر، اس کی چوڑائی ۶ میٹر اور اس کی اونچائی ۸۰۔۱۴ میٹر ہے۔

صحن جدید

یہ صحن میرزا علی اصغر خان اتابک کے آثار میں سے ہے۔ اس کی عمارت کی تعمیر میں ۱۲۹۵ ھ، ۱۸۷۸ ء سے ۱۳۰۳ ھ، ۱۸۸۵ ء تک آٹھ سال کا عرصہ لگا۔ صحن جدید میں جو نا منظم ۸ گوشوں پر مشتمل ہے اس میں ۷ ایوانات ہیں۔ جن میں سے سب سے مشہور ایوان آئینہ ہے۔

یہ ایوان معماری کے شاہکاروں میں سے ایک ہے جسے استاد حسن معمار قمی نے بنایا ہے۔ ایوان کی لمبائی ۹ میٹر، چوڑائی ۸۷۔۷ میٹر اور اس کی اونچائی ۸۰۔۱۴ میٹر ہے۔ صحن جدید کے ایوانات میں بھی مختلف قسم تزئین کاشی کاری، مقرنس کاری، گچ بری اور آئینہ کاری کے ذریعہ کی گئی ہے اور اس میں بھی خط کوفی و خط نسخ و خظ ثلث کے نفیس کتیبوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسرے رواق اور گنبد

روضے کے اطراف میں ۶ رواق ہیں کہ جن میں سے اکثر میں حرم کے اصلی گنبد کے مقابلہ میں چھوٹے گنبد موجود ہیں۔ ان میں سے تین رواق صفویوں کے بنائے ہوئے، دو قاجاریوں کے بنوائے ہوئے اور ایک معاصر دور میں تعمیر کیا گیا ہے۔ ان رواقوں میں مختلف اقسام کے بدیع اسلامی ہنر کے نمونے موجود ہیں اور ان میں محمد رضا امامی جیسے مشہور خوش نویسوں کے خط میں نفیس کتیبوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ رواق شرقی یا رواق آئینہ: یہ رواق ضریح کے مشرقی حصہ میں واقع ہے اور اس رواق کو ۱۱۳۰ ھ، ۱۸۸۲ ء میں علی اصغر خان اتابک نے ایوان آئینہ کے ہمراہ تعمیر کرایا۔ اس کی لمبائی ۲۳ میٹر، چوڑائی ۵۔۳ میٹر اور اس کی اونچائی ۵ میٹر ہے۔

۲۔ رواق غربی: اس میں تین حصے ہیں اور اسے ۱۲۳۶ ھ، ۱۸۲۰ ء میں فتح علی شاہ کے بیٹے محمد تقی میرزا حسام السلطنہ نے ۹۴۵ ھ، ۱۵۳۸ ء میں شاہ طہماسب کے بنائے گئے مہمان خانے کی عمارت کی جگہ پر مسجد بالائے کے عنوان سے تعمیر کرایا۔

۳۔ رواق و گنبد شاہ صفی یا حرم زنانہ: اس میں شاہ صفی کا مقبرہ ہے اور اس پر ۱۰۵۲ ھ، ۱۶۴۲ ء میں شاہ عباس کے حکم سے ایک گنبد دو پوشش کے ساتھ بنایا گیا۔ یہ رواق اس وقت ضریح کے حصہ سے متصل ہے۔ اس رواق میں محمد رضا امامی کے خط پر مشتمل ایک نفیس کتیبہ موجود ہے کہ جس پر احادیث تحریر ہیں۔

۴۔ رواق و گنبد شاہ عباس دوم: اسے ۱۰۷۷ ھ، ۱۶۶۶ ء میں شاہ سلیمان کے ذریعہ شاہ عباس کے مقبرہ پر تعمیر کیا گیا۔ اس کا گنبد ۱۶ ضلعی منظم ہے۔ اس رواق میں بھی محمد رضا امامی کے خط پر مشتمل ایک نفیس کتیبہ موجود ہے کہ جس پر سورہ جمعہ نقش کیا گیا ہے۔

۵۔ رواق و گنبد شاہ سلیمان: اس رواق میں شاہ سلیمان اور شاہ سلطان حسین صفوی کی قبریں ہیں۔ اسے ۱۱۰۷ ھ، ۱۶۹۵ ء میں سلطان حسین نے تعمیر کیا۔ اس کا گنبد ۴ ضلعی نا منظم ہے۔ اس میں خطیب قمی کے خط کا ایک کتیبہ موجود ہے جس میں سورہ حشر لکھی ہوئی ہے۔

۶۔ رواق و گنبد طباطبائی: یہ رواق مثلث شکل میں ہے اسے حاج آقا محمد طباطبائی (آیت اللہ زادہ قمی) نے تعمیر کیا اور اس کی تعمیر میں ۱۳۶۰ ھ، ۱۹۴۱ ء سے شروع ہو کر ۱۳۷۰ ھ، ۱۹۵۰ ء پر ختم ہوئی۔

مدارس و مساجد

روضہ کے عمارت کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کے اطراف میں دھیرے دھیرے مدارس اور مساجد بننے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف ادوار میں ان میں سے کچھ مدارس میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بہتری پیدا ہوتی گئی اور ان کی وسعت و اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آج ان مدارس جن میں مدرسہ فیضیہ، مدرسہ دار الشفاء شامل ہیں، کا شمار علوم اسلامی و شیعہ کے نہایت اہم اور معتبر مراکز میں ہونے لگا ہے۔ مسجد اعظم قم اگر چہ اس کی تعمیر بطور مستقل و جدا ہوئی تھی لیکن آج وہ حرم معصومہ (ع) کی توسیع کی وجہ سے مسجد بھی اس کے محوطہ میں شامل ہو گئی ہے۔

آستانہ کا میوزیم

روضہ کی تعمیر کے بعد سے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں اس میں نہایت قیمتی اشیاء جمع ہو چکی ہیں۔ جنہیں حرم کے زائرین و مجاورین اور امراء و سلاطین نے دور و نزدیک سے ہدیہ کیا ہے۔

میوزیم کی تاسیس سے پہلے سالہا سال تک یہ اشیاء پراکندہ صورت میں حرم کے اطراف میں جمع ہوتی رہتی تھیں۔ ان میں بعض ضائع ہو گئیں۔ ۱۳۱۴ ش میں اس وقت کی وزارت معارف نے حرم میں ایک جگہ کا انتخاب کیا اور نو سازی کے بعد اسے میوزیم سے مخصوص کر دیا۔ بعد میں میوزیم مدرسہ فیضیہ کے برابر میں جہاں آستانہ کے متولی کا دفتر ہے، منتقل ہو گیا اور سابق میوزیم کے مقام پر میوزیم کی مسجد بنا دی گئی۔

اس میوزیم میں نفیس اشیاء جیسے قرآن کے مخطوطات، قاجار بادشاہوں کی قبر کے ۱۲ قطعات سنگ، کعبہ کے پردہ کا کچھ حصہ جسے امام خمینی نے ہدیہ کیا تھا، قدیمی و قیمتی سونے و چاندی کے اسلامی خلفاء کے دور سے لیکر دور معاصر تک کے سکے، نفیس قالینیں سونے و چاندی کے جواہرات، قندیل و شمع دان و فانوس اور ڈھیروں اشیاء کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

آستانہ کا کتب خانہ

آستانہ کے کتب خانہ کی تاسیس سے پہلے کچھ نفیس خطی کتابوں کے نسخوں، مذاہب کے نادر قرآنوں کو جو سالہا سال تک جمع ہوئے تھے، انہیں صحن عتیق کے مغربی حصے کے ایک حجرے میں ایک کے اوپر ایک رکھ کر ان کے سامنے دیوار بنا دی گئی تھئ۔ ۱۳۱۴ ش میں جس وقت میوزیم تعمیر ہو رہا تھا ان میں بعض کتابیں ضائع ہو گئیں۔ بقیہ کو ایوان آئینہ کی اندرونی بلندی پر دو بڑے چبوتروں پر رکھا گیا۔

۱۳۳۰ ش میں ایک کتب خانہ جس میں مطالعہ کے لئے دو ہال اور ایک دفتر شامل تھے، صحن عتیق کے مشرقی حجروں پر بنائے گئے اور کتابوں کے دو مخزن مقبرہ مستوفی اور غرفہ مشرق الشمسین کے اوپر تعمیر کئے گئے اور کتابوں کو وہاں منتقل کیا گیا۔

آستانہ کے موقوفات اور متولی

موقوفات

جیسا کہ حسن بن محمد قمی کے قول سے حاصل ہوتا ہے کہ ایام قدیم سے آستانہ حضرت معصومہ (س) میں املاک اور زمینوں کے وقف کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ سالہا سال سے آج تک عوام اور بادشاہوں کی طرف سے اس سلسلہ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج کی تاریخ میں ان اوقاف میں بہت سے املاک اور باغات کا مزید اضافہ ہو چکا ہے۔

ان موقوفات کے بہت سے وقف نامے آج بھی باقی ہیں اور آستانہ میں موجود قرآن کے خطی نسخوں کے اول و آخر میں ان وقف ناموں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے قدیم وقف نامہ کی تاریخ ۵۹۰ ھ، ۱۵۴۳ ء کے قریب پہچتی ہے۔ اس آستانہ کے اوقاف میں زمین، باغات، کاشت سے متعلق املاک، دکانیں اور ڈھیروں کی تعداد میں قیمتی اشیاء شامل ہیں۔ جن سے حاصل ہونے والی در آمد مخصوص اور معین امور میں خرچ کی جاتی ہے۔

موقوفات اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر نظارت کے سلسلہ میں ضروری ہے کہ کسی کو اس کے لئے متعین کیا جائے اور تا کہ وہ ان امور کی ذمہ داری کو ادا کر سکے۔ اسی سبب سے بزرگان شیعہ اپنی جانب سے کسی کو ان امور کے لئے وکیل کے طور پر منصوب کرتے تھے تا کہ وہ حرم کے موقوفات، ائمہ (ع) اور امام زادوں کے روضوں پر نظارت کر سکے۔

اوقاف قم و آستانہ کے قدیم ترین وکیل

قدیم ترین خبر جو آستانہ حضرت معصومہ کے سلسلہ میں دسترس میں ہے۔ وہ روایت حسن بن محمد قمی ہے کہ جس میں احمد بن اسحاق اشعری کو امام حسن عسکری (ع) کی طرف سے قم میں اوقاف کے وکیل کے طور پر مقرر کرنے کا ذکر ہوا ہے۔

متولی

پانوراما حرم حضرت معصومه.jpg

موقوفات کی وکالت تدریجی طور پر تولیت میں تبدیل ہو گئی اور متولی حضرات جو بعد وسیع اختیارات کے مالک ہو گئے تھے امراء و بادشاہوں کی طرف سے مقرر ہوتے تھے۔ آستانہ حضرت معصومہ کی تولیت کے سلسلہ میں جو قدیم ترین فرمان دسترس میں ہے وہ جہان شاہ ترکمان قرہ قویونلو کا فرمان ہے جو ۲۷ جمادی الاول ۸۶۸ ھ، ۶ دسمبر ۱۴۶۴ ء میں صادر ہوا ہے۔

شاہ طہماسب کے فرمان میں جو ۹۴۸ ھ، ۱۵۴۱ ء میں اور فرمان شاہ عباس جو ۱۰۱۷ ھ، ۱۶۰۸ ء میں صادر ہوا ہے۔ اس میں اس زمانہ کے جند متولیوں کے نام کا ذکر ہوا ہے جو سب ایک ہی خاندان سے تھے۔ اس دور میں آستانہ میں کام کرنے والے افراد کے نصب و عزل کی ذمہ داری متولی کے فرایض میں شامل تھی۔ اس کے بعد چند صدیوں کے گذرنے کے بعد تدریجی طور پر متولیوں کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ آج آستانہ کے تمام امور کی ذمہ داری مصوب قوانین کے مطابق، متولی کے سپرد ہے۔

گوشہ عکس

حوالہ جات

  1. محلاتی، ریاحین الشریعه، ج۴، ص۳۱۶؛ شیخ عباس قمی، منتهی الامال، ج۲، ص ۴۳۲


مآخذ

  • آقا بزرگ، الذریعہ، ج۹، ص۸۴؛
  • جعفر آل بحرالعلوم، تحفہ ‎العالم، نجف، ۱۳۵۴ق، ص۳۶؛
  • محمد تقی ‎بیک ارباب، تاریخ دارالایمان، قم، بہ کوشش مدرسی طباطبایی، قم، حکمت، ۱۳۵۳ش، ص ۳۳-۳۴؛
  • اسکندر بیک ترکمان، ذیل عالم‎آرای عباسی، بہ کوشش احمد سهیلی، تہران، اسلامیه، ۱۳۱۷ش، ص۲۵۷؛
  • ادوارد براون، تاریخ ادبیات ایران، ترجمہ علی ‎اصغر حکمت، تہران، امیرکبیر، ۱۳۵۷ش، ۳/۵۶۹؛
  • علی‎ اکبر برقعی، راہنمای قم، قم، آستانہ مقدسہ، ۱۳۱۷ش، ص ۳۲، ۳۳، ۵۱، ۵۳، ۸۵، ۹۲؛
  • تذکرہ ‎الملوک، بہ کوشش محمددبیر سیاقی، تہران، ۱۳۳۲ش، ص۴۴؛
  • فرہنگ جهان‎ پور، «فرامین پادشاہان صفوی در موزہ بریتانیا»، بررسیہای تاریخی، س ۴، شمـ ۴ (مہر، آبان ۱۳۴۸ش)، ص ۲۲۵، ۲۲۶، ۲۲۹، ۲۳۰؛
  • الدین حسینی قمی، خلاصہ ‎البلدان، بہ کوشش مدرسی طباطبایی، قم، حکمت، ص ۱۱۶، ۱۱۸، ۱۸۱، ۱۹۱؛
  • غیاث الدین خواندمیر، حبیب‎السیر، تہران، خیام، ۱۳۶۲ش، ص ۳۳۳-۳۳۴؛
  • ہانری رنہ دالمانی، از خراسان تا بختیاری (سفرنامہ)، ترجمہ فره‎وشی، تہران، ابن ‎سینا، امیرکبیر، ۱۳۳۵ش، ص۸۵۳؛
  • رشید الدین فضل‎ الله، جامع ‎التواریخ، بہ کوشش بہمن کریمی، تہران، اقبال، ۱۳۶۲ش، ۲/۸۰۸-۸۰۹؛
  • جلیل زاہد و محمد رضا زہتابی، ایران زمین، تہران، پدیده، ۱۳۴۸ش، ص ۱۳۴-۱۳۶؛
  • ژان شاردن، سیاحت نامہ، ترجمہ محمد عباسی، تہران، امیر کبیر، ۱۳۴۹ش، ۳/۷۶، ۷۷؛
  • قاضی نورالله شوشتری، مجالس ‎المؤمنین، تہران، اسلامیہ، ۱۳۷۵ق، ص۱۴۶؛
  • علی ‎اصغر فقیہی، تاریخ مذہبی قم، قم، اسماعیلیان، ۱۳۵۰ش، ص ۸۹، ۱۰۶، ۱۵۲، ۱۸۲، ۲۱۱؛
  • اوژن فلاندن، سفرنامہ ایران، ترجمہ حسین نورصادقی، تہران، ۱۳۵۶ش، ص۱۲۳؛
  • فیض، گنجینہ آثار قم، قم، مہر استوار، ۱۳۴۹ش، جمـ ؛
  • عبد الجلیل قزوینی رازی، النقض، بہ کوشش جلال ‎الدین محدث ارموی، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۵۸ش، ص ۱۶۴، ۲۱۹، ۲۲۰؛
  • حسن ‎بن محمد قمی، تاریخ قم، بہ کوشش جلال ‎الدین طہرانی، تہران، توس، ۱۳۶۱ش، ص ۲۱۱، ۲۱۳-۲۱۶؛
  • قاضی احمد قمی، خلاصه‎ التواریخ، بہ کوشش احسان اشراقی، دانشگاه تہران، ۱۳۵۹ش، ص۲۹۰؛
  • ملا باقر کجوری، جنه‎ النعیم والعیش‎السلیم (روح و ریحان)، تہران، ۱۲۹۸ش، ص۴۵۹؛
  • گای لسترنج، سرزمینہای خلافت شرقی، ترجمہ محمود عرفان، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۳۷ش، ص ۱۲۶-۱۲۷؛
  • حسین مدرسی طباطبایی، راہنمای جغرافیای تاریخی قم، قم، حکمت، ۱۳۵۳ش، ص ۵۶-۵۹، ۱۷۰؛
  • حسین مدرسی طباطبایی، قم، حکمت، ۱۳۵۰ش، ص ۱۳۰، ۱۳۲، ۱۳۳، ۱۸۴، ۲۷۱؛
  • حسین مدرسی طباطبایی، «مدارس قدیم قم»، وحید، س ۸، شمـ ۲ (بہمن ۱۳۴۹ش) ص ۲۰۵-۲۰۶؛
  • حمد الله مستوفی، تاریخ گزیدہ، بہ کوشش عبد الحسین نوایی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۲ش، ص۲۰۵؛
  • حمد الله مستوفی، نزہہ ‎القلوب، بہ کوشش گای لسترنج، لیدن، ۱۹۱۳م، ص۶۷؛
  • ابو القاسم مشیری، «تاریخچہ بنای آستانہ مبارکہ قم»، معارف اسلامی، شمـ ۲۳ (دی ۱۳۵۴ش)، ص ۹۶، ۹۸؛
  • حسن نراقی، آثار تاریخی شہرستانهای کاشان و نطنز، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۴۸ش، ص۳۶۵؛
  • محمد طاہر نصرآبادی، تذکرہ، بہ کوشش وحید دستگردی، تہران، ۱۳۱۷ش، ص۷۸.