آیات تیمم

ویکی شیعہ سے
آیات تیمم
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامتیمم، صَعید، مُلامَسَہ، رُخصت
سورہنساء آیت 43 مائدہ آیت 6
پارہ5 اور 6
صفحہ نمبر85 اور 108
محل نزولمدینہ
موضوعفقہ
مضمونتیمم کا جواز اور اس کے بعض احکام


آیات تَیمُّم یا «صَعید» یا «مُلامَسَہ» یا «رُخصت» سورہ نساء کی ۴۳ویں اور سورہ مائدہ کی ۶ آیت کو کہا جاتا ہے ۔ تیمم کے جواز کا حکم قرآن حکیم کی بعض آیات میں ذکر ہوا ہے ۔

نام‌

ان آیات کو «صَعید»، «مُلامَسَہ»، «رُخصت» کے نام سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ [1]

متن آیات

قرآن پاک کی دو آیات میں تیمم اور اسکے احکام بیان ہوئے ہیں :

وَإِن کنتُم مَّرْضَیٰ أَوْ عَلَیٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنکم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیمَّمُوا صَعِیدًا طَیبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکمْ وَأَیدِیکم مِّنْهُ مَا یرِیدُ اللَّهُ لِیجْعَلَ عَلَیکم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰکن یرِیدُ لِیُطَهِّرَکمْ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

وَإِن کنتُم مَّرْضَیٰ أَوْ عَلَیٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنکم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیمَّمُوا صَعِیدًا طَیبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکمْ وَأَیدِیکمْ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آئے۔ یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ کہ (اس سے) اپنے چہروں اور ہاتھوں کے کچھ حصہ پر مسح کرلو۔


وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں ۲۲۰ کے قریب تیمم کے بارے میں احادیث منقول ہوئی ہیں ۔

تیمم

تَیمُّم ایک عبادتی عمل ہے جس کے مطابق بعض مخصوص حالات میں وضو یا غسل کی جگہ تیمم واجب ہوتا ہے۔ تیمم کی ترتیب اور کیفیت: ہاتھوں کو خاک پر مارنا، پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر ہاتھوں کو مسح کرنا۔ تیمم مخصوص شرائط کے تحت وضو اور غسل کی جگہ ہوتا ہے اور وضو اور غسل کی مانند اس سے بھی طہارت حاصل ہوتی ہے۔

صعید کے معنی

صعید صرف خاک کو کہتے ہیں یا زمین کی ہر طرح کی سطح اس میں شامل ہونے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے نیز تیمم کرنے کے مقامات میں اختلاف فتوی پایا جاتا ہے ۔[2][3]

مربوط لنکس

حوالہ جات

  1. الدر المنثور، ج۳، ص۲۶. بحوالۂ دائرة‌المعارف قرآن كریم، ج۱، ص۳۷۹
  2. مکارم شیرازی، ج۴، ص۲۹۰
  3. جواهر الکلام، ج۵، ص۱۲۰-۱۲۹

مآخذ