آیت انظار
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | بقرہ |
| آیت نمبر | 280 |
| پارہ | 3 |
| شان نزول | قبیلہ ثقیف کے کچھ افراد کا ولید بن مغیرہ یا خالد بن ولید کا قبیلہ ثقیف سے سود لینا |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | فقہی ـ اقتصادی |
| مضمون | وجوب مقروض کو مہلت دینا |
| مربوط آیات | سورہ بقرہ کی آیات 278 اور 279 |
آیت اِنظار، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 280 کو کہا جاتا ہے جو قرآن کی آیات الاحکام میں شمار ہوتی ہے۔[1] اس آیت میں تنگ دست مقروض کے حقوق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[2] فقہاء نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فتوا دیا ہے کہ ادائیگی کی استطاعت نہ رکھنے والے مقروض کو مہلت دینا واجب ہے۔[3] اسی طرح اس آیت سے قرض کے فوری مطالبہ کی حرمت[4] مقروض کو جیل بھیجنے کی ممانعت[5] اور قرض کی ادائیگی کے لئے مقروض کو کام کرنے پر مجبور کرنا جائز نہ ہونے[6] کا حکم بھی اخذ کیا گیا ہے۔[7]
اسی طرح «وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَیْرٌ لَکُمْ» کی عبارت سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگر مقروض واقعی تنگ دست ہو تو اس کا قرض معاف کر دینا مستحب ہے۔[8] مزید برآں اس آیت سے یہ حکم بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگر مقروض صاحبِ استطاعت ہو تو اس پر قرض کی فوری ادائیگی واجب ہے۔[9]
وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَى مَيْسَرَۃٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
اور اگر (تمہارا) مقروض تنگ دست ہو تو اسے فراخی (اور آسانی) تک مہلت دو، اور اگر (واقعی وہ ادا کرنے پر قادر نہیں تو) قرض معاف کر دینا تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیری منابع میں آیت اِنظار کے شانِ نزول کو ماقبل آیات سے مربوط قرار دیا گیا ہے۔[10] مجمع البیان میں امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں ولید بن مغیرہ قبیلۂ ثقیف کو قرضہ دے کر ان سے سود لیا کرتا تھا۔ ان کا بیٹا خالد اسلام قبول کرنے کے بعد ان اموال کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا؛ لیکن سورہ بقرہ کی آیات 278 اور 279 کے نازل ہونے کے بعد اسے سود لینے سے منع کر دیا گیا۔[11]
بعض مفسرین کے مطابق یہاں قرض خواہ قبیلۂ ثقیف کے ہی کچھ افراد تھے جنہوں نے اسلام لانے کے بعد بنی مغیرہ سے سابقہ سودی مطالبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، جس پر رسول خداؐ نے انہیں سود لینے سے منع فرمایا۔[12] چونکہ بنی مغیرہ اصل قرض کی ادائیگی کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے مہلت کی درخواست کی تھی، اس موقع پر آیت اِنظار نازل ہوئی اور مقروض کو مہلت دینے کا حکم دیا گیا۔[13]
امام جعفر صادقؑ سے مروی ایک روایت کے مطابق مُعسِر اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروری اور متعارف ضروریات سے زیادہ کچھ نہ ہو۔[14] بعض مفسرین کے مطابق معسر اس مقروض کو کہا جاتا ہے جو مال نہ ہونے یا کساد بازاری جیسے اسباب کی بنا پر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو۔[15] شیعہ عالم محمد تقی مجلسی (متوفی: 1070ھ) کے مطابق اگر مقروض کے پاس صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اسے مہلت دینا واجب ہے۔[16] لیکن اگر قرض کی ادائیگی تو ممکن ہو مگر شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں مہلت دینا مستحب ہے۔[17]
تفاسیر میں اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں مقروض کو مہلت دینے کی فضیلت پر متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔[18] ان میں سے ایک روایت کے مطابق رسول خداؐ نے تنگدست مقروض کے ساتھ نرمی کرنے کو دعاؤں کی قبولیت اور مشکلات کے حل کا سبب قرار دیا ہے۔[19]اسی طرح ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص تنگ دست مقروض کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو قیامت کے دن وہ عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوگا۔[20]
حوالہ جات
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج9، ص56؛ فاضل ہندی، کشف اللثام، 1416ھ، ج10، ص95؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج40، ص166۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص377۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:قطب راوندی، فقہ القرآن، 1405ھ، ج1، ص381؛ اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج9، ص274؛ کاظمی، مسالک الأفہام، 1365شمسی، ج3، ص66۔
- ↑ اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج9، ص274؛ طباطبایی حائری، المناہل، مؤسسہ آل البیت(ع)، ص19؛ نجمآبادی، القضاء، 1393شمسی، ج2، ص70۔
- ↑ ابنحیون، دعائم الإسلام، 1385ھ، ج2، ص71؛ میرزای قمّی، رسائل المیرزا القمی، 1427ھ، ج2، ص636؛ موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیۃ، 1419ھ، ج7، ص316۔
- ↑ عراقی، کتاب القضاء، 1421ھ، ص189؛ محقق سبزواری، کفایۃ الأحکام، 1423ھ، ج1، ص575؛ طبسی، حقوق زندانی و موارد زندان در اسلام، بوستان کتاب، ص418۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج1، ص167۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:آلعصفور بحرانی، الأنوار اللوامع، مجمع البحوث العلمیۃ، ج12، ص305 و 457؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی المقارن، 1432ھ، ج1، ص139۔
- ↑ قطب راوندی، فقہ القرآن، 1405ھ، ج1، ص381۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، 1422ھ، ج2، ص284-286؛ ابنجوزی، زاد المسیر، 1422ھ، ج1، ص248-249؛ ابوحیان، البحر المحیط، 1420ھ، ج2، ص711-716؛ خیرخواہ علوی، «ثقیف»، 1382شمسی، ص305۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص673۔
- ↑ ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، 1422ھ، ج2، ص284؛ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص674؛ ابنجوزی، زاد المسیر، 1422ھ، ج1، ص248؛ ابوحیان، البحر المحیط، 1420ھ، ج2، ص711؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج7، ص86۔
- ↑ ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، 1422ھ، ج2، ص286؛ ابنجوزی، زاد المسیر، 1422ھ، ج1، ص249؛ ابوحیان، البحر المحیط، 1420ھ، ج2، ص716؛ خیرخواہ علوی، «ثقیف»، 1382شمسی، ص305۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص675؛ تویسرکانی، لئالی الاخبار، 1413ھ، ج3، ص193۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص675؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج7، ص86۔
- ↑ مجلسی اول، لوامع صاحبقرانی، 1414ھ، ج6، 57۔
- ↑ مجلسی اول، لوامع صاحبقرانی، 1414ھ، ج6، ص57۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:ابوحمزہ ثمالی، تفسیر القرآن الکریم،1420ھ، ص121؛ عیاشی، تفسیر العیّاشی،1380ھ، ج1، ص155؛ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص676؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج1، ص304۔
- ↑ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008م، ج1، ص498؛ ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، 1422ھ، ج2، ص288؛ میبدی، کشف الاسرار، 1371شمسی، ج1، ص757۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج2،ص676۔
مآخذ
- آلعصفور بحرانی، حسین، الأنوار اللوامع فی شرح مفاتیح الشرائع، محقق و مصحح: آل عصفور، محسن، قم، مجمع البحوث العلمیۃ، پہلی اشاعت، بی تا۔
- ابوحمزہ ثمالی، ثابت بن دینار، تفسیر القرآن الکریم، تحقیق: حرز الدین، عبد الرزاق محمد حسین، معرفت، محمد ہادی، بیروت، دار المفید، پہلی اشاعت،1420ھ۔
- ابوحیان، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق: محمد جمیل، صدقی، بیروت، دار الفکر، 1420ھ۔
- ابنجوزی، ابوالفرج عبدالرحمن بن علی، زاد المسیر فی علم التفسیر، تحقیق: المہدی، عبدالرزاھ، بیروت، دار الکتاب العربی، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- ابنحیون، نعمان بن محمد، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام، محقق و مصحح: فیضی، آصف، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، دوسری اشاعت، 1385ھ۔
- اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان، محقق و مصحح: عراقی، آقا مجتبی، اشتہاردی، علیپناہ، یزدی اصفہانی، آقاحسین، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
- تویسرکانی، محمدنبی بن احمد، لئالی الاخبار، قم، علامہ، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- ثعلبی نیشابوری، ابو اسحاق احمد بن ابراہیم، الکشف و البیان عن تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- خیرخواہ علوی، سید علی، «ثقیف»، در جلد نہم از دائرۃ المعارف قرآن کریم، قم، موسسہ بوستان کتاب، پہلی اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
- طباطبایی حائری، سید محمد، کتاب المناہل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، بی تا.
- طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر، اردن، دار الکتاب الثقافی، پہلی اشاعت، 2008م.
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی، محمدجواد، مصحح: یزدی طباطبایی، فضلاللہ و رسولی، ہاشم بیروت، دارالمعرفۃ، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- طبسی، نجمالدین، حقوق زندانی و موارد زندان در اسلام، مترجمان: احمدی سید محمدعلی، و رمضانی، سید ہادی، قم، بوستان کتاب، پہلی اشاعت، بی تا.
- عراقی، آقا ضیاءالدین، کتاب القضاء، مقرر: نجمآبادی، میرزا ابوالفضل، قم، انتشارات مؤسسہ معارف اسلامی امام رضا(ع)، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیّاشی، محقق و مصحح: رسولی محلاتی، ہاشم، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت،1380ھ۔
- فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام و الإبہام عن قواعد الأحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)، تحقیق: دار احیاء التراث العربی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
- فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: اعلمی، حسین، تہران، انتشارات الصدر، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
- قطب راوندی، سعید بن ہبہاللہ، فقہ القرآن، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی(رہ)، 1405ھ۔
- کاظمی، جواد بن سعید، مسالک الأفہام الی آیات الأحکام، تہران، کتابفروشی مرتضوی، دوسری اشاعت، 1365ہجری شمسی۔
- مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی المقارن، با اشراف ہاشمی شاہرودی، محمود، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1432ھ۔
- مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہلبیت(ع)، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- مجلسی اول، محمدتقی، روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: موسوی کرمانی، سید حسین، اشتہاردی، علیپناہ، طباطبائی، سید فضل اللہ، قم، مؤسسہ فرہنگی اسلامی کوشانپور، دوسری اشاعت، 1406ھ۔
- مجلسی اول، محمدتقی، لوامع صاحبقرانی، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1414ھ۔
- محقق سبزواری ، محمدباقر بن محمدمؤمن، کفایۃ الأحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- موسوی بجنوردی، سید حسن، القواعد الفقہیۃ، محقق و مصحح: مہریزی، مہدی، درایتی، محمد حسین، قم، نشر الہادی، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- میبدی، احمد بن محمد، کشف الاسرار و عدۃ الابرار (تفسیر خواجہ عبداللہ انصاری)، مصحح: حکمت، علیاصغر، تہران، امیرکبیر، پانچویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- میرزای قمّی، ابوالقاسم بن محمد حسن، رسائل المیرزا القمی، محقق: تبرزیان، عباس، قم، دفتر تبلیغات اسلامی (شعبہ خراسان)، پہلی اشاعت، 1427ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، محقق و مصحح: قوچانی، عباس، آخوندی، علی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- نجمآبادی، محمد بن ابراہیم، القضاء، قم، نشر روضۃ العباس(ع)، پہلی اشاعت، 1393ہجری شمسی۔
- فیض کاشانی، محمدمحسن، الوافی، اصفہان، کتابخانہ امام أمیر المؤمنین علی(ع)، پہلی اشاعت، 1406ھ۔