اسقاط جنین
اسقاط جنین یا جہاض، رحم مادر میں موجود جنین کے مکمل نمو پانے سے پہلے اس کے ضائع کرنے یا اس کے گرا دینے کو کہتے ہیں۔ بعض اسلامی فقہ، اخلاقی مکاتب اور مدنی قانونی نقطہ نظر سے جان بوجھ کر اسقاط حمل کرنا جرم یا گناہ شمار ہوتا ہے۔ شیعہ فقہا کے مطابق نطفہ رحِم مادر میں قرار پانے کے بعد جان بوجھ کر اسے ضائع کرنا شرعی لحاظ سے حرام فعل ہے؛ البتہ ماں کی جان کو خطرہ ہویا جنین میں کوئی طبی نقص پایا جائے یا ناجائز حمل جیسے خاص موارد میں اسقاط حمل جائز ہونے یا جائز نہ ہونے کے بارے میں مجتہدین کے مابین اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔
ایران کے مدنی قانون کے اعتبار سے اسقاط حمل جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والے کے لیے قانون میں دیت اور تعزیر جیسی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، مگر یہ کہ جب جنین کی بقا ماں کی جان کے لیے خطرہ ہو۔
مفہوم شناسی اور اہمیت
جنین کے مکمل ہونے سے پہلے اس کے ضائع کرنے کو اسقاط حمل یا اِجہاض کہتے ہیں۔[1] طبی اصطلاح میں، حمل کے بیسویں ہفتے سے پہلے اسے ضائع کرنا یا 500 گرام سے کم وزن کے جنین کا بطن مادر سے نکال دینا اسقاط حمل کہلاتا ہے۔[2] فقہی و قانونی متون میں، "جنین" کا لفظ القاح (حمل ٹھہرنے) سے لے کر پیدائش تک کی پوری مدت والے حمل پر اطلاق ہوتا ہے۔[3]
اسقاط حمل اخلاقی اصول، خاص طور پر طبّی اخلاقی اصول،[4] قانون[5] اور اسلامی فقہ میں نکاح، حدود، قصاص، دیات، وراثت اور جدید فقہی مسائل (مسائل مستحدثہ)[6] کے ابواب میں زیر بحث آیا ہے۔
اسقاط جنین کا شرعی حکم
شیعہ فقہا کے نزدیک، جان بوجھ کر اسقاط حمل کرنا حرام ہے[7] اور اس سلسلے میں فقہا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔[8] اسقاط حمل کی حرمت نطفہ رحم مادر میں ٹھہرنے کے بعد حمل کے تمام مراحل کو شامل ہے[9] اور اس کے حرام ہونے کے لحاظ سے جائز (نکاح کے نتیجے میں) یا ناجائز (زنا کے نتیجے میں) حمل میں کوئی فرق نہیں ہے۔[10]
اسقاط حمل کی حرمت ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیات، جیسے سورہ انعام کی آیت 151 جو قتل کی حرمت پر دلالت کرتی ہے[11]، نیز ائمہ معصومینؑ سے منقول روایات؛ جن میں اسقاط حمل کی ممانعت کی گئی ہے[12]، سے استدلال کیا جاتا ہے۔[12]
خاص موارد کا شرعی حکم
نامکمل جنین
اگر جنین ناقص الخلقت یا معذور ہو اور پیدائش کے بعد قطعی طور پر والدین کے لیے شدید تکلیف اور مشقت کا باعث بنے، تو بعض فقہا جیسے مرزا جواد تبریزی[13]، ناصر مکارم شیرازی[14]، محمد اسحاق فیاض[15] اور سید علی حسینی خامنہ ای[16] اس کے اسقاط کو صرف روح پھونکے جانے سے پہلے جائز قرار دیتے ہیں؛ مذکورہ فقہاء روح پھونکے جانے کے بعد اسقاط حمل کو جائز نہیں سمجھتے ہیں، کیونکہ جس جنین میں روح پھونک دی گئی ہو وہ مکمل انسان کا حکم رکھتا ہے اور جان کے قتل کی حرمت کے دلائل اس پر بھی منطبق ہوتے ہیں۔[17]
اس کے مد مقابل فقہا کی ایک دوسری جماعت جیسے امام خمینی[18]، سید ابو القاسم خوئی[19] اور سید علی حسینی سیستانی[20] ناقص جنین کے گرا دینے کو اس میں روح پھونکے جانے سے پہلے بھی جائز نہیں سمجھتے ہیں۔
ماں کی جان کو خطرہ
اگر حمل کا بطن مادر میں باقی رہنا ماں کی جان کے لیے خطرے کا باعث ہو تو شیعہ فقہا کے مابین اسقاط جنین کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں اختلافِ نظر پایا جاتا ہے۔[21] اکثر فقہا جنین میں روح پھونکے جانے سے پہلے اس کے اسقاط کو جائز قرار دیتے ہیں؛[22] اس نظریے کے مطابق، ماں کی جان کی حفاظت کو اُس جنین کی حفاظت پر ترجیح حاصل ہے جسے ابھی تک مکمل انسانی حیات کا حامل نہیں سمجھا جاتا۔[23] تاہم، بعض فقہا جن میں صاحب عُروہ،[24] سید عبد الاعلی سبزواری[25] اور لطف اللہ صافی گلپایگانی[26] شامل ہیں، روح پھونکے جانے کے بعد اسقاط جنین کو جائز نہیں سمجھتے اور اس صورت میں ماں کی جان اور جنین کی جان کے درمیان کوئی ترجیح نہیں دیتے۔[27] سید ابو القاسم خوئی کے نزدیک، اگر جنین کی بقا ماں کی موت کا باعث بنے اور ڈاکٹروں نے اسقاط جنین کی تجویز دی ہو تو ماں کی جان بچانے کی فرضیت اور جنین کی جان بچانے کی فرضیت کے درمیان تعارض (تزاحم) پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک کو ترجیح نہ دی جا سکے تو ماں کو یہ اختیار (مخیر) حاصل ہے کہ وہ جنین کو برقرار رکھنے اور اپنی جان بچانے کے لیے اسے اسقاط کرانے کے درمیان سے کسی ایک کو منتخب کرے۔[28] اسقاط کی صورت میں جنین کی دیت اسقاط کرانے والے (عامل) پر واجب الادا ہوگی۔[29]
نامشروع جنین
نامشروع طریقے سے بننے والے جنین کے اسقاط کے بارے میں مجتہدین کے یہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ سید ابو القاسم خوئی کے فتوے کے مطابق، اگر جنین میں روح پھونکے جانے سے پہلے، جنین کی بقا ماں کے لیے شدید تکلیف و مشقت (عسر و حرج) کا باعث ہو اور وضع حمل کے لیے کوئی دور دراز مقام پر منتقل ہونے کا امکان نہ ہو تو اسقاط جنین جائز ہے؛[30] لیکن روح پھونکے جانے کے بعد اسقاط جنین جائز نہیں ہے اور حاملہ عورت وضع حمل کے لیے کسی دوسرے دور دراز مقام پر جاسکتی ہے۔[31] ناصر مکارم شیرازی کے نزدیک، اگر ماں کی جان کو خاندان کی طرف سے خطرہ لاحق ہو اور جنین کی عمر چار ماہ تک نہ پہنچی ہو، تو اسقاط جنین جائز ہے۔[32] اس کے برعکس، سید عبد الاعلی سبزواری ناجائز حمل کے سقط کو اس صورت میں بھی جائز نہیں سمجھتے جبکہ عورت کی جان یا عزت و آبرو کی حفاظت کا انحصار اس پر ہو۔[33]
اسقاط جنین کی سزائیں
فقہا کے نزدیک اسقاط جنین کی سزا سے متعلق نظریات درج ذیل ہیں:
قصاص
شیعہ فقہا کے مشہور نظریے کے مطابق، روح پھونکے جانے کے بعد جان بوجھ کر اسقاط جنین کرنا قصاص (بدلہ) کا موجب ہے۔[34] تاہم، آیت اللہ خوئی امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر، جنین کے قاتل کو چھوٹے بچے یا پاگل شخص کے قاتل کی طرح قصاص کا مستحق نہیں سمجھتے ہیں،[35] بلکہ اس پر صرف دیت واجب قرار دیتے ہیں۔[36]
پندرہویں صدی ہجری کے فقہا کا ایک گروہ جیسے آیت اللہ گلپائگانی، [37] آیت اللہ فاضل لنکرانی،[38] آیت اللہ منتظری،[39] آیت اللہ وحید خراسانی[40] اور آیت اللہ مکارم شیرازی،[41] بھی اس جنین کے قاتل کو قصاص کا مستحق نہیں سمجھتے ہیں جس میں روح پھونکی جا چکی ہو بلکہ صرف دیت کو واجب قرار دیتے ہیں۔
دیت
فقہاء کے مطابق، جنین کی دیت اس شخص پر واجب ہے جس کے ہاتھوں یا جس کے عمل سے اسقاط جنین ہوا ہو۔[42] دیت کی مقدار جنین کی نشوونما کے مراحل کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔[43] زیادہ تر فقہا نے مکمل جنین کی دیت لڑکے کے لیے ایک ہزار دینار اور لڑکی کے لیے پانچ سو دینار مقرر کی ہے۔[44] امام خمینی اس معاملے میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہیں۔[45]
کفارہ
اگر اسقاط جنین اس میں روح پھونکے جانے سے پہلے کیا جائے تو کفارہ واجب نہیں ہے؛[46] لیکن اگر روح پھونکے جانے کے بعد کیا جائے تو قتل کا کفارہ واجب ہوتا ہے، جس میں ایک غلام آزاد کرنا، دو ماہ کے روزے رکھنا اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا شامل ہے۔[47]
اخلاقی نقطہ نظر سے اسقاط جنین کا حکم
اسقاط جنین طبّی اخلاقی اصول میں اہمیت کا حامل ایک مسئلہ ہے۔[48] بعض فلسفیوں کے مطابق جنین اس مرحلے تک پہنچنے کے بعد (جو عام طور پر پہلے تین ماہ میں ہوتا ہے) جب اس میں درد اور لذت محسوس کرنے کی صلاحیت آجاتی ہے، مکمل انسان کے برابر ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا اسقاط جائز نہیں ہے۔[49] کچھ دوسرے اہل فسلفہ کہتے ہیں کہ صرف "اخلاقی اصولوں کا حامل شخص" ہی حقِ حیات جیسے حقوق کا حامل ہوتا ہے،[50] اور چونکہ جنین میں شعور، عقل اور آگاہی جیسی خصوصیات نہیں پائی جاتی ہیں، اس لیے ان حقوق کا حقدار نہیں ہوتے ہیں۔[51] موخر الذکر نظریے کے مقابلے میں ایک اور نظریہ بھی ہے جس کے مطابق جنین کو القاح کے لمحے سے ہی مکمل انسان اور انسانی معاشرے کا ایک اکائی سمجھتا ہے جس کا قتل اخلاقی اصولوں کے خلاف عمل سمجھا جاتا ہے۔[52]
اسلامی قانونِ تعزیرات
جمہوریہ اسلامی ایران کے سنہ 2013ء میں منظور شدہ قانونِ تعزیرات میں اسقاط جنین کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے لیے دیت اور تعزیر جیسی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔[53] مذکورہ قانون کی دفعات 718 اور 716 اس موضوع کے لیے مخصوص ہیں۔ اس قانون کے مطابق، اگر اسقاط جنین ماں کی جان بچانے کے لیے انجام دیا جائے تو اس پر دیت واجب نہیں ہے۔[54] نیز، جنین کی دیت کی مقدار اس کی نشوونما کے مراحل کے مطابق طے کی گئی ہے۔[55]
حوالہ جات
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، 1387شمسی، ج4، ص487۔
- ↑ قادیپاشا و امینیان، «بررسی مجوزہای سقط جنین صادرشدہ در ادارہ کل پزشکی قانونی استان کرمان در سال 1384شمسی و مقایسہ اجمالی با سالہای قبل»، ص148۔
- ↑ علامہ حلّی، تذکرہ الفقہاء، 1414ھ، ج1، ص326۔
- ↑ شکور و دیگران، «ابعاد اخلاقی سقط جنین در آموزش پزشکی»، ص25۔
- ↑ قانون مجازات اسلامی، مصوب 1392شمسی، مادہ718۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، 1423ھ، ج5، ص395؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، 1387شمسی، ج4، ص487۔
- ↑ سیستانی، منہاج الصالحین، 1414ھ، ج3، ص115۔
- ↑ مؤسسہ دایرۃالمعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، 1423ھ، ج5، ص394۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، ص251؛ خویی، المسائل الشرعیہ، مؤسسہ الخوئی الاسلامیہ، ج2، ص310؛ تبریزی، صراط النجاہ، 1416ھ، ج1، ص332۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، ص251۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج42، ص8؛ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج29، ص112۔
- ↑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1404ھ، ج4، ص171؛ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، ص253۔
- ↑ خویی، احکام جامع مسایل پزشکی، 1432ھ، ج1، ص234۔
- ↑ مکارم شیرازی، بحوث فقہیہ ہامہ، 1380شمسی، ج1، ص293-294۔
- ↑ فیاض، منہاج الصالحین، مکتب سماحہ آیہ اللہ الحاج الشیخ محمداسحاق الفیاض، ج3، ص440۔
- ↑ خامنہای، اجوبۃ الاستفتائات، 1415ھ، ج2، ص66۔
- ↑ مکارم شیرازی، بحوث فقہیہ ہامہ، 1380شمسی، ج1، ص295-296۔
- ↑ خمینی، استفتائات، 1372شمسی، ج3، ص291۔
- ↑ خویی، المسائل الشرعیہ، مؤسسہ الخوئی الاسلامیہ، ج2، ص310۔
- ↑ حکیم، الفتاوی المیسرہ، 1417ھ، ج1، ص432۔
- ↑ مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، 1423ھ، ج4، ص488۔
- ↑ خمینی، استفتائات، 1372شمسی، ج3، ص291؛ گلپایگانی، ارشاد السائل، 1413ھ، ص173؛ منتظری، احکام پزشکی، 1427ھ، ص103؛ خامنہای، اجوبۃ الاستفتائات، 1415ھ، ج2، ص66۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، ص253؛ مؤسسہ دایرۃالمعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، 1423ھ، ج5، ص399۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروہ الوثقی، 1417ھ، ج2، ص118۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، 254۔
- ↑ صافی گلپایگانی، استفتائات پزشکی، 1415ھ، ص65-66۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، 254۔
- ↑ غروی تبریزی، التنقیح فی شرح العروہ الوثقی، 1410ھ، ج9، ص317؛ خویی، مبانی تکملہ المنہاج، مؤسسہ احیاء آثار الامام خوئی، ج2، ص13۔
- ↑ خویی، احکام جامع مسایل پزشکی، 1432ھ، ج1، ص230۔
- ↑ خویی، احکام جامع مسایل پزشکی، 1432ھ، ج1، ص232۔
- ↑ خویی، احکام جامع مسایل پزشکی، 1432ھ، ج1، ص231۔
- ↑ «حکم سقط جنین نامشروع بہ خاطر خوف از کشتہ شدن»]، سایت پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیتاللہ مکارم شیرازی۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج25، ص253۔
- ↑ نجفی، جواہرالکلام، 1362شمسی، ج43، ص381؛ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج29، ص112۔
- ↑ خویی، مبانی تکملۃ المنہاج، مؤسسہ احیاء آثار الامام الخوئی، ج2، ص72۔
- ↑ خویی، مبانی تکملۃ المنہاج، مؤسسہ احیاء آثار الامام الخوئی، ج2، ص417۔
- ↑ گلپایگانی، مجمع المسائل، 1413ھ، ج3، ص291۔
- ↑ فاضل لنکرانی، جامع المسائل، 1383شمسی، ج1، ص541۔
- ↑ منتظری، الاحکام الشرعیہ، 1413ھ، ص562۔
- ↑ وحید خراسانی، منہاج الصالحین، مدرسۃ الامام باقر العلوم(ع)، ج3، ص589۔
- ↑ مکارم شیرازی، بحوث فقہیۃ ہامّہ، 1380شمسی، ص290-292۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: خویی، مسائل پزشکی، 1432ھ، ج1، ص230؛ خمینی، تحریر الوسیلہ، 1390ھ، ج2، ص598؛ مکارم شیرازی، بحوث فقہیۃ ہامۃ، 1380شمسی، ج1، ص299۔
- ↑ مؤسسہ دایرہ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، 1387شمسی، ج4، ص489۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج43، ص356؛ وحید خراسانی، منہاج الصالحین، مدرسہ الامام باقر العلوم(ع)، ج3، ص587۔
- ↑ خمینی، تحریر الوسیلہ، 1390ھ، ج2، ص597۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج43، ص364؛ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج29، ص316۔
- ↑ سیستانی، «کفارہ جمع»، سایت رسمی دفتر مرجع عالیقدر آقای سیدعلی حسینی سیستانی۔
- ↑ شکور و دیگران، «ابعاد اخلاقی سقط جنین در آموزش پزشکی»، ص29۔
- ↑ اسلامی، «رہیافتہای اخلاقی بہ سقط جنین؛ یک بررسی موردی»، ص325۔
- ↑ جمشیدی و دیگران، «بررسی و نقد دیدگاہ پیتر سینگر دربارہ اخلاقی بودن سقط جنین»، ص236.
- ↑ اترک، «دلایل فلسفی موافقان و مخالفان سقط جنین (سقط جنین در فلسفہ اخلاق)»، ص56۔
- ↑ پالمر، مسائل اخلاقی، 1389شمسی، ص94؛ موحدی و گلزار، «بررسی سقط جنین از دو دیدگاہ وظیفہگرایانہ و غایتگرایانہ»، ص18۔
- ↑ قانون مجازات اسلامی، مصوب 1392شمسی؛ کتاب پنجم قانون مجازات اسلامی (تعزیرات)، مصوب 1375شمسی، مواد 622، 623 و 624۔
- ↑ قانون مجازات اسلامی، مصوب 1392شمسی، مادہ718۔
- ↑ قانون مجازات اسلامی، مصوب 1392شمسی، مادہ 716۔
مآخذ
- اترک، حسین، «دلایل فلسفی موافقان و مخالفان سقط جنین (سقط جنین در فلسفہ اخلاق)»، مجلہ اخلاق و تاریخ پزشکی، شمارہ سوم، 1387ہجری شمسی۔
- اسلامی، حسن، «رہیافتہای اخلاقی بہ سقط جنین؛ یک بررسی موردی»، فصلنامہ باروری و ناباروری، پاییز 1384ہجری شمسی۔
- بنیہاشمی خمینی، سید محمدحسین، توضیحالمسائل مراجع، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ ہشتم، 1424ھ۔
- پالمر، مایکل، مسائل اخلاقی، ترجمہ:علیرضا آل بویہ، تہران، انتشارات سمت، چاپ دوم، 1389ہجری شمسی۔
- تبریزی، جواد، صراط النجاہ، قم، مؤسسہ سلمان فارسی، 1416ھ۔
- جمشیدی، فاطمہ و دیگران، «بررسی و نقد دیدگاہ پیتر سینگر دربارہ اخلاقی بودن سقط جنین»، دوفصلنامہ علمی-پژوہشی تاملات فلسفی، شمارہ چہل و یکم، پاییز و زمستان 1397ہجری شمسی۔
- «حکم سقط جنین نامشروع بہ خاطر خوف از کشتہ شدن»، سایت پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2020ء۔
- حکیم، عبدالہادی، الفتاوی المیسرہ، فائق الملونہ، 1417ھ۔
- خامنہای، سید علی، اجوبہ الاستفتائات، کویت، دار النبأ، چاپ اول، 1415ھ۔
- خمینی، سید روحاللہ، استفتائات، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، 1372ہجری شمسی۔
- خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلہ، نجف اشرف، دار الکتب العلمیہ، چاپ دوم، 1390ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، المسائل الشرعیہ، قم، مؤسسہ الخوئی الاسلامیہ، خویی، بیتا۔
- خویی، سید ابوالقاسم، احکام جامع مسایل پزشکی، قم، دار الصدیقہ الشہیدہ، چاپ اول، 1432ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، مبانی تکملہ المنہاج، قم، موسسہ احیاء آثار الامام الخویی، بیتا۔
- سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام، قم، انتشارات دارالتفسیر، 1413ھ۔
- سیستانی، سید علی، منہاج الصالحین، قم، انتشارات مہر، 1414ھ۔
- سیستانی، سید علی، «کفارہ جمع»، سایت رسمی دفتر مرجع عالیقدر آقای سیدعلی حسینی سیستانی، تاریخ مشاہدہ: 13 دسمبر 2025ء۔
- شکور، مہسا و دیگران، «ابعاد اخلاقی سقط جنین در آموزش پزشکی»، مجلہ اخلاق و تاریخ پزشکی، شمارہ 5، آذر 1392ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، جماعہ المدرسین فی الحوزہ العلمیہ، 1404ھ۔
- صافی گلپایگانی، لطفاللہ، استفتائات پزشکی، قم، دار القرآن الکریم، چاپ اول، 1415ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروہ الوثقی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، چاپ اول، 1417ھ۔
- علامہ حلی، تذکرہ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، 1414ھ۔
- غروی تبریزی، علی، التنقیح فی شرح العروہ الوثقی، قم، انتشارات دارالہادی، چاپ سوم، 1410ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، جامع المسائل، قم، انتشارات امیر، چاپ یازدہم، 1383ھ۔
- فیاض، محمداسحاق، المسائل الطبیہ، بیجا، بینا، بیتا۔
- فیاض، محمداسحاق، منہاج الصالحین، قم، مکتب سماحہ آیہ اللہ العظمی الحاج الشیخ محمداسحاق الفیاض، بیتا۔
- قادیپاشا، مسعود و زہرا امینیان، «بررسی مجوزہای سقط جنین صادرشدہ در ادارہ کل پزشکی قانونی استان کرمان در سال 1384 و مقایسہ اجمالی با سالہای قبل»، مجلہ دانشگاہ علوم پزشکی کرمان، شمارہ دوم، 1386ہجری شمسی۔
- قانون مجازات اسلامی، مصوب 1392ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، انتشارات دارالکتاب، چاپ سوم، 1404ھ۔
- کتاب پنجم قانون مجازات اسلامی (تعزیرات)، مصوب 1375ہجری شمسی۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، ارشاد السائل، بیروت، انتشارات دار الصفوہ، چاپ اول، 1413ھ۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، مجمع المسائل، قم، دار القرآن الکریم، 1413ھ۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرایع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، چاپ دوم، 1408ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، احکام پزشکی، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی طالب(ع)، چاپ اول، 1415ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، بحوث فقہیہ ہامہ، قم، مدرسۃ الإمام علی بن أبیطالب علیہالسلام، چاپ اول، 1380ہجری شمسی۔
- منتظری، حسینعلی، احکام پزشکی، قم، نشر سایہ، چاپ سوم، 1427ھ۔
- منتظری، حسینعلی، الاحکام الشرعیہ، قم، انتشارات تفکر، چاپ اول، 1413ھ۔
- موحدی، محمدجواد و مژگان گلزار اصفہانی، «بررسی سقط جنین از دو دیدگاہ وظیفہگرایانہ و غایتگرایانہ»، فصلنامہ علمی تخصصی اخلاق، شمارہ اول، 1390ہجری شمسی۔
- مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعہ الفقہیہ، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، 1423ھ۔
- مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت علیہمالسلام، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، 1362ہجری شمسی۔
- وحید خراسانی، حسین، منہاج الصالحین، قم، مدرسۃ الإمام باقر العلوم (علیہالسلام)، بیتا۔