مسودہ:آیت بیوت
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| آیت کا نام | آیت بیوت |
| سورہ | نور |
| آیت نمبر | 36 |
| پارہ | 18 |
| موضوع | ذکر و تسبیح |
آیت بیوت سورہ نور کی 36ویں آیت کو کہا جاتا ہے، جس میں ایسے گھروں کا ذکر ہے جن میں اللہ کا نام یاد کیا جاتا ہے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کی جاتی ہے اور اللہ نے ان گھروں کی تعظیم و تکریم کی اجازت دی ہے۔
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ﴿٣٦﴾
(یہ ہدایت پانے والے) ایسے گھروں میں ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں خدا کا نام لیا جائے ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔
مفسرین نے اس آیت میں لفظ "بیوت" کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے ایسے گھروں مراد لیا ہے جن میں اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح کی جاتی ہے۔[1] بعض نے بیوت کی تفسیر مساجد سے کی ہے۔[2] فخر رازی نے مساجد پر اس لفظ کے اطلاق کو زیادہ مناسب قرار دیا ہے؛ کیونکہ ان کے مطابق «أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ» (اللہ نے انہیں بلند کرنے کی اجازت دی ہے) کی تعبیر مساجد کے مقام و مرتبے سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔[3]
جن مفسرین نے بیوت کی تفسیر مساجد سے کی ہے، ان میں سے بعض نے مسجدالحرام، مسجدالاقصی، مسجد نبوی اور مسجد قبا جیسی مخصوص مساجد کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔[4] جبکہ بعض نے اس میں تمام مساجد کو شامل قرار دیا ہے۔[5] علامہ طباطبائی نے بھی «بیوت» سے ایسی مساجد مراد لی ہیں جو اللہ کے ذکر کے لئے تعمیر کی گئی ہیں۔[6]

شیعہ اور اہل سنت حدیثی منابع میں "بیوت" کے مصداق کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق مذکورہ آیت کی تلاوت کے بعد نبی اکرمؐ سے ان گھروں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپؐ نے فرمایا ان سے مراد انبیاء کے گھر ہیں۔ اس کے بعد ابوبکر نے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کے گھر کے بارے میں سوال کیا تو پیغمبر اکرمؐ نے اسے بھی ان گھروں میں شمار کیا اور اسے ان میں سب سے افضل قرار دیا۔[8]
اس کے بعد ابوبکر نے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے گھر کے بارے میں سوال کیا تو پیغمبر اکرمؐ نے اسے بھی ان گھروں میں شمار کیا اور اسے ان میں سب سے افضل قرار دیا۔[9]
علامہ طباطبائی نے اس روایت کی بنیاد پر «بیوت» کے متعدد مصادیق قرار دیے ہیں اور حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے گھر کو اس کا کامل ترین مصداق بتایا ہے۔[10] طبرسی نے بھی اپنی تفسیر مجمع البیان میں انبیاء کے گھروں اور حضرت علیؑ و حضرت فاطمہؑ کے گھر کو «بیوت» کے مصادیق میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے آیت تطہیر کو اس نظریے کی تائید میں پیش کیا اور انبیاء کے گھروں کو بلند کرنے سے مراد ان کی تعظیم اور انہیں آلودگیوں سے پاک رکھنا قرار دیا ہے۔[11]
شیخ صدوق[12] اور کلینی[13] کی نقل کردہ روایات میں ان گھروں سے انبیاء، رسولوں، حکما اور ائمۂ اہل بیتؑ کے گھر مراد لئے گئے ہیں اور ان گھروں کی پیروی کو نجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
زیارت جامعہ کبیرہ میں بھی اہل بیتؑ کے گھروں کو «بیوت» کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔[14][15]
حوالہ جات
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، ج7، ص440۔
- ↑ طبری، جامع البیان، ج19، ص190۔
- ↑ رازی، التفسیر الکبیر، ج24، ص396۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، ج9، ص367۔
- ↑ رازی، التفسیر الکبیر، ج24، ص396۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج15، ص126۔
- ↑ «نجف اشرف میں بیت امام خمینی(رہ) کی تصویری رپورٹ»، خبر رضوی۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، ج36، ص118؛ سیوطی، درالمنثور، دارالفکر، ج6، ص203؛ آلوسی، روح المعانی، ج9، ص367۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج36، ص118؛ سیوطی، الدر المنثور، دارالفکر، ج6، ص203؛ آلوسی، روح المعانی، ج9، ص367۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص142۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص253۔
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین، ج1، ص218۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج15، ص287۔
- ↑ قمی، مفاتیح الجنان، ص893۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، ج6، ص189۔
مآخذ
- آلوسی، شهاب الدین، روح المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، بے تا۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، تیسری اشاعت، 1416ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1413ھ۔
- طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، تیسری اشاعت، 1393ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت، دارالمعرفہ، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان، بیروت، دارالمعرفہ، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسهایی از قرآن، پہلی اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، قم، انتشارات آئین دانش، پہلی اشاعت، 1384ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، قم، دارالکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- «گزارشی تصویری از بیت امام خمینی(ره) در نجف اشرف» (نجف اشرف میں امام خمینی(ہ) کے گھر کی تصویری جھلکیاں)، خبر رضوی، اشاعت: 14 اگست 2017ء، تاریخِ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2026ء۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔