صحیفہ سجادیہ

ویکی شیعہ سے
(صحیفۂ سجادیہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ


صحیفۂ سجادیہ: امام سجاد(ع) کی دعائیں

صحیفۂ سجادیہ شیعیان اہل بیت کو چوتھے امام حضرت امام سجاد(ع) سے منقولہ 45 مناجاتوں اور دعاؤں پر مشتمل کتاب کا نام ہے۔ صحیفہ سجادیہ قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد، اہل تشیّع کے ہاں اہم مرتبے والی کتاب مانی جاتی ہے اور "زبور آل محمد" اور "انجیل اہل بیت" کے عناوین سے مشہور ہے۔

آقا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب الذریعہ میں لکھا ہے کہ اس کتاب پر تقریبا 50 شرحيں لکھی گئی ہیں جن میں سب سے مشہور شرح کا نام ریاض السالکین ہے اور اس کے مؤلف سید علی خان شیرازی ہیں۔ صحیفہ کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ترکی، اردو، ہسپانوی، بوسنیایی، آلبانوی، تامل سمیت مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اہل تشیعہ کے ہاں اس کتاب کی منزلت بجائے خود، جبکہ اہل سنت کے علماء نے بھی اس کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کی ہے۔

امام سجاد(ع) نے بہت سے دینی معارف و تعلیمات کو دعاؤں کے ضمن میں بیان کیا ہے؛ جیسے خداشناسي یا دینیات،[1]، جہان شناسی یا کونیات[2] اور انسان شناسی یا بشریات[3] نیز عالم غیب، ملائکہ، رسالت، انبیاء، پیغمبر اور اہل بیت کی منزلت، امامت، اخلاقی فضائل اور رذائل، اعیاد کی تکریم، سماجی اور معاشی مسائل، تاریخی اشارات، اللہ کی مختلف نعمتوں، تلاوت، دعا، ذکر اور نماز اور عبادت کے آداب وغیرہ۔ صحیفہ سجادیہ کی معروف ترین دعا دعائے مکارم الاخلاق ہے۔

پژوهشنامه صحیفه سجادیه (صحیفہ سجادیہ کا تحقیق نامہ)

اسماء

بعض مسلمان علماء کی رائے کے مطابق، "صحیفۂ سجادیہ"، قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد الہی حقائق و معارف کا عظیم ترین خزانہ ہے اور اسی رو سے، اس کو "اخت القرآن" (قرآن کی بہن)، "انجیل اہل بیت" اور "زبور آل محمد" اور "صحیفہ کاملہ" جیسے القاب دیئے گئے ہیں۔[4]

کہا گیا ہے کہ اس کو "صحیفہ کاملہ" اس لئے کہا گیا ہے کہ فرقۂ زیدیہ کے ہاں ایک نسخہ ہے جو ناقص ہے اور اس میں دعاؤں کے تعداد نسخۂ امامیہ کے نصف تک پہنچتی ہے چنانچہ امامیہ اپنے ہاں کے نسخے کو صحیفہ کاملہ کہتے ہیں۔[5]

سند اور نسخہ جات

صحیفہ سجادیہ کے قدیم ترین نسخے کا پہلا ورق

صحیفہ سجادیہ سند کے لحاظ سے تواتر کی حد تک پہنچا ہے۔ آقا بزرگ تہرانی کہتے ہیں: "صحیفۂ اُولٰی ـ جس کی سند امام زین العابدین(ع) تک پہنچتی ہے ـ ... اکابرین کے نزدیک متواترات اور [قطعیات] میں شمار ہوتا ہے؛ کیونکہ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ [سلسلۂ سند میں] مذکورہ تمام اصحاب نے ـ تمام زمانوں میں ـ اس کی نقل کی اجازت ـ رجال کے تمام طبقات میں ـ اپنے مشائخ سے حاصل کی ہے"۔[6]

نیز محمد تقی مجلسی نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس صحیفہ کی نقل کے سلسلے میں دس لاکھ اسناد موجود ہیں۔[7]

شیخ مفید نے بھی اپنی کتاب الارشاد میں اور شیخ صدوق کے شاگرد علی بن محمد خزاز قمی، اور احمد بن عیاشی نیز ابوالمفضل شیبانی، وغیرہ نے صحیفہ سجادیہ کو نقل کیا ہے۔ اہل سنت کے علماء میں ابن جوزی نے خصائص الائمہ میں، اور سلیمان بن ابراہیم قندوزی نے ینابیع المودہ میں اس کا تذکرہ کرکے اس کے بعض حصوں کو نقل کیا ہے۔[8]

ابوالمعالی محمد بن ابراہیم کلباسی (متوفٰی 1315ھ ق) نے بھی اپنی کتاب الرسالۃ فی السند الصحیفۃ السجادیۃ میں صحیفہ سجادیہ کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔[9]

صحیفہ سجادیہ بخط کفعمی ـ جو صحیفہ سجادیہ کے قدیم نسخوں میں سے تھا اور کئی سال تک ایران سے نکل کر گم ہوچکا تھا ـ کا سراغ بڑی محنت کے نتیجے میں، بر صغیر میں لگایا گیا اور ثقافتی شخصیات کے توسط سے قم میں منتقل کیا گیا اور بالآخر زیور طبع سے آراستہ ہوکر شائع ہوا۔ یہ نسخہ صحیفہ کی 54 دعاؤں کے علاوہ چار مزید دعاؤں پر مشتمل ہے۔[10]

مضامین و مندرجات

امام سجاد(ع) :

بار پروردگارا! اہل بیت محمد(ص) پر درود بھیج؛ جن کو تو نے حکومت کے لئے منتخب کیا، اور اپنے علوم کا خزینہ اور دین کے محافظ مقرر کیا اور روئے زمین پر انہیں خلیفہ اور اپنے بندوں پر حجت کے عنوان سے متعین کیا؛ انہیں اپنے ارادے سے، ہر پلیدی اور آلودگی سے پاک و منزہ قرار دیا اور انہیں اپنے ارادے سے ہر ناپاک کرنے والی شیئے سے پاک کردیا اور انہیں اپنے مقام قرب اور بہشت بریں تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا۔

صحیفۂ سجادیہ، دعا نمبر 47 فقرہ 56۔

امام سجاد(ع) اپنی دعاؤں کے آغاز میں اللہ کی حمد و ثناء بجا لاتے ہیں، بعدازاں خاندان رسول(ص) پر درود و سلام بھیجتے ہیں، یہاں تک کہ صحیفہ میں کم ہی کوئی دعا ہوگی جس میں لفظ صلوات سے استفادہ نہ ہوا ہو۔[11]۔[12]۔[13] آپ(ع) آخر میں اللہ سے اپنی حاجت کی درخواست کرتے ہیں۔

صحیفہ سجادیہ محض خدا کے ساتھ راز و نیاز اور اس کی بارگاہ میں حاجت کے بیان پر ہی مشتمل نہیں ہے، بلکہ بہت سے اسلامی علوم و معارف کا مجموعہ بھی ہے جن میں اعتقادی، ثقافتی و تعلیمی، معاشرتی اور سیاسی مسائل نیز بعض طبیعی قوانین اور شرعی احکام کو دعا کے سانچے میں بیان کیا گیا ہے۔

خدا کے ساتھ ارتباط و تعلق کے سلسلے میں مختلف اوقات اور احوال کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر بعض دعائیں بیان کی گئی ہیں؛ بعض دعائیں سال میں ایک بار پڑھی جاتی ہیں جیسے: دعائے عرفہ اور استقبال رمضان کی دعا، اور دعائے وداع رمضان؛ اور بعض دعائیں مہینے میں ایک بار پڑھی جاتی ہیں جیسے: رؤیت ہلال کی دعا اور بعض ہفتہ وار اور دن اور رات کی دعائیں، وغیرہ۔

دعاؤں کے عناوین مختلف ہیں اور بہت سے اسلامی معارف دعاؤں کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں؛ اس کتاب میں خدا شناسی یا دینیات، وجود شناسی یا علم الوجود،[14] عالم الغیب، ملائکہ، انبیاء کی رسالت، پیغمبر اکرم(ص) اور اہل بیت کی منزلت، امامت، اخلاقی فضائل اور رذائل، اعیاد کی تکریم، سماجی و معاشی مسائل، تاریخی اشارات، خدا کی نعمتوں کا تذکرہ، تلاوت، ذکر، نماز، عبادت کے آداب کو دعا کے سانچے میں بیان کیا گیا ہے۔ صحیفہ کی مشہور ترین دعا دعائے مکارم الاخلاق ہے۔

صحیفہ کے اہم دینی و سیاسی مضامین میں سے ایک مسئلۂ امامت ہے۔[15] نیز اس میں عقیدۂ تشبیہ کی نفی ہوئی ہے۔[16]

دعاؤں کے عناوین

صحیفہ سجادیہ 54 دعاؤں پر مشتمل ہے جن کے عناوین حسب ذیل ہیں:

1۔ اللہ کی حمد و ثنا
2۔ محمدو آل محمد پر درود
3۔ حاملین عرش اور مقرب فرشتوں پر درود
4۔ انبیاء کے پیروکاروں پر درود
5۔ اپنے آپ اور رشتہ داروں کے لئے دعا
6۔ صبح و شام کی دعا
7۔ دشواریوں اور نآگواریوں سے پناہ
8۔ سختیوں اور غیرپسندیدہ اخلاق سے پناہ
9۔ شوق استغفار
10۔ خدا کی پناہ
11۔ انجام بخیر ہونا
12۔ اعتراف اور توبہ
13۔ طلب حاجت
14۔ ظلم سے دادخواہی
15۔ بوقت بیماری
16۔ طلب مغفرت
17۔ شر شیطان
18۔ مصائب سے بچاؤ
19۔ طلب باران
20۔ مکارم الاخلاق
21۔ خطاؤں کا غم
22۔ سختیوں کے وقت
23۔ تندرستی
24۔ والدین
25۔ اولاد
26۔ پڑوسی اور دوست
27۔ مرزداران
28۔ خدا کی پناہ مانگنا
29۔ رزق
30۔ ادائے قرض
31۔ توبہ
32۔ تہجد کےوقت کی دعا
33۔ خیر کی طلب
34۔ گناہوں میں ابتلا
35۔ راضی بہ قضا ہونا
36۔ بجلی گرنے کے وقت
37۔ شکر کرنے میں قصور
38۔ ظلم سے اعتذار
39۔ عفو و رحمت طلب کرنا
40۔ موت کی یاد
41۔ گناہوں سے پردہ پوشی
42۔ ختم قرآن
43۔ رؤیت ہلال
44۔ استقبال رمضان
45۔ وداع رمضان
46۔ عید فطر اور جمعہ
47۔ دعائے عرفہ
48۔ عید الضحی و جمعہ
49۔ دشمنوں کی حیلہ گری کا تقابل
50۔ خوف خدا
51۔ خدا کے آگے انکسار
52۔ دعا پر اصرار
53۔ خدا کے آگے انکسار
54۔ غموں اور اندیشوں کا ازالہ۔

اہل سنت کے علماء کی نگاہ میں

ابن شہر آشوب مناقب آل ابی طالب میں لکھتے ہیں:

ایک دفعہ بصرہ کے مقام پر ایک بلیغ شخصیت کی موجودگی میں صحیفۂ کاملہ کی فصاحت زیر بحث آئی تو انھوں نے کہا: میں بھی اسی طرح کی عبارات تمہیں املا کرکے لکھوا سکتا ہوں اور پھر اس نے قلم اٹھایا اور سر جھکا کر بیٹھ گیا [اور ایک جملہ بھی بیان نہ کرسکا] اور اسی طرح شرمندگی کی کیفیت میں چل بسا"۔[17]

سنہ 1353ھ ق میں آیت اللہ مرعشی نجفی نے صحیفہ سجادیہ ایک نسخہ اہل سنت کے ایک عالم، تفسیر طنطاوی کے مؤلف اور اسکندریہ کے مفتی جوہر طنطاوی کے نام قاہرہ بھجوایا۔ انھوں نے نسخہ وصول کرنے کے بعد اس کو "مخلوق کے کلام سے بالاتر خالق کے کلام سے کم تر" قرار دیا اور اس کی تعریف کی۔[18]۔[19]

جوہر طنطاوی :

یہ ہماری بدبختی ہے کہ اب تک یہ زندہ جاوید اور گران بہاء کتاب ـ جو نبوت کے مواریث میں سے ہے ـ ہماری دسترس سے خارج تھی، میں جتنا بھی اس کا مطالعہ کرتا ہوں، اس کو مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کم تر دیکھتا ہوں۔

مقدمہ مرعشی نجفی، ص37 مقدمہ؛ پیشوایی، سیره پیشوایان، ص270-271۔

ابن جوزی خصائص الائمہ کہتے ہیں:

علی بن الحسین، زین العابدین املا، انشاء، بات چیت اور خطاب کرنے کی کیفیت اور اللہ کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے سلسلے میں تمام مسلمانوں پر معلمی کا حق رکھتے ہیں؛ کیونکہ آنحضرت(ع) نہ ہوتے تو مسلمان اللہ کے ساتھ کلام اور راز و نیاز کرنے اور اس کی بارگاہ میں عرض حاجت کی کیفیت سے نا واقف رہتے؛ چنانچہ امام(ع) نے لوگوں کو سکھایا کہ استغفار کے وقت خدا کے ساتھ کس طرح کلام کریں اور بارش طلب کرنے کے وقت کس زبان سے بارش کے نزول کی التجا کرے، اور دشمن سے خوف کے وقت کس طرح اللہ کی پناہ میں چلے جائیں اور دشمنوں کا شر دور کرنے کے لئے اللہ سے درخواست کرے"۔[20]

زکی مبارک اپنی کتاب التصوف الاسلامی والادب والاخلاق نے صحیفہ سجادیہ کو مختلف پہلؤوں سے انجیل کی مثال قرار دیتے ہیں، اس فرق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ "انجیل کا کام یہ ہے کہ وہ اوپر کی بات عیسی مسیح کی طرف پلٹا دیتی ہے اور صحیفہ سجادیہ دل کے صفحے پر لکھی جانے والی بات اللہ کی طرف لے جاتا ہے۔[21]

صحیفہ کے تراجم

مفصل مضمون: صحیفہ سجادیہ کے تراجم کی فہرست

امام سجاد(ع)

اے میرے خدا! منصب خلافت تیرے خلفاء کے لئے ہے! وہی جو تیری خلقت کی برگزیدہ اور منتخب شخصیات ہیں اور تیری امانتیں ہیں ان درجاتِ عالیہ میں جو تو نے ان کے لئے مختص کر دیئے ہیں جبکہ دوسروں نے یہ مراتب ان سے حاصل کئے۔۔۔ یہاں تک کہ تیرے برگزیدگان اور خلفاء ستمکاروں کے ستم کے مقابلے میں مغلوب و مقہور ہوئے اور ان کے حقوق برباد ہوئے۔ اے میرے پروردگار! ان کے دشمنوں پر ـ اولین اور آخرین میں سے ـ اور ان لوگوں پر جنہوں نے ان کے دشمن کی جارحیت پر رضامندی ظاہر کی اور ان کے پیروکاروں اور تابعین پر لعنت فرما.

آج تک صحیفہ سجادیہ کے متعدد تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہوئے ہیں جن میں فارسی میں انجام پانے والے 60 تراجم اور شروح بھی شامل ہیں۔ نیز صحیفہ کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ترکی، اردو، ہسپانوی، بوفرانسیسی، بوسنیائی، البانیائی، تامل اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔

بعض تراجم کے عنوانات حسب ذیل ہیں:

فارسی تراجم:

  • ترجمہ بقلم: عبدالمحمد آیتی، مطبوعہ انتشارات صدا و سیمای جمهوری اسلامی ایران (سروش)۔
  • ترجمہ بقلم: مہدی الہی قمشہ ای، مطبوعہ نشرموسسه انتشاراتی دانش هوشیار، سنہ 1384ھ ش، تعداد صفحات: 344؛ نیز مطبوعہ انتشارات وفائی، در سال 1384ھ ش، تعداد صفحات: 352۔
  • ترجمہ بقلم: محمد مہدی فولادوند، زیر عنوان "پیشوائے چہرہ برخاک سایندگان"، مطبوعہ نشر سازمان تبلیغات اسلامی، سنہ 1379ھ ش، تعداد صفحات: 419۔[22]

دیگر زبانیں:

  • فرانسیسی ترجمہ، بقلم: فریدہ مہدوی دامغانی، سنۂ طباعت: 1381ھ ش، باہتمام: انتشارات الہادی۔ مترجم کے بقول یہ فرانسیسی زبان میں صحیفہ سجادیہ کا پہلا ترجمہ ہے۔
  • ہسپانوی ترجمہ، زیر عنوان "As-Sahifa al-Kamilah as-Sayyadiiah; Las Súplicas de As-Sayyad"، بقلم: ماریا آموریتی،[23]، حجۃ الاسلام محمد معلمی زاده اور نیستور پاگانو[24]، مطبوعہ مؤسسة امام علی(ع)، بیروت.
  • ترکی ترجمہ، بقلم: رسول اسماعیل زادہ، مطبوعہ باہتمام: انتشارات الہدی سنہ 2003ع‍
  • اردو تراجم:

اردو تراجم میں علامہ سید محمد ہارون، سید علی مجتہد، علامہ مفتی جعفر حسین، سید مرتضیٰ حسین، نسیم امروہوی اور علامہ ذیشان جوادی کے تراجم قابل ذکر ہیں۔ جن کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں مثال کے طور پر علامہ سید علی کے ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر دیگر علماء نے مقدمے لکھے ہیں؛ مفتی جعفر حسین نے ہر دعا کے اختتام پر اس کے مضمرات کی تشریح کی ہے اور نسیم امرہوی نے دعاؤں کےالفاظ کی تشریح کی ہے۔[25]

صحیفہ کی شرحیں

اہم کتب حدیث
شیعہ
سنی

مفصل مضمون: صحیفہ سجادیہ کی شرحوں کی فہرست

شیخ آقا بزرگ طہرانی نے کتاب الذریعہ میں صحیفہ سجادیہ کے لئے 50 شرحوں کا تذکرہ کیا ہے۔[26] بعض دیگر نے ان شرحوں کی تعداد 80 سے زائد بتائی ہے۔[27]

نیز ایک کتاب زیر عنوان "کتاب شناسی امام سجاد، صحیفہ سجادیہ و رسالۂ حقوق" عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے جس میں امام سجاد(ع) سے متعلق کتب کا تعارف کرایا گیا ہے۔

فارسی شرحیں

  • شہود و شناخت، بقلم: حسن ممدوحی کرمانشاہی، مقدمہ بقلم: آیت اللہ جوادی آملی، 4 مجلدات، اشاعت: باہتمام: انتشارات بوستان کتاب وابستہ بہ دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
  • دیار عاشفان، بقلم: حسین انصاریان۔
  • ترجمہ و شرح صحیفۂ کاملہ سجادیہ، بقلم: سید علی نقی فیض الاسلام، مطبوعہ باہتمام مرکز نشر آثار فیض الاسلام.[28]

عربی شرحیں

  • ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، بقلم: سید علی خان مدنی۔
  • ریاض العارفین فی شرح صحیفه سید الساجدین بقلم: محمد بن محمد دارابی۔
  • 'آمال العارفین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین'، بقلم: میرزا عبد الوہاب بن محمد صالح برغانی قزوینی (متوفٰی سنہ 1249ھ ق)۔
    یہ صحیفہ سجادیہ پر لکھی گئی بہت مفصل مزجی شرح[29] ہے جس میں ریاض السالکین میں مندرجہ سید علی خان کبیر کے نظریات و آراء کو مد بنیاد بنا کر ان ہی کے تناسب سے احادیث و روایات نیز مشہور فلاسفہ اور عرفاء کے نظریات سے استناد کیا گیا ہے؛ اور کوشش کی گئی ہےنقل کئے گئے ہیں اور فلسفی اصولوں کو دینی اعتقادات سے پیوند دینے کی کوشش کی گئی ہے۔[30]

موضوعاتی لغت نامے

  • الدلیل إلی موضوعات الصحیفۃ السجادیۃ، بقلم: محمد حسین مظفر، قم، انتشارات اسلامی، 1403ھ ق۔ مظفر نے صحیفہ سجادیہ کے تمام موضوعات کو 19 ابواب میں مرتب کیا ہے اور ان کے ذیل میں فرعی اور جزئی موضوعات کو پیش کیا ہے۔[31]
  • نمایہ نامه موضوعی صحیفہ سجادیہ (صحیفہ سجادیہ کے اشاریہ جات[32])، بقلم: مصطفی درایتی، مرتبہ و مطبوعہ باہتمام: تہران: مرکز اطلاعات و مدارک علمی ایران، ط 1، سنہ 1377ھ ش۔[33]
  • 'فرہنگنامۃ موضوعی صحیفۂ سجادیہ، (صحیفہ سجادیہ کا موضوعی لغت نامہ)، بقلم: سید احمد سجادی، مطبوعہ باہتمام: قم: مؤسسه فرہنگی مطالعاتی الزهراء، ط 1، سنہ 1385ھ ش۔[34]

معاجمِ الفاظ

  • المعجم المفہرس لألفاظ الصحیفۃ الکاملۃ، (صحیفہ کاملہ کے الفاظ کی بنیاد پر ترتیب یافتہ لغت نامہ)، بقلم: سید علی‌اکبر قرشی.
  • المعجم المفہرس لالفاظ الصحیفۃ السجادیۃ، بقلم: علی انصاریان۔
  • المعجم المفہرس لالفاظ الصحیفۃ السجادیۃ، بقلم: اثر فاطمہ احمدی۔

تعلیقات اور حواشی

  • تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ: بقلم: ملا محسن بن مرتضی فیض کاشانی، یہ صحیفہ سجادیہ پر مختصر تعلیقات ہیں اور ان میں ادبی اور لغوی نکات کی تشریح کی گئی ہے۔ یہ کتاب سنہ 1055ھ ق میں تالیف ہوئی ہے۔ یہ کتاب "شرح صحیفۂ سجادیۂ" اور "حاشیۂ صحیفۂ سجادیہ" جیسے عناوین سے بھی مشہور ہے۔
  • حاشیۃ الصحیفۃ السجادیۃ: بقلم: سید محمد باقر بن محمد حسینی استرآبادی، میر داماد (متوفٰی سنہ 1041ھ ق)۔ یہ مختصر سی شرح ہے جو "قولہ قولہ" جیسے عناوین پر مشتمل ہے۔ اس میں لغوی، فلسفی، اور کبھی علوم رجال و ہیئت کے مباحث شامل ہیں۔ یہ شرح صحیفہ سجادیہ کے نکات اور دقائق کی وضاحت پر مشتمل ہے اور میرداماد نے اس کو اپنی کتاب "السبع الشداد" کے بعد تالیف کیا ہے۔
  • حاشیۃ علی الصحیفۃ الکاملۃ: بقلم: ابو جعفر محمد بن منصور بن احمد ابن ادریس حلی (متوفٰی 598ھ ق)۔ یہ صحیفہ سجادیہ پر مختصر سا حاشیہ ہے جس میں اس کے مشکل الفاظ کی وضاحت ہوئی ہے۔ ابن ادریس حلی کے حاشیے کی اہمیت کا سبب یہ ہے کہ یہ صحیفہ پر سب سے پہلا اور قدیم ترین حاشیہ ہے۔

مستدرکات

بعض علماء نے صحیفہ سجادیہ پر مستدرکات لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ مستدرکات سے مراد وہ دعائیں ہیں جو امام سجاد(ع) سے منسوب ہیں لیکن صحیفہ سجادیہ میں شامل نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض حسب ذیل ہیں:

مزید مطالعہ

  • پژوہش نامہ صحیفۂ سجادیہ: (صحیفۂ سجادیہ کا تحقیقی جائزہ)، بقلم: مجید غلامی جلیسہ؛ یہ صحیفہ سجادیہ کی سندیاتی تحقیق اور مخطوطات کے مُطالعے کے حوالے سے مقالات کا مجموعہ ہے؛ مطبوعہ باہتمام: قم، دلیل ما، سنہ 1390ھ ش۔
  • صحیفہ سجادیہ کی سند، متعلقہ نسخہ جات، اور اس کتاب میں مندرجہ دعاؤں کے سلسلۂ سند کے سلسلے میں مقالات کا ایک مجموعہ؛ اس مجموعے میں صحیفہ سجادیہ کے راویوں، اس کے موجودہ نسخہ جات، متعلقہ روائی اسناد وغیرہ کے سلسلے میں مختلف حوالوں سے تحقیق ہوئی ہے نیز اس کتاب کے تراجم اور دستیاب شرحوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس تحقیق یا ان مقالات میں صحیفہ سجادیہ پر ابن ادریس کے حاشیے، کفعمی کے دست نوشتہ صحیفے پر تحقیق، صحیفہ سجادیہ کے بارے میں جدید ملنے والی روایات، صحیفہ سجادیہ پر مستدرک نویسی، مناجات خمس عشر کے تراجم اور صحیفہ سجادیہ کے حواشی کے تراجم کا تعارف پیش کیا گیا ہے نیز اس کتاب پر لکھی گئی اہم شرحوں، صحیفہ سجادیہ پر لکھے گئے تحقیقی مضامین اور بعض اہم تعلیقات و حواشی کو متعارف کرایا گیا ہے۔

پاورقی حاشیے

  1. Theology
  2. Cosmology
  3. Anthropology
  4. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج 15، ص18-19۔
  5. مقدمہ مرعشی نجفی بر صحیفہ، ص46 مقدمہ۔
  6. آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، ج15، ص18–19۔
  7. مرعشی نجفی، صحیفہ سجادیہ، بلاغی، ص9 مقدمہ۔
  8. رجوع کریں: قندوزی، ینابیع المودة، ج1-2، ص599۔
  9. ماہنامہ کتاب ماه دین، ش51،52، ص105119۔
  10. اکنا خبر ایجنسی، "صحیفہ سجادیہ کفعمی در مشہد رونمایی شد (مشہد میں صحیفۂ سجادیۂ کفعمی کی تقریب رونمائی)"۔
  11. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج13، ص220۔
  12. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص184۔
  13. سہمی، تاریخ جرجان، ص189۔
  14. Ontology
  15. صحیفه سجادیه، دعا نمبر فقرہ نمبر 56۔
  16. اربلی، کشف الغمہ، ج2، ص89۔
  17. مقدمہ مرعشی نجفی، ص13۔
  18. مقدمہ مرعشی نجفی، ص37 مقدمه۔
  19. پیشوایی، سیره پیشوایان، ص270-271۔
  20. بحوالہ از: مقدمہ مرعشی بر صحیفہ، ص43-45۔
  21. بحوالہ: مبشری، صحیفہ سجادیہ، مقدمہ، ص13۔
  22. ماهنامہ ماه دین، شماره‌های 49 تا 52، مقاله کتابشناسی تفصیلی صحیفہ سجادیہ، حکیم، سید محمد حسین۔
  23. María Isabel Amoretti
  24. Néstor Daniel Pagano
  25. صحیفہ کاملہ سجادیہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام۔
  26. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج3، ص345-359۔
  27. حکیم، سید محمد حسین، کتاب‌ شناسی تفصیلی شروح و ترجمہ های صحیفہ سجادیہ، مجلہ «کتاب ماه دین»، اسفند 1380 و فروردین1381ھ‍ ش۔
  28. پایگاه تخصصی صحیفہ سجادیہ۔
  29. شرح مزجی؛ جس میں متن کی تفسیر و وضاحت کچھ اس طرح سے ہو کہ ـ خاص علائم کے بغیر ـ اس کو متن کے الفاظ اور جملوں سے الگ کرنا ممکن نہ ہو، اس کو "مزجی شرح" کہا جاتا ہے۔ شرح مزجی واژه یاب دهخدا۔
  30. ماهنامہ ماه دین، شماره‌های 49 تا 52، مقالہ کتابشناسی تفصیلی صحیفہ سجادیہ، حکیم، سید محمد حسین۔
  31. حبیبی و شمس الدینی مطلق، کتاب‌شناسی امام سجاد، صحیفہ سجادیہ و رسالہ حقوق، ص211۔
  32. Indexes
  33. حبیبی و شمس الدینی مطلق، کتاب‌ شناسی امام سجاد، صحیفہ سجادیہ و رسالہ حقوق، ص267۔
  34. حبیبی و شمس الدینی مطلق، کتاب‌ شناسی امام سجاد، صحیفہ سجادیہ و رسالہ حقوق، ص249۔
  35. رجوع کریں: مقدمه مرعشی نجفی، ص41–43۔


مآخذ

  • اربلی، ابو الفتح، کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، بیروت: دار الاضواء، 1405ھ ق
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، بہ کوشش سہیل زکّار و ریاض زرکلی، بیروت: دار الفکر، 1417ھ ق
  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت: دار الاضواء، 1403ھ ق
  • حبیبی، سلمان و مختار شمس‌ الدینی مطلق، کتاب‌ شناسی امام سجاد(ع)، صحیفہ سجادیہ و رسالہ حقوق، قم، مجمع جہانی اہل بیت، 1394ھ ش
  • صحیفہ سجادیہ، ترجمہ اسد الله مبشری، تہران: نشر نی، 1370ھ ش
  • سہمی، حمزه بن یوسف، تاریخ جرجان، عالم الکتب،‌ بیروت، لبنان،
  • صحيفہ سجاديہ، ترجمہ سيد صدر الدين بلاغي، ‌با‌ مقدمہ اي ‌از‌ آيت الله مرعشي نجفي، (تہران، دار الكتب الاسلاميہ)۔
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع الموده، بہ کوشش علی جمال اشرف، تہران: اسوه، 1416ھ ق.
  • معتزلی، ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، بہ کوشش اعلمی، بیروت: مؤسسہ اعلمی، 1415ھ ق.

بیرونی روابط