مسودہ:مقابلہ بالمثل
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
مقابلہ بالمثل اسلامی شریعت میں ایک ایسا اصول ہے جس کی رو سے اگر کسی فرد یا گروہ پر ظلم یا زیادتی کی جائے تو وہ دفاع کے طور پر اُتنا ہی ردِ عمل دکھا سکتے ہیں جتنا کہ ان پر زیادتی کی گئی ہو۔ یہ اصول اسلامی فقہ میں خاص طور پر قصاص کے باب میں اور آیتِ اعتداء کی تفسیر میں زیر بحث آیا ہے اور اس سے متعدد فروعی مسائل اخذ کیے گئے ہیں۔
اکثر شیعہ فقہاء نے مالی اور غیر مالی معاملات میں مقابلہ بالمثل کے اصول کو جائز قرار دیا ہے، البتہ اس کے نفاذ کے طریقے اور حدود میں ان کے درمیان کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ سید جعفر مرتضی عاملی اس اصول کو فطری اور عقلی قرار دیتے ہیں، جبکہ عباس علی عمید زنجانی اسے عرف پر مبنی سمجھتے ہیں۔
زیادہ تر فقہاء نے اس اصول کے لیے کچھ پابندیاں قبول کی ہیں، وہ غیر اخلاقی طریقوں یا حد سے تجاوز کرنے کو جائز نہیں سمجھتے اور اسے ایک ایسا حق قرار دیتے ہیں جسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ انتقام سے بڑھ کر عفو و درگزر کے تربیتی اثرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ مقدس اردبیلی نے سورہ بقرہ کی آیت 191 سے استدلال کرتے ہوئے کافروں کو مکہ سے نکالنے کو مسلمانوں کے اس شہر سے پہلے نکالے جانے کے بدلے میں واجب قرار دیا ہے۔
مفہوم شناسی اور اہمیت
مقابلہ بالمثل ایک ایسا اصول ہے[1] جس کے تحت وہ فرد یا افراد جن پر ظلم یا زیادتی ہوئی ہو، انہیں حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع میں اتنا ہی ردِ عمل دکھائیں جتنی زیادتی ان کے خلاف کی گئی ہو۔[2] فقہ میں اس اصول کے لیے تقاص، مقاصّہ،[3] اعتداء بالمثل اور ردُّ الکیل بالکیل جیسی اصطلاحات بھی استعمال ہوئی ہیں۔[4]
مقابلہ بالمثل کا یہ اصول اسلام میں مجرمین سے نمٹنے کے لیے پہلا اصول قرار سمجھا جاتا ہے،[5] جو ایک طرف انتقام کے رجحان کو معتدل کرتا ہے اور دوسری طرف افراد اور ریاستوں کے تشدد اور زیادتی کو روکنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔[6] یہ اصول اسلامی فقہ کے مختلف ابواب جیسے قصاص،[7] آیتِ اعتداء کی تفسیر، نیز جزائی اور بین الاقوامی قانون میں زیر بحث آیا ہے۔[8] فقہاء نے اس اصول سے استناد کرتے ہوئے متعدد موضوعات جیسے غصب، چوری، جہاد، حدود اور قصاص کے سلسلے میں مختلف احکام استخراج کیے ہیں، جن میں غاصب کے مال سے تقاص (بدلہ لینا) کا جواز، قصاص بالمثل کا جواز اور حرام مہینوں میں دشمن سے جنگ کرنے کا جواز (اگر وہ جنگ شروع کرنے والا ہو) شامل ہیں۔[9]
قرآنی دلائل کی روشنی میں مقابلہ بالمثل کا اصول نجی حقوق (جیسے تقاص وغیرہ) اور فوجداری حقوق (جیسے قصاص) دونوں میں قابل اجراء ہے۔[10] اس کے باوجود، اکثر فقہاء نے قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے اس اصول میں غیر اخلاقی اور ظالمانہ طریقے استعمال کرنے کی ممانعت کی ہے، جیسے مثلہ کرنا (اعضاء کاٹنا)[11] یا عام لوگوں کا قتل کرنا وغیرہ۔[12] شیعہ مفسرین مقابلہ بالمثل کو ایک جائز حق سمجھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ عفو و درگزر اور صبر کو انتقام پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کی تلقین کرتے ہیں۔[13] اس تناظر میں مقابلہ بالمثل کو حالت جنگ میں بھی ایک انسانی اور اخلاقی اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔[14]
شیعہ فقہاء نے مالی اور غیر مالی معاملات میں مقابلہ بالمثل کے اصول کو جائز قرار دیا ہے، اگرچہ ان کے نفاذ اور حدود کے بارے میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔[15]
مقابلہ بالمثل کے اعتبار کے دلائل
آیت اعتداء (سورہ بقرہ کی آیت نمبر 194) کو قاعدہ مقابلہ بالمثل پر دلالت کرنے والی سب سے اہم دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔[16] بہت سے شیعہ علما جیسے شیخ طوسی اور علامہ طباطبائی، اور اہل سنت کے بعض مفسرین جیسے زمخشری اور قرطبی نے اس دلالت کو قبول کیا ہے۔[17] ناصر مکارم شیرازی کا عقیدہ ہے کہ اس آیت کی رو سے اگر کسی پر زیادتی ہوجائے تو وہ اپنے دفاع میں مقابلہ بالمثل کرسکتا ہے اور یہ حکم مالی اور غیر مالی حقوق دونوں کو شامل کرتا ہے۔[18]
سید جعفر مرتضی عاملی نے اپنی کتاب «الاسلام ومبدأ المقابلۃ بالمثل» میں احادیثِ اہل بیتؑ سے استناد کرتے ہوئے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ بالمثل کی مشروعیت کی تائید کرتے ہوئے[19] اسے فطری اور عقلی امور میں سے قرار دیا ہے؛ کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ اسی قانون کے نفاذ پر موقوف ہے۔ وہ اس سلسلے میں قرآنی اور روائی دلائل کو ایک عقلی اور فطری حکم کی طرف رہنمائی قرار دیتے ہیں۔[20] عباس علی عمید زنجانی اس قاعدے کو ایک عرفی امر سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ قوموں کے باہمی تعلقات میں اس کا کردار معاشرے کے اندرونی تعلقات کی نسبت زیادہ وسیع اور نمایاں ہے۔[21] اسی سیاق میں امام علیؑ کی وصیت بھی بطور دلیل پیش کی گئی ہے۔ آپؑ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وصیت کی کہ آپ کی شہادت کے بعد قاتل سے انتقام لینے سے گریز کیا جائے اور تاکید فرمائی کہ اگر ابن ملجم کے وار سے آپؑ کی شہادت ہوجائے تو بدلے میں اس پر صرف ایک ہی وار لگایا جائے اور قاتل کو مثلہ کرنے (اعضاء کاٹنے) سے گریز کیا جائے۔[22]
قاعدے کے مصادیق اور تطبیقات
مقدس اردبیلی نے سورہ بقرہ کی آیت 191 جو مدینہ میں نازل ہوئی؛ سے استناد کرتے ہوئے کافروں کو مکہ سے نکالنا مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور اس حکم کو ان کے پہلے (مسلمانوں کو) مکہ سے نکالنے کے بدلے میں قرار دیا ہے۔[23] جنگ احد میں جب پیغمبر خداؐ کے چچا حضرت حمزہ کے جسم کو مثلہ کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے بدلے میں ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا، [24] لیکن سورہ نحل کی آیت 126 جس میں صبر کرنے کی تلقین کی گئی تھی، کے نزول کے بعد اس عمل سے روک دیا گیا۔[25]
صدر اسلام کی جنگوں میں قیدیوں کو غلام بنانا زیادہ تر اس وقت کے مروجہ جنگی عرف اور مقابلہ بالمثل کے قاعدے کے تحت کیا جاتا تھا۔[26] جمہوری اسلامی ایران عراق جنگ (1980-1988) میں جب عراقی فوج نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اس کے مقابلے میں ایران نے ایسا ہی اقدام کرنے سے گریز کیا۔[27] تاہم، بعض مواقع پر جارحیت کی روک تھام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بدلے کے طور پر فوجی کارروائی کی گئی؛ مثال کے طور پر 12 فروری سنہ 1984ء میں فوجی کارروائی عمل میں لائی گئی لیکن امام خمینی کے حکم پر عام شہریوں کی جان بچانے کے لیے کسی بھی کارروائی سے پہلے اطلاع دی جاتی تھی۔[28] جنوری 2020ء میں قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد، بعض تجزیوں میں ایران کے اس نوعیت کے اقدام پر ردعمل کو مقابلہ بالمثل کے حق اور بین الاقوامی قانون میں متقابل ردعمل کے طور پر تجزیہ کیا گیا۔[29] جمہوری اسلامی ایران نے جنگ رمضان (امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ) اور اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے دوران مقابلہ بالمثل کو دشمنوں کی دھمکی کی روک تھام کے ایک آلے کے طور پر پیش کیا۔
|
|
اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
حوالہ جات
- ↑ جعفرپیشہ و فیاض، «مفہوم و مبانی فقہ بشردوستانہ (بشر دوستانہ فقہ کے مفہوم و مبانی)»، ص20۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: خویی، موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج31، ص101؛ آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل(مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص65۔
- ↑ «بررسی فقہی تقاص در سب(سَبّ میں بدلہ لینے کا فقہی جائزہ)»، آیت اللہ علیدوست کے اطلاع رسانی مرکز کی ویب سائٹ۔
- ↑ آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل (مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص65۔
- ↑ امامی، «قصاص در ضرب»، ص97۔
- ↑ صحرایی اردکانی، فخری و زاہدی میل سفید، «مبانی و بنیانہای فقہی-حقوقی مقابلہ بہ مثل در وقعہ شہادت سردار سلیمانی»، ص287۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: مرعشی نجفی، القصاص علی ضوء القرآن و السنۃ، ج1، ص19۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل(مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص68-67؛ یزدی، فقہ القرآن، 1415ھ، ج2، ص322۔
- ↑ موسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت، ج1، ص164۔
- ↑ ہوشمند فیروزآبادی، «قاعدہ مقابلہ بہ مثل در قرآن (اصول مقابلہ بالمثل قرآن کی نظر میں)»، ص162۔
- ↑ جعفرپیشہ و فیاض، «مفہوم و مبانی فقہ بشردوستانہ (بشر دوستانہ فقہ کے مفہوم و مبانی)»، ص21۔
- ↑ آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل(مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص71۔
- ↑ جعفرپیشہ و فیاض، «مفہوم و مبانی فقہ بشردوستانہ (بشر دوستانہ فقہ کے مفہوم و مبانی)»، ص21۔
- ↑ محمدی، «اصول انسانی و اخلاقی جنگ و جہاد در قرآن (جنگ و جہاد میں انسانی اور اخلاقی اصول قرآن کی نگاہ میں)»، ص83۔
- ↑ «بررسی فقہی تقاص در سب (سَبّ میں بدلہ لینے کا فقہی جائزہ)»، اطلاع رسانی مرکز آیت اللہ علیدوست۔
- ↑ آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل(مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص68۔
- ↑ عاملی، الاسلام و مبدا المقابلۃ بالمثل، بیجا، ص21؛ علامہ طباطبایی، تفسیر المیزان، چاپ اسماعیلیان، ج2، ص63۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص33۔
- ↑ عاملی، الاسلام و مبدا المقابلۃ بالمثل، بیجا، ص3433۔
- ↑ عاملی، الاسلام و مبدا المقابلۃ بالمثل، بیجا، ص18۔
- ↑ عمید زنجانی، فقہ سیاسی، 1421ھ، ج3، ص484۔
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، نامہ47، 1374شمسی، ص422؛آیتی و شادروان، «مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل (مقابلہ بالمثل اور انتقامی اقدامات، فقہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے)»، ص70۔
- ↑ مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان فی أحکام القرآن، تہران، بیتا، ص308۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن،دار احیاء التراث العربی،ج6، 440۔
- ↑ محمدی، «اصول انسانی و اخلاقی جنگ و جہاد در قرآن (جنگ و جہاد میں انسانی اور اخلاقی اصول قرآن کی نگاہ میں)»، ص84۔
- ↑ عرب ابوزیدآبادی، «بردگان از جاہلیت تا اسلام (تحلیل و بررسی تاریخی) (غلام جاہلیت سے اسلام تک (تاریخی تجزیہ اور جائزہ)»، ص6۔
- ↑ «جنگ شیمیایی عراق و عدم مقابلہ بہ مثل جمہوری اسلامی ایران...(عراق کی کیمیائی جنگ اور اسلامی جمہوریہ ایران کا جوابی کارروائی نہ کرنا)، فارس نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اولين مقابلہ بہ مثل در جنگ شہرہا (شہروں کی جنگ میں مقابلہ بالمثل کا پہلا نمونہ)»، نوید شاہد۔
- ↑ صحرایی اردکانی، فخری و زاہدی میل سفید، «مبانی و بنیانہای فقہی-حقوقی مقابلہ بہ مثل در واقعہ شہادت سردار سلیمانی(سردار سلیمانی کی شہادت کے واقعے میں جوابی کارروائی کے اصول فقہی اور قانونی بنیادوں کے ناظر میں)»، ص295۔
مآخذ
- آیتی، سید محمدرضا و محمداسماعیل شادروان، «قاعدہ مقابلہ بہ مثل و اقدامات تلافیجویانہ از منظر فقہ و حقوق بین الملل(فقہ اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں جوابی کارروائی (مقابلہ به مثل) کا اصول اور تلافی جویانہ اقدامات)»، مجلہ فقہ و اسلامی تحقیقات، شمارہ 10، سرما 2008ء۔
- امامی، مسعود، «قصاص در ضرب»، سہ ماہہ مجلہ فقہ اہل بیت، شمارہ 44، سرما 2005ء۔
- «بررسی فقہی تقاص در سب (سبّ میں تقاص (بدلہ لینے) کا فقہی جائزہ)»، آیت اللہ علیدوست کے دفتر اطلاع رسانی ویبسائٹ، تاریخ نشر: 26 جون 2016ء، تاریخ مشاہدہ: 1 مئی 2023ء۔
- جعفرپیشہ، مصطفی و محمدصادق فیاض، «مفہوم و مبانی فقہ بشردوستانہ(بشر دوستانہ فقہ کے مفہوم و مبانی)»، مجلہ گفتمان فقہ حکومتی، پانچواں سال شمارہ 8، بہار و گرما 2000ء۔
- «جنگ شیمیایی عراق و عدم مقابلہ بہ مثل جمہوری اسلامی ایران؛ الگوی تابعیت از قوانین بین المللی در زمان تجاوز(عراق کی کیمیائی جنگ اور اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ بالمثل نوعیت کی کارروائی نہ کرنا؛ حملے کے وقت بین الاقوامی قوانین کی پابندی کا نمونہ)، فارس نیوز، تاریخ انتشار: 3 مارچ 2015ء، تاریخ مشاہدہ: 6 مئی 2023ء۔
- خویی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، قم، جلد 31، مؤسسۃ الخوئی الإسلامیۃ، 1418ھ۔
- صحرایی اردکانی، محمد، فخری، سید مسعود، و زاہدی میلسفید، محمدحسن، «مبانی و بنیانہای فقہی-حقوقی مقابلہ بہ مثل در واقعہ شہادت سردار سلیمانی (سردار سلیمانی کی شہادت کے واقعے میں جوابی کارروائی کے اصول فقہی اور قانونی بنیادوں کے ناظر میں)»، در مجلہ: علوم انسانی و اسلامی در ہزارہ سوم، دورہ 2 - شمارہ 3، بہار 1400ہجری شمسی۔
- عاملی، جعفر مرتضی، الاسلام و مبدا المقابلۃ بالمثل، بیجا، المرکز الاسلامی للدراسات، 1430ھ۔
- عرب ابوزیدآبادی، عبدالرضا، «بردگان از جاہلیت تا اسلام (تحلیل و بررسی تاریخی) (غلام جاہلیت سے اسلام تک (تاریخی تجزیہ اور جائزہ)»، شش ماہہ مجلہ "تاریخ اسلام تحقیق کے آئینے میں، سال سوم، شمارہ4، سرما 1385ہجری شمسی۔
- علامہ طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، چاپ اسماعیلیان، جلد دوم، بیتا۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، فقہ سیاسی، تہران، امیرکبیر، چوتھی اشاعت، 1421ھ۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1426ھ۔
- محمدی، ابراہیم، «اصول انسانی و اخلاقی جنگ و جہاد در قرآن (جنگ و جہاد میں انسانی اور اخلاقی اصول قرآن کی نگاہ میں)»، در مجلہ: پژوہشہای مدیریت و فرماندہی نظامی، دورہ 8، شمارہ 27، خزاں و سرما 1385ہجری شمسی۔
- مرعشی نجفی، سید شہابالدین، القصاص علی ضوء القرآن و السنۃ، قم، انتشارات کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- مقدس اردبیلی، احمد، زبدۃ البیان فی أحکام القرآن، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریہ، تہران، بیتا۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، جلد دوم، ہجری شمسی۔
- ہوشمند فیروزآبادی، حسین، «قاعدہ مقابلہ بہ مثل در قرآن (اصول مقابلہ بالمثل قرآن کی نظر میں)»، در مجلہ: حقوق اسلامی، شمارہ 47، سرما 1394ہجری شمسی۔
- یزدی، محمد، فقہ القرآن، قم، اسماعیلیان، جلد دوم، 1415ھ۔
- «اولين مقابلہ بہ مثل در جنگ شہرہا (شہروں کی جنگ میں مقابلہ بالمثل کا پہلا نمونہ)»، نوید شاہد، تاریخ درج مطلب: 21 ستمبر 2010ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اپریل 2026ء۔