مندرجات کا رخ کریں

حد زنا

ویکی شیعہ سے

حد زنا یا زنا کی شرعی حد، ایک مرد اور عورت کے درمیان ناجائز جنسی تعلقات کی اسلامی سزا ہے۔ زنا کی سزا مختلف حالات کے مطابق تین طریقوں سے دی جاتی ہے: پھانسی، سنگسار، اور کوڑے۔ زنا کی سزا اس صورت میں دی جاتی ہے جب زانی بالغ، عاقل اور مختار ہو، زنا حرام ہونے کے بارے میں جانتا بھی ہو۔ زنا کی سزا دینے کے لئے زانی کے اقرار یا گواہ کی گواہی کے ذریعے زنا کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔

محارم سے زنا اور زنا بالجبر (زبردستی زنا کرنے) کی صورت میں اس کی سزا پھانسی ہے، زنائے محصنہ کی سزا سنگسار ہے اور کوڑے کی سزا اس زانی کے لئے ہے جسے حلال طریقے سے جنسی تعلقات قائم کرنا ممکن نہ ہو۔ ایسے مرد جن کی شادی تو ہوچکی ہے لیکن ابھی تک اپنی بیویوں کے ساتھ ہمبستری نہیں کرچکے ہیں، ان کے زنا کی سزا کوڑے مارنے کے علاوہ ایک سال کی جلاوطنی اور سر منڈوانے کی سزا بھی ہے۔ شیعہ فلسفی علامہ طباطبائی کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں کا بنیادی مقصد معاشرے میں بےحیائی کی روک تھام کرنا ہے۔

شیعہ فقہاء کے نزدیک زنا کے جرم میں حد جاری کرنے کی ذمہ داری امام معصومؑ یا ان کے نمائندے کی ہے۔ عصرِ غیبت میں اقامہ حدود کے بارے میں مختلف آراء ہیں: بعض فقہاء اسے جامع الشرائط فقیہ کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ غیبت کے دور میں حدود کا نفاذ ختم ہو جاتا ہے۔

تعارف اور اہمیت

زنا کی حد اسلامی فقہ میں مرد اور عورت کے درمیان ناجائز جنسی تعلقات کے لئے مقرر کردہ سزا ہے۔ یہ سزا اس میں شامل تفصیلات کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہے۔[1]

سورہ نور کی آیت نمبر 2 میں زنا کی سزا کا ذکر ہوا ہے۔ علامہ طباطبائی کے نزدیک اس آیت کی بنا پر زنا کی سزا دینے میں کسی کے ساتھ رحم نہیں کیا جانا چاہیے؛ کیونکہ سزاؤں کے نفاذ کی حکمت یہ ہے کہ گناہ کے ارتکاب کو روکا جائے، اور یہ حکمت ان کے نفاذ میں شدت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔[2]

زنا کی سزا، اس کی اہمیت[3] اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار[4] کے بارے میں بعض روایات بیان کی گئی ہیں۔ الکافی میں کلینی نے 19 ابواب کے ذیل میں زنا کی سزا سے متعلق روایات نقل کی ہیں۔[5] شیعہ فقہاء نے بھی گناہوں کی حدود سے متعلق مباحث میں زنا کی حد پر بحث کی ہے۔[6]

حد زنا واجب ہونے کی شرائط

شیعہ فقہاء زنا کی سزا کو درج ذیل تمام شرائط کی تکمیل پر منحصر سمجھتے ہیں:

  • بلوغت: زانی شرعی بلوغت کو پہنچ چکا ہو۔[7]
  • عقل: پاگل اور دیوانہ نہ ہو۔[8]
  • اختیار: زنا کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہو۔[9]
  • حرام ہونے کا علم: زانی جانتا ہو کہ زنا حرام ہے۔[10]
  • دخول: مرد کا عضو تناسل عورت کی اندام نہانی یا دبر میں ختنہ گاہ یا اس سے زیادہ مقدار میں داخل ہوا ہو۔[11]
  • جنسی رابطہ ناجائز ہو: مرد اور عورت کے مابین ازدواجی یا کنیزی کے تعلقات نہ ہو۔[12]
  • دوسرے فریق کی شناخت: اگر کوئی شخص دوسرے فریق کے ساتھ یہ خیال کرتے ہوئے ہمبستری کرے کہ دوسرا فریق اس کا شریک حیات ہے (وطی بالشبہہ) تو اس کا یہ فعل زنا نہیں ہے۔[13]

زنا ثابت کرنے کے طریقے

فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق زنا کو ثابت کرنے کے دو طریقے ہیں: زانی کا اقرار اور شرعی گواہی۔ ان دو طریقوں میں سے ہر ایک کی اپنی شرائط ہیں:

اقرار: اقرار کے ذریعے زنا ثابت کرنے کے لئے زانی کا چار مرتبہ اقرار کرنا ضروری ہے۔[14]

گواہی: گواہی کے ساتھ زنا ثابت کرنے کے لئے چار مردوں کی گواہی، یا اگر چار مرد دستیاب نہ ہوں تو مشہور قول کے مطابق تین مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔[15] دو مردوں اور چار عورتوں کی گواہی سے صرف کوڑے مارنے کی حد ثابت ہوسکتی ہے لیکن سنگسار ثابت نہیں ہوسکتی۔[16] گواہوں کی گواہی کے ذریعے اس صورت میں حد ثابت ہوتی ہے کہ وہ سب اس طرح سے گواہی دیں کہ حد کے نافذ ہونے کی تمام شرائط ان کی گواہی سے سمجھے جا سکیں۔ مثلاً مکمل دخول، فریقین کا ایک دوسرے کی شناخت سے آگاہ ہونا وغیرہ۔ بصورت دیگر گواہوں کے ناروا الزام کی وجہ سے ان پر قذف کی حد لگ جائے گی۔[17]

فقہی فتووں کے مطابق زنا کی گواہی دینے سے پرہیز کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ جج انہیں اشاروں اور کنائیوں میں انہیں گواہی ترک کرنے کی ترغیب دے۔[18]

حد زنا کی اقسام

شیعہ فقہ میں زنا کرنے والے افراد کی خصوصیات اور دیگر شرائط کے مطابق زنا کے لئے تین طرح کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں:

پھانسی

بعض صورتوں میں زنا کی سزا زانی کو قتل کرنا ہے:

سنگسار کرنا

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: سنگسار اور زنا

اگر زنا کرنے والے مرد اور عورت مُحصَن ہوں، یعنی ان کو حلال مباشرت تک رسائی حاصل ہے تو ان کی سزا رَجم (سنگسار) ہے۔[25] مرد اور عورت میں سے کوئی بھی محصن نہ ہو تو اس کی سزا مختلف ہے۔[26]

کوڑے، جلاوطنی اور سر منڈوانا

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: کوڑے

جو بالغ اور عاقل مرد یا عورت جس کے لئے حلال طریقے سے جنسی رابطہ قائم کرنے کا امکان نہ ہو اور زنا کا مرتکب ہو جائے تو اسے سو کوڑے لگیں گے۔[27] غلام خواہ مُحصَن ہو یا نہ ہو اسے پچاس کوڑے مارے جاتے ہیں۔[28]

وہ بالغ اور عاقل مرد جنہوں نے شادی تو کی ہے لیکن اپنی بیوی کے ساتھ ابھی تک ہمبستری نہیں کی ہے اور وہ اگر زنا کا مرتکب ہوجائے تو ان کے لیے سخت سزا کا حکم ہوا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اسے کوڑے مارنے کے بعد اس کا سر منڈوایا جائے گا اور انہیں ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا جائے گا۔ مشہور قول کے مطابق عورتیں جلاوطن نہیں ہوتی ہیں اور ان کے سر بھی نہیں منڈوائے جاتے ہیں۔[29]

حد زنا نافذ کرنے کا ذمہ دار

شیعہ فقہاء کے مطابق، معصوم امامؑ کی موجودگی میں، حد زنا سمیت تمام شرعی سزاؤں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری امام یا امام کی طرف سے نامزد کردہ شخص پر عائد ہوتی ہے۔[30] غیبت کے زمانے میں شرعی حدود جاری کرنے کے بارے میں اختلاف رائے پائی جاتی ہے: بعض کہتے ہیں کہ جامع الشرائط فقیہ شرعی حدود کو نافذ کرسکتا ہے۔[31] ایک اور گروہ کا خیال ہے کہ حدود کا نفاذ صرف امام معصومؑ سے مختص ہے اور امام زمانہ کی غیبت کے دور میں فقیہ ان احکام کو نافذ نہیں کر سکتا ہے۔[32] بعض فقہاء نے اس معاملے میں توقف کیا ہے اور قطعی رائے نہیں دی ہے۔[33]

حد زنا جاری کرنے کے آداب

فقہی مآخذ میں زنا کی حد جاری کرنے کے لئے کچھ احکام اور آداب بیان کیے گئے ہیں:

  • مرد کو کوڑے مارتے ہوئے یا رجم کے دوران شرمگاہ کے علاوہ اس کا باقی بدن برہنہ ہونا چاہیے۔[34]
  • عورت کا لباس اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کوڑے مارنے یا سنگسار کرتے وقت اس کا بدن ظاہر نہ ہو جائے۔[35]
  • سنگسار کرنے کے لیے ایک گڑھا کھودا جائے تاکہ مجرم کو اس میں رکھا جاسکے۔[36]
  • کوڑے مارتے وقت گواہ بھی کوڑے ماریں گے۔[37]
  • کوڑے مارتے ہوئے مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہوئی ہو۔[38]
  • سر، چہرے اور شرمگاہ کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں پر کوڑے کو بھرپور طریقے سے مارنا چاہیے۔[39]
  • مسلمانوں کا ایک گروہ حد جاری ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔[40]
  • سنگسار اگر گواہی سے ثابت ہو ئی ہو تو سب سے پہلے گواہ پتھر مارنا شروع کریں گے۔[41]

حوالہ جات

  1. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، 1382شمسی، ج4، ص294۔
  2. طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، 1352شمسی، ج15، ص78۔
  3. ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج7، ص175-176؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشيعۃ، 1409ھ، ج28، ص67۔
  4. ملاحظہ کریں: قمی، تفسیر قمی، 1404ھ، ج2، ص96؛ ابن حیون، دعائم الإسلام‏، 1385ھ، ج2، ص451-452۔
  5. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج7، ص176-198۔
  6. ملاحظہ کریں: علامہ مجلسی، حدود و قصاص و دیات، جامعہ مدرسین، ص13-20؛ خویی، موسوعۃ الامام الخویی، 1418ھ، ج41، ص203-277؛ گلپایگانی، الدر المنضود في أحکام الحدود، دارالقرآن الکریم، ج1، ص26-498۔
  7. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص137؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  8. ملاحظہ کریں: محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  9. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص137؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  10. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص137؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  11. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص136؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  12. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص136؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  13. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج4، ص136؛ محقق حلی، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، 1376شمسی، ج1، ص213؛ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص521۔
  14. محقق حلی، شرایع الاسلام، 1408، ج4، ص138-139؛ خمینی، تحریرالوسیلۃ، 1408ھ، ج2، ص459۔
  15. محقق حلی، شرایع الاسلام، 1408، ج4، ص139۔
  16. محقق حلی، شرایع الاسلام، 1408، ج4، ص139۔
  17. خمینی، تحریرالوسیلۃ، 1408ھ، ج2، ص461۔
  18. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص307۔
  19. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص309۔
  20. خویی، موسوعۃ الامام الخویی، 1418ھ، ج41، ص233۔
  21. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص313؛ خویی، موسوعۃ الامام الخویی، 1418ھ، ج41، ص234۔
  22. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص315؛ خویی، موسوعۃ الامام الخویی، 1418ھ، ج41، ص235۔
  23. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص316۔
  24. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص331-332۔
  25. تبریزی، اسس الحدود و التعزیرات، 1376شمسی، ص107۔
  26. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص318-322۔
  27. سبحانی تبریزی، الحدود و التعزیرات في الشریعۃ الإسلامیۃ الغراء، 1432ھ، ص112۔
  28. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص329۔
  29. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج41، ص328-329؛ سبحانی تبریزی، الحدود و التعزیرات في الشریعۃ الإسلامیۃ الغراء، 1432ھ، ص118۔
  30. صاحب جواہر، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج21، ص386۔
  31. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، المقنعہ، 1410ھ، ص810؛ شہید اول، اللمعہ الدمشقیہ، 1410ھ، ص46؛ امام خمینی، تحریرالوسیلہ، 1408ھ، ج1، ص482؛ خامنہ ای، اجوبہ الاستفتائات، 1415ً، ج1، ص25۔
  32. ملاحظہ کریں: ابن زہرہ، غنیہ النزوع، مؤسسہ الامام صادق(ع)، ص425؛ ابن ادریس، السرائر، 1410ھ، ج2، ص25؛ خوانساری، جامع المدارک، 1355شمسی، ج5، ص411-412۔
  33. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، منتہی المطالب، 1412ھ، ج2، ص994؛ میرزای قمی، جامع الشتات فی اجوبۃ للسؤالات، 1371شمسی، ج1، ص395۔
  34. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407۔
  35. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407۔
  36. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407۔
  37. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407۔
  38. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407۔
  39. شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج5، ص374۔
  40. شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج5، ص374۔
  41. ابو الصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص407؛ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج5، ص376۔

مآخذ

  • ابن ادریس، السرائر، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ دوم، 1410ھ۔
  • ابن زہرہ، غنیۃ النزوع، قم، مؤسسۃ الامام الصادق علیہ السلام، بی تا۔
  • ابن حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام‏، قم، مؤسسۃ آل البيت عليہم السلام‏، 1385ھ۔
  • ابو الصلاح حلبی، تقی بن نجم، الکافی فی الفقہ، بہ تحقیق رضا استادی، اصفہان، مکتبۃ الإمام أميرالمؤمنين علی(ع)، چاپ اول، 1403ھ۔
  • خامنہ ای، سید علی، اجوبہ الاستفتائات، کویت، دار النبأ، چاپ اول، 1415ھ۔
  • خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلہ، دارالکتب العلمیہ، اسماعیلیان، 1408ھ۔
  • خوانساری، سید احمد، جامع المدارک، تہران، مکتبۃ الصدوق، چاپ دوم، 1355ہجری شمسی۔
  • خویی، سید ابو القاسم، موسوعۃ الامام الخویی، قم، موسسہ احیاء آثار الامام الخویی، 1418ھ۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، الحدود و التعزیرات في الشریعۃ الإسلامیۃ الغراء، قم، موسسۃ الامام الصادق(ع)، 1432ھ۔
  • شہید اول، اللمعۃ الدمشقیہ، بیروت، دار التراث، چاپ اول، 1410ھ۔
  • شیخ حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشيعۃ، قم، مؤسسۃ آل البيت عليہم السلام‏، 1409ھ۔
  • شیخ مفید، المقنعہ، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1410ھ۔
  • صاحب جواہر، محمد حسن، جواہر الکلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی تا.
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، 1352ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، تحقیق: گروہی از محققین، بیروت، موسسہ الأعلمی، چاپ اول، 1415ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم انتشارات اسلامی، 1413ھ۔
  • علامہ حلی، منتہی المطالب، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیۃ، 1412ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمد باقر، حدود و قصاص و دیات، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم انتشارات اسلامی، بی تا.
  • «قانون مجازات اسلامی مصوب 1392/2/1 كميسيون امور قضايي و حقوقي مجلس»، سامانہ ملی قوانین و مقررات جمہوری اسلامی ایران، تاریخ مشاہدہ: 19 آذر 1403ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دارالکتاب، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
  • گلپایگانی، سید محمد رضا، الدر المنضود في أحکام الحدود، قم، دارالقرآن الکریم، بی تا.
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، المختصر النافع في فقہ الإمامیۃ، قم، مطبوعات دینی، 1376ہجری شمسی۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الإسلام في مسائل الحلال و الحرام، قم، اسماعیلیان، 1408ھ۔
  • مرزا قمی، جامع الشتات فی اجوبۃ السؤالات، تہران، انتشارات کیہان، 1371ہجری شمسی۔
  • ہاشمی شاہرودی، سید محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بيت(ع)، 1382ہجری شمسی۔