عید غدیر

ويکی شيعه سے
(عید غدیر خم سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غدیر خم میں حضرت علی(ع) کی امامت کے اعلان کی منظر کشی
غدیر خم کا محل وقوع

عید غدیر اہل تشیع کی بڑی عیدوں میں سے ہے جسے 18 ذوالحجہ کے دن منایا جاتا ہے۔ احادیث کے مطابق ہجرت کے دسویں سال پیغمبر اکرم(ص) نے خدا کے حکم سے امام علی(ع) کو خلافت اور امامت کے منصب پر منصوب فرمایا۔ یہ واقعہ ہجرت کے دسویں سال حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر پیش آیا۔

شیعہ مآخذ میں اس عید کیلئے (سب سے بڑی عید)، [1] اہل بیت محمد(ص) کی عید ،[2] اور اشرف الاعیاد (سب سے افضل ترین عید) [3] جیسی تعابیر استعمال ہوئی ہیں۔

اہل تشیع پوری دنیا میں اس دن جشن مناتے ہیں جس میں مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں آج کل اس عید کو منانا شیعوں کے شعائر میں شمار ہوتا ہے۔

غدیر کا واقعہ

تفصیلی مضمون:واقعہ غدیر پیغمبر اکرم(ص) ہجرت کے دسویں سال 24 یا 25 ذی القعدہ کو ہزاروں کا قافلہ لے کر مناسک حج انجام دینے کی غرض سے مدینہ سے مکہ کی طرف حرکت فرمایا۔[4] چونکہ یہ حج پیغمبر اکرم(ص) کا آخری حج تھا اس لئے یہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہوا۔ حج کے اعمال سے فارغ ہو کر پیغمبر اکرم(ص) مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ 18 ذوالحجہ کے دن یہ قافلہ غدیر خم کے مقام پر پہنچا اس مقام پر جبرئیل آیت تبلیغ لے کر پیغمبراکرم(ص) پر نازل ہوا اور خدا کی طرف سے حضرت علی(ع) کی امامت و ولایت کے اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

خطبه غدیر

اصل مضمون: خطبہ غدیر

احادیث کے مطابق رسول خدا(ص) نے غدیر خم میں لوگوں کو جمع کیا اور حضرت علی(ع) کا ہاتھ تھام کر بلند کیا تاکہ سب آپ(ع) کو دیکھ سکے اس کے بعد فرمایا: ترجمہ: کیا میں مؤمنین پر حقِ تصرف رکھنے میں ان پر مقدم نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ آپ(ص) نے فرمایا: میں جس کا مولا و سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں؛ یا اللہ! تو اس کے دوست اور اس کو اپنا مولا اور سرپرست سمجھنے والے کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ؛ جو اس کی نصرت کرے اس کی مدد کر اور جو اس کو تنہا چھوڑے اس کو اپنے حال پر چھوڑ کر تنہا کردے۔ اس کے بعد مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا جو یہاں حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں۔"

عید غدیر احادیث کی روشنی میں

اہل سنت مآخذ میں نقل ہوا ہے کہ جو بھی 18 ذولحجہ کو روزہ رکھے، خداوند عالم 6 ماہ روزے کا ثواب اس شخص کے نامہ عمل میں لکھ دیتا ہے اور یہ دن عید غدیر کا دن ہے۔[5]

رسول خدا(ص) فرماتے ہیں: "عید غدیر کا دین میری امت کے بڑی عیدوں میں سے ہے اس دن خدا نے بہت بڑا حکم صادر فرمایا اس دن میرے بھائی علی بن ابی طالب کو امت کیلئے امام کے طور پر منتخب کیا تاکہ میرے بعد میری امت اس کے ذریعے ہدایت پاسکے۔ یہ دن وہ ہے جس دن خدا نے دین اسلام کو مکمل کیا اور میری امت پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کی اور اسلام کو بعنوان دین ان سے قبول کیا۔" [6]

اسی طرح امام صادق(ع) فرماتے ہیں: "غدیر کا دن خدا کا بہت بڑا دن ہے خدا نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس دن کو عید کے طور پر منایا اور اس دن کی عظمت کو پہچان لیا۔ اس دن کو آسمان میں عہد و پیمان کا دن کہا جاتا ہے اور زمین میں محکم میثاق اور تمام لوگوں کے جمع ہونے کا دن ہے۔"[7]

ایک اور روایت میں امام صادق(ع) عید غدیر کو مسلمانوں کیلئے باعظت ترین اور باشرافت‌ ترین عید قرار دیتے ہیں۔ لہذا سب پر واجب ہے کہ اس دن ہر لمحہ خدا کا شکر بجا لائے اور لوگوں کو شکرانے کے طور پر روزہ رکھنے کا حکم دیا جس کا ثواب 600 سال عبادت کے برابر ہے۔[8]

امام رضا(ع) فرماتے ہیں: "روز غدیر اہل آسمان کے ہاں اہل زمین والوں سے بھی زیادہ مشہور ہے۔ لوگ اس دن کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہیں، بے شک خدا کے مقرب فرشتے ہر روز دس مرتبہ ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔"[9]

عید غدیر تاریخ کے آئینے میں

مسلمان بطور خاص شیعہ صدر اسلام سے ہی اس دن کو بڑے جوش و خروش سے جشن مناتے آئے ہیں اور ان کے ہاں یہ دن عید غدیر کے نام سے معروف اور مشہور ہے۔ [10]

مسعودی (متوفای ۳۴۶ ہ.ق) اپنی کتاب [11] میں لکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے فرزندان اور انکے شیعہ اس دن کو بڑے احترام سے دیکھتے ہیں۔ کلینی (متوفای ۳۲۸ ہ.ق) ایک روایت میں شیعوں کا اس دن جشن منانے کا ذکر کرتے ہیں۔ [12] بنابر این واضح ہے کہ عید غدیر کے دن جشن منانا تیسرے اور چوتھے صدی میں مکمل رائج ہوگیا تھا۔

اس سے پہلے بھی فیاض بن محمد بن عمر طوسی ایک روایت نقل کرتے ہیں جس کے مطابق امام رضا(ع) روز غدیر کو عید مناتے تھے۔[13] اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ امام رضا(ع) دوسرے صدی ہجری کے آخر میں زندگی کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ عید غدیر کے دن جشن منانا حتی دوسرے صدی ہجری میں بھی مرسوم تھے۔

عید غدیر کا احترام اس کے بعد بھی مسلمانوں کے ہاں مرسوم تھا یہاں تک کہ مستعلی بن مستنصر جو کہ مصر کے حکمرانوں میں سے تھا، کیلئے بیعت بھی اسی دن یعنی عید غدیر کے دن سال ۴۸۷ انجام پایا[14] مصر میں فاطمی خلفاء نے عید غدیر کو رسمیت دی اور ایران میں سنہ ۹۰۷ ہ.ق کو شاہ اسماعیل صفوی کے تخت نشین ہونے کے بعد سے اب تک عید غدیر نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

آج کل عید غدیر شیعوں کے شعائر میں شمار ہوتا ہے اور نجف اشرف امام علی(ع) کے روضہ اقدس میں ہر سال اس دن ایک پروقار جشن منعقد ہوتا ہے۔ جس میں شیعہ علماء کے علاوہ تمام اسلامی ممالک کے سفراء بھی شرکت اور خطاب کرتے ہیں اور حضرت علی(ع) کی شان میں منقبت اور قصائد سنائے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ دنیا کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جہاں کہیں شیعیان حیدر کرار زندگی گزارتے ہیں اس دن کو بڑے عقیدت اور احترام سے مناتے ہیں یمن میں بھی زیدی شیعہ اس دن ایک پروقار جشن مناتے ہیں اور چراغان کرتے ہیں۔

شب عدیر غدیر بھی مسلمانوں کے ہاں اہم ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے۔[15]

عید غدیر کے اعمال

  • روزہ رکھنا
  • غسل کرنا
  • زیارت امین اللہ پڑھنا
  • [دعائے ندبہ]] پڑھنا
  • مومنین کا ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت اس تہنیت کا پڑھنا:
  • نئے اور پاک و صاف لباس پہنا
  • زینت کرنا
  • عطر وغیرہ کا استعمال کرنا
  • صلہ رحم
  • اطعام مومنین [16]

غدیر کے بارے میں مزید مطالعے کیلئے

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. حر عاملی، وسائل الشیعہ،ج ۸، ص۸۲
  2. سید ابن طاووس، اقبال الاعمال، ص۴۶۴
  3. کلینی، کافی، ج ۱، ص۲۰۳
  4. طبرسی، ج ۱، ص۵۶ ؛ مفید، ص۹۱ ؛ حلبی، ج ۳، ص۳۰۸
  5. خطیب بغدادی، ج ۸، ص۲۸۴
  6. صدوق، امالی، ص۱۲۵
  7. حرعاملی، ج ۵، ص۲۲۴
  8. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ۱۰، ص۴۴۳
  9. طوسی، ج ۶، ص۲۴
  10. ابو ریحان بیرونی، ص۹۵
  11. التنبیہ و الاِشراف، ص۲۲۱
  12. کافی، ج۴، ص۱۴۹
  13. بحار الانوار، ج ۹۵، ص۳۲۲
  14. ابن خلکان، ج ۱، ص۶۰
  15. ثعالبی، ص۵۱۱
  16. قمی، ذیل اعمال روز ۱۸ ذوالحجہ


مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن خلکان، وفیات الاعیان، تحقیق احسان عباس، دارالثقافہ، لبنان.
  • ابن طاووس، اقبال الاعمال، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۶۷ ہ‍.ش.
  • ابوریحان بیرونی، آثار الباقیہ، انتشارات ابن سینا، تہران.
  • ثعالبی، ثمار القلوب، تحقیق ابراہیم صالح، دار البشائر، دمشق.
  • حر عاملی، وسائل الشیعہ، موسسہ آل البیت، قم.
  • حلبی، السیرہ الحلبیہ، دارالمعرفہ، بیروت.
  • خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، تحقیق مصطفی عبدالقادر، دارالکتب العلمیہ، بیروت.
  • ری شہری، موسوعہ الامام علی بن ابی طالب، دارالحدیث، قم.
  • صدوق، امالی، تحقیق موسسہ بعثت، موسسہ بعثت، قم.
  • صدوق، خصال، تحقیق علی اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم.
  • طبرسی، الإحتجاج، نشر مرتضی، مشہد.
  • طوسی، تہذیب الاحکام، سید حسن موسوی خرسان، دارالکتب الاسلامیہ، تہران.
  • عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ.
  • قمی، مفاتیح الجنان.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، دار الکتب الاسلامیہ، تہران.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، موسسہ الوفاء، بیروت.
  • مسعودی، علی بن الحسین، التبیہ و الاشراف، دار الصاوی، قاہرہ، ۱۳۵۷ ہ‍.ق.
  • مفید، الارشاد، موسسہ آل البیت، قم.