غنیمت

ویکی شیعہ سے

غنیمت یا غنائم جنگی ان چیزوں کو کہا جاتا ہے جو کافروں کے ساتھ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ آتی ہیں۔ غنائم جنگی حاصل کرنے کے دو شرط بیان ہوئے ہیں: جنگ امام معصوم یا اس کے نائب کے حکم سے لڑی گئی ہو۔ اسی طرح غنیمت جنگ کے نتیجے میں ہاتھ آئے نہ صلح وغیرہ کے ذریعے۔

شیعہ فقہاء کے مطابق غیر منقول غنائم عام مسلمانوں کا حق ہے جبکہ منقول غنائم میں سے خمس نکالنے کے بعد انہیں مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بعض فقہاء اس بات کے معتقد ہیں کہ دور حاضر میں غنیمت کی تقسیم کا حکم گذشتہ ادوار کی طرح نہیں ہے کیونکہ پہلے زمانوں میں تمام تر جنگی سازو سامان خود مجاہدین تہیہ کرتے تھے اس بنا پر غنیمت بھی انہیں دیا جاتا تھا لیکن دور حاضر میں جنگی سازو سامان حتی مجاہدین کی تنخواہیں بھی حکومتیں دیتی ہیں۔

تعریف

غنیمت لغت میں "فائدہ اور منافع" کو کہا جاتا ہے۔[1] اس بنا پر غنیمت ان چیزوں کو بھی کہا جاتا ہے جو جنگوں میں ہاتھ لگ جاتی ہے اور ان منافع کو بھی کہا جاتا ہے جو تجارت وغیرہ سے حاصل ہوتے ہیں۔[2] احادیث میں جنگ سے حاصل ہونے والے منافع کو غنیمت کہا گیا ہے[3] فقہاء بھی غنیمت کو اس کے لغوی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔[4]

لغوی معنی کے اعتبار سے آیت خمس میں غنیمت سے ہر قسم کے منافع مراد لئے جاتے ہیں؛ چاہے جنگ کے ذریعے ہاتھ آئے یا کسی اور ذریعے سے۔[5] آیت اللہ منتظری اس بات کے معتقد ہیں کہ اگرچہ لفظ غنیمت جنگی غنائم میں زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لغوی معنی سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔[6]

فیء اور غنیمت میں فرق

فیء اور غنیمت دونوں مشرکوں سے حاصل ہونے والے اموال کو کہا جاتا ہے[7] لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر یہ اموال مشرکوں سے بغیر جنگ کے صلح وغیرہ کے ذریعے حاصل ہو گئے ہوں تو اسے فیء کہا جاتا ہے لیکن اگر جنگ کے ذریعے حاصل ہو گئے ہوں تو اسے غنیمت کہا جاتا ہے۔[8]

غنائم جنگی

جنگی غنائم جو جنگ کے ذریعے مسلمانوں کے ہاتھ آتے ہیں ان میں منقولات، غیر منقولات [یادداشت 1] اور اسراء شامل ہیں۔[9] قرآن کی آیات میں غنیمت کے حلال ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے؛ من جملہ یہ کہ: "غنیمت میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے کھاؤ وہ تمہارے لئے حلال اور سزاوار ہے"۔[10] اسی طرح سورہ انفال کی آیت نمبر 41 کے مطابق غنائم جنگی کا پانچواں حصہ خمس کے عنوان سے جدا کرنے کے بعد باقی مانده اموال کو مجاہدین میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔[11]

سورہ نساء کی آیت نمبر 94 میں آیا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے آپ کو مسلمان معرفی کیا تو اسے قبول کرو اور غنیمت لینے کی لالچ میں اس کے مسلمان ہونے کو رد مت کرو۔[12] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی مسلمان کو مادی فوائد کی خاطر جہاد میں نہیں جانانا چاہئے اس بنا پر دشمن کی طرف سے ایمان کا اظہار کرنے کی صورت میں فورا قبول کرنا چاہئے اگر جنگی غنائم سے محروم کیوں نہ ہو؛ کیونکہ جہاد کا مقصد غنائم کا حصول نہیں ہے۔[13] البتہ یوسف غلامی مجلہ فرہنگ کوثر میں شایع ہونے والے ایک مقالے میں غنائم جنگی کو قرن اول کی فتوحات کا اصلی عامل قرار دیتے ہیں۔[14]

غنائم جنگی حاصل کرنے کے دو شرط ذکر ہوئے ہیں:

  • کفار کے ساتھ جنگ امام معصوم یا ان کے نائب کی اجازت سے لڑی گئی ہو؛ اگرچہ امام معصوم کا نائب فقیہ جامع‌ الشرائط ہی کیوں نہ ہو۔[15]
  • غنیمت، جنگ کے ذریعے حاصل ہو؛ کیونکہ اگر صلح وغیرہ کے ذریعے حاصل ہو گئی ہو تو یہ غنیمت میں شامل نہیں ہوتا۔[16]

مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غنیمت

جنگ جمل جو دو مسلمان گروہوں میں ہونے والی پہلی جنگ تھی، میں حاصل ہونے والے اموال کا غنیمت میں شامل ہونے اور نہ ہونے کی بحث مطرح ہوئی۔[17] امام علیؑ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ کوئی مال غنیمت کے طور پر نہ لے جائے سوائے اسلحے اور حیوانات جن کے ذریعے دشمن نے جنگ کی ہیں۔[18] جنگی سازو سامان کے علاوہ دوسری چیزوں کو غنیمت میں نہ شامل کرنے کے حکم پر اس وقت اعتراضات بھی کئے گئے تھے جو بعد میں بحث و مباحثے کا موضوع بھی بنا ہے۔[19]

غنائم کی تقسیم

غنیمت میں حاصل ہونے والے غیر منقول اموال عام مسلمانوں کا حق ہے۔[20] لیکن منقول اموال میں سے خمس نکالنے کے بعد باقی ماندہ حصہ جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین میں تقسیم ہوگا۔[21]

مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق پیدل جنگ کرنے والے اور گھوڑوں کے ساتھ جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کا حصہ برابر نہیں ہوتا؛[22] اس بنا پر پیدل جنگ میں حصہ لینے والوں کو ایک حصہ جبکہ گھوڑوں کے ساتھ جنگ میں حصہ لینے والوں کو دو حصے ملیں گے اسی طرح وہ لوگ جو اپنے ساتھ کئی گھوڑے لے آتے ہیں انہیں 3 حصے ملیں گے۔[23]

مشہور شیعہ فقہاء فتوا دیتے ہیں کہ[24] اگر کوئی اعرابی جہاد میں شرکت کرے تو اسے غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا ہاں صرف امام اپنی صوابدید اور مصلحت کی بنا پر غنیمت میں سے اسے کچھ دے سکتا ہے۔[25] یہاں پر اعرابی سے مراد وہ دیہاتی شخص ہے جس نے صرف شہادتین پڑھ کر مسلمان ہوا ہے اور اس سے بڑھ کر اسلام کے اہداف اور احکام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔[26]

شیعہ فقیہ سید محمد صادق روحانی اس بات کے معتقد ہیں کہ کسی شخص کی شرافت اور بزرگی غنیمت میں سے زیادہ حصہ ملنے کا باعث نہیں بنتا۔[27]

عصر حاضر میں غنیمت کا حکم

امام معصوم کی غیبت کے زمانے میں عادل اسلامی سربراہ کی اجازت سے غنیمت لیا جا سکتا ہے۔[28]

بعض فقہاء دور حاضر میں غنیمت کے مفہوم میں کچھ تبدیلی کے معتقد ہیں اس بنا پر اس دور میں عام لوگوں کے اموال کو غنیمت حساب کرنا معقول نہیں ہے بلکہ صرف مد مقابل حکومت کے اموال کو غنیمت شمار کیا جا سکتا ہے۔[29] شیعہ معاصر فقیہ محمد حسین فضل‌ اللہ اس بات کے معتقد ہیں کہ پرانے زمانے میں مجاہدین خود جنگی سازو سامان ہمراہ لاتے تھے اسی بنا پر غنیمت بھی ان میں تقسیم کیا جاتا تھا لیکن دور حاضر میں جنگی سازو سامان حتی مجاہدین کی تنخواہیں بھی حکومت دیتی ہیں اس کے نتیجے میں غنیمت کا حکم جو پرانے زمانے میں رائج تھا وہ اس دور میں لاگوں نہیں ہوگا یعنی اس دور میں غنیمت مجاہدین کو نہیں ملے گی۔[30]

بعض دیگر فقہاء کہتے ہیں کہ اگر اس دور میں غنیمت لینے کی اجازت مل بھی جائے تو بھی اس حکم میں چھوٹے اور بھاری ہتیاریں شامل نہیں ہونگے اور ان چیزوں کو مجاہدین اپنے لئے نہیں اٹھا سکتے بلکہ یہ چیزیں اسلامی حکومت کو دی جائے گی۔[31]

نوٹ

  1. منقولات ان اموال کو کہا جاتا ہے جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ غیر منقولات ان اموال کو کہا جاتا ہے جنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ (امامی،‌ حقوق مدنی، اسلامیہ،‌ ج۱، ص۲۲

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع البحرین، ۱۳۷۵ش، ج۶، ص۱۲۹۔
  2. مصطفوی، التحقیق، ۱۳۶۰ش، ج۱۲، ص۲۱۰۲۔
  3. «منظور از غنیمت چیست؟»، پایگاہ رسمی محمد محمدی ری‌شہری۔
  4. شیرازی، التعلیقات علی شرائع الإسلام، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۲۵-۲۳۔
  5. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۴۶۸۔
  6. منتظری‌، کتاب الخمس و الأنفال، قم، ص۹۔
  7. خلخالی، فقہ الشیعۃ کتاب الخمس و الأنفال، ۱۴۲۷ق، ج۳، ص۲۷۔‌
  8. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص۳۹۶۔
  9. جواہری، «غنیمت»، ج۱۲، ص۱۳۱۔
  10. جمعی از نویسندگان، مجلۃ فقہ أہل البیت، قم، ج۳۲، ص۲۳۳۔
  11. محققیان، «غنیمت»، ص۹۵۳۔
  12. سورہ نساء، آیہ ۹۴۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۴، ص۷۴۔
  14. غلامی، «فتوحات دورہ خلفا (انگیزہ‌ہا و پیامدہا)»، ص۴۱۔
  15. شیرازی، المسائل المنتخبۃ، مسئلہ ۱۰۲۳، ص۲۵۹۔
  16. محمود عبدالرحمان، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقہیۃ، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۲۴۔‌
  17. دلشاد تہرانی، سودای پیمان‌شکنان، ۱۳۹۴ش، ص۱۴۔
  18. دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۱۵۱۔
  19. سید مرتضی، تنزیہ الأنبیاء، ۱۳۷۷ش، ص۱۵۵-۱۵۶۔
  20. روحانی، منہاج الصالحین، ج‌۱، ص۵۱۲۔
  21. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۴۲۴ق، ج۲، ص۷۸۷۔
  22. منتظری‌، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الإسلامیۃ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۱۵۹۔
  23. شیرازی، المسائل المنتخبۃ، مسئلہ۱۱۷۴، ص۲۸۹۔
  24. صیمری، غایۃ المرام، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۵۲۶۔
  25. علامہ حلّی، إرشاد الأذہان، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۳۴۶۔
  26. شہید ثانی، مسالک الأفہام، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۶۵۔
  27. روحانی‌، فقہ الصادق علیہ‌السلام، ۱۴۱۲ق، ج۱۳، ص۱۳۱۔
  28. منتظری، الأحکام الشرعیۃ علی مذہب أہل البیت، ۱۴۱۳ق، ص۳۲۵۔
  29. جمعی از نویسندگان، مجلۃ فقہ أہل البیت، قم، ج۳۲، ص۲۳۳۔
  30. «غنائم الحرب»، سایت بینات۔
  31. جمعی از نویسندگان، مجلۃ فقہ أہل البیت، قم، ج۳۲، ص۲۳۴۔

مآخذ

  • «۲۸۳ - منظور از غنیمت چیست؟»، پایگاہ رسمی محمد محمدی ری‌شہری، تاریخ درج مطلب: ۲۸ بہمن ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۳۱ خرداد ۱۳۹۹ش۔
  • امام خمینی، سید روح‌ اللہ، توضیح المسائل (محشّی)، گرد آورندہ: سید محمد حسین بنی‌ ہاشمی خمینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ ہشتم، ۱۴۲۴ھ۔
  • امامی،‌ سید حسن، حقوق مدنی، تہران، اسلامیہ، بی‌تا۔
  • جمعی از نویسندگان، مجلۃ فقہ أہل البیت علیہم السلام‌، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، بی‌تا۔
  • جواہری، مریم، «غنیمت»، دایرۃ المعارف تشیع، ج۱۲، قم، حکمت، ۱۳۷۵ش۔
  • موسوی خلخالی، سید محمد مہدی‌، فقہ الشیعہ: کتاب الخمس و الأنفال‌، قم،‌ دار البشیر‌، ۱۴۲۷ھ۔
  • دلشاد تہرانی، مصطفی، سودای پیمان‌ شکنان: تحلیل فتنہ جمل با تکیہ بر نہج‌ البلاغہ، تہران، دریا، ۱۳۹۴ش۔
  • دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داود، الأخبار الطوال، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش۔
  • روحانی، سید صادق، منہاج الصالحین، بی‌جا، بی‌نا، بی‌تا۔
  • روحانی‌، سید صادق، فقہ الصادق علیہ‌السلام‌،‌ قم،‌ دار الکتاب، ۱۴۱۲ھ۔
  • سید مرتضی (علم الہدی)، علی بن حسین، تنزیہ الأنبیاء علیہم السلام، قم، دارالشریف الرضی، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • شہید ثانی، زین‌ الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۳ھ۔
  • شیرازی، سید صادق حسینی، التعلیقات علی شرائع الإسلام‌، قم، استقلال‌، ۱۴۲۵ھ۔
  • شیرازی، سید صادق حسینی‌، المسائل المنتخبۃ‌، بی‌جا، بی‌نا، بی‌تا۔
  • صیمری، مفلح بن حسن (حسین)، غایۃ المرام فی شرح شرائع الإسلام، محقق و مصحح: جعفر کوثرانی عاملی‌، بیروت،‌ دار الہادی، چاپ اول، ۱۴۲۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ محمد جواد بلاغی، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تہران، کتاب فروشی مرتضوی، چاپ سوم، ۱۳۷۵ش۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، إرشاد الأذہان إلی أحکام الإیمان، تحقیق و تصحیح فارس حسون‌، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۰ھ۔
  • غلامی، یوسف، «فتوحات دورہ خلفا (انگیزہ‌ہا و پیامدہا)»، در مجلہ فرہنگ کوثر، شمارہ۴۷، ۱۳۷۹ش۔
  • «غنائم الحرب»، سایت بینات: پایگاہ رسمی مؤسسہ سید محمد حسین فضل‌ اللہ، تاریخ بازدید: ۳۱ خرداد ۱۳۹۹ش۔
  • محققیان، رضا، «غنیمت»، دانشنامہ معاصر قرآن کریم، سرپرست علمی: سید سلمان صفوی، قم، سلمان‌زادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • محمود عبدالرحمان، عبدالمنعم، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقہیۃ‌، قاہرہ، دارالفضیلۃ، ۱۴۱۹ھ۔
  • مشکینی، میرزا علی، مصطلحات الفقہ، بی‌جا، بی‌نا، ۱۴۱۹ھ۔
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۶۰ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • منتظری‌، حسین علی، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الإسلامیۃ‌، قم، نشر تفکر‌، ۱۴۰۹ھ۔
  • منتظری‌، حسین علی، الأحکام الشرعیۃ علی مذہب أہل البیت علیہم السلام‌، قم، نشر تفکر‌، ۱۴۱۳ھ۔
  • منتظری‌، حسین علی، کتاب الخمس و الأنفال‌، قم، بی‌نا، بی‌تا۔